ہفتہ , 4 فروری 2023

چین اور پاکستان کی سرحد پر بھارتی میزائل نصب

(ریاض احمدچودھری)

مودی سرکار نے پاکستان اور چین کی سرحدوں پر 120 ٹیکٹیکل میزائل نصب کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ وزارت دفاع کی ایک اعلیٰ سطح کی میٹنگ میں مسلح افواج کے لئے تقریباً 120 ”پرالے“ میزائلوں کی تیاری اور اُن کو چین اور پاکستان کی سرحدوں پر نصب کرنے کی منظوری دی ہے۔ پرالے میزائل زمین سے زمین پر مار کرنے والا بیلسٹک میزائل ہے جو 500 کلو میٹر تک کے اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور پرواز کے وقت وہ اپنے رخ کو تبدیل کرتے رہنے کی صلاحیت کی وجہ سے میزائل شکن سسٹم سے بچ نکلتا ہے۔اِس میزائل کو روس کے سکندر بیلسٹک میزائلوں سے تشبیہ دی جاتی ہے جو یوکرین کے خلاف بہت زیادہ تعداد میں نصب کیے گئے ہیں اور اپنی جنگی صلاحیت کو ثابت کر چکے ہیں۔بھارتی وزارت دفاع نے ”پرالے“ میزائلوں کی خریداری کا فیصلہ گزشتہ برس بھارت کے دفاعی تحقیقاتی و ترقی تنظیم (ڈی آر ڈی او) کی جانب سے اِن میزائلوں کے پہلے کامیاب تجربے کے بعد کیا ہے۔اِس بیلسٹک میزائل کے چونکہ اب تک صرف دو تجربات ہوئے ہیں، اِس کا مطلب یہ ہے کہ اُنہیں آپریشنل بنانے میں ابھی وقت لگ سکتا ہے کیونکہ اُن کے لیے سپورٹنگ موبائل پلیٹ فارم بھی تیار کرنا ہوں گے۔

”پرالے“ ہندی کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ”عظیم تباہی“۔ مذہبی لحاظ سے جس طرح مسلمانوں میں قیامت کا تصور ہے اِسی طرح ہندومت میں بھی ”پرالے“ کا نظریہ ہے،یعنی جب پوری دنیا تباہ ہو جائے گی۔بھارتی دفاعی تحقیقاتی ادارے ڈی آر ڈی او کا تیار کردہ پرالے بیلسٹک میزائل زمین سے زمین پر اور مختصر دوری پر مار کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ اِسے دشمن کے ریڈار، مواصلاتی تنصیبات، کمانڈ سینٹروں اور فوجی ہوائی اڈوں کو تبا ہ کرنے کے مدنظر تیار کیا گیا ہے۔ یہ 150 سے 500 کلومیٹر دوری تک کے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے اور دشمن کے انٹرسیپٹر میزائلوں کے لیے اِس کا پتہ لگانا انتہائی مشکل ہے۔ اِسے داغنے کے بعد بھی ایک مخصوص دوری تک اِس کی سمت کو تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اِس میزائل کو مزید اَپ گریڈ کیا جاسکتا ہے اور اِس کے مار کرنے کی دوری میں بھی اضافہ کیا جا سکتا ہے تاہم تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ اعلان ملکی اپوزیشن سیاسی جماعتوں کی طرف سے وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر مسلسل دباو¿ کو کم کرنے کی کوشش ہے۔ اپوزیشن جماعتیں مودی حکومت پر چین کی جانب سے مبینہ جارحیت کا ٹھوس جواب نہ دینے کے الزامات عائد کر رہی ہیں۔

ابھی چند روز قبل بھارت نے جوہری صلاحیت کے حامل“ اگنیV“ بین البراعظمی بلیسٹک میزائل (آئی سی بی ایم) کا تجربہ کیا ہے جس کی رینج ساڑھے پانچ ہزار کلومیٹر ہے۔ جوہری صلاحیت کے حامل ”اگنی V“ بیلسٹک میزائل کا تجربہ اڑیسہ کے ا ے پی جے عبدالکلام ساحل سے کیا گیا۔ بھارت نے یہ تجربہ میزائل پر نئی ٹیکنالوجی اور آلات کی جانچ کے لیے کیاہے۔ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل کا تجربہ اروناچل پردیش کے ضلع توانگ میں لائن آف ایکچوئل کنٹرول (ایل اے سی) پر بھارت اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کیا گیا۔ یہ پہلے سے طے شدہ مشق ہے اور تجربے سے پہلے پروٹوکول کے تحت اِس کی وارننگ بھی جاری کی گئی تھی۔ بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربے کا اصل مقصد چین کو پیغام دینا تھا۔

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے دوبارہ برسراقتدار آنے کے بعد پاکستان کے خلاف جو معاندانہ اور جذباتی رویہ اختیار کیا اُس سے بہتر تعلقات قائم کرنے کی خواہشات پر نااُمیدی کے سائے منڈلانے لگے۔مذاکرات کی باتیں تو ہوئیں مگر بھارت کے جارحانہ اور غیر سفارتی رویے کے باعث بات چیت کا سلسلہ ایسا منقطع ہوا کہ ابھی تک اُس کے بحال ہونے کے آثار دکھائی نہیں دے رہے۔مودی نے بھارت کے جنگی جنون کو مزید ہوا دی اور خطے کی بالادست قوت بننے اور اپنے جنگی عزائم کو پروان چڑھانے کے لیے جدید ترین اسلحے کے ڈھیر لگانے کے لیے امریکہ سمیت دیگر قوتوں سے رابطے بڑھانا شروع کر دیئے۔ اب بھارت نے پاکستانی سرحد پر تعینات فوجیوں کو جدید اسلحہ فراہم کرنے کے لیے غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیئے ہیں۔

بھارتی میڈیا کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان اور چین کی سرحدپر تعینات ہندوستانی فوجیوں کو جلد نئی جدید رائفلیں، ہلکی مشین گنیں اور دیگر اسلحہ فراہم کیا جائے گا۔ وزارتِ دفاع نے کہا کہ غیر ملکی اسلحہ ساز کمپنیوں کو ٹینڈر جاری کردیئے گئے ہیں۔ جلد ہی 72400 اسالٹ رائفلیں، 93895 کاربائنز اور 16479ہلکی مشین گنیں مل جائیں گی جن کی قیمت پانچ ہزار تین سو چھیاسٹھ کروڑ روپے ہے اورڈلیوری تین تا 12ماہ میں ہوگی۔اِس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ بھارت نے خطے میں اسلحے کی دوڑ شروع کر رکھی ہے۔ آئے روز کسی نہ کسی میزائل کا تجربہ کرکے اپنی جنگی قوت میں اضافے کا اظہار کرتا رہتا ہے۔ بھارت کے اِس جنگی جنون کو دیکھتے ہوئے اور اپنی ملکی سلامتی اور بقاءکو یقینی بنانے کے لیے ردعمل کے طور پر پاکستان کو نہ چاہتے ہوئے بھی اِس دوڑ میں شامل ہونا پڑتا ہے جس سے پاکستان کی مالی مشکلات میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔ بھارت کا یہ جنگی جنون کہاں جا کر رکے گا اور اِس کا انجام کیا ہو گا؟ اِس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …