بدھ , 8 فروری 2023

سعودی چین تعلقات و شراکت داری: کب کب، کیا ہوتا رہا؟

 
چین کے صدر شی جن پنگ سعودی فرمانروا شاہ سلمان کی دعوت پر سعودی عرب پہنچ گئے ہیں۔ دورے کے دوران دونوں ممالک کے رہنما سعودی چائنیز سمٹ، گلف چائنیز سمٹ اور عرب چائنیز کانفرنس میں شرکت کریں گے جن میں باہمی تعاون اور ترقی کے امور پر بات چیت ہو گی۔
 تین دہائیوں سے زائد عرصہ قبل قائم ہونے والے تعلقات کے بعد سے دونوں ممالک کے رہنما باہمی تعلق کو بڑھانے کے لیے مسسلسل کام کرتے رہے ہیں۔
یہاں سعودی عرب اور چین کے درمیان تعلقات کے فروغ کے حوالے سے ہونے والے چند اقدامات کی تفصیل دی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا آغاز 1990 میں ہوا تھا۔
اس کے نو سال بعد چین کے صدر جیانگ زیمن پہلے چینی سربراہ مملکت تھے جنہوں نے سعودی عرب کا دورہ کیا۔سنہ 1999 میں ہونے والے اس دورے کا سب سے اہم نکتہ تیل کے سٹریٹیجک معاہدے پر دستخط کرنا تھا۔
سنہ 2004 میں سعودی عرب چین نے باقاعدگی سے سیاسی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا، اسی سال چین کی سرکاری توانائی کمپنی سینوپک نے مملکت میں گیس کی تلاش کے معاہدے پر بھی دستخط کیے۔
اس کے دو سال بعد شاہ عبداللہ سعودی عرب کے وہ پہلے فرمانروا بنے جنہوں نے سرکاری طور پر چین کا دورہ کیا اور توانائی کے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے۔
سنہ 2006 میں باہمی تعلقات کا یہ سلسلہ اس وقت مزید مضبوط ہوا جب دونوں ممالک نے آگے بڑھتے ہوئے معاشی، تجارتی، تکنیکی اور پیشہ ورانہ تربیت کے امور کے حوالے سے معاہدے کیے۔اسی سال سعودی عریبیئن ڈویلپمنٹ بینک نے چین کے سنکیانگ صوبے کو قرضہ دینے کے لیے معاملات کو حتمی شکل دی۔
سنہ 2006 میں چین کے اس وقت کے صدر ہو جنتاؤ نے مملکت کا دورہ کیا۔ اس موقعے پر انہوں نے پیشن گوئی کی کہ ’نئی صدی میں چین اور سعودی عرب کے تعلقات دوستی اور تعاون کا نیا باب رقم کریں گے۔‘
دورے کے موقع پر چینی صدر ہو جنتاؤ اور شاہ عبداللہ نے متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جن میں توانائی کے ذرائع کی دریافت اور سکیورٹی کے معاملات شامل تھے۔
شاہ عبداللہ نے ایشیا کے لیے سودمند ’لُک ایسٹ‘ تجارتی پالیسی اپنائی جس کے مطابق سعودی عرب کا نصف سے زیادہ تیل ایشیا جاتا تھا۔
سنہ 2008 میں جب چین کے صوبے سچوان میں تباہ کن زلزلہ آیا تو سعودی عرب نے پانچ کروڑ ڈالر نقد اور ایک کروڑ ڈالر کے سامان کی شکل میں چین کی مدد کی۔
سنہ 2009 میں چینی صدر ہو جنتاؤ نے دوسری مرتبہ سعودی عرب کا دورہ کیا۔ اس میں انہوں نے شاہ عبداللہ کے ساتھ خطے کے معاملات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔
سنہ 2014 وہ سال تھا جب سعودی عرب چین کو خام تیل کی فراہمی کے سب سے بڑے ذریعے کے طور پر سامنے آیا جبکہ اسی سال دونوں ممالک کی تجارت کا حجم 69 ارب ایک کروڑ ڈالر تک پہنچا۔
تین سال بعد شاہ سلمان نے چین کا دورہ کیا جس سے دنیا کی دوسری بڑی معیشت کے ساتھ تعلقات میں مزید مضبوطی پیدا ہوئی۔سنہ 2017 میں 65 ارب ڈالر کے معاہدوں پر دستخط کیے گئے۔
اسی طرح 2019 میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے ایشیا کے دورے کے دوران چین کا دورہ بھی کیا اور چینی صدر شی جن پنگ کے علاوہ دیگر اعلٰی حکام سے بھی ملاقاتیں کیں۔
دونوں ممالک اپنے اپنے طویل مدتی ترقیاتی اہداف رکھتے ہیں۔ چین بیلٹ اینڈ روڈ انیشٹیو رکھتا ہے جبکہ سعودی عرب ویژن 2030 کے لیے اقدامات آگے بڑھا رہا ہے۔
دونوں رہنماؤں نے ان اہداف کے حصول میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔دونوں ملکوں نے میری ٹائم ٹرانسپورٹ انڈسٹری کے حوالے سے مزید تحقیقی کام کرنے کے معاہدے پر دستخط بھی کیے۔
سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے چین میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس کے لیے 10 ارب ڈالر مختص کرنے پر اتفاق کیا ہے۔بشکریہ نیوز اردو

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …