بدھ , 8 فروری 2023

جوہری جنگ کا خطرہ

(ایلس ڈیویز)

روس کے صدر ولادیمیر پوتن نے کہا ہے کہ ’جوہری جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے‘ لیکن ’روس پاگل نہیں ہے‘ اور ’جوہری ہتھیاروں کے استعمال میں پہل نہیں کرے گا۔‘روسی صدر کا کہنا تھا کہ ان کا ملک جوہری ہتھیار صرف اسی صورت میں استعمال کرے گا اگر اس پر حملہ کیا گیا۔

پوتن روس کی سالانہ انسانی حقوق کونسل سے خطاب کر رہے تھے جہاں انھوں نے یہ بھی کہا کہ یوکرین سے جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

مغربی حکام کا ماننا ہے کہ صدر پوتن کو اس جنگ میں تیز رفتار کامیابی کی توقع تھی۔فروری میں یوکرین پر حملے کے بعد سے روس کی جوہری صلاحیت پر کڑی نظر رکھی گئی ہے۔تاہم صدر پوتن نے خبردار کیا ہے کہ ’یہ خطرہ بڑھ رہا ہے اور اس کو چھپانا غلط ہو گا۔‘

انھوں نے واضح کیا کہ روس کسی صورت حال میں پہل نہیں کرے گا اور کسی کو جوہری ہتھیاروں کے استعمال کی دھمکی بھی نہیں دے گا۔

’ہم پاگل نہیں، ہم جانتے ہیں کہ جوہری ہتھیار کیا ہوتے ہیں۔‘پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہم اس ہتھیار کو استرے کی طرح دنیا کے سامنے لے کر نہیں دوڑیں گے۔‘

پوتن نے کہا کہ روس کے پاس دنیا کے سب سے جدید جوہری ہتھیار ہیں۔ انھوں نے امریکی جوہری پالیسی پر تنیقد کرتے ہوئے کہا کہ روس کے برعکس امریکہ نے اپنے جوہری ہتھیار دوسرے ممالک کی سرزمین تک پھیلا رکھے ہیں۔

پوتن کا کہنا تھا کہ ’ہم نے دوسرے ممالک میں جوہری ہتھیار نہیں رکھے لیکن امریکی ایسا کرتے ہیں، ترکی میں اور کئی یورپی ممالک میں۔‘

اس سے پہلے پوتن یہ کہہ چکے ہیں کہ روس کی جوہری ہتھیار کے استعمال کی پالیسی کے تحت ان کو صرف دفاع میں چلایا جا سکتا ہے۔

اس خطاب کے دوران پوتن نے بظاہر تسلیم کیا کہ یوکرین پر حملے کے بعد دنوں میں فتح کا منصوبہ ناکام ہو چکا ہے جب انھوں نے کہا کہ جنگ طویل ہو سکتی ہے۔

تاہم ان کا کہنا تھا کہ اب تک کے نتائج اہم ہیں جیسا کہ یوکرین کے چار خطوں کے علاقوں کا روس سے انضمام۔

پوتن نے دعوی کیا کہ انھوں نے پیٹر دی گریٹ کا خواب پورا کر دیا ہے جنھوں نے ان علاقوں کو روس کا حصہ بنانے کا عظم کیا تھا۔

صدر پوتن اس سے پہلے بھی اپنا موازنہ پیٹر دی گریٹ سے کر چکے ہیں جںھوں نے 17ویں اور 18ویں صدی میں روس پر حکمرانی کی تھی۔

تاہم خیرسون، زاپوریزیا، لوہانسک اور ڈونیٹسک کے علاقوں پر روس کا مکمل کنٹرول نہیں ہے۔گذشتہ ماہ یوکرین کی افواج نے روس کو خیرسون شہر سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا تھا۔

محاذ پر ناکامیوں کے بعد روس نے یوکرین میں بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا تھا اور پورے ملک میں فضائی حملے شروع کر دیے تھے۔

ان حملوں کے نتیجے میں یوکرین میں توانائی انفراسٹرکچر کو کافی نقصان ہوا تھا اور لاکھوں افراد شدید سردی میں بجلی کی سہولت سے محروم ہو گئے تھے۔

کیئو کے میئر وٹالی کلٹسچکو نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین کے دارالحکومت میں قیامت برپا ہو سکتی ہے۔

انھوں نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو انٹرویو میں کہا کہ شہر میں بجلی، پانی ختم ہو سکتا ہے۔ ’قیامت کا منظر ہو سکتا ہے جیسا ہالی وڈ کی فلموں میں ہوتا ہے جب کم درجہ حرارت کی وجہ سے گھر میں رہنا ممکن نہیں رہتا۔‘

یوکرین کی حکومت نے عوام کے لیے شیلٹر بنا رکھے ہیں لیکن میئر کا کہنا ہے کہ یہ سب کے لیے کافی نہیں اور لوگوں کو بری صورت حال سے بچنے کے لیے شہر چھوڑنے کے لیے تیار رہنا ہو گا۔

دوسری جانب سالانہ انسانی حقوق کی کونسل کے اجلاس سے قبل روس میں صدر پوتن پر کسی قسم کی تنقید کا راستہ روک دیا گیا۔

بدھ کو ہونے والے اجلاس سے قبل کونسل کے ان دس اراکین کو ہٹا دیا گیا جنھوں نے جنگ کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا تھا اور ان کی جگہ ایسے افراد کو شامل کر لیا گیا جو یوکرین سے جنگ کے حامی ہیں۔

روس کے آزادانہ خبر رساں ادارے ورسٹکا کے مطابق اس اجلاس میں زیر بحث آنے والے موضوعات کو بھی پہلے سے طے کر لیا گیا تھا۔واضح رہے کہ گذشتہ چند ماہ سے روس کی جانب سے ٹیکٹیکل جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے خدشے کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …