اتوار , 5 فروری 2023

سردار تنویر الیاس کے پلازے کی ”اچانک“ بندش

(نصرت جاوید)

بارہا آپ کو یاد دلاتا رہتا ہوں کہ سیاست میں کسی اہم پیش رفت کے بعد عوام کے ذہنوں میں فوری طورپر ابھراتاثر اصل حقائق سے کہیں زیادہ اہم ہوتا ہے۔ اسی باعث سیاسی عمل کو کئی محققین Perception Managementبھی پکارتے ہیں۔اردو میں ”بیانیے کی تشکیل اور اسے مزید قابل اعتبار بنانا“ شاید مذکورہ اصطلاح کا مناسب متبادل ہوسکتا ہے۔

بہرحال منگل کی صبح اُٹھ کر اخبار میں چھپے کالم کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد ٹویٹر اکاﺅنٹ پر نگاہ ڈالی تو وہاں پر ”بریکنگ نیوز“ چل رہی تھی کہ اسلام آباد کے ایک مشہور ترین کمرشل اور رہائشی پلازے کو سی ڈی اے نے اپنے قواعد کی مبینہ خلاف ورزی پر سیل کردیا ہے۔یہ پلازہ جن صاحب کی ملکیت ہے وہ ان دنوں آزادکشمیر کے منتخب وزیر اعظم ہیں۔ سردار تنویر الیاس ان کا اسم گرامی ہے۔میری ان سے دور پرے کی بھی شناسائی نہیں ہے۔ان کے بارے میں عمومی تاثر البتہ یہ مشہور ہے کہ وہ اپنی بے پناہ دولت کو بے دریغ انداز میں استعمال کرتے ہوئے سیاست میں بہت تیزی سے نمایاں اور اہم ترین منصب پر پہنچے ہیں۔ پاکستان ہی نہیں دنیا بھر میں کئی مالدار افراد اپنے وسائل کو ایسے ہی اثرورسوخ کی خاطر استعمال کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی یہ عمل لہٰذا حیران کن نہیں ہونا چاہیے ۔

سردار تنویر الیاس کی ذاتی خامیوں یا خوبیوں سے قطع نظرآج کی حقیقت یہ بھی ہے کہ وہ آزادکشمیر کے منتخب وزیر اعظم ہیں۔پیر کی شام منگلا ڈیم کے حوالے سے ایک تقریب تھی۔ وزیر اعظم شہباز شریف وہاں مہمان خصوصی تھے۔ ان کے خطاب کے دوران سردار صاحب اپنی نشست سے کھڑے ہوکر چند سوالات اٹھاتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان کو شرمندہ کرتے نظر آئے۔ اس واقعہ کے عین ایک دن بعد سردار صاحب کے زیر ملکیت پلازہ سیل ہونے کی خبر آگئی۔

تفصیلات سے کامل نآشنائی کے باوجود میں یہ تسلیم کرنے کو آمادہ ہوں کہ سی ڈی اے نے جائز قانونی بنیادوں پر ان کا پلازہ سیل کرنے کا انتہائی قدم اٹھایا ہوگا۔اندھی نفرت وعقیدت میں منقسم ہوئے معاشرے میں لیکن ”قانونی وجوہات“ پر خواہ وہ کتنی ہی ٹھوس اور مناسب کیوں نہ سنائی دیں لوگ اعتبار کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔ دو جمع دو سے چار نکالنے والی منطق انہیں یہ طے کرنے کو اُکسائے گی کہ سردار تنویر الیاس کو وزیر اعظم شہباز شریف کے خطاب کے دوران ”مداخلت“ کی وجہ سے ”انتقام“ کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ مذکورہ تاثر کو جھٹلانا ہٹلر کے گوئبلز جیسے ترجمانوں کے لئے بھی ممکن نہیں ہوگا۔

سردار صاحب کی زیر ملکیت پلازے کی ”اچانک“ بندش وزیر اعظم آزادکشمیر کو ہر صورت سیاسی فائدہ پہنچائے گی۔ اپنے حامیوں کو وہ ”مظلوم“ بھی نظر آئیں گے۔ سردار صاحب خود مگر اس پلازے کے محض مالک ہیں۔وہاں موجود دوکانوں اور ریستوران وغیرہ سے سینکڑوں دیگرلوگ روزانہ کی بنیاد پر رزق کماتے ہیں۔سردار تنویر الیاس کے زیر ملکیت پلازے کی ”اچانک“ بندش کا براہِ راست نقصان ان کے کاربار کو ہوگا۔ کسادبازاری کے موجودہ اداس کن ماحول میں کاروباری طبقات کی اکثریت پہلے ہی موجودہ حکومت کی اپنی معاشی مشکلات کا ذمہ دار ٹھہرارہی ہے۔سردار تنویر الیاس کے ساتھ جس انداز میں ”حساب برابر“ کرنے کی کاوش ہوئی ہے اسے مذکورہ پلازے میںموجوددوکانوںاورکاروبارکے مالک اپنے دھندوں پر حملہ ہی تصور کریں گے۔

اسلام آباد2018کے انتخابات کے بعد سے تحریک انصاف کا گڑھ شمار ہورہا ہے۔یہاں سے قومی اسمبلی کی تینوںنشستیں تحریک انصا ف نے جیتی تھیں۔ ایک نشست پر بلکہ سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو بھی شکست سے دو چار ہونا پڑا تھا۔نظر بظاہر اسلام آباد کے ووٹروں کی کماحقہ تعداد نے تحریک انصاف کے بارے میں اپنی رائے نہیں بدلی ہے۔ محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ انتخابات اگر تحریک انصاف کی ترجیح کے مطابق آئندہ برس کے مارچ میں ہر صورت کروانا پڑے تو اس جماعت کی ٹکٹ پر کھڑے امیدوار بآسانی اس شہر سے قومی اسمبلی کی تینوں نشستیں دوبارہ جیت لیں گے۔ سردار تنویر الیاس کے زیر ملکیت پلازے کی اچانک بندش تحریک انصاف کے دیرینہ حامیوں کے دلوں میں مسلم لیگ (نون) کے خلاف نفرت کو بلکہ مزید بھڑکائے گی۔

تحریک انصاف مگر مذکورہ بالا حقیقت پر ہی اکتفا کرنے کو تیار نہیں۔اس جماعت کے ذہین ترین بیانیہ ساز یعنی فواد چودھری صاحب نے چند ٹویٹس کے ذریعے سردار تنویر الیاس کے ساتھ ہوئے سلوک کو ان کی ذات کے خلاف نہیں بلکہ آزاد کشمیر کے منتخب وزیر عظم کو ”کشمیریوں کے حقوق کی خاطر”آواز بلند کرنے کی ”سزا“ٹھہرایا ہے۔وہ مصر ہیں کہ سردار تنویر الیاس کے ساتھ ہوا یہ سلوک مقبوضہ کشمیر میں محصور افراد کی دل شکنی کا باعث ہوگا۔ہمارا ازلی دشمن بھارت ان کے دل ٹوٹنے کی بابت شاداں محسوس کرے گا۔

جان کی امان پاتے ہوئے فریاد کرنا چاہوں گا کہ سردار صاحب کے ساتھ ہوئے سلوک کو مقبوضہ کشمیرمیں محصور ہوئے افراد کی مشکلات سے نتھی نہ کیا جائے۔اس پہلو کو ضرورت سے زیادہ اچھالا گیا تو بے تحاشہ پاکستانی یاد کرنے کو مجبور ہوجائیں گے کہ اگست 2019میں جب مودی سرکار نے تمام عالمی اور باہمی معاہدوں کو رعونت سے نظرانداز کرتے ہوئے بھارتی آئین کے آرٹیکل 370کی تنسیخ کے بعد ریاست جموںوکشمیر کو دو حصوں میں بانٹ کر نئی دلی سے براہ راست چلائی ”یونین ٹیرٹری“ بنایا تو پاکستان میں کس کی حکومت تھی۔ عمران خان صاحب ان دنوں ہمارے وزیر اعظم تھے۔مودی کے غاصبانہ اقدام کے بعد وہ فقط ایک دن کے لئے احتجاج کا بندوبست کرسکے۔ ان کی حکومت نام نہاد عالمی برادری کو مقبوضہ کشمیر پر نازل ہوئی غارت گری کے خلاف بھرپور ردعمل کے اظہار کو مائل نہ کرپائی۔ عمران خان صاحب کے ساتھ ملاقات کے دوران جبکہ سابق امریکی صدر ٹرمپ نے ازخود مسئلہ کشمیر پر ”ثالثی“ کی پیش کش کی تھی۔ ہم اسے بھی مذکورہ وعدے پر عملدرآمد کو مجبور نہیں کر پائے تھے ۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …