جمعہ , 3 فروری 2023

ملک میں معاشی ایمرجنسی لگنے کی خبریں بے بنیاد ہیں، وزارت خزانہ

اسلام آباد: وزارت خزانہ نے ملک میں معاشی ایمرجنسی لگنے کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام افواہوں پر کان نہ دھریں۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں معاشی ایمرجنسی لگانے کے حوالے سے زیر گردش خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ معاشی بہتری اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں جو کہ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف ہے۔

وزارت خزانہ کی طرف کردہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر مبینہ معاشی ہنگامی تجاویز پر ایک غلط پیغام گردش کر رہا ہے فنانس ڈویڑن نہ صرف مذکورہ پیغام میں کیے گئے دعووں کی سختی سے تردید کرتا ہے بلکہ واشگاف طور پر اس کی تردید کرتا ہے اور یہ کہ معاشی ایمرجنسی لگانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بدقسمتی سے اس پیغام کا مقصد ملک میں معاشی صورتحال کے بارے میں غیر یقینی صورتحال پیدا کرنا ہے اور اسے صرف وہی لوگ پھیلا سکتے ہیں جو پاکستان کو ترقی یافتہ اور خوشحال نہیں دیکھنا چاہتے، معاشی مشکلات کے اس دور میں ایسے جھوٹے پیغامات گھڑھنا اور پھیلانا قومی مفاد کے خلاف ہے۔

وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پیغام میں مذکور نو نکات کا محض پڑھنا ہی اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تجاویز کس حد تک مفید ہیں۔ پاکستان کی معیشت میں موروثی طاقت اور تنوع کے پیش نظر پاکستان کا سری لنکا سے موازنہ کرنا بھی بالکل نامناسب ہے موجودہ مشکل معاشی صورتحال بنیادی طور پر اجناس کی سپر سائیکل، روس-یوکرین جنگ، عالمی کساد بازاری، تجارتی سر گرمیوں، فیڈ کی پالیسی ریٹ میں اضافہ اور بے مثال سیلاب سے تباہی جیسے خارجی عوامل کا نتیجہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت اس طرح کے بیرونی عوامل کے اثرات کو کم کرنے کے لیے بھرپور کوششیں کر رہی ہے، یہاں تک کہ جب اسے غیر معمولی سیلاب کے معاشی نتائج کا سامنا ہو اور آئی ایم ایف کی شرائط کو پورا کرنا پڑے۔ حکومت وقت پر تمام بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو پورا کرتے ہوئے آئی ایم ایف پروگرام کو مکمل کرنے کے لیے پرعزم ہے اس مشکل معاشی صورتحال میں حکومت نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے کفایت شعاری کے متعدد اقدامات کیے ہیں۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ایسے اقدامات عوام کے علم میں ہیں اور ان کا مقصد غیر ضروری اخراجات کو ختم کرنا ہے۔ اسی طرح حکومت توانائی کے تحفظ پر غور کر رہی ہے جس کا مقصد بنیادی طور پر درآمدی بل کو کم کرنا ہے۔ کابینہ میں اس طرح کی بات چیت جاری رہے گی اور تمام فیصلے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت اور بہترین قومی مفاد میں کیے جائیں گے موجودہ حکومت کی کوششوں سے آئی ایم ایف پروگرام دوبارہ پٹری پر آ گیا ہے اور نویں جائزے کے لیے مذاکرات اب ایک اعلیٰ مرحلے پر ہیں۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومت کی حالیہ کوششوں کے نتیجے میں دوسروں کے علاوہ حالیہ مہینوں میں کم کرنٹ اکاوٴنٹ خسارے اور ایف بی آر کے ریونیو اہداف کے حصول کا نتیجہ ہے، مستقبل قریب میں بیرونی کھاتوں پر دباوٴ میں کمی کا بھی امکان ہے۔ جب کہ وسط مدتی ڈھانچے میں ایڈجسٹمنٹ کی ضرورت باقی ہے، ملک کی معاشی صورتحال اب استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے فنانس ڈویڑن پاکستانی عوام پر زور دیتا ہے کہ وہ معاشی بہتری اور استحکام کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور افواہوں پر دھیان نہ دیں جو کہ پاکستان کے قومی مفاد کے خلاف ہے۔

یہ بھی دیکھیں

6 ماہ میں پاکستانی مصنوعات کی برآمد میں امریکا سرفہرست

اسلام آباد: رواں مالی سال (2022-23) کے پہلے 6مہینوں کے دوران امریکا پاکستانی مصنوعات کی …