بدھ , 8 فروری 2023

کرکوک، داعش کا نیا گڑھ

(تحریر: چیلسی کیٹلسن (تجزیہ نگار المانیٹر)

عراق کے جنوب میں واقع شیعہ اکثریتی شہر اور دارالحکومت بغداد میں (حضرت) علی اکبر بریگیڈ کے بیس کیمپ کے سامنے اس کے ایک اہم کمانڈر کی بڑی تصویر نصب کی گئی ہے جو نومبر کے آخر میں صوبہ دیالہ کے شمال میں داعش کے باقیماندہ عناصر کے خلاف آپریشن میں "شہید” ہوا ہے۔ علی اکبر بریگیڈ حشد الشعبی کا حصہ ہے جو عراق کی مسلح افواج میں شامل ہیں اور حکومت سے تنخواہ لیتے ہیں۔ ابھی اس کمانڈر کیلئے اعلان کردہ چالیس دن کا سرکاری سوگ ختم نہیں ہوا جبکہ دیالہ اور کرکوک میں حملے بدستور جاری ہیں جن میں متعدد عراقی سکیورٹی اہلکار قتل ہو چکے ہیں۔ کرکوک میں ایک اہم ذریعے کے بقول 21 دسمبر کی شام صوبہ کرکوک میں ایک حملے میں تین عراقی فوجی مارے گئے ہیں۔ ان دو صوبوں میں یہ داعش کا تیسرا مہلک حملہ تھا۔ اس حملے کی خبر عراقی حکومت سے وابستہ کسی سکیورٹی میڈیا سے نشر نہیں ہوئی۔

اسی دوران عراق کے علاقے کردستان میں ایک بڑے فوجی آپریشن کے نتیجے میں داعش کے دسیوں جنگجو (دہشت گرد) اور اس کے سہولت کار گرفتار کئے گئے ہیں جن میں سے ایک کی ذمہ داری کرد باشندوں سے افراد بھرتی کرنا تھی۔ عراقی وزیراعظم محمد شیاع السوڈانی اور مسلح افواج کے سربراہ نے 21 دسمبر کو بغداد میں ایک اہم میٹنگ کی جس کا موضوع دو صوبوں دیالہ اور کرکوک میں حالیہ سکیورٹی صورتحال تھی۔ وزیراعظم ہاوس کی جانب سے جاری کردہ بیانیے کے مطابق السوڈانی نے میٹنگ میں موجود فوجی کمانڈرز کو حکم دیا ہے کہ وہ ان علاقوں میں اپنی حکمت عملی تبدیل کریں جہاں اب بھی داعش کے بچے کھچے عناصر پائے جاتے ہیں۔ انہوں نے فوجی کمانڈرز کو حکم دیا کہ وہ دہشت گرد گروہ داعش کو کمزور کرنے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے کیلئے غیر روایتی جنگی ہتھکنڈے استعمال کریں۔

عراقی وزیراعظم نے فوجی کمانڈرز کو مزید حکم دیا کہ وہ آپریشن کے وقت میدان میں خود بھی موجود ہوں اور اپنے افسروں اور سپاہیوں کے ساتھ رہیں اور ان کا حوصلہ بلند کرنے کی کوشش کریں۔ شام کے ایک باخبر ذریعے نے نومبر کے درمیانے دنوں میں نام نہ لینے کی شرط پر بتایا کہ داعش کے "سینکڑوں” جنگجو گذشتہ چند ہفتوں کے دوران شام سے عراق منتقل ہوئے ہیں۔ اس ذریعے کا کہنا تھا کہ ان میں سے اکثر صوبہ کرکوک گئے جو بظاہر مشہور "والی” ابویحیی کے زیر کنٹرول ہے۔ اس اطلاع کے چند ہی دن بعد یعنی 19 نومبر کے دن صوبہ کرکوک میں مبینہ داعش کے حملے میں چار عراقی فوج مارے گئے تھے۔ علاقائی میڈیا کے مطابق ان سپاہیوں کے سر تن سے جدا کئے گئے تھے۔ دسمبر میں سکیورٹی ذرائع نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران خودکش حملوں میں ملوث عناصر کے بارے میں المانیٹر سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ وہ حملہ ور افراد کی شہریت معلوم کرنے کیلئے تحقیق کر رہے ہیں۔

دوسری طرف شام اور عراق سے المانیٹر سے رابطہ کرنے والے اکثر ذرائع نے بتایا کہ عالمی دہشت گرد تنظیم داعش کا کنٹرول زیادہ تر عراقی شہریت کے حامل دہشت گردوں کے ہاتھ میں ہے۔ کردستان میں حملوں کا نشانہ بننے والے علاقوں میں موجود رہنے والے عراق کے ایک اعلی سطحی حکومتی افسر نے بتایا کہ گمان کیا جا رہا ہے صوبہ دیالہ کے علاقے کفری سے تعلق رکھنے والے شخص ابوعدنان الکردی کی سربراہی میں داعش کا ایک چھوٹا گروہ سرگرم عمل ہے۔ کرد فورس پیشمرگہ کے ایک افسر نے بھی اکتوبر میں اطلاع دی تھی کہ عراق میں داعش سے وابستہ ایک نیا نیٹ ورک سرگرم عمل ہے۔ یہ نیٹ ورک کرد باشندوں کو بھرتی کرتا ہے اور صوبوں کرکوک اور دیالہ میں صلاح الدین ضلع کی حدود میں کاروائیاں انجام دیتا ہے۔ اکتوبر میں پیشمرگہ فورسز اس علاقے میں آپریشن کر رہے تھے جب وہ بم دھماکے کا نشانہ بنے اور کئی افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

پیشمرگہ فورس کی کمانڈوز پر مشتمل یونٹ 70 کے ایک اعلی سطحی کمانڈر جو اس بم دھماکے میں زخمی ہو گیا تھا بعد میں چل بسا۔ اس نے 2020ء کے آخر میں سلیمانیہ کے قریب اپنے بیس کیمپ میں المانیٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ یونٹ 70 میں مغربی ممالک کے جنگجو بھی شامل ہیں جنہیں امریکی نیوی نے ٹریننگ دی تھی اور اس کے بعد نیوی اسپشل فورس نے بھی ان کی تربیت کی۔ اس نے بتایا کہ وہ خود امریکہ میں مقیم تھا اور جب 2014ء میں داعش کے خلاف جنگ کا آغاز ہوا تو اس نے عراق آنے کا فیصلہ کیا۔ عراقی نیوز ویب سائٹ "العین” نے 21 دسمبر کے دن سلیمانیہ کی سکیورٹی انتظامیہ کے بیانیے کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ دی: "کردستان کے سکیورٹی عہدیداروں نے ایک بڑی سازش ناکام بنانے کی اطلاع دی ہے جو داعش کی جانب سے سلیمانیہ میں ریاست بنانے پر مشتمل تھی۔”

گذشتہ چند ہفتوں کے دوران داعش سے منسوب دہشت گردانہ اقدامات کی اکثریت عراق کے دو صوبوں دیالہ اور کرکوک میں انجام پائی ہے۔ 21 دسمبر کے دن عراقی وزیراعظم السوڈانی کی سربراہی میں سکیورٹی میٹنک بھی اسی مسئلے پر مرکوز رہی ہے۔ یہ صوبے سلیمانیہ اور بغداد کے درمیان واقع ہیں اور ایسے علاقوں پر مشتمل ہیں جن پر عراق کی مرکزی حکومت بھی کنٹرول کا دعوی کرتی ہے اور کردستان کی انتظامیہ بھی ان پر کنٹرول رکھنے کی دعویدار ہے۔ دعووں کے اس ٹکراو کا نتیجہ ہمیشہ کچھ سکیورٹی خلیج پیدا ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جبکہ علاقے کی جغرافیائی صورتحال بھی حمرین پہاڑی سلسلہ موجود ہونے کے باعث کچھ ایسی ہے کہ یہ علاقہ گذشتہ چند عشروں سے داعش کے دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بنا ہوا ہے۔ حمرین پہاڑی سلسلہ صوبہ دیالہ میں ایران کی سرحد کے قریب سے شروع ہو کر صوبہ کرکوک اور صوبہ صلاح الدین تک جا پہنچتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …