ہفتہ , 4 فروری 2023

رجب طیب اردوگان کی چاپلوسی پر صہیونیوں کا انوکھا انعام!

(ترجمہ: فرحت حسین مہدوی)

ابنا۔صہیونی اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق، گرفتار افراد پر الزام ہے کہ وہ ترکی میں مقیم فلسطینی تنظیموں اور ان سے وابستہ افراد کا تعاقب کر رہے تھے اور ان کی معلومات کو صہیونی ایجنسیوں کو فراہم کرتے تھے۔
ان افراد میں سے سات افراد استنبول کے سیکورٹی ادارے کے ہاتھوں گرفتار ہونے کے بعد عدالت کے سامنے پیش کرنے کے بعد جیل بھیج دیئے گئے ہیں، جبکہ 13 مشتبہ جاسوس مفرور ہیں۔ بقیہ گرفتار افراد، ترک ادارہ انسداد دہشت گردی میں، زیر تفتیش ہیں۔

اس واقعے کو سب سے پہلے ایک صہیونی اخبار نے فاش کیا اور دوسرے ذرائع نے اسی سے نقل کرکے اسے کوریج دی؛ جس سے ممکنہ پس پردہ ڈرامے کی صورت سامنے آتی ہے، کیونکہ صدر اردوگان صہیونیوں کے ساتھ تعلقات و تعاون معمول پر لائے، تو فلسطینیوں اور فلسطین کاز کے حامیوں نے انہیں کڑی تنقید کا نشانہ بنایا؛ جس کے بعد شائع ہونے والی یہ واقعہ سیاسی ڈرامہ ہی لگتا ہے؛ اس لئے کہ فلسطینیوں کو ایک بار پھر اخوانی حکومت کی نسبت خوش فہمی میں مبتلا کیا جائے اور مسلمانوں کو اس کا مثبت چہرہ دکھایا جا سکے۔
ترکیہ اور غاصب اسرائیل کے درمیان تعلقات 75 سال پرانے ہیں جو دو عشروں کے دوران نشیب و فراز سے دوچار ہوئے ہیں لیکن "سلامتی اور معاشی تعاون” کے حوالے سے نہ صرف منقطع نہیں ہوئے بلکہ کمزور بھی نہیں ہوئے بلکہ مسلسل فروغ پاتے آئے ہیں، جس کی وجہ سے دنیائے اسلام میں ان تعلقات کے خفیہ مقاصد کے بارے میں متعدد سوالات اٹھے ہیں۔
حال حاضر میں، جبکہ اگلے سال صدارتی انتخابات ہو رہے ہیں، ترک حکمران اس حد تک صہیونیوں کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لئے کوشاں ہیں کہ صہیونی وزارت خارجہ نے یہ بھی خبر دی ہے کہ رجب طیب اردوگان نے قطر کے امیر شیخ تمیم کے ساتھ بات چیت کے دوران انہيں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کی ترغیب دلائی ہے؛ اگرچہ کہا جا سکتا ہے کہ قطر کی حکومت نے فٹبال عالمی کپ کے مقابلوں کے دوران صہیونیوں کی طرف عدم توجہ کے حوالے سے اپنے ارادوں کا اظہار کر ہی لیا ہے۔

انقرہ-تل ابیب تعلقات میں اتار چڑھاؤ
ترکیہ (سنہ 1948ع‍ میں قائم کی جانے والی) غاصب صہیونی ریاست کو تسلیم کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک ہے جس نے 1949ع‍ میں اسے تسلیم کیا۔ انقرہ-تل ابیب تعلقات اسلام پسندوں کے برسر اقتدار آنے سے پہلے تک وسیع پیمانے پر قائم رہے تھے اور رجب طیب اردوگان کے زمانے میں بھی – اتار چڑھاؤ کے باوجود – ان تعلقات کو پہلے سے زیادہ فروغ ملا ہے۔

سنہ 2003ع‍ میں اردوگان وزیر اعظم بنے تو یہ تعلقات قائم تھے لیکن سنہ 2010ع‍ میں "ماوی مرمرہ” نامی بحری جہاز پر صہیونیوں کے حملے اور نو ترک باشندوں کے قتل کے بعد، تعلقات کچھ عرصے کے لئے تناؤ کا شکار ہوئے؛ لیکن بہت جلد معمول پر آئے۔

مئی سنہ 2018ع‍ ميں، امریکی سفارت خانے کی بیت المقدس تبدیلی کی برسی کے موقع پر، جسے غزہ کے فلسطینیوں کے شدید احتجاج کا سامنا کرنا پڑا، ترک حکومت نے صہیونی سفیر کو انقرہ چھوڑنے کا حکم دیا اور اپنا سفیر تل ابیب سے واپس بلایا۔

ترک صدر اردوگان نے فلسطینیوں کے خلاف جعلی ریاست کی پالیسیوں پر تنقید کی تو تعلقات خراب ہوئے لیکن منقطع نہیں ہوئے۔ حال ہی میں فاسد و بدعنوان صہیونی سیاستدان بنیامین نیتن یاہو کے اسلام دشمن اتحاد نے پارلیمانی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تو جناب اردوگان نے نہ صرف خط لکھ کر نیتن یاہو کو مبارکباد دی بلکہ صدی کے بدنام دہشت گرد کو دو صہیونیوں کی ہلاکت پر تعزیت بھی کہہ ڈالی۔

گذشتہ ایک سال کے دوران ترکیہ اور یہودی ریاست کے درمیان اعلیٰ سطحی رابطے جاری رہے اور صہیونی سربراہ اسحاق ہرزوگ نے انقرہ کا دورہ کیا، اور پھر وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو نے مقبوضہ فلسطین کا دورہ کیا جو گذشتہ 15 سالہ عرصے میں کسی ترک وزیر خارجہ کا مقبوضہ سرزمین کا پہلا دورہ تھا۔ یہ دورہ سابق صہیونی وزیر خارجہ اور موجودہ عبوری وزیر اعظم یائیر لاپید کے دورہ انقرہ کے جواب میں انجام پایا۔ یہ حقائق اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ ترکیہ اور غاصب ریاست بہت تیزی سے بحالی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

حال ہی میں یکم دسمبر کو ترک سفیر "شاکر اوزکان تورون لار” نے اپنا اعتماد نامہ (lettre de créance) صہیونی وزیر اعظم کو پیش کیا اور یوں ترک حکومت نے ملت فلسطین کے مفادات پر ایک نیا وار کرکے تل ابیب کے ساتھ تعلق کو تقویت پہنچائی۔مقبوضہ فلسطین میں ترک سفیر کی چار سالہ غیر حاضری کے بعد۔ ترک سفیر پہلے ترک سفیر ہیں جنہیں غصب شدہ سرزمین میں تعینات کیا گیا ہے۔

قبل ازیں، مورخہ 19 ستمبر (2022ع‍) کو صہیونی فوج کی پچاس سالہ افسر ایریت لیلیان – جو اس سے پہلے انقرہ میں صہیونی ناظم الامور تھی، – کو نئی صہیونی سفیر کے طور پر متعارف کرایا گیا۔انقرہ میں صہیونی سفارت خانہ اور استنبول میں صہیونی قونصلیٹ جنرل باضابطہ طور پر مصروف عمل ہیں۔

مارچ 2011ع‍ میں شام کا بحران شروع ہؤا تو حرکۃ المقاومۃ الاسلامیہ (حماس) نے بھی غلط اندازوں کی بنا پر شام میں اپنے دفاتر کو ترکی اور قطر میں منتقل کیا۔ حماس کی بڑی غلطی یہ تھی کہ اس نے ترکوں، عربوں اور صہیونیوں کے دعؤوں کے دھوکے میں آکر، ترکیہ کی اخوانی حکومت پر اعتماد کیا؛ اور آج اس نے شام کے ساتھ تعلقات دوبارہ استوار کر لئے ہیں، لیکن صہیونی ریاست "دوست ملک ترکیہ” سے مطالبہ کر رہی ہے کہ اپنی حدود میں حماس کی سرگرمیوں پر پابندی لگائے اور حماس کے اراکین کو ترکی سے نکال باہر کرے اور گذشتہ تین سال سے، فلسطین پر قابض یہودیوں کی خوشنودی حاصل کرنے کی غرض سے، جناب اردوگان نے اپنے اخوانی بھائیوں (حماس کے راہنماؤں اور کارکنوں) پر مختلف قسم کی پابندیاں نافذ کی ہیں۔

انقرہ نے یہ بھی مان لیا ہے کہ ترکیہ آنے والے مسافر طیاروں کے تحفظ کے لئے صہیونی سیکورٹی گماشتے ترکی کے ہوائی اڈوں میں متعین کئے جائیں! ترکیہ میں صہیونی طیاروں کی پروازیں 15 سال بعد بحال ہوئی ہیں۔
اردوگان کو یہ بھی توقع ہے کہ تعلقات کی بحالی کے سائے میں صہیونی سیاحوں کی زیادہ سے زیادہ تعداد ترکیہ کا رخ کرے؛ اور ان کی آمد 70 فیصد افراط زر کم کرنے میں مدد دے؛ اور یوں صدارتی انتخابات سے پہلے ہی ترک عوام پر پڑنے والے معاشی دباؤ کو کسی حد تک کم کیا جا سکے۔ ترکیہ ہر سال کم از کم پچاس لاکھ صہیونی سیاحوں کی میزبانی کرتا ہے!

سنہ 2021ع‍ میں صہیونی ریاست اور ترکیہ کے درمیان تجارتی تبادلوں کی سطح آٹھ ارب ڈالر تک پہنچی ہے؛ جبکہ سنہ 1997ع‍ میں ترکیہ اور صہیونیوں نے آزاد تجارت کے سمجھوتے پر دستخط کرکے، اقتصادی تعاون پر زور دیا تھا؛ جس کے نتیجے میں سیاسی تعلقات کے انقطاع کے برسوں میں بھی دو طرفہ اقتصادی تعاون جاری رہا۔

صہیونی اور فلسطینی انقرہ-تل ابیب کے بڑھتے ہوئے تعلقات کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
اگرچہ فلسطینیوں اور صہیونیوں کے نظریات اور آراء ہر حوالے سے متضاد ہیں لیکن انقرہ-تل ابیب کے تعلقات کے فروغ کے سلسلے میں ان کے خیالات تقریبا ایک جیسے ہیں:تل ابیب یونیورسٹی میں قومی سلامتی کے ماہر گیلیا لنڈنسٹراس (Gallia Lindenstrauss) نے صہیونی اخبار ہا آرتص سے بات چیت کرتے ہوئے انقرہ کی طرف سے تل ابیب کی قربت حاصل کرنے کی کوششوں کے بارے میں کہا: "اردوگان عوامی حمایت کے بدولت بر سر اقتدار آئے ہیں، اور اس وقت اپنی دو دہائیوں پر محیط حکمرانی کے بدترین دور سے گذر رہے ہیں؛ چنانچہ انقرہ اس صورت حال سے نکلنے کے لئے راہ نجات کی تلاش میں مصروف ہے۔۔۔ اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی کے لئے تگ و دو ترکیہ کی کمزوری کی علامت ہے؛ وہ خارجہ پالیسی کے شعبے میں راہ نجات ڈھوند رہا ہے اور خارجہ پالیسی کے ذریعے اندرون خانہ رائے عامہ کو گمراہ کرنا چاہتا ہے؛ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات کی بحالی اسی قسم کی خارجہ پالیسی کا ایک نتیجہ ہے۔

ترکیہ نے حالیہ برسوں میں سعودیہ اور امارات کے ساتھ بھی تعلقات بحال کر لئے ہیں؛ کیونکہ متوازن خارجہ پالیسی بیرونی سرمایہ کاری کے لئے مناسب ماحول فراہم کرتی ہے۔۔۔ ترکیہ حالیہ دور میں، خطے میں، تنہا ہو گیا ہے؛ یونان، قبرص، مصر، امارات، اسرائیل اور حتیٰ کہ بھارت نے اس کے خلاف ایک غیر تحریری اتحاد قائم کر لیا، اور یہ ممالک ترکی کو کمزور کرنا چاہتے تھے؛ چنانچہ ترکی کو اس صورت حال سے نمٹنے کے لئے کچھ کرنا چاہئے تھا! ۔۔۔ ترکی نے گذشتہ ایک سال کے دوران مختلف ممالک کے خلاف اپنی جارحانہ پالیسیوں کو بدل دیا ہے اور اس عرصے میں حالات کی بحالی اور بہبود کی طرف بڑھ گیا ہے؛ اور سعودیہ اور امارات کے ساتھ تعامل میں کچھ کامیابیاں بھی حاصل کر چکا ہے۔ لیکن یونان کے ساتھ اس کے تعلقات بہت خراب ہوچکے ہیں اور مصر کے ساتھ تعلقات کی بہتری کے حوالے سے، مصری آمر جنرل عبدالفتاح السیسی کے ساتھ دوحہ میں ملاقات کے سوا، مزید کوئی پیشرفت نہیں دکھائی دے رہی ہے”۔
انقرہ – تل ابیب تعلقات پر ایک فلسطینی تجزیہ نگار کا تبصرہ
انقرہ – تل ابیب تعلقات پر فلسطینی مصنف، محقق اور تجزیہ نگار "صالح ابو عِزَّۃ” کا خیال ہے کہ انقرہ مختلف معاشی بحرانوں میں مبتلا ہے اور اردوگان کا تصور یہ ہے کہ صدارتی انتخابات کی آمد آمد پر، کامیابی کا واحد راستہ تل ابیب کے ساتھ دوستانہ تعلقات تبصرہ کا قیام ہے؛ چنانچہ انھوں نے اسی تناظر میں صہیونی سربراہ اسحاق ہرزوگ کو انقرہ آنے کی دعوت دی اور اپنے وزیر خارجہ کو مقبوضہ اسلامی سرزمین میں صہیون یاترا کے لئے بھجوایا۔
ابو عزہ کا خیال ہے کہ جو کچھ صدر اردوگان مقبوضہ سرزمین سے حاصل کرنا چاہتے ہیں وہ "معیشت” ہے۔ کیونکہ جیسا کہ اردوگان نے کہا ہے، دو طرفہ سیکورٹی تعاون کبھی بھی منقطع نہیں ہؤا ہے۔
یہ فلسطینی مبصر سمجھتے ہیں کہ "ترک حکومت کی نظریں صہیونیوں کے ہاتھوں فلسطین کی چوری ہونے والی قدرتی گیس پر لگی ہوئی ہیں اور اس کی کوشش ہے کہ یہ گیس ترکی کے راستے یورپ منتقل کی جائے، تاکہ ترکیہ مشرق اور مغرب کے درمیان توانائی کی گذرگاہ کے طور پر جُغ سیاسی (Geopolitical) رعایتیں حاصل کر سکے؛ اور فلسطینیوں کی قدرتی گیس صہیونی ریاست سے سستی قیمت پر حال کرنے کے ساتھ ساتھ ٹرانزٹ کی مد میں بھی سالانہ اربوں ڈالر کمائے”۔

اس فلسطینی محقق کا خیال ہے کہ ترکیہ اپنی سیاحتی صنعت اور تجارت کو تقویت پہنچا کر، صہیونیوں کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور تقویت کے لئے بھی ایک دروازہ کھولنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ابو عزہ نے کہا کہ نام نہاد خودمختار فلسطینی اتھارٹی اور ترکیہ صہیونیوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی کو ایک معمول کے مسئلے کے طور پر جتانے کے سلسلے میں ایک ہی راستے پر گامزن ہیں؛ فلسطینی اتھارٹی ایک طرف سے جعلی اسرائیلی ریاست کے ساتھ عرب ممالک کے سفرتی تعلقات کے قیام کی مذمت کرتی ہے اور اسی اثناء میں ترکیہ کی طرف سے اس ریاست کے ساتھ تعلقاتکی بحالی کا خیر مقدم کرتی ہے؛ جبکہ فلسطینی قوم کسی بھی فریق کی طرف سے صہیونی ریاست کے تعلقات کی بحالی کی شدید مذمت کرتی ہے۔

ان کا کہنا تھا: ترک وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو کا دورہ مقبوضہ فلسطین بدترین موقع پر انجام پایا؛ کیونکہ آج قدس شریف اور جنین سمیت مقبوضہ فلسطین کے مختلف علاقوں میں فلسطینی مقاومت اور غاصب صہیونیوں کے درمیان گھمسان کی جھڑپیں جاری ہیں۔ گویا ترک صرف اور صرف اپنے مفادات کو ہی خاطر میں لاتے ہیں اور قابضوں اور غاصبوں کے ساتھ تعلقات کی بحالی اور تعاون کی مذمت کرنے والے فلسطینیوں کے مفادات ترکیہ کے حکام کے لئے اہمیت ہی نہیں رکھتے۔

ابو عزہ کا کہنا تھا کہ صہیونی ریاست کے ساتھ مسلم ممالک کے تعلقات کی بحالی اور غاصب ریاست کو قانونی جواز فراہم کرنے کی کوششوں کا نقصان صرف فلسطینیوں، مقاومت اور قبلہ اول کے شیدائی عالمی مسلمانوں کے کو پہنچے گا۔ اور ترکی اور فلسطینی اتھارٹی کے رویے سے یوں ظاہر ہوگا کہ گویا محور مقاومت (محاذ مزاحمت) کی مجاہدانہ تحریک نہیں، بلکہ سازباز اور ہتھیار ڈالنے کی روش ہی، ایک کامیاب روش ہے گو کہ یہ روش گذشتہ 35 برسوں سے گاہے بگاہے، مفاہمت کے نام پر، ہونے والے مذاکرات کے باجودی پوری طرح سے ناکام رہی ہے۔

ابو عزہ نے مزید کہا: البتہ صہیونی ریاست کو بھی – صہیونیوں کے ساتھ تعلقات کے قیام معمول پر لانے کو معمول کے سفارتی عمل کے طور پر پیش کرنے کے لئے – ترکیہ کی اخوانی حکومت کی ضرورت ہے؛ کیونکہ ترکیہ ایک بڑا اسلامی ملک ہے اور اس ملک میں لاتعداد اخبارات اور ابلاغیات کے شعبے سے تعلق رکھنے والے بے شمار کارکنان موجود ہیں، جو ترکیہ کے اس اقدام کو درست ثابت کرکے غاصب ریاست کے ساتھ ساز باز اور سفارتی تعلق کو ایک – ہر جند ناقص – قانونی شکل دے سکتے ہیں۔

ان کا ترکیہ میں صہیونیوں کے کہنے پر رجب طیب اردوگان کی طرف سے حماس کی سرگرمیوں پر مسلط کردہ پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: انقرہ نے، غاصبوں کے ساتھ اپنے تعلقات کی بنیاد پر، اپنی سرزمین میں حماس تحریک کی سرگرمیوں کو محدود کر دیا ہے اور صہیونی-یہودی ریاست ہی ہے جو حماس پر ترکیہ کے دباؤ نیز فلسطینی مقاومت کی سرگرمیاں کمزور پڑنے جیسے معاملات میں – حماس کے ہاتھوں میں قید صہیونی فوجیوں کی رہائی اور غزہ اور غاصب ریاست کے درمیان جنگ بندی جیسے معاملات میں فائد اٹھا رہی ہے۔
نتیجہ:

آخر میں کہنا چاہئے کہ اگر ترک سیکورٹی اداروں کے ہاتھوں، فلسطینیوں کے بارے میں معلومات جمع کرکے موساد کے حوالے کرنے والے 44 صہیونی جاسوسوں کی گرفتاری، کی خبر صحیح ہو تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موساد نے ترکیہ میں اپنی سرگرمیوں کا پیمان بہت وسیع کر لیا ہے؛ اور یہ فلسطینیوں کے خلاف سرگرمیوں کے حوالے سے انقرہ کی قوت کی نہیں بلکہ بہت بڑی کمزوری کی علامت ہے، اور معلوم ہوتا ہے کہ ترک حکومت نے موساد کو کھلی آزادی دے رکھی تھی اور اس نے فلسطینیوں کے خلاف جو اپنی مرضی کے تمام اقدامات بڑے سکون و اطمینان سے کر لئے ہیں؛ ایسے اقدامات جن کا سبب یہ تھا کہ جناب رجب اردوگان نے مادی مفادات کی خاطر، فلسطینوں کو صہیونیوں کے ہاتھ بیچ ڈالا تھا۔ بدقسمتی سے صدر اردوگان نے دو روز کے مفاد کے لئے اپنے زیر اقتدار ایک بڑے اسلامی ملک کے طویل المدت مفادات کو پاؤں تلے روند ڈالا ہے اور ایک خونخوار بھیڑیئے پر اعتماد کر بیٹھے ہیں جس کا انتہائی پشیمان کر دینے والا افسوسناک نتیجہ نکلنے میں زیادہ عرصہ نہیں لگے گا۔بشکریہ ابنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …