منگل , 31 جنوری 2023

غاصب صیہونی حکومت تباہی کے دہانے پر

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

غاصب صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو اور مقبوضہ علاقوں میں قدامت پسند بلاک (انتہائی دائیں بازو کی تحریک) کے درمیان اتحادی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے جاری بات چیت بالآخر ختم ہوگئی ہے۔ اس گفتگو کے نتیجے میں نیتن یاہو کا اقتدار میں آنا یقینی ہوگیا ہے۔ نیتن یاہو کا تل ابیب میں اقتدار میں آنا مقبوضہ بیت المقدس کی غاصب حکومت کے خاتمے کے عمل کو یقینی طور پر تیز کر دے گا۔ اس کی بنیادی وجہ مقبوضہ علاقوں میں دائمی اور وسیع پیمانے پر داخلی بحرانوں کا پیدا ہونا ہوگا۔ ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ مقبوضہ علاقوں کے کچھ باشندے، اس حکومت کے غیر قانونی انتخابات میں لیکوڈ پارٹی کو ووٹ دینے کے باوجود، نیتن یاہو کی اتحادی کابینہ کی تشکیل کی سختی سے مخالفت کر رہے ہیں۔ یہ مسئلہ تل ابیب اور حیفہ میں اتحادی کابینہ کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج کی تشکیل کو یقینی بنائے گا۔

بحران سے تشکیل دی گئی کابینہ
صیہونی حکومت کی نئی کابینہ ماضی کے مقابلے میں سب سے زیادہ دائیں بازو کی انتہاء پسند کابینہ سمجھی جا رہی ہے۔ نومبر میں الیکشن جیتنے والے نیتن یاہو چھٹی بار وزیراعظم بنیں گے۔ ان کے اتحاد میں دائیں بازو کی ایسی جماعتیں بھی شامل ہیں، جن میں ایک جماعت کا لیڈر پہلے ہی عربوں کے خلاف نسل پرستی کا مرتکب پایا جا چکا ہے۔ بعض صیہونی تجزیہ کاروں کو خدشہ ہے کہ نئی کابینہ مقبوضہ علاقوں کے علاقائی اور اندرونی شعبوں میں نئے بحران پیدا کرے گی۔ جمعرات کو مقامی وقت کے مطابق نصف شب سے چند منٹ پہلے، نیتن یاہو نے ٹویٹ کیا: "میں (حکومت بنانے میں) کامیاب ہوگیا ہوں۔”

نیتن یاہو کے اتحادی ممالک اسرائیل کے ساتھ فلسطین کی تشکیل کو مسترد کرتے ہیں، جبکہ اس حل کو امریکی ڈیموکریٹس اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے عرب ڈکٹیٹروں کی حمایت حاصل ہے۔ اس حل کی بنیاد پر اسرائیل کے ساتھ ساتھ مغربی کنارے میں ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں لایا جائے گا، تاکہ بیت المقدس ان کا مشترکہ دارالحکومت ہو، تاہم ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو کی کابینہ کے قیام کے ساتھ ہی یہ ناممکن ہوجائیگا۔ اس سلسلے میں صیہونی گروہوں کے درمیان ایک بھرپور تصادم ہوگا اور امریکہ اور یورپ تک (مقبوضہ بیت المقدس حکومت کے روایتی حامی کے طور پر) اس تنازعے کا دائرہ وسیع ہوجائیگا گا۔ نام نہاد "مذہبی صیہونیت” پارٹی کے رہنماء (جنہوں نے دو دیگر انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ اتحاد میں پارلیمنٹ (کنیسیٹ) میں سب سے زیادہ نشستیں حاصل کی ہیں) مغربی کنارے کا مقبوضہ علاقوں سے الحاق چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو کا رشوت ستانی کا معاملہ شک کی زد میں ہے
غاصب اور غیر قانونی صیہونی حکومت نے 1967ء کی جنگ میں مغربی کنارے، مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔ مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے میں 600,000 سے زیادہ یہودی آباد ہیں۔ وہ جہاں رہتے ہیں، وہ بستیاں بین الاقوامی قانون کے مطابق غیر قانونی تصور کی جاتی ہیں، اگرچہ تل ابیب اس معاملے کو قبول نہیں کرتا۔ صیہونی حکومت نے 2005ء میں غزہ کی پٹی میں واقع فوجی اور یہودی بستیوں کو خالی کر دیا تھا۔ مقبوضہ علاقوں میں حزب اختلاف کے سیاست دانوں نے اٹارنی جنرل کے خلاف احتجاج کیا تھا اور خبردار کیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ارکان کو سپریم کورٹ کے فیصلوں کو منسوخ کرنے کا حق دینے اور صیہونی حکومت کی آئندہ کابینہ کے بعض فیصلے تل ابیب میں داخلی بحران کو بھڑکا دیں گے۔ دوسری طرف اتحادی شراکت داروں نے ایسی قانونی اصلاحات بھی تجویز کی ہیں، جو رشوت خوری، دھوکہ دہی اور عوامی اعتماد کی خلاف ورزی کے الزامات میں نیتن یاہو کے خلاف جاری مقدمے کو ختم کرسکتی ہیں۔ گویا ایک سرکاری طور پر بدعنوان وزیراعظم تل ابیب کے ایگزیکٹو آفس میں بغیر تفتیش کے اپنی موجودگی جاری رکھ سکے گا اور اس کے جرائم پر مقدمہ بھی نہیں چلایا جا سکے گا۔

مقبوضہ علاقوں میں اندرونی بحران
آج یروشلم پر قابض حکومت کو بڑے پیمانے پر علاقائی بحرانوں کا سامنا ہے، جن میں سب سے اہم مزاحمتی طاقت کے خلاف اس جعلی حکومت کے ڈیٹرنس فیکٹر میں کمی ہے اور اس کی بنیادی وجہ حزب اللہ اور حماس کی میزائل اور فوجی طاقت میں اضافہ ہے۔ اس کے علاوہ داعش اور تکفیری دہشت گردی کے حوالے سے تل ابیب کی سازشیں بھی مزاحمتی محاذ کی ہوشیاری اور فیصلہ کن اقدامات کی وجہ سے ناکام ہوچکی ہیں۔ ایسی صورت حال میں نیتن یاہو کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان مقبوضہ علاقوں میں داخلی تقسیم یقینی طور پر تل ابیب میں ایک بااثر اور فیصلہ کن داخلی بحران پیدا کرے گی۔ یہ صورت حال داخلی نقصان اور صیہونیوں کی اندرونی کشمکش کو تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

بلاشبہ مقبوضہ علاقوں میں حکمرانی کے حالات ایسے ہیں کہ تل ابیب میں نئی ​​اتحادی کابینہ کے قیام کو اس حکومت میں خانہ جنگی کا پیش خیمہ سمجھا جا رہا ہے۔ یہ خانہ جنگی تل ابیب اور حیفہ (نتن یاہو اور اتحادی کابینہ کے خلاف) میں سڑکوں پر ہونے والے مظاہروں سے شروع ہوگی اور اندرونی قتل و غارت تک پھیلے گی۔ یہ وہ بدترین صورتحال ہے، جس کا مقبوضہ بیت المقدس کی غاصب حکومت کو سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ صیہونی حکومت کے خلاف علاقائی بحران، تل ابیب کی نااہلی نیز اندرونی کشمکش مل کر صیہونیوں کے زوال کو مکمل کر دیں گے۔ مقبوضہ علاقوں میں سلامتی اور سیاسی امور کے بہت سے تجزیہ کاروں نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ ایک انتہاء پسند اتحادی کابینہ کی صورت میں نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی، اس حکومت کے بنیادی ڈھانچے اور نظام کو تباہ کر دے گی۔

ایک بحران جو پہلے ہی شروع ہوچکا ہے
اتحادی کابینہ کی تشکیل کے حوالے سے نیتن یاہو کے باضابطہ اعلان کے ساتھ ہی تل ابیب کا بحران ایک نئے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ یروشلم پر قابض حکومت کی علاقائی اور بین الاقوامی ناکامیوں سے قطع نظر یہ حکومت 2023ء میں افراتفری کا مرکز بن جائے گی۔ اس دوران، مقبوضہ علاقوں کے مکینوں میں دو قطبی پن اس حکومت میں ایک بے قابو بحران کا باعث بنے گا، جسے تل ابیب میں دائیں بازو اور لبرل جماعتوں کے درمیان اقتدار کی منتقلی بھی حل نہیں کرسکے گی۔ اس سے قبل نیتن یاہو کے اقتدار کی کرسی پر براجمان ہونے کی وجہ سے ہم نے مقبوضہ علاقوں کے مختلف شہروں میں بے شمار فسادات دیکھے اور یہ سلسلہ ان کے دوبارہ اقتدار کی کرسی تک (متنازعہ کابینہ کی صورت میں) پہنچنے سے یقینی طور پر تیز تر ہو جائے گا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سستے تیل کے لیے پاکستان کے روس سے معاملات طے ہوگئے؟

(وسی بابا) غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹر نے خبر دی ہے کہ ایک روسی …