ہفتہ , 4 فروری 2023

اسرائیل کی انتہا پسند حکومت نے حلف اٹھا لیا، حماس کا مزاحمت کا اعلان

مقبوضہ بیت المقدس:سخت گیر اسرائیلی رہنما بن یامین نتن یاہو انتہائی دائیں بازو کی سیاسی جماعتوں سے اتحاد کے بعد ایک بار پھر اقتدار میں آگئے ہیں جس کے بعد فلسطین میں کشیدگی میں اضافے کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

عدالت میں بدعنوانی کے الزامات کا مقابلہ کرنے والے 73 سالہ نتن یاہو پہلے ہی ملکی تاریخ میں سب سے طویل عرصے تک وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ وہ 1990 کی دہائی کے آخر میں اپنے پہلے تین سالہ دور کے بعد 2009 سے 2021 تک اس عہدے پر فائز رہے۔

فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق نتن یاہو نے حلف برداری کی تقریب سے قبل پارلیمنٹ (کنیسٹ) سے خطاب میں کہا کہ ’یہ چھٹی مرتبہ ہے کہ میں ایسی حکومت بنانے جا رہا ہوں جسے پارلیمنٹ کی حمایت حاصل ہے اور میں پہلی بار کی طرح پرجوش ہوں۔‘

اپوزیشن کے ناراض قانون سازوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’جمہوری حکومت کا امتحان لوگوں کے فیصلے کو قبول کرنے سے ہوتا ہے۔ ایک فعال جمہوریت میں آپ کھیل کے اصولوں کا احترام کرتے ہیں۔‘

نتن یاہو کو جون 2021 میں نفتالی بینیٹ اور سابق ٹی وی نیوز اینکر یائر لیپڈ کی سربراہی میں بائیں بازو، سنٹرلسٹس اور عرب جماعتوں کے اتحاد نے اقتدار سے ہٹا دیا تھا لیکن انہیں اقتدار میں واپس آنے میں زیادہ دیر نہیں لگی۔

اپنی یکم نومبر کی انتخابی جیت کے بعد، نتن یاہو نے کٹر قدامت پسند اور انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیے۔دونوں جماعتیں فلسطینیوں کے بارے میں اشتعال انگیز خیالات کا اظہار کرتی رہی ہیں۔

اب وہ مغربی کنارے میں اسرائیلی آبادکاری کی پالیسی اور اسرائیلی پولیس کی ذمہ داری سنبھالیں گے جو 1967 سے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے میں بھی کام کرتی ہے۔سینیئر سکیورٹی اور قانون نافذ کرنے والے عہدیداروں نے فلسطینیوں کی طرح نئی حکومت کی پالیسیوں پر پہلے ہی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دوسری طرف اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نے اسرائیل میں تشکیل پانے والی نئی حکومت کو انتہا پسندوں کا مافیا قرار دیتے ہوئے ان کے خلاف ہر محاذ پر جدو جہد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

حماس کے ترجمان عبداللطیف القانوع نے ایک بیان میں کہا کہ "اسرائیلی کنیسٹ کو بینجمن نیتن یاہو کی انتہا پسند حکومت کو اعتماد کا ووٹ دلانے سے فلسطینی عوام کی نمائندہ تمام قوتوں کے لیے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے دفاع کے لیے جنگ میں حصہ لیں۔ ان کی مقدسات اور نیتن یاہو کی فاشسٹ حکومت کے خلاف ہرمحاذ پر جدو جہد تیز کریں ۔”

القانوع نے جمعرات کو ایک پریس بیان میں زور دیا کہ "فلسطینی مزاحمت نے ایک نئی حقیقت کو ثابت کیا ہے اور اس سے قابض ریاست پر مسلط کردہ مساوات کو ختم نہیں کیا جا سکتا، چاہے نیتن یاہو کی حکومت کی انتہا پسندی اور فسطائیت کچھ بھی ہو۔”

انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت اس حکومت کے منصوبوں کو ناکام بنانے کے لیے شانہ بشانہ کھڑی رہے گی۔

حماس کے ایک دوسرے ترجمان حازم قاسم نے زور دے کر کہا کہ فلسطینی مزاحمت نو فاشسٹ قابض حکومت کو سرخ لکیریں عبور کرنے اور فلسطینی عوام اور ان کے مقدسات کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دے گی۔

قاسم نے جمعرات کو ایک پریس بیان میں کہا کہ نئی قابض حکومت کی اعلان کردہ پالیسیاں فلسطینی عوام، ان کے مقدسات اور ان کے خاندانوں کے تئیں اس کی فسطائیت کی تصدیق کرتی ہیں، اور اس کی بستیوں کی توسیع اور مقبوضہ مغربی کنارے کے الحاق کے نفاذ کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق پر ڈاکہ ڈال رہا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

حماس کی سوڈان اور صیہونی حکومت کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی مذمت

مقبوضہ بیت المقدس:فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک "حماس” نے صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کو …