منگل , 31 جنوری 2023

نیتن یاہو کی ہرزہ سرائی اور عالمی رد عمل

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

انتہاء پسند متنازعہ صہیونی وزیراعظم
بنجمن نیتن یاہو چھٹی مرتبہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقتدار کی کرسی پر مسلط ہوگئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے ابھی تک وزارت عظمیٰ کی عمارت میں قدم نہیں رکھا ہے، لیکن ان کے متنازعہ بیان سے ایک بڑا تنازع کھڑا ہوگیا ہے۔ اعتماد کے ووٹ کے اجلاس میں نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ مغربی کنارے میں بستیوں کی ترقی و توسیع ان کی کابینہ کی ترجیحات میں سرفہرست ہوگی۔ ان کے اس بیان سے علاقائی اور بین الاقوامی ردعمل سامنے آرہا ہے۔ اگرچہ نیتن یاہو انتہائی دائیں بازو کی جماعتوں کی مدد سے اپنے قبضے کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن فلسطینیوں نے نئی کابینہ کا سامنا کرنے کے لیے پہلے سے ہی خود کو تیار کر لیا ہے۔

مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی شاندار نماز
فلسطینی عوام جو قابضین کے خلاف اپنے اتحاد کا مظاہرہ کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں، انہوں نے جمعہ کے روز مسجد اقصیٰ میں نماز جمعہ کے اجتماع میں شاندار شرکت کی۔ مقامی اطلاعات کے مطابق قدس میں 1948ء کے مقبوضہ علاقوں اور مغربی کنارے میں مقیم 70 ہزار سے زائد فلسطینیوں نے مسجد الاقصیٰ کے صحنوں میں نماز جمعہ ادا کی۔ یہ اجتماع اس وقت ہوا، جب القدس شہر کے مختلف علاقوں میں تعینات صیہونی افواج نے ہزاروں فلسطینیوں کو بیت المقدس میں داخل ہونے سے روک دیا تھا۔ تل ابیب کی نئی پالیسیوں کے جواب میں، فلسطینی اتھارٹی نے کہا ہے کہ "فلسطینی حکومت نئی اسرائیلی کابینہ کی پالیسی کو مسترد کرتی ہے، جو الحاق، تشدد، نسل پرستی اور نسلی خاتمے کی سیاست پر اکسانے پر مبنی ہے۔ یہ ایجنڈا فلسطینی عوام اور ان کے ناقابل تنسیخ اور ناقابل تسخیر حقوق کے لیے ایک سنگین خطرہ ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں دنیا کے تمام ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ نیتن یاہو کی کابینہ کا بائیکاٹ کریں۔ ادھر قدس اور مغربی کنارے میں صیہونی حکومت کی پالیسیوں نے عیسائیوں اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو مضبوط کیا ہے۔ اس سلسلے میں قدس کے آرچ بشپ نے نیتن یاہو کے نئے منصوبوں کے جواب میں کہا ہے کہ فلسطینی مسلمانوں اور عیسائیوں کو تل ابیب کے منصوبوں کے خلاف متحد ہو جانا چاہیئے۔ واضح رہے کہ انتہائی دائیں بازو کی جماعتیں عیسائیوں کے مقدس مقامات کو یہودیوں کی ملکیت تصور کرتی ہیں اور گذشتہ برسوں میں ان مقامات کو ضبط کرنے کے منصوبے کی منظوری دے چکی ہیں۔

فلسطینی گروہوں میں اتفاق رائے
جیسے جیسے صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافہ ہو رہا ہے، اسی طرح فلسطینی گروہوں کے درمیان اتحاد بھی بڑھتا جا رہا ہے اور حال ہی میں فلسطینی رہنما اپنے اختلافات کو پس پشت ڈال کر غاصبانہ قبضے کے خلاف اتفاق رائے تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ نیتن یاہو اور انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں کی کوششیں مقبوضہ علاقوں میں جنگ کی آگ بھڑکا سکتی ہیں۔ سخت گیر صیہونی رہنماء جن کے پاس کابینہ کے اندر بہت زیادہ طاقت ہے، وہ تمام فلسطینیوں کو مقبوضہ علاقوں سے نکالنے کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لیے کوشاں ہیں اور اس طرح کے سخت گیر موقف سے بلاشبہ تمام علاقوں خاص طور پر مغربی کنارے میں تناؤ میں اضافہ ہوگا۔

حالیہ مہینوں میں صیہونی حکومت کے جرائم میں اضافے، نئے مزاحمتی گروپوں کی طاقت میں اضافے اور شہادت پسندانہ کارروائیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے مغربی کنارہ ایک دھماکہ خیز حالت میں پہنچ گیا ہے اور تل ابیب کی طرف سے کوئی غلط اندازہ سنگین تنازعات کو جنم دے گا۔ اسرائیل کے انتہاء پسند رہنماء مسجد اقصیٰ کو تباہ کرنے اور اس کی جگہ ہیکل سلیمانی کی تعمیر میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ اگرچہ صیہونی اس خطرناک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں، لیکن انتہائی دائیں بازو کی کابینہ میں Itamar Ben Goyer اور Bezalel Smutrich جیسے لوگوں کی موجودگی سے شاید یہ منصوبہ دوبارہ صیہونیوں کے ایجنڈے پر آجائے۔

فلسطینی مزاحمت کاروں نے چونکہ مسجد الاقصی کو اپنی سرخ لکیر قرار دیا اور خبردار کیا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی اقدام کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا، اس لیے صیہونیوں کے اشتعال انگیز اقدامات کو برداشت نہیں کا جائے گا۔ صیہونی انتہاء پسندوں کے حوالے سے اہم سکیورٹی عہدے سونپنے سے تل ابیب کے سابق حکام کی تشویش میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، جو اس بات سے پریشان ہیں کہ انتہاء پسندانہ پروگراموں کی طرف پیش قدمی صیہونی حکومت کے خاتمے کے عمل کو تیز کر دے گی اور انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اس رویئے سے صیہونی حکومت کے خاتمے کے عمل میں تیزی آئے گی۔

آبادکاری کے منصوبے پر عالمی ردعمل
مقبوضہ علاقوں کے علاوہ علاقائی حالات بھی صیہونیوں کے حق میں نہیں ہیں اور بعض ممالک نے نیتن یاہو کی نئی پالیسیوں کی مخالفت کا اظہار کیا ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں صیہونی حکومت کی نئی کابینہ کے مغربی کنارے میں بستیوں کی تعمیر کے منصوبوں کی مذمت کی ہے۔ قطر کی وزارت خارجہ نے بھی القدس اور مسجد اقصیٰ کو یہودیانے کے لیے صیہونی حکومت کی مسلسل کوششوں کی مذمت کی اور اسے اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین کے اصولوں اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی واضح خلاف ورزی قرار دیا۔ بیان میں عالمی برادری سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے اسرائیل کو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاری کی پالیسی کو روکنے کے لیے پابند کرے۔ قطر نے بھی فلسطینی عوام کی 1967ء کی سرحدوں پر اپنی خود مختار ریاست کے قیام کی حمایت کا اعلان کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہے۔

قطر ان ممالک میں سے ایک ہے، جو ہمیشہ فلسطینی قوم کا حامی رہا ہے اور اس نے اب تک قابضین کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے سے انکار کیا ہے۔ قطر نے حالیہ ورلڈ کپ میں میزبانی کی تھی، جس میں صیہونی حکومت سے دنیا کی رائے عامہ کی نفرت کی انتہاء کو دکھایا گیا۔ ادھر عمان نے مقبوضہ علاقوں میں انتہائی دائیں بازو کے عروج کے ساتھ ہی صیہونی حکومت کے ساتھ کسی بھی قسم کے تعامل کی ممانعت کا قانون منظور کیا ہے، تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ فلسطینی تنہاء نہیں ہیں۔ عمان کے مفتی اعظم شیخ احمد بن حمد الخلیلی نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: "فلسطین کے مظلوم عوام کے حقوق کی خلاف ورزی اور نظر انداز کرنے کی مسلسل کوششوں کے ردعمل میں عمانی پارلیمنٹ میں صیہونی حکومت سے تجارت اور دیگر معاملات میں فیصلہ کن پابندیاں عائد کرنے کے لیے جوبل منظور کیا گیا ہے، ہم اپنی پوری طاقت سے اس کی حمایت کرتے ہیں اور یہ مسلمانوں کی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔”

تل ابیب کے متنازعہ منصوبوں پر عربوں کا ردعمل سامنے آرہا ہے، جبکہ نیتن یاہو کا دعویٰ ہے کہ وہ اپنی نئی حکومت میں کئی عرب ممالک کو تعلقات معمول پر لانے کی راہ پر گامزن کریں گے اور سعودی عرب کو مفاہمتی عمل میں شامل کریں گے، جس سے عبرانی عربی تنازع بھی ختم ہو جائے گا۔ لیکن خطے میں ہونے والی پیش رفت اور نیتن یاہو کی اقتدار میں واپسی پر منفی ردعمل کی لہر نے ظاہر کیا ہے کہ تل ابیب کے پاس اس مذموم مقصد کے حصول کے لیے آگے بڑھنا ایک مشکل راستہ ہے۔ مغربی کنارے میں آبادکاری کے لیے نیتن یاہو کے بیانات کے ایک روز بعد اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھی اسرائیل کے قبضے کی نوعیت کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف سے قانونی درخواست کے حوالے سے فلسطینی قرارداد کے مسودے کی منظوری دے دی۔

اقوام متحدہ کے نئے اقدام اور منفی ردعمل سے عالمی صورتحال بھی نیتن یاہو کی کابینہ کے خلاف ہے اور اسے اپنے توسیع اور جاہ پسندانہ منصوبوں کو آگے بڑھانا مشکل ہوجائیگا۔ کیونکہ عالمی برادری اور حتیٰ کہ صیہونی حکومت کے مغربی حامی بھی صیہونی بستیوں کے خلاف ہیں اور انہیں غیر قانونی سمجھتے ہیں اور اسی لیے اگر یہ متنازعہ منصوبہ شروع ہوتا ہے تو نیتن یاہو کی کابینہ پر تنقید کی لہر بہت زیادہ وسیع ہو جائے گی۔

نیتن یاہو کے منصوبوں پر امریکہ کی تشویش
ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو کے نئے منصوبوں نے وائٹ ہاؤس کے حکام کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ صہیونی میڈیا نے اعلان کیا کہ وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان مستقبل قریب میں مقبوضہ علاقوں کا دورہ کریں گے، تاکہ فلسطینیوں کے حوالے سے نیتن یاہو حکومت کی نئی پالیسیوں کا جائزہ لیں۔ اس رپورٹ کے مطابق واشنگٹن نیتن یاہو کی حکومت کی جانب سے مقبوضہ علاقوں میں رہنے والی عرب اقلیت کے خلاف ممکنہ اقدامات اور عدالتی نظام کی آزادی پر پریشان ہے، کیونکہ یہ اقدام جمہوری اقدار کو چیلنج کرتے ہیں۔ امریکہ جو اس وقت یوکرین کی جنگ میں مصروف ہے، مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، کیونکہ اس خطے میں نئی ​​جنگ چھڑنے سے صیہونیوں کو نقصان پہنچے گا اور مغرب والے اس قابل نہیں ہوں گے کہ تل ابیب کی مدد کریں۔

امریکی اچھی طرح جانتے ہیں کہ مقبوضہ فلسطین میں بھرپور جنگ کی صورت میں تمام مزاحمتی گروہ فلسطینیوں کی مدد کے لیے آجائیں گے اور تل ابیب کے لیے میدان تنگ ہو جائے گا۔ اس لیے وہ اس وقت کشیدگی کی سطح کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاکہ خطے اور دنیا میں کوئی نیا بحران پیدا نہ ہو۔ مغربی کنارے اور غزہ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی، بین الاقوامی مخالفت کی وجہ سے نارملائزیشن کے عمل میں بھی خلل ڈالے گی اور سمجھوتہ کرنے والے عرب مملک ظاہر میں ہی سہی فلسطینیوں کا ساتھ دینے کی کوشش کریں گے اور یہ عمل نیتن یاہو کے لئے بہت سنگین ثابت ہوسکتا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

اردن سعودی صیہونی سازش کی زد میں

اپریل 2021 میں جب سے اردن کے بادشاہ کے خلاف بغاوت کو ناکام بنانے کی …