اتوار , 5 فروری 2023

دو مشورے خان صاحب کیلئے

(عبداللہ طارق سہیل)

پیپلز پارٹی (تحریک انصاف گروپ) کے غیر اعلانیہ سربراہ چودھری اعتزاز احسن نے، جنہیں پیار سے چودھری عمران احسن بھی کہا جاتا ہے، کیا بروقت اور برحق مشورہ عمران خان کو دیا ہے۔فرمایا ہے، خان صاحب نے اپنے کارکنوں کو تھکا تھکا کر بڑا خراج لیا ہے، اب انہیں چاہیے کہ کارکنوں کو تھوڑا ریسٹ دیں۔

کارکن واقعی تھک گئے ہیں، گزشتہ روز پارٹی نے الیکشن کراﺅ مہم کا آغاز کیا۔ پہلا مظاہرہ لاہور کے گلشن راوی میں حماد اظہر کی ولولہ انگیز قیادت میں کیا جانا تھا۔ ولولہ انگیز قیادت تو آ گئی، طویل انتظار کے باوجود کارکن نہیں آئے۔ وجہ اس کی یہی تھکان ہی ہو سکتی ہے۔ ناچار راہگیروں کی تصویر لے کر انہیں مظاہرین کا نام دیا گیا اور مختصر سے دورانیے کے بعد ولولہ انگیز قیادت گھروں کو سدھاری۔ راہگیر تھے ہی کتنے، چنانچہ اخبارات نے تصویر چھاپنے سے گریز کیا، وہی آپ بھی شرمسار ہو، مجھ کو بھی شرمسار کرنے والا معاملہ ہو جاتا اگر چھاپ دیتے۔

کارکن ہی نہیں، خود خان صاحب بھی تھکے ہوئے نظر آ رہے ہیں۔ اتنے زیادہ کہ وہ عمران خان کم، تھکان خان زیادہ نظر آتے ہیں۔ خان صاحب کے مزاج کو شاعر ی سے فطری مناسبت ہے۔ اگرچہ وہ شاعری نہیں کرتے لیکن دوسروں کے کلام کی اصلاح اکثر فرمایا کرتے ہیں اور اصلاح کرنے والے کو استاد نہیں، استاذالاساتذہ کہا جاتا ہے۔ یہ اصلاح وہ برسرعام یعنی اپنے جلسوں اور دھرنوں میں دیا کرتے ہیں۔ مجھے ان کی وہ اصلاح بہت پسند آئی جو انہوں نے ایک مشہور عالم مصرعے میں کی

ایک تو یہ مصرعہ کچھ بھاری بھرکم ہے، دوسرے چٹانوں کی صراحت پہاڑوں کے ذکر کے ساتھ کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ سبھی جانتے ہیں کہ چٹانیں پہاڑوں ہی کی ہوا کرتی ہیں، گلزاروں کی نہیں۔ چنانچہ خان صاحب نے بجاطور پر اصلاح کی اور یوں فرمایا۔

تو شاہیں ہے چٹانوں پر رہا کر

دیکھئے، ایک ہی وار میں پہاڑوں کا فالتو لفظ بھی اڑا دیا اور مصرعے کا بھاری بھرکم پن بھی ختم کر کے اسے ہلکا پھلکا ، آسان فہم ، سبک ادا بنا دیا۔

خان صاحب نے بہت سیاست کر لی اور شعروں کی اصلاح بھی۔ مناسب ہے کہ اب شاعری بھی شروع کر دیں۔ تخلص کے لیے رہنمائی چودھری عمران احسن نے کر دی ہے، تھکان سے اچھا کیا ہو سکتا ہے۔ عمران خان تھکان، واہ وا….!

فرزند بنی گال شاعر شمال طوطی شیریں مقال

ناخدائے سخن حضرت استاد عمران خان تھکان۔!

کچھ عرصہ بعد کلام جمع کر کے مجموعہ چھاپا جا سکتا ہے۔ دیوانِ تھکان کے نام سے۔ سکالر حضرات اس پر مقالات لکھیں گے۔ ان مقالات کے مجموعے کو ”تھکانیات“ (بروزن اقبالیات) کا نام دیا جا سکتا ہے۔ عقیدت مند چاہیں تو دوسروں کے اشعار کو بھی، تخلص کی مناسبت سے کلام تھکان قرار دے سکیں گے۔ مثلاً:

چاند جب دور افق میں ڈ وبا

تیرے لہجے کی ”تھکان“ یاد آئی

چودھری عمران احسن نے یہ سوال بھی کیا کہ عمران خان نے اسمبلیاں نہیں توڑنی، الیکشن کرا کے کیا کریں گے۔ عجیب سوال ہے۔ الیکشن تو بہرحال ایک دن ہونا ہیں، جس کے بعد عمران خان 35 پنکچر والی غزل پھر سے دہرائیں گے، نئے دھرنوں کا اعلان کریں گے، انسانوں کے سمندر کو اسلام آباد پہنچنے کی کال دیں گے، پھر کارکن تھک جائیں گے اور چودھری عمران احسن کا بیان ایک بار پھر اخبارات میں آئے گا کہ خان صاحب الیکشن کرا کے کیا کریں گے۔

زندگی ایک سائیکل یعنی چکرّ کا نام ہے، اپنے مدار میں گھومتی رہتی ہے عمران احسن خان صاحب کو خلاف فطرت مشورے نہ دیا کریں۔ ویسے بعض اصحاب کا کہنا ہے کہ اس دفعہ خان صاحب 35 نہیں، 135 پنکچر والا سہ غزلہ بلکہ سی غزلہ ارشاد فرمائیں گے۔

اسمبلی توڑنے کی بات تو نہ جانے کہاں گئی، گزرے کل وزیر اعلیٰ پنجاب نے کابینہ میں اضافہ فرمایا اور تحریک انصاف کے رہنما خیال کاسترو کو جو ان دنوں پرویز الٰہی کے ہم خیال ہو گئے ہیں اور اس طرح انہیں ہم خیال کاسترو بھی کہا جا سکتا ہے، وزیر بنا دیا۔

اتنا بڑا وقوعہ ہو گیا اور خان صاحب کو خبر تک نہ ہوئی۔ میڈیا نے اسے بھی مشق سخن کی سان پر رکھ لیا حالانکہ یہ معاملہ رہی تو بے خبری رہی“ کا تھا یعنی

ہم وہاں ہیں جہاں پہ ہم کو بھی

خود ہماری خبر نہیں آئی

اور مالکانِ راہ تصوف یعنی رحونیات کی راہ کے راہی اچھی طرح جانتے ہیں کہ بے خبری کس پائے کا مقام ہے۔ لوگوں کی عمریں گزر جاتی ہیں تب کہیں جا کے یہ منزل آتی ہے۔ خان صاحب خوش قسمت ہیں کہ بالی عمریا میں یہ مقام پا لیا۔

البتہ رسم دنیا کا تقاضا تھا کہ خان صاحب کو اطلاع کر دی جاتی۔ افسوس کہ یہ تقاضا پرویز الٰہی نے پورا کیا نہ ہم خیال کاسترو نے۔

خان صاحب کی ”رحونیات“ علم نجوم ، جفر، رمل، عملیات سے عبارت ہے۔ اس سمندر کے وہ غوّاص ہے اور دوچار غوّاص انہوں نے اور بھی اپنے ہاں رکھے ہوئے ہیں۔ ایک رحونیاتی یونیورسٹی بھی انہوں نے بنائی ہے جس کے لیے مشہور رحونیاتی ٹائیکون نے /5 ارب کی اراضی کا عطیہ بھی دیا۔ ان کے ساتھ رحونیات کے ماہرین یعنی نجومیوں، رمّالوں اور پامسٹوں کا رابطہ، بالمشافہ بھی اور بذریعہ فون بھی مسلسل رہتا ہے۔ کل ہی ایک مشہور منجم انتظار حسین زنجانی نے انہیں۔ بذریعہ اخبار ایک مشورہ دیا ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ کچھ عرصے سے خان صاحب کے ستارے گردش میں ہیں۔ خاص طور سے مشتری سیارہ ان کے گھر (زائچے والے) میں بیٹھا ہے جو انہیں مسلسل ناکامیوں سے دوچار کر رہا ہے ۔ زنجانی صاحب کے بقول یہ سیّارہ /14 اپریل کو ان کے گھر آیا تھا اور اب مزید ساڑھے چار ماہ اسی گھر میں رہے گا۔ اس بن بلائے ”اتیتھی“ کو بھگانے کا ایک ہی طریقہ ہے، یہ کہ خان صاحب ایک کروڑ مچھلیاں پکڑ کر انہیں پھر سے دریا میں چھوڑیں یہ مچھلیاں زندہ حالت میں ہونی چاہئیں۔ مچھلی سمندر کی نہیں، دریا کی ہونا ضروری ہے۔

مشورے میں یہ صراحت نہیں ہے کہ مچھلیاں پکڑنے چھوڑنے کا کام خود خان صاحب نے کرنا ہے یا کسی اور کے ذریعے بھی یہ خدمت لی جا سکتی ہے؟۔ نیز مچھلیاں ہاتھوں سے پکڑنی ہیں یا ٹرالروں سے۔ ایک سوال یہ کیا ہے کہ ایک آدھ مچھلی کم یا زیادہ ہو گئی تو کہیں یہ سارا عمل بھر شٹ اور نشٹ تو نہیں ہو جائے گا؟ جس کے بعد نئے سرے سے کرنا ہو گا۔؟ اور اگر اس بیچ کوئی مچھلی مر گئی تو کیا ہو گا کہ شرط زندہ ڈالنے کی ہے۔

زنجانی صاحب کے مشورے میں ایک خرابی اور بھی گنجائش پذیر ہے، فرمایا ہے مشتری نکل تو جائے گا لیکن اثرات کئی مہینوں کے لیے چھوڑ جائے گا۔ گویا شنی کو منگل ہوتے دیر لگے گی۔بشکریہ نوائے وقت

آہ کو چاہیے اک عمر اثر ہونے تک

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …