جمعرات , 2 فروری 2023

نیپال میں نئے وزیراعظم کا تقرر، بھارت فکر مند کیوں؟

نیپال میں پشپ کمل دہل عرف ‘پراچند’ نے نئے وزیراعظم کا منصب سنبھال لیا، مگر بھارت اتنا فکرمند کیوں ہے؟، چند اہم حقائق جانئے۔پشپ کمل دہل نیپال کے 44 ویں وزیر اعظم ہیں اور اس عہدے پر تیسری بار براجمان ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ دو ہزار آٹھ اور دو ہزار سولہ میں بھی اس عہدہ پر فائز رہ چکے۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق پراچند نے نیپال میں انیس سو چھیانوے سے دو ہزار چھ کے درمیان خانہ جنگی کے دوران ماؤ نواز گوریلا تحریک کی قیادت کی تھی، یہی نہیں ملک سے دو سو چالیس سالہ بادشاہت کا خاتمہ اور پارلیمانی جمہوریت کے قیام میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا تھا۔

بھارت کو خوف ہے کہ ماؤ نواز تحریک کے رہنما کی اقتدار میں واپسی دونوں ممالک کے درمیان پچیدہ تعلقات کو مزید گھمبیر کرسکتے ہیں۔

بین الاقوامی امور کے ماہر اور مشہور تھنک ٹینک آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن میں فیلو ششانک مٹو کا کہنا ہے کہ کرسمس کے روز پراچند کی ڈرامائی واپسی بھارت کے لیے حیران کن ہے

مٹو نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ کم از کم یہ بات تو طے ہے کہ دہلی اور کٹھمنڈو کے درمیان پیچیدہ تعلقات کے تناظر میں پراچند کی وزارت عظمیٰ کے عہدے پر واپسی بھارت کے لیے فکرمندی کا باعث ہے۔

پراچند اور بھارت کے تعلقات میں اتار چڑھاؤ

مٹو نے اپنے مضمون میں لکھا کہ پراچند اس ماؤ نواز تحریک کے قائد رہ چکے، جس نے نیپال میں بھارت کے اثرورسوخ کی مخالفت کی تھی اور بھارت کی حمایت یافتہ نیپال شاہی فوج کے خلاف جنگ کی تھی حالانکہ انہوں نے ماؤ نواز جماعتوں کو سیاسی دھارے میں لانے اور ملک میں جمہوری تبدیلی کو مستحکم کرنے میں بھارت کے ساتھ مل کر کام بھی کیا تھا۔

پشپ کمل دہل نے اپنے ملک میں خانہ جنگی کے دوران ایک طویل عرصے تک بھارت میں روپوشی کی زندگی گزاری اور یہیں سے ماؤ نواز تحریک کی قیادت کی۔

مگر پراچند نے اپنا پہلا اقتدار کھونے پر بھارت کو مورد الزام ٹھہرایا تھا اور انہوں نے چین کے ساتھ نیپال کی قربت بڑھانی شرو ع کردی تھی۔ بعض علاقائی معاملات پر بھی نئی دہلی کے ساتھ ان کا اختلاف رائے ہو چکا ہے۔

اس کے باوجود وہ بھارت کے ساتھ وقتاً فوقتاً بات چیت کرتے رہے ہیں اور رواں برس جولائی میں نئی دہلی میں حکمراں بی جے پی کے صدر جے پی نڈا کے ساتھ ملاقات کی تھی۔

نیپال اور چین کی بڑھتی ہوئی قربت

پراچند نے نیپال میں شہنشاہیت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام کے بعد ملک کی تقریباً نصف صدی پرانی ایک روایت توڑدی تھی، انہوں نے اپنے پیش رو حکمرانوں کے برخلاف سن 2008 میں ملک کے پہلے وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پہلا دورہ بھارت کا کرنے کے بجائے چین کا کیا تھا۔

پراچند کے سب سے اہم اتحادی حلیف کے پی شرما اولی نے اپنے دور حکومت میں بیجنگ کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کا کام تیز کردیا تھا، انہی کے دور میں کالا پانی اور لیپو لیکھ سمیت کئی علاقوں میں بھارت اور نیپال کے درمیان علاقائی تنازعات زیادہ ابھر کر سامنے آئے۔

دفاعی امور کے ماہر ریٹائرڈ لیفٹننٹ جنرل پرکاش کٹوچ کا کہنا ہے کہ کمیونسٹوں کے نیپال میں ایک بار پھر اقتدار میں آنے کے بعد بھارت کو یہ توقع رکھنی چاہیے کہ کٹھمنڈو علاقائی مسائل کو ایک بار پھر ہوا دے گا۔ اور یہ ملک بھارت مخالف چین پاکستان اتحاد کی حمایت کرے گا۔بشکریہ اے آر وائی نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

معیشت کی تباہ حالی: وجوہات اور نکلنے کا راستہ

(لیاقت بلوچ) (حصہ اول) آج ملک تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ سْود …