جمعہ , 3 فروری 2023

افغانستان کے عوام کی سلامتی، ذمہ دار کون؟

(تحریر: ڈاکٹر راشد عباس نقوی)

صوبہ بلخ کے صدر مقام مزار شریف شہر میں محکمہ کسٹم کے سرحدی ملازمین کو لے جانے والی ایک بس سڑک کنارے نصب بم سے ٹکرا گئی، جس میں کم از کم پندرہ افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ تفصیلات کے مطابق افغانستان کے شمالی صوبے بلخ کے صدر مقام مزار شریف میں حیرتان میں سید آباد کراسنگ پر یہ دھماکہ منگل کی صبح ہوا، جس میں نو افراد موقع پر جاں بحق اور دس دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ ابھی اس دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے۔یہ دھماکہ صوبے سمنگان میں ایک مسجد میں ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے کے ایک ہفتے بعد ہوا۔ افغانستان کے مختلف علاقوں منجملہ کابل کی ایک مسجد، کابل میں پاکستان کے سفارت خانے اور صوبے سمنگان میں ایک مدرسے میں حال ہی میں کئی دھماکے اور دہشت گردانہ حملے ہوئے ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد جاں بحق و زخمی ہوئے ہیں۔

واضح رہے کہ طالبان کے دعووں کے برخلاف اب تک افغانستان میں قیام امن مکمل طور پر نافذ نہیں ہوسکا ہے، جس کا مشاہدہ مسلسل دہشت گردانہ واقعات کی شکل میں کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایسی حالت میں کہ طالبان انتظامیہ داعش دہشت گرد گروہ کو اپنے ملک کے لئے خطرہ بھی نہیں سمجھتی۔ افغانستان ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں کئی بار دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں کا نشانہ بنا۔ ان دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں میں بچے، خواتین، نمازی اور سرکاری ملازمین جاں بحق ہوئے۔ سمنگان اور کابل سمیت افغانستان میں مختلف دہشت گرد دھماکوں میں بنیادی طور پر مذہبی تعلیم کے مراکز، مساجد اور سفارتی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس بات سے قطع نظر کہ ان خونریز حملوں کا ذمہ دار کون سا گروہ ہے، افغانستان کے عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کی ذمہ داری طالبان حکومت پر عائد ہوتی ہے، جس پر عوام اور عالمی حلقوں کی تشویش فطری ہے۔ ہر دھماکے کے بعد اس گروہ نے اس ملک کے عوام سے وعدہ کیا ہے کہ وہ ان کی حفاظت کرے گا اور دہشت گردوں سے سختی سے نمٹے گا، لیکن عملاً افغانستان کے عوام بدقسمتی کی صورت حال دیکھ رہے ہیں۔

افغانستان میں سیاسی امور کے ماہر عبداللطیف نظری کہتے ہیں: "طالبان اب بھی اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ افغانستان کے حکمران کی حیثیت سے، ملک کے عوام، خاص طور پر سکیورٹی کے شعبے میں ان کی سنگین ذمہ داریاں ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم افغانستان میں ہر روز نئے جرائم کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی مختلف مقاصد کے لئے موجودگی ایک اہم پیغام ہے۔ افغانستان کے عوام میں یہ اہم سوال اٹھ رہا ہے کہ طالبان نے کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر دہشت گردانہ حملے کے مجرم کو کم سے کم وقت میں کیسے گرفتار کر لیا اور اسے داعش کا رکن بھی قرار دے دیا، لیکن اس سے پہلے کئی دہشت گردانہ واقعات کے ذمہ داروں کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے اور نہ ہی کسی کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی۔

افغان عوام پر دہشت گردانہ حملوں کے مرتکب افراد کی گرفتاری کے حوالے سے کوئي باقاعدہ رپورٹ شائع نہیں کی جاتی یا شاذ و نادر ہی کچھ سامنے آتا ہے۔ کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر ناکام قاتلانہ حملے کے مجرم کو گرفتار کرنے میں طالبان کی انٹیلی جنس اور آپریشنل کامیابی یا تو طالبان پر اسلام آباد حکومت کے دوہرے دباؤ کی وجہ سے تھی یا یہ گروپ اپنے اس حملے کے نتائج سے پریشان ہے۔؟ طالبان حکومت کا یا تو مختلف گروہوں پر انٹیلی جنس کنٹرول ہے یا دہشت گرد گروہوں سے رابطہ ہے کہ انہوں نے فوری طور پر پاکستانی سفارتکار پر حملے میں ملوث دہشتگرد کو حوالے کر دیا ہے۔ اس فوری گرفتاری نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ بین الاقوامی امور کے ماہر علائی کہتے ہیں: "اس میں کوئی شک نہیں کہ طالبان، افغانستان میں اپنی جنگی آپریشنل تاریخ کی وجہ سے افغانستان میں سرگرم تمام جنگجو گروپوں کے بارے میں وسیع معلومات رکھتے ہیں اور ان کا مقابلہ بھی آسانی سے کرسکتے ہیں، لیکن اس حوالے سے کوئی خبر کیوں شائع نہیں ہوتی، یہ سوچنے اور غور کرنے کے بات ہے۔”

دہشت گردی کے یہ واقعات اس وقت رونما ہو رہے ہیں جبکہ افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کے دعوؤں کے برعکس یہ حکومت کابل اور اس ملک کے دیگر شہروں میں ضروری سکیورٹی قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ افغانستان میں خونریز دھماکوں کا تسلسل اس ملک کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اس گروہ کی صلاحیت پر شدید شکوک پیدا کرتا ہے، جس کے افغانستان کے لیے دو نتائج برآمد ہوسکتے ہیں۔ اول، یہ کہ بین الاقوامی برادری کی طرف سے طالبان حکومت کو افغانستان کی خود مختار ریاست کے طور پر تسلیم کرنے میں مزید تاخیر ہوگی اور دوسرا یہ کہ اس سے افغانستان کے معاملات میں غیر ملکی مداخلت کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ اس لیے جہاں طالبان کو افغانستان میں دہشت گرد عناصر سے سنجیدگی سے نمٹنا چاہیئے، وہیں انھیں افغانستان کے عوام اور عالمی برادری کو افغانستان کی سلامتی کے بارے میں یقین دلانا چاہیئے۔ ایسی ضمانت فراہم کرنی چاہیئے کہ اس طرح کے واقعات نہ ہوں اور اگر کوئی حملہ ہوتا ہے تو اسکے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے انہیں کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ یہی وجہ ہے کہ افغانستان کے تمام پڑوسی ممالک منجملہ تاجکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کی حفاظت کے حوالے سے بارہا تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

چین کی جانب سے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعے کی مذمت

بیجنگ: چین نے سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعہ کی مذمت کرتے …