بدھ , 1 فروری 2023

باغ اجڑ رہا ہے

(مظہر برلاس)

یہ دسمبر 2000ء کی ایک رات تھی ، اسی رات شریف خاندان ایک معاہدے کے تحت سعودی عرب روانہ ہوا۔ اس روانگی سے قبل کئی صحافیوں کی موجودگی میں مرحومہ بیگم کلثوم نواز نے ایک مصرعہ پڑھا؎

خوش رہو اہلِ چمن ہم تو چمن چھوڑ چلے

وقتِ رخصت اس مصرعے کی ادائیگی کے ساتھ ہی وہ رنجیدہ ہوئیں اور پھر چل پڑیں۔ شریف خاندان جلا وطن ہوگیا۔ اس سے پہلے بھٹو خاندان بھی جلا وطن ہوا تھا۔ پاکستان میں جلا وطنی کی ابتداا سکندر مرزا کی جلا وطنی سے ہوئی تھی پھر اس کے بعد کئی سیاستدانوں اور حکمرانوں کو جلا وطنیاں سہناپڑیں۔ اگر ہم 1980ء کے بعد کا جائزہ لیں تو اس سلسلے میں بھٹو خاندان کی جلا وطنی نظر آتی ہے۔ 1986ء میں بے نظیر بھٹو جلا وطنی ختم کرکے پاکستان لوٹیں۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کو دوسری بار جلا وطنی اس وقت اختیار کرنا پڑی جب 1997ء میں اقتدار میں آتے ہی نواز شریف حکومت نے بے نظیر بھٹو پر عرصۂ حیات تنگ کیا، آصف علی زرداری جیل میں تھے اور نواز شریف کے پسندیدہ سینیٹر سیف الرحمٰن نے بھٹو کی بیٹی پر زمین تنگ کردی، وہ مجبوراً ملک چھوڑ گئیں۔ اس دوران پاکستانی قوم کو آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی کرپشن کے قصے سنائے گئے، ان کا خوب میڈیا ٹرائل ہوا۔ حکومت ہر وقت یہ ثابت کرنے پر لگی رہتی کہ پاکستان پر حکومت کرنے والے اس خاندان نے بہت کرپشن کی ہے، اس سلسلے میں بے شمار مقدمات بنائے گئے۔

وقت نے انگڑائی لی اور پرویز مشرف اقتدار پر قابض ہوگئے۔ بارہ اکتوبر 1999ء کے فوراً بعد بے نظیر بھٹو نے چوہدری شہباز حسین کے توسط سے پرویز مشرف سےرابطہ کیا مگر پرویز مشرف نے پیپلزپارٹی کو راستہ دینے سے انکار کردیا۔ اب احتساب کا نیا کھیل شروع ہوا۔ پہلا سال تو بہت کامیاب رہا مگر پھر مصلحتیں کام آنے لگیں تو جنرل امجد احتساب سے الگ ہوگئے۔ اسکے بعد پلی بارگین کے راستے کھولنے کیلئے ایک چنیوٹی کو چیئرمین نیب بنایا گیا لیکن اس دوران پاکستانی قوم کو یہ بتایا جاتا رہا کہ دونوں خاندانوں نے ملک لوٹا ہے، دونوں نے کرپشن کی ہے، جب دونوں کو کرپٹ کہاگیا تو پھر دونوں میثاقِ جمہوریت کے نام سےایک سیاسی اتحاد میں اکٹھے ہوگئے۔ اس اتحاد نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی، سیاسی محنت رنگ لائی تو مشرف مجبور ہوگئے۔ مجبوریوں کے اس سفر میں انہوں نے دونوں کو این آر او دے ڈالا۔ جدوجہد کے دنوں میں دونوں نے میثاق جمہوریت کیا تھا مگر اقتدار میں واپسی پر اسے فراموش کردیا۔

اب نئے سرے سے باریاں لگ گئیں، اب لوٹ مار کے ساتھ منی لانڈرنگ کا گھنائونا کام بھی ہونے لگا۔ تیسری قوت کے طور پر عمران خان نے کرپشن کے خلاف نعرہ بلند کیا، انہوں نے اس شدت سے نعرہ لگایا کہ قوم اس نعرے کے پیچھے لگ گئی، یہی نعرہ انہیں 2018ء میں اقتدار میں لے آیا۔ اب پھر سے قوم کو یہ بتایا جانے لگا کہ ان دو خاندانوں نے اقتدار کی باریاں لی ہیں، اس دوران انہوں نے لوٹ مار کا بازار گرم کئے رکھا۔ ایک مرتبہ پھر سے احتساب زور و شور سے شروع ہوگیا، میڈیا ٹرائل بھی ہوا مگر نتیجہ صفر رہا۔ اب اقتدار سے علیحدگی کے بعد عمران خان کا مؤقف ہے کہ ایک شخص نے احتساب نہیں ہونے دیا، اسی شخص نے اس سال کے آغاز میں این آر او ٹو دیا۔ عمران خان کا خیال ہے کہ پہلا این آر او دے کرپرویز مشرف نے ظلم کیا تھا اور اب حال ہی میں ریٹائر ہونے والے ایک جرنیل نے اسی برس دوسرا این آر او دے کر بہت بڑا ظلم کیا۔

عمران خان اب بھی کرپشن کے خلاف آواز بلند کر رہے ہیں مگر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ گزشتہ چالیس سال میں پاکستانی عوام کو کیا ملا؟ وہ لوگ جو 80ء کی دہائی میں اچھی بھلی زندگی گزارتے تھے اب ان کےلئے زندگی سے رشتہ قائم رکھنا بھی مشکل ہوگیا ہے۔ رجیم چینج آپریشن کے بعد موجودہ حکومت نے مہنگائی کو عروج دیا، روپے کی قدر میں بہت کمی ہوئی۔ ملکی معیشت تنزلی کا شکار ہے۔ اس دوران فیکٹریاں بند ہوئیں، بے روزگاری پھیلنے لگی، آج حالت یہ ہے کہ لوگوں کو تنخواہیں نہیں مل رہیں، فیکٹری کا مالک بھی پریشان ہے اور مزدور بھی۔ پریشانی کے اس عالم میں دونوں کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ بجلی اور گیس کی لوڈشیڈنگ ایک طرف، یہ مہنگی بھی کردی گئی ہیں، پٹرول مہنگا، آٹا مہنگا، قصہ مختصر کہ ہر چیز مہنگی ہوگئی ہے اور معیشت پھر بھی نہیں سنبھل رہی، ایل سیز نہیں کھل رہی ہیں۔ معاشی ماہرین معیشت کی بربادی کا نوحہ سنا رہے ہیں، لوگ رو رہے ہیں، ڈاکے پڑ رہے ہیں، چوریاں ہو رہی ہیں، باغ اجڑ رہا ہے، مالی کا کوئی پتہ نہیں، باغ کے نگرانوں کا کچھ پتہ نہیں، جنہیں ٹھیکے پر دیا ہے وہ پھل بھی کھاگئے، درختوں کے پتے بھی ڈکار گئے، باغ پر خزاں چھائی ہوئی ہے۔ معیشت کی ڈوبتی ہوئی کشتی ہے اور سامنے خانہ جنگی کا ہولناک اندیشہ ہے، شاید انہی دنوں کے لئے سرور ارمان نے یہ غزل کہی تھی ؎بشکریہ جنگ نیوز

روشنی سے تیرگی تعبیر کر دی جائے گی

رنگ سے محروم ہر تصویر کر دی جائے گی

عدل کے معیار میں آ جائیں گی تبدیلیاں

بے گناہی لائقِ تعزیر کر دی جائے گی

ہر نظر کو آرزوئوں کا سمندر بخش کر

ہر زباں پر تشنگی تحریر کر دی جائے گی

دب کے رہ جائیں گے جذبوں کے اجالے ایک دن

ظلمتِ افلاس عالمگیر کر دی جائے گی

ہر کلائی ہر تمنا ہر حقیقت ہر وفا

آشنائے حلقۂ زنجیر کر دی جائے گی

بانجھ ہو کر رہ گیا جس وقت دھرتی کا بدن

تب ہمارے نام یہ جاگیر کردی جائے گی

دفن کرکے اس کی بنیادوں میں انسانوں کے سر

اک مہذب شہر کی تعمیر کردی جائے گی

 

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

امریکی ٹینک: اب یوکرین میں

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)  (حصہ اول) پاک فوج کی مطالعاتی دنیا میں جب سے آنکھ …