ہفتہ , 4 فروری 2023

الیکشن کمیشن کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو کروانے کا حکم

اسلام آباد:اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو کروانے کا حکم دے دیا۔پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی کی جانب سے الیکشن کمیشن کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے نوٹیفکیشن کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے بلدیاتی انتخابات سے متعلق درخواستوں پر مختصر فیصلہ سنایا۔اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کا بلدیاتی انتخابات ملتوی کرانے کا نوٹیفکیشن معطل کردیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایک صفحہ پر مشتمل مختصر تحریری فیصلے میں لکھا کہ الیکشن کمیشن کو ہدایات دی جاتی ہے کہ پہلے سے اعلان کی گئی تاریخ 31 دسمبر 2022 کو ہی بلدیاتی انتخابات کروائے جائیں۔

فیصلے میں مزید لکھا گیا کہ وفاقی حکومت الیکشن کمیشن آف پاکستان کو بلدیاتی انتخابات منعقد کرانے میں معاونت فراہم کرے۔قبل ازیں، اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے کے خلاف کیس کی سماعت شروع ہوئی، وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل اور ڈپٹی اٹارنی جنرل عدالت میں پیش ہوئے۔ای سی پی اور وزارت قانون 4 ماہ میں الیکشن پر رضامندی ظاہر کی اور وزیر داخلہ نے مشاورت کا وقت مانگ لیا

الیکشن کمیشن کی جانب سے عدالت میں جواب جمع کروایا گیا، جس میں کہا گیا کہ عدالتی حکم پر الیکشن کمیشن حکام اٹارنی جنرل کے پاس گئے، اٹارنی جنرل نے وزیر قانون سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا، وزیر قانون نے ابتدائی طور پر 6 ماہ میں الیکشن کروانے کا کہا۔

ای سی پی نے جواب میں کہا کہ الیکشن کمیشن نے 120 دن کے اندر انتخابات پر اصرار کیا، وزیر قانون نے بعد میں 4 مہینے کے اندر انتخابات کرانے پر رضا مندی ظاہر کی۔

جواب میں مزید کہا کہ اٹارنی جنرل نے وزارت داخلہ حکام سے بھی رابطہ کیا، وزیر داخلہ نے معاملے پر آج دن 2 بجے میٹنگ رکھی ہے، وزیر داخلہ کی جانب سے حکام نے جواب سے آگاہ کیا۔

ای سی پی کی جانب سے عدالت میں جمع کروائے گئے جواب میں مزید کہا گیا کہ بتایا کہ وزیرِداخلہ اکیلے وعدہ نہیں کر سکتی، وفاقی حکومت سے مشاورت ضروری ہے۔

پی ٹی آئی کے وکیل سردار تیمور نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن نے اپنا بوجھ عدالت پر ڈالنے کی کوشش کی، عدالت نے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات موخر کرنے کا کبھی نہیں کہا تھا۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے مجوزہ قانون سازی کا سہارا لیا، صدر کے دستخط نہ ہونے کے باعث اسے قانون سازی نہیں، مجوزہ بل ہی کہا جائے گا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے استفسار کیا کہ کیا الیکشن شیڈول کسی عدالت کے سامنے چیلنج ہوا؟ اگر چیلنج نہیں ہوا تو الیکشن شیڈول تو ابھی بھی موجود ہے۔

اس پر ڈی جی الیکشن کمیشن نے عدالت کو بتایا کہ نہیں، بلدیاتی انتخابات کو موخر کر دیا گیا تھا۔عدالت نے کہا کہ اگر ہم آپ کی رٹ پٹیشن منظور کریں تو کیا الیکشن کمیشن انتخابات کرا سکتا ہے؟

پی ٹی آئی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن خود کہہ چکا کہ تمام تیاری مکمل اور صرف سامان کی ترسیل باقی ہے۔وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن بے شک ایک ہفتے بعد انتخابات کرا لے۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل منور اقبال دوگل نے دلائل دیے کہ وفاقی حکومت اور الیکشن کمیشن حکام کا آج اجلاس ہے، وقت کی کمی کے باعث پیراوائز کمنٹس داخل نہیں کرا سکے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ کیا وفاقی حکومت اتنی نااہل ہو گئی ہے کہ پٹیشن کا جواب داخل نہ کر سکے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر جواب تیار کر بھی لیں تو وزارت قانون سے اس کی منظوری کے بعد داخل ہوتا ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وجہ تھی کہ الیکشن سے 12 دن قبل یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ کیا گیا؟ آپ اس کی وجہ ہمیں بتا دیں، عدالت کے سامنے بلدیاتی انتخابات کرانے کی یقین دہانی پر کیا کہیں گے؟

جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے بتایا کہ یہ وفاقی حکومت کی صوابدید ہے کہ وہ اپنی پاور ایکسرسائز کرے۔عدالت نے استفسار کیا کہ یہ اختیار سال 2022 میں کتنی بار استعمال کیا گیا؟

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ یہ اختیار اس سال دو مرتبہ استعمال ہوا، جس پر عدالت نے پوچھا کہ جون میں پہلی مرتبہ یہ اختیار تو 2017 کی مردم شماری کی بنیاد پر استعمال کیا گیا تھا۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا کہ 2017 کے بعد آبادی میں اضافہ ہوا، اسی لیے یونین کونسلز کی تعداد مزید بڑھائی گئی، اب قانون سازی ہو گئی ہے جس میں میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخاب کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوا ہے۔

پہلے میئر اور ڈپٹی میئر کا انتخاب اس الیکشن کے ایک دو ماہ بعد ہوتا تھا۔ایڈوکیٹ جنرل اسلام آباد جہانگیر جدون نے عدالت میں دلائل شروع کیے۔

ان کا کہنا تھا کہ درخواست گزار اس وقت بھی رکن قومی اسمبلی ہیں ، لیکن وہ اسمبلی نہیں جاتے، درخواست گزار کو اس وقت قومی اسمبلی میں ہونا چاہئیے، اسلام آباد کے عوام کی طرف سے منتخب تینوں ممبران قومی اسمبلی نہیں جارہے۔الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب بھی انتخابات کرانے کیلئے تیار ہے۔

عدالت نے استفسار کیا کہ آپ کل الیکشن کرانے کیلئے تیار ہیں ؟ جس پر ڈی جی نے بتایا کہ ہم ابھی اپنے دلائل میں تفصیل سے بتائیں گے ۔الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل برائے قانون نے عدالت کو بتایا کہ بیلٹ پیپرز کی ترسیل صرف الیکشن سے دو دن پہلے کی جاتی ہے، سیکیورٹی انتظامات کا بھی کہنا ہوتا ہے۔جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ اسلام آباد میں تو ویسے بھی سیکیورٹی انتظامات ہیں۔

عدالت نے استفسار کیا کہ اگر الیکشن نہیں ہوتے تو پرنٹنگ ہونے والا سامان ضائع ہو جائے گا؟ اس کا کون ذمہ دار ہو گا؟ جس پر ای سی پی کے ڈی جی برائے قانون نے بتایا کہ جس نے نوٹیفکیشن جاری کیا۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے ریمارکس دیے کہ ہم وفاق کے رویے سے بہت مایوس ہوئے ہیں کہ آپ نے جواب بھی داخل نہیں کرایا، جس کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے بتایا کہ 4 بجے فیصلہ سنایا جائے گا۔

واضح رہے کہ آج صبح الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے تفصیلی جواب جمع کروایا تھا۔

گزشتہ روز سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کے لیے الیکشن کمیشن سے نئی ٹائم لائن جمع کرنے کی ہدایت کی تھی۔

آج (30 دسمبر کو) الیکشن کمیشن نے عدالت میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف دائر درخواستوں پر الیکشن کمیشن نے ایک اور جواب جمع کروایا تھا۔

الیکشن کمیشن نے کہا تھا کہ ’کمیشن بلدیاتی انتخابات کرانے سے متعلق آئینی ذمہ داری پوری کرنے کے لیے سنجیدہ ہیں، ہم نے بروقت بلدیاتی انتخابات کا حکم دیا جو ہائی کورٹ نے کالعدم قرار دے دیا۔‘

الیکشن کمیشن نے مزید کہا کہ ’ہم الیکشن ایکٹ کی دفعہ 219 (1) کے تحت لوکل گورنمنٹ قوانین کو مدنظر رکھ کر الیکشن کروائیں گے، جب الیکشن کی تیاری مکمل ہوتی ہے تو وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے قوانین میں تبدیلی سے بروقت الیکشن میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔‘

کمیشن نے جواب میں مزید کہا تھا کہ دفعہ 219 (ایک) اور (4) آپس میں متصادم ہیں۔الیکشن ایکٹ کی دفعہ 219 (ایک) لوکل گورنمنٹ قوانین کے تحت صوبائی اور مرکز میں بلدیاتی الیکشن کا مینڈیٹ دیتا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز سماعت کے دوران پی ٹی آئی کے مقامی رہنما علی نواز اعوان نے وکیل سردار تیمور اسلیم کے ذریعے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ 2 جون 2022 کو الیکشن کمیشن نے 50 یونین کونسلز میں انتخابات کروانے کا اعلان کیا تھا۔

حکومت نے یونین کی تعداد میں اضافہ کردیا جس کے بعد یہ تعداد 101 ہوگئی، اس کے بعد الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ انتخابات 31 دسمبر کو ہوں گے۔تاہم وفاقی کابینہ کو ایک سمری بھیجی گئی جس میں یونین کو نسل کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کرنے کی درخواست کی تھی۔سمری کی بنیاد پر 19 دسمبر کو ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے یونین کونسل کی تعداد بڑھا کر 125 کر دی گئی تھی۔

یاد رہے کہ 28 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے فیصلے پر عدالت کو مطمئن کرنے کی ہدایت کی تھی۔

اٹارنی جنرل اشتر اوصاف نے عدالت کو آگاہ کیا تھا کہ الیکشن کمیشن 31 دسمبرکو انتخابات کروانے کے لیے تیار نہیں ہے، الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 101 سے 125 تک یونین کانسل میں اضافہ کی وجہ سے کمیشن 31 دسمبر کو انتخابات نہیں کرواسکتی، انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے ان یونین کونسل میں انتخابات کے لیے 60 کروڑ روپے مختص کیے تھے۔

خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے 27 دسمبر کو اسلام آباد میں انتخابات ملتوی کرنے کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے حکم کے خلاف ہائی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

5 افراد مجھے مارنا چاہتے ہیں، شیخ رشید نے لیگل ٹیم سے ملاقات میں نام بتادیے

اسلام آباد :سربراہ عوامی مسلم لیگ شیخ رشید کو 2 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے …