ہفتہ , 4 فروری 2023

سیاسی سموگ

(ناصر چودھری)

وسطی اور جنوبی پنجاب آج کل شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں۔ پہلے صرف دُھند یعنی فوگ ہوا کرتی تھی۔دنیا کے کئی اور ممالک میں بھی فوگ ہوتی ہے جیسے لندن فوگ کا انگریزی ادب میں بہت ذکر ہو چکا ہے۔ہمارے یہاں بھی شدید سردیوں میں بہت دُھند ہوا کرتی تھی۔اب کچھ سال سے فوگ سے زیادہ سموگ کا ذکر ہوتا ہے جس میں دھند کی نوعیت بدل چکی ہے اور اِس میں ہوا میں موجود نمی میں پانی کے ساتھ ساتھ آلودگی کے عناصر بھی شامل ہو چکے ہیں۔ دسمبر کے آخری دو اور جنوری کے پہلے دو ہفتوں میں نصف سے زیادہ میدانی پنجاب شدید ترین سموگ کی زد میں رہتا ہے۔ طبی ماہرین کے نزدیک آلودگی کی وجہ سے سموگ انتہائی مضر صحت ہے اور اُس کی وجہ سے کئی جسمانی عوارض لاحق ہونے کے خطرات ہو جاتے ہیں۔ اِن دنوں بھی یہی صورت حال ہے اور ممکنہ طور پر اگلے دو ڈھائی ہفتے یہ سلسلہ ابھی چلے گا۔ بات اگر صرف ماحولیاتی سموگ تک محدود رہتی تو قدرے غنیمت تھا لیکن اِن دِنوں ملک میں سیاسی سموگ بھی چھائی ہوئی ہے اور سیاسی حد نگاہ صفر پر ہے۔پاکستان کی سیاسی پارٹیاں،اُن کے لیڈر اور حامی، سیاسی نظام اور ملک کو چلانے والوں کو بھی سیاسی سموگ کی وجہ سے کچھ سجھائی نہیں دے رہا اور عام تاثر یہی ہے کہ ابھی دو تین ہفتے یہی کیفیت رہے گی کیونکہ ملک کے تمام سیاسی اور غیر سیاسی سٹیک ہولڈرز اِس وقت سموگ سے نبرد آزما ہیں،اِسی دوران نیا سال آ جائے گا اور دو تین ہفتوں کے بعد جب سیاسی موسم کھلنا شروع ہو گا تو آنے والے وقت کی بہتر طور پر نظر بینی ممکن ہو سکے گی۔اِس اثناءمیں عدالتوں کا ماحول بھی چھٹی والے سے زیادہ کام والا ہو چکا ہو گا اور اُن مقدمات میں بھی پیشرفت ہو رہی ہو گی جو اِس وقت چھٹیوں اور سموگ کے موسم کی وجہ سے ”انتظار فرمایئے“ کے مراحل میں ہیں۔

سموگ کی طرح اِس وقت سب سے زیادہ آلودہ دھند وسطی اور جنوبی پنجاب پر چھائی ہوئی ہے۔پنجاب میں کیا تبدیلی ہو گی اِس کا اندازہ بھی جنوری میں ہو گا جب وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کے مستقبل کا فیصلہ ہو گا۔ گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے وزیراعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا اور جب وہ ایسا نہ کر پائے تو اُنہیں ڈی نوٹیفائی کر دیا،معاملہ لاہور ہائی کورٹ میں گیا جہاںوزیراعلیٰ کو 11جنوری تک برقرار رہنے کا عبوری ریلیف تو مل گیا لیکن اِس برقراریت کے اونٹ کے گلے میں اعتماد کا ووٹ لینے کی گھنٹی باندھی گئی،اب صورت حال یہ ہے کہ وزیراعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی کو 11جنوری یا اُس سے پہلے اعتماد کا ووٹ لینا ہے اور اگر وہ یہ نہ کر سکے تو اُن کی وزارتِ اعلیٰ چلی جائے گی۔ سیاسی سموگ کی وجہ سے یہ بات ابھی حد نگاہ میں نہیں ہے کہ وہ اعتماد کا ووٹ لے سکیں گے یا نہیں،اُن کے حامی اور مخالف کیمپ دونوں اپنی اپنی جگہ پُرامید ہیں۔میری رائے یہ ہے کہ اگر چوہدری پرویز الٰہی اعتماد کا ووٹ لینے کی پوزیشن میں ہوتے تو بات اتنا آگے نہ جاتی اور وہ اعتماد کا ووٹ لے لیتے،اگر اُنہوں نے اِس سے راہِ فرار اختیار کی ہے تو میری دانست میں اُس کی وجہ یہی ہے کہ اُن کے پاس بندے پورے نہیں ہیں، نہ صرف مسلم لیگ (ق) بلکہ پی ٹی آئی کے بہت سے ممبران پنجاب اسمبلی نے منہ دوسری طرف کر رکھا ہے۔ فواد چوہدری اور میاں اسلم اقبال بار بار اپنے حامی اراکین کی تعداد 187 بتا رہے ہیں جو اعتماد کے ووٹ کی کامیابی سے محض ایک ووٹ زیادہ ہے۔اگر دو چار یا پانچ دس اراکین بھی اعتماد کے ووٹ میں غیر حاضر رہے تو چوہدری پرویز الٰہی ناکام ہو جائیں گے اور وزیراعلیٰ نہیں رہیں گے۔اِس صورت میں پنجاب میں ایک نیا سیاسی منظرنامہ ترتیب پاجائے گا، وفاق کے بعد پنجاب کا سیم پیج بھی پھٹ جائے گا۔

میاں نواز شریف کی اگلے ماہ وطن واپسی متوقع ہے جن کے پہنچتے ہی ملک خاص طور پر پنجاب کی سیاست یکسر تبدیل ہو جائے گی۔ آئینی مدت کے اعتبار سے دیکھا جائے تو اگلے الیکشن اکتوبر 2023ءمیں ہونا ہیں۔یہ بات آنے والے چند ماہ میں ہی پتہ چلے گی کہ انتخابات وقت پر ہو پاتے ہیں یا آگے جاتے ہیں؟ وقت سے پہلے انتخابات کے امکانات بہت محدود ہیں۔ عمران خان اپریل میں انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن اُن کے پاس مطلوبہ سیاسی قوت نہیں ہے کہ وہ یہ کام کروا سکیں۔حالیہ آڈیو لیکس کے بعد اُن کی حمایت میں بہت کمی آ چکی ہے ،خاص طور پر اُن کی خواتین ووٹرز بہت حد تک گومگو کا شکار ہیں۔اگر پی ٹی آئی کو پنجاب میں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑتے ہیں تو اُس کا براہ راست اثر اگلے الیکشن پر پڑے گا اور اگلی قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں پی ٹی آئی کی سیٹیں بہت کم ہو سکتی ہیں۔اگر سوشل میڈیا پر ٹرینڈز کو دیکھا جائے تو اُس میں بھی عمران خان کی حمایت میں بہت کمی آ چکی ہے اور ایسا لگتا ہے کہ بامیان کے بتوں کی طرح اُن کی مقبولیت کا بت بھی پاش پاش ہونے کو ہے۔ سیاسی نقصانات کے علاوہ عدالتی سیٹ بیک بھی اُن کے منتظر ہو سکتے ہیں کیونکہ کئی مقدمات اِس نہج پر پہنچ چکے ہیں جن میں اُن کے نا اہل ہونے کے امکانات بڑھتے جا رہے ہیں۔عمران خان کی نا اہلی کی صورت میں پی ٹی آئی کی قیادت تبدیل ہو گی اور تبدیل شدہ قیادت پارٹی کو متحد رکھنے کی صلاحیت سے محروم ہو گی۔عمران خان اپنے امریکی سازش والے بیانیے سے پہلے ہی دستبردار ہو چکے ہیں جس کے بعد حقیقی آزادی جیسے نعرے غیر مو¿ثر ہو کر رہ گئے ہیں۔ بلاول بھٹو زرداری اب آگے بڑھ بڑھ کر چوکے چھکے لگا رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو وائٹ ہاﺅس نے نہیں بلکہ بلاول ہاﺅس نے نکالا ہے، لگتا ہے اُن کی نظریں جنوبی پنجاب کے محاذ پر مرکوز ہیں۔ پنجاب میں پی ٹی آئی کی حکومت کے ختم ہونے کے اثرات خیبرپختونخوا تک جائیں گے اور وہاںاسمبلی میں پی ٹی آئی کے ہم خیال اراکین کا ایک بڑا بلاک بن سکتا ہے جس کی نظر موجودہ کی بجائے آئندہ کی سیاست اور اسمبلی پر ہو گی۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …