ہفتہ , 4 فروری 2023

وزیر خزانہ صاحب معیشت کی بحالی کے ثبوت کہاں ہیں؟

(سید مجاہد علی)

پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان ڈیفالٹ نہیں کرے گا اور میں یہ بات ثابت کر سکتا ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض مسائل ضرور درپیش ہیں لیکن پاکستان ان مشکل مالی حالات سے باہر نکل آئے گا۔ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کی ماضی میں کارکردگی اور تحریک انصاف کی ناکامی پر لیکچر دیا اور پاکستان کے بارے میں خوبصورت شاعرانہ باتیں کیں۔ البتہ ان باتوں میں ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں تھا جن کی بنیاد پر وہ پاکستانی معیشت کی صحت مندی کے بارے میں دعوے کر رہے ہیں۔
اسحاق ڈار کی سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ وہ معیشت کو سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ البتہ ملک میں جاری سیاسی بحران، قرضوں کے انبار اور بے یقینی کی صورت حال میں وہ ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہیں۔ اسحاق ڈار کو لندن سے بلا کر جب وزیر خزانہ بنایا گیا تھا تو انہوں نے بلند بانگ دعوے کیے تھے۔ ان کی باتوں سے لگتا ہے کہ وہ اب بھی تصورات کے اسی غبارے میں سانس لے رہے ہیں۔

ملکی معیشت کی مشکلات کے بارے میں تحریک انصاف کی قیادت تو بڑھا چڑھا کر باتیں کرنے کی کوشش کر ہی رہی ہے لیکن متعدد تجزیہ نگار بھی حکومتی معاشی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ ان میں سر فہرست اسحاق ڈار کے پیشرو مفتاح اسماعیل ہیں جو دو ٹوک الفاظ میں واضح کرچکے ہیں کہ آئی ایم ایف سے معاملات طے کیے بغیر ملکی معیشت کو بحران سے نکالنا مشکل ہو جائے گا اور یہ راستہ منطقی طور سے ڈیفالٹ کی طرف جاتا ہے۔
بدقسمتی سے جب مفتاح اسماعیل کو وزارت خزانہ سے ہٹا کر اسحاق ڈار کو یہ عہدہ دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا تو یہ امید کی جا رہی تھی کہ ماضی کے تجربہ کو کام میں لاتے ہوئے اسحاق ڈار ڈالر کی قیمت کو مستحکم کرسکیں گے۔ اس طرح معیشت کے بارے میں فوری بے یقینی ختم ہوگی اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کچھ اضافہ سے ملک میں مہنگائی پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔ اسی نفسیاتی تاثر کی وجہ سے اسحاق ڈار کے عہدہ سنبھالنے سے پہلے پاکستانی منڈیوں میں ڈالر کی قیمت میں کچھ استحکام ضرور آیا تھا لیکن اس کے بعد وزارت خزانہ میں ان کے تین ماہ کے دوران معیشت میں مسلسل بے یقینی اور پریشانی کا عالم ہے۔ آٹو انڈسٹری کے بعد ٹیکسٹائل کی صنعت بھی اب پیداواری یونٹ بند کرنے کا اعلان کر رہی ہے اور ڈالر کی قیمت کے دوہرے معیار کی وجہ سے پاکستان کے لئے زر مبادلہ کے اہم ترین ذریعے یعنی ترسیلات زر میں قابل ذکر کمی واقع ہوئی ہے۔

مسئلہ البتہ یہ نہیں ہے کہ وزیر خزانہ کو معاشی مسائل کے پہاڑ کا سامنا ہے، سوال تو یہ ہے کہ کیا وہ ان مسائل سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماضی میں وہ ڈالر کی قدر کنٹرول کرنے کی جس پالیسی کے بارے میں بلند بانگ دعوے کرتے رہے ہیں، اس پر ماہرین معیشت اختلاف رائے رکھتے ہیں۔ یہ بھی قیاس کیا جاتا ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کو ’جعلی‘ طور سے بلند رکھنے کا خمیازہ ملکی معیشت کو بعد کے سالوں میں بھگتنا پڑا ہے۔

اس وقت پاکستان جس مالی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، اس کی کچھ ذمہ دار بہر طور ماضی قریب میں حکمرانی کرنے والی سب پارٹیوں کو قبول کرنا پڑے گی لیکن اسحاق ڈار اپنی سابقہ کارکردگی کو سنہرے الفاظ میں بیان کا ملکہ ضرور رکھتے ہیں لیکن یہ واضح نہیں کرتے کہ اس وقت وہ ملک کو معاشی دلدل سے نکالنے کا کیا منصوبہ رکھتے ہیں۔ مفتاح اسماعیل نے دیانت داری سے ملکی معیشت کی صورت حال قوم کے سامنے رکھتے ہوئے واضح کیا تھا کہ اخراجات اگر آمدنی سے زیادہ ہوں گے تو معیشت کو پٹری پر واپس نہیں ڈالا جاسکتا۔

اسحاق ڈار نے اس حکمت عملی کو سیاسی مقاصد کے لئے تبدیل کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں آئی ایم ایف سے معاملات طے کرنے کا دہائیوں پرانا تجربہ ہے، اس لئے وہ عالمی مالیاتی ادارے کی تمام شرائط نہیں مان سکتے۔ بلکہ اس معاہدہ میں کچھ ایسی تبدیلیاں کروانے میں کامیاب ہوجائیں گے کہ عوام کو سہولت حاصل ہو، مہنگائی میں کمی ہو سکے اور معیشت پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو سکے۔ تین ماہ کے دوران وہ ان میں سے کوئی بھی مقصد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے۔

آئی ایم ایف سے نویں ریویو کا معاملہ مسلسل تاخیر کا شکار ہے حالانکہ یہی ریویو مکمل ہونے پر پاکستان کو آئی ایم ایف سے سوا ارب ڈالر کی اگلی قسط ملنے کا امکان پیدا ہو گا۔ اب تو وزیر اعظم شہباز شریف بھی یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ پاکستان کو آئی ایم ایف کی تمام شرائط ماننا پڑیں گی۔ کراچی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے درحقیقت وزیر خزانہ بھی اب یہی اشارہ دے رہے ہیں۔

آئی ایم ایف بھی درحقیقت مالی مشکلات میں گھرے پاکستان کو وہی اقدامات کا مشورہ دیتا ہے جو متعدد معاشی ماہرین تجویز کرتے ہیں۔ یعنی قومی آمدنی میں اضافہ کیا جائے اور سرکاری اخراجات میں کمی ہو۔ اسی طرح ایک ایسا معاشی توازن تلاش کیا جاسکتا ہے جس میں ملک ایک بار پھر آگے بڑھنے کے قابل ہو سکے۔ اس وقت حکمران مسلم لیگ (ن) کی سب سے بڑی مشکل البتہ یہ ہے کہ مہنگائی اور معاشی ابتری کی وجہ سے عام لوگ حکومتی پالیسیوں سے نالاں ہیں۔

رہی سہی کسر عمران خان کی سیاسی مہم جوئی پوری کر رہی ہے۔ البتہ پی ڈی ایم نے اس مشکل کو خود آواز دی ہے۔ اپریل میں عمران خان کے خلاف عدم اعتماد لانے اور انتخابات کی بجائے حکومت سنبھالنے کا فیصلہ کرنا حکمران سیاسی پارٹیوں کا سوچا سمجھا فیصلہ تھا۔ اس فیصلہ سے البتہ تحریک انصاف کی معاشی غلطیوں کا سارا بوجھ بھی اتحادی پارٹیوں کو اٹھانا پڑا ہے لیکن اپنے ایک فیصلہ کو عذر بنا کر اتحادی پارٹیوں اور مسلم لیگ (ن) کو اس کی سزا پاکستان اور عوام کو نہیں دینی چاہیے۔ سیاست میں اپنے فیصلوں کی ذمہ دار بھی خود ہی قبول کرنا پڑتی ہے۔ اسی تناظر میں اسحاق ڈار کی حکمت عملی ناقابل قبول اور تباہ کن ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ صرف عمران خان اور تحریک انصاف کی سیاسی حکمت عملی پر ہی لاگو نہیں ہوتا، وہ خود بھی اگر سیاسی مقبولیت کے لئے زمینی حقائق سے برعکس فیصلے کریں گے تو یہ بھی سیاسی مقصد کے لئے ملکی معیشت کے ساتھ کھلواڑ کرنے کے مترادف ہو گا۔ پاکستان پر قرضوں کے بوجھ کا امریکہ، برطانیہ اور جاپان پر قرضوں کی شرح سے مقابلہ کرنا بھی ناروا رویہ ہے۔

اس تقابل سے حجت تو تلاش کی جا سکتی ہے لیکن پاکستان کے مسائل کا حل ملنا ممکن نہیں ہے۔ معیشت کی باتیں کرتے ہوئے انہوں نے شاعرانہ انداز میں کہا کہ ’یہ ملک رہنے کے لیے بنا ہے ورنہ میں چوتھی بار پاکستان کا وزیر خزانہ کبھی نہ بنتا۔ پاکستان کا مستقبل خوبصورت ہے، ہم ہوں یا نہ ہوں یہ ضرور آگے جائے گا‘ ۔ اس دعوے پر حیران ہی ہوا جاسکتا ہے کہ اسحاق ڈار کے چوتھی بار وزیر خزانہ بننے سے ملک کی خوبصورتی کیسے ثابت ہوتی ہے؟
اسحاق ڈار نے موجودہ مسائل کا عذر یہ بتایا ہے کہ ڈالر کے علاوہ گیہوں اور کھاد ہمسایہ ملک کو اسمگل ہو رہی ہے۔ حالانکہ حکومت مہنگی گندم درآمد کر کے اسے رعایتی قیمت پر فراہم کرتی ہے۔ اگر ملکی معیشت واقعی افغانستان کو ہونے والی اسمگلنگ ہی کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے تو وزیر خزانہ کو یہ بھی بتانا چاہیے تھا کہ اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ جب تک معیشت کی بات کرتے ہوئے حکومتی نمائندے دلیل اور اعداد و شمار سے دلیل نہیں دیں گے، ان کے دعوؤں پر یقین کرنا ممکن نہیں ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …