بدھ , 1 فروری 2023

ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام کی کوششیں، کیا کامران ٹیسوری کامیاب ہوپائیں گے؟

(رپورٹ: ایم سید)

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا ہے کہ تنقید چھوڑیں، اختلافات بھلائیں، ہاتھ تھامیں، مجھے کسی نے نہیں کہا کہ شہر میں جگہ جگہ جاؤں، سیاسی رہنماؤں سے ملوں۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے دھڑوں کے انضمام کی کوششیں تیز ہوگئی ہیں، اس سلسلے میں گزشتہ شب گورنر سندھ کامران ٹیسوری پی ایس پی آفس پاکستان ہاؤس پہنچے، جہاں انہوں نے سربراہ پی ایس پی مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سے ملاقات کی، مصطفیٰ کمال نے انہیں گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر مشترکہ پریس کانفرنس میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ استقبال پر پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان کا شکریہ ادا کرتا ہوں، مصطفی کمال اور انیس قائم خانی کی قیادت میں پی ایس پی کام کر رہی ہے، شہر کے مسائل پر آواز اٹھا رہی ہے، یہ دل سے چاہتے ہیں کہ ملک میں اچھا نظام انصاف کے ساتھ قائم ہو، میں ہمیشہ سے ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔

انہوں نے کہا کہ کراچی سب کا دوست ہے، بڑے عرصے سے مجھے اس شہر کا کوئی دوست نظر نہیں آیا، کیا آپ سب لوگ نوکریوں پر ہیں، جب شہر میں پانی، بجلی، گیس نہیں تو ہم سب کیا کر رہے ہیں، کوئی مسیحا نہیں آئے گا، ہمیں خود مسائل حل کرنا پڑیں گے، ہمیں خود ہی آگے بڑھنا ہوگا۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ کراچی میں پورے پاکستان سے لوگ آتے ہیں، جب بھی کوئی مشکل آئی تو اس شہر نے ماں کا کردار ادا کیا، یہ ٹوٹی سڑکیں، ابلتے گٹر، گندی گلیاں، اس شہر کو اور یہاں کے رہنے والوں کو کس بات کی سزا دی جا رہی ہے؟ انہوں نے کہا کہ بے حسی نے جگہ لے لی ہے، ہم ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے میں لگے ہوئے ہیں، ایک دوسرے کو ٹھیک کرنے میں لگ گئے ہیں، شہر کو کوئی ٹھیک نہیں کر رہا، ارادہ ہو تو کوئی ایسا کام نہیں ہے جو نہیں کر سکتے، ہم کس چیز کا انتظار کر رہے ہیں؟

گورنر سندھ نے کہا کہ اچھی اچھی باتیں کرکے آپ کو گھر بھیجا جاتا ہے کہ سب اچھا ہونے جا رہا ہے، 75 سال پہلے جو پریشانی تھی، آج اس سے زیادہ ہے، معیشت کے شہر کو مجرموں کو شہر بنا دیا گیا، سندھ ہمارا ہے، پاکستان ہمارا ہے، کراچی میں رہنے والوں کے پاس مال مویشی نہیں، یہاں کے لوگ 2 کمروں کے فلیٹ میں رہتے ہیں، ان کو بجلی اور پانی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اب نہیں تو پھر کبھی نہیں، ہمیں آگے بڑھ کر ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہے، ہم عہد کرلیں کہ جو ریاست نہیں دے سکی وہ ہم نے کرنا ہے، بجلی، پانی، گیس نہ دو لیکن عزت اور غیرت کے تو ہم حق دار ہیں، یہاں کے شہریوں کو موٹر سائیکل سے اتار کر ایسے تلاشی لی جاتی ہے جیسے مجرم ہیں، مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ فخر سے کہہ سکتا ہوں کہ اس شہر کا بیٹا ہوں، میں مہاجر اور سچا پاکستانی ہوں، جب یہ منصب مجھے دیا گیا تو اس پر بڑی تنقید کی گئی، مصطفیٰ کمال اکیلے ہی تھے جنہوں نے میری تعریف کی، میں نے ایک ہی جواب دیا تھا کہ میرا کام آنے والے وقت میں بتائے گا کہ فیصلہ درست تھا یا غلط۔ انہوں نے کہا کہ دل سے چاہتا ہوں کہ ہم سب مل جل کر اختلافات بھلا دیں، جس منصب پر ہوں وہاں سیاسی بات نہیں کر سکتا، مگر اخلاقی بات تو کر سکتا ہوں، میں سب سے گزارش ہی کر سکتا ہوں، کسی کو مجبور نہیں کر سکتا، میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ زبردستی آپ یہ کر لیں، زبردستی سے نہیں ہمیں قبولیت چاہیئے، لوگوں کے دلوں میں محبت چاہیئے۔

سندھ کے گورنر نے کہا کہ ہم نے ایسے کام کرنے ہیں کہ لوگوں کے دلوں میں اتر جائیں، کیوں کہ ہم لوگوں کے دلوں سے اتر چکے ہیں، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ لوگوں کے دلوں میں رہیں، کراچی کے لوگ ہم سے ناراض ہیں، ہم نے کوئی ایسا کام نہیں کیا کہ لوگ فخر سے ہمارے لئے کھڑے ہو جائیں، ہم سے کوتاہیاں ہوئی ہیں، ہمیں یہ ماننا پڑے گا۔ انہوں نے کہاکہ آج میرے یہاں آنے کا مقصد مصطفیٰ بھائی کی دعوت تھی، ان کے جذبات کی قدر کرتا ہوں۔ انہوں نے بھی یہی کہا کہ شہر اور ملک کے لئے ہم مل کر کام کریں، ملک کی معیشت عدم استحکام کا شکار ہے، ہمیں اختلافات اور ایک دوسرے پر تنقید چھوڑنا پڑے گی، ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے تھامنا ہوگا، چاہتا ہوں کہ اس کارواں میں سب شامل ہو جائیں، ذاتی عناد اور ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی کوششیں ختم کر دیں۔

گورنر سندھ کامران ٹیسوری نے کہا کہ ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ خالد مقبول صدیقی نے مجھے گورنر نامزد کیا، خالد مقبول کے جذبات بھی مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی سے مختلف نہیں، وہ چاہتے ہیں کہ شہر ترقی کرے، اس کے لئے وہ بھی کوشاں ہیں، سب اچھا چاہتے ہیں تو ایسی کیا رکاوٹ ہے؟ کیوں ہم ترقی نہیں کرتے؟ ترقی نہ کرنے کی وجہ ہمارا متحد نہ ہونا ہے، ہمیں ایک دوسرے پر اعتماد نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرونی طاقتیں نہیں چاہتیں کہ یہ شہر ترقی کرے، آنے والے دنوں میں سب آپ کے کنٹرول میں ہوگا، سب مل کر کام کریں گے، سیاسی بات چیت کا عمل سیاسی جماعتوں کے درمیان ہی ہوگا۔

خالد مقبول کی قیادت پر مصطفیٰ کمال بھی متفق
گورنر سندھ کامران ٹیسوری کے پی ایس پی آفس پاکستان ہاؤس دورہ کے موقع پر مصطفیٰ کمال بھی خالد مقبول کی قیادت پر متفق ہوگئے۔ گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی مصطفی کمال اور انیس قائم خانی سے ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ مصطفی کمال نے کہا کہ کامران ٹیسوری کو پاکستان ہاؤس میں خوش آمدید کہتے ہیں، انہوں نے خود کو گورنر ہاؤس کی دیواروں کے پیچھے محصور نہیں کیا، شہر سے باہر تھا اس لئے ملاقات اتنی دیر سے ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ ملک مشکل حالات سے گزر رہا ہے، اس سے بھی زیادہ مشکل وقت آنے والا ہے، لوگ مشکل میں ہیں، اچھی خبر سننا چاہتے ہیں، کوئی ایک گروہ اکیلے مسائل کو حل نہیں کر سکتا، عوام آپس میں اختلافات کم دیکھنا چاہتے ہیں، پاک سر زمین پارٹی نے انقلابی فیصلے کرکے دکھائے۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ اس سے پہلے روزانہ 22 لوگ مرتے تھے، شہدا قبرستان میں لاشیں جا رہی تھیں، روزانہ نوجوان لاپتہ ہو رہے تھے، لوگ جیلوں میں جا رہے تھے، آج کوئی لڑکا لاپتہ نہیں ہوا، پی ایس پی سوا 5 سو لاپتہ نوجوانوں کو بازیاب کرا چکی ہے، آج شہدا قبرستان میں تالے لگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج شہر میں سندھی، مہاجر، پختون کی لڑائی نہیں ہو رہی، شہر امن کا گہوارہ ہے، اس میں ہمارا حصہ ہے، ہم اسے آگے لے جانا چاہتے ہیں، گورنر سندھ نے پہلی ملاقات میں اپنی بات رکھی کہ مل جل کر کام کرنا چاہیئے، شہر کے حقوق کے لئے کوئی بھی آگے بڑھے میں اس کے پیچھے چلنے کے لئے تیار ہوں، شہر کی بھلائی کے لئے سب کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لئے تیار ہیں۔ چیئرمین پی ایس پی نے کہا کہ یہ ایک نیا دور شروع ہو رہا ہے، ہم پیپلز پارٹی کے خلاف کوئی محاذ نہیں بنا رہے، وزیراعلی سندھ اچھا کام کریں گے تو ہم ان کی تعریف کریں گے، کوئی کام غلط ہوگا تو ہم ان کی رہنمائی کریں گے، ہماری ایم کیو ایم سے خفیہ، خلوت یا جلوت میں کوئی بات نہیں ہوئی۔

انہوں نے بتایا کہ کامران ٹیسوری سے آج دوسری میٹنگ ہوئی ہے، ان کے ساتھ اس پہلے ہماری ایک ہی ملاقات ہوئی تھی، ہم گورنر کامران ٹیسوری کے پاس گئے تھے، آج یہ ہمارے پاس آئے ہیں، ہماری اس کوشش کو کوئی بھی منفی نہ لے۔ مصطفی کمال نے کہا کہ کامران ٹیسوری ایم کیو ایم کے نامزد گورنر ہیں، ہماری ایم کیو ایم سے کوئی بات ہوئی ہے تو گورنر سے ہی ہوئی ہے، ایم کیو ایم سے جب کوئی بات ہوگی تو بتائیں گے، شہر کی بھلائی کے لئے سب سے بات ہو سکتی ہے، اپنی بات کریں گے، ان کی بات سنیں گے، گورنر کامران ٹیسوری ہمارے بھائی ہیں، انہیں پہلے ہی روز بھائی کہہ دیا تھا، میں نے جسے بھائی کہا، پھر اسے نبھایا بھی۔ پاک سر زمین پارٹی کے سربراہ نے بتایا کہ ہماری وزیرِ اعظم شہباز شریف سے بھی ملاقات ہوئی، ہم نے کہا کہ پاکستان معاشی دلدل میں پھنسا ہوا ہے، جس سے اسے کراچی نکال سکتا ہے، وزیرِ اعظم سے کہا کہ کراچی پر تھوڑی سی توجہ دیں، کراچی کا پانی اور بجلی کا نظام صحیح کر دیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

امریکی ٹینک: اب یوکرین میں

(لیفٹیننٹ کرنل(ر)غلام جیلانی خان)  (حصہ اول) پاک فوج کی مطالعاتی دنیا میں جب سے آنکھ …