ہفتہ , 4 فروری 2023

عالم اسلام کی پہلی خاتون وزیراعظم

(بشیر ریاض)

عالم اِسلام کی پہلی منتخب وزیراعظم بے نظیر بھٹو کی شہادت کو 15سال گزر گئے ہیں۔ اُن کی شہادت سے پاکستان ایک عالمی مرتبے کی رہنما سے محروم ہو گیا تھا، یوں سب سے بڑا نقصان پاکستان کا ہوا اور سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کے دشمنوں کو ملا، وہ نہ صرف وفاقِ پاکستان کی علامت تھیں بلکہ عوام کی امنگوں کی بھی مظہر تھیں۔بی بی شہید حقوقِ نسواں کی بہت بڑی علمبردار تھیں۔ آج پاکستان میں عورتوں کی حالت مخدوش ہے، وہ زیادتی کا شکار ہو رہی ہیں۔اگر بی بی زندہ ہوتیں تو حالات مختلف ہوتے۔1996ء میں ایک خاتون چولہا پھٹنے سے جھلس گئی، اُس واقعے کا وزیراعظم بے نظیر بھٹو نے سخت نوٹس لیا۔ اس خاتون کو لاکھوں روپے خرچ کرکے بیرون ملک بھیجا اور ُاس کا تسلی بخش علاج ہوا۔اگر بی بی زندہ ہوتیں تو ملکی حالات بہتر ہوتے۔ دہشت گرد دندناتے نہ پھرتے، اُن کی شہادت سے ہمیں بحیثیت قوم بھی بڑا نقصان ہوا ہے۔2007ء عجیب سال تھا، بی بی نے اُس سال وطن واپسی کا فیصلہ کیا اور یہی بی بی کی زندگی سے واپسی کا سال بھی ثابت ہوا،شاید یہ اُن کا روحانی احساس تھا کہ اُنہوں نے 21جون کو سالگرہ نہیں منائی تھی۔ محترمہ بے نظیر بھٹو واپسی کے خیال سے بے حد خوش تھیں، اُن کے دِل میں یہ تڑپ تھی کہ وہ جلد پاکستان جائیں،اپنے عوام سے ملیں، والد اور بھائیوں کی قبر پر جا کر اُن کی مغفرت کے لیے دعامانگیں اور اُن کی بے چین روح کو قرار آئے، شاید اُن کے لاشعور میں تھاکہ وہ بھی جلد اُن کے پاس چلی جائیں گی اور اُن کے بعض اقدامات اِس حقیقت کے غماز تھے۔

مَیں 2007ء میں لاہور میں تھا، مجھے بی بی نے کہا کہ مَیں یکم جون کو دبئی آ جاؤں۔ مجھے دبئی جانے میں 10دن کی تاخیر ہوگئی۔ بی بی نے شکوہ کیا کہ مجھے جلدی آنا چاہیے تھا،یہ دن بہت مصروفیت کے دن ہوں گے۔ دبئی جانے سے قبل چیچہ وطنی سے سابق رکن اسمبلی بیگم شہناز جاوید نے مجھے کہا کہ یوسف رضا گیلانی صاحب مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ایک شام گلبرگ میں بیگم شہناز کی رہائش گاہ پر وہ تشریف لائے۔ بی بی یوسف رضا گیلانی صاحب کی بہت عزت کرتی تھیں کہ اُنہوں نے پانچ سال جیل کاٹی لیکن جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتہ نہ کرکے قابل ِ تقلید مثال قائم کی تھی۔جناب یوسف رضا کی یہ جائز شکایت تھی کہ پنجاب کے صوبائی صدر شاہ محمود قریشی پارٹی امور میں اُن سے مشورہ نہیں کرتے اور اُن کے علم کے بغیر اپنی مرضی سے جلسے کرتے ہیں اور اِس سلسلے میں رحیم یار خان کے جلسے کا حوالہ دیا۔ اُنہیں یہ بھی شکوہ تھا کہ پارٹی کے سینئر وائس چیئرمین ہونے کے باوجود اُنہیں نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ مخدوم گیلانی صاحب نے کہا کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے شاہ محمود قریشی کو پنجاب کا صدر بنانے کا فیصلہ کیا تو بی بی نے فون پراُن کی رائے پوچھی،اُنہوں نے بخوشی بی بی کے فیصلے کو تسلیم کیا تھا۔ جناب یوسف رضا گیلانی کی یہ شکایت بتا دی جس پر بی بی نے پنجاب کی قیادت کو ہدایات دی کہ آئندہ یوسف رضا گیلانی سے مشاورت کی جائے۔

جون کے اُن ایا م میں دبئی میں کافی گہماگہمی تھی، پارٹی کے کئی اہم رہنماء وہاں آئے ہوئے تھے اور پارٹی ٹکٹ کے حصول کے خواہش مندوں کا میلہ لگا ہوا تھا۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی دبئی شاخ نے مقامی ہوٹل میں بی بی کی سالگرہ کی تقریب کا اہتمام کیا۔ سالگرہ کی یہ تقریب اُن کی تاریخ پیدائش سے چند روز پہلے منعقد ہوئی۔ اِس میں پارٹی کے مقامی کارکنوں کے علاوہ پاکستان سے آئے ہوئے بعض مہمان شریک تھے۔ بی بی کی بچپن کی سہیلی سمیعہ وحید دبئی آئی ہوئی تھیں۔وافی شاپنگ مال میں اپنے پسندیدہ ریسٹورانٹ میں بی بی کی سالگرہ کا لنچ دیا جس میں میرے علاوہ سمیعہ وحید اور اُن کی بہن عظمیٰ شریک ہوئے۔ ہم نے بی بی سے پوچھا سالگرہ لنچ سے پہلے کیوں؟ تو جواب آیا:”آئندہ دِنوں میں بہت مصروف ہوں،اِس فراغت سے فائدہ اُٹھانا چاہتی ہوں“۔

پہلا موقع تھا کہ بی بی نے اپنا یومِ ولادت21جون کو نہیں منایا تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو 25جون کو دبئی سے لندن چلی گئیں کچھ دن بعد28 جون کو میں بھی لندن پہنچ گیا۔ بی بی نے لندن میں بہت مصروف وقت گزارا، آئندہ انتخابات کے لیے پارٹی کے امیدواروں کے فیصلے کیے اورپاکستان واپسی کا بھی اعلان کیا، الوداعی بھرپور پریس کانفرنس میں ملکی حالات کے بارے میں سوالات کے جوابات دیئے اور واقف کار چند صحافیوں کو انٹرویو بھی دیئے۔

بی بی کی واپسی کے سلسلے میں اُن کا پولیٹیکل سٹاف پیش پیش تھا،اُن کی کوشش تھی کہ واپسی کی تاریخ افشاء نہ ہو اور طے شدہ تاریخ کا مناسب وقت پر اعلان کیا جائے۔بی بی کی واپسی پر اُن کی سکیورٹی کے بارے میں میرے کچھ تحفظات تھے جن کا میں نے اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ کہیں عمر بھر خدانخواستہ پچھتانا نہ پڑے اور پھر وہی ہوا جس کا خدشہ تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو واحد قومی راہنما تھیں جو پاکستان کا ایجنڈا لے کر آگے چل سکتی تھیں، وہ پوری دنیا میں جانی پہچانی شخصیت تھیں، اگر زندہ ہوتیں تو دنیا بھر میں تمام سیاسی حلقوں میں ایک نمایاں آواز ہوتیں،لہٰذا اِس آواز کو دبا دیا گیا۔

شہید محترمہ بے نظیر بھٹو مفاہمت پر یقین رکھتی تھیں، وہ لوگوں کو قریب لانا چاہتی تھیں،اُن کی تحریریں اُن کی شخصیت کے اِس پہلو کی آئینہ دار ہیں۔ اُن کا کہنا تھا کہ ہر وقت مثبت اندازِ فکر اپناناچاہیے،بلاول بھٹو زرداری اب اپنی والدہ کے مشن کی راہ پر گامزن ہیں اور پاکستان کے نقش کو عالمی سطح پر اُجاگر کر رہے ہیں، یقینا بی بی شہید اپنے ہونہار بیٹے کی سیاست میں پیش قدمی پر نازاں ہوں گی۔

اِس مشن میں جو خطرات درپیش ہیں،بلاول بھٹو کو اُن کا ادراک ہے،وہ بے نظیر بھٹواور ذوالفقار علی بھٹو کے جانشین ہیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ بھٹو خاندان کا خطرات و مشکلات کا بہادری سے سامنا کرنا طرہئ امتیاز ہے اور وہ بے دھڑک خطرناک حالات کا سامنا کر سکتے ہیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی تربیت نے بلاول بھٹو زرداری کو اچھے انسان اور سیاستدان کے اوصاف سے بہرہ مند کر دیا ہے اور انشاء اللہ آنے والے دنوں میں وہ اپنی والدہ کا نام روشن کریں گے۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …