بدھ , 8 فروری 2023

نئے سال سے جڑی امیدیں

(ڈاکٹر صغرا صدف)

ذاتی اور اجتماعی حوالے سے گزشتہ سال ایک ڈرائونے خواب جیسا تھا۔ایک ایسا خواب جسے دیکھتے ہوئے دل ڈوب ڈوب گیا اور جاگنے پر آنکھوں کوتعبیر کے کانٹے چننے پڑے۔جب شب وروز ایک جیسے اندھیرے اوڑھ لیں تو امید کا ٹمٹاتا دِیا بھی تھک کر کسی کونے میں بیٹھ جاتا ہے۔ کسے خبر تھی 2022ء اتنا خوفناک سال ہوگا جو ہمارے برسوں کے فخروانبساط اور چین وقرار کو نیست و نابود کردے گا۔ ہم جو سمجھتے تھے کہ اتنے وسائل، افرادی قوت، سونا اگلتی زمین،معدنیات سے بھرے پہاڑ،بل کھاتے دریا،ذرخیز زمین ،لہلاتے کھیت اور خزانوں سے بھرے وسیع سمندر کا مالک ملک ترقی پذیر کے حلقے سے نکل کر ترقی یافتہ کا رتبہ کیوں حاصل نہیں کر پا رہا۔ہمیں کیا خبر تھی کہ یوں جان کے لالے پڑ جائیں گے کہ پوری دنیا میں ہمارے دیوالیہ ہونے اور نہ ہونے کے تذکرے گونجنے لگیں گے۔ہماری ہر صبح کی جبین عالمی بینک کے آگے قرضوں کے ترلے کی ٹرے لئے سرنگوں کھڑی ہوگی۔ہماری ترقی پذیر معیشت مصنوعی تنفس کی نالیوں پر زندہ ہوگی۔پوری دنیا میں گزشتہ کئی سال کووڈ کی اذیت ناک وحشتوں سے سہمے گزرے اور معاشی ابتری نے ہر ملک کے صحن میں نقب لگائی مگر ہم جیسے ملک زیادہ متاثر ہوئے۔ ذاتی حوالے سے 2022میرے لئے زندگی کا مشکل ترین سال تھا جب ایک انہونی بیماری یعنی آٹو امیون ہیپاٹائٹس کے باعث میں نوے فیصد موت کی تحویل میں جاچکی تھی۔مگر مجھے پھر واپس بھیجا گیا کچھ نامکمل اور ادھورے منصوبے مکمل کرنے کا وقت عنایت کر کے آزمائش کے ایک سفر پر روانہ کیا گیا۔مگر دوران بیماری جو بے بسی اور اذیت میرے احساس میں رچی اسے کھرچ کر نکالنا ممکن نہیں۔ زخم بھر بھی جائے تو احساس میں ٹیسیں ابھرتی رہتی ہیں۔ میں اس سال کو خوفناک خواب سمجھ کر بھول جانا چاہتی ہوں۔کاش میں ایسا کر سکوں!نئے سال سے بہت سی توقعات بندھی ہیں۔ہم نے خود کو روشنی میں لانے کے لئے ملکی سطح پر اجالے کا انتظام کرنا ہے۔ہر فرد کو اپنے حصے کا دِیا جلانا اور امکانات کا در کھٹکھٹانا ہے۔ہم اشتیاق ظاہر کریں گے تو تقدیر خود مہربان ہوگی۔سب سے بڑا چیلنج برآمدات بڑھانا ہے۔اپنے ہنرمندوں کو ٹاسک دینا ہے۔تعمیری اور تخلیقی راہگزر کو آباد کرنا ہے۔یہ کوئی بہت مشکل کام نہیں صرف منصوبہ بندی اور کمٹمنٹ کی ضرورت ہے۔

آئیے نئے سال کا آغاز اس مثبت سوچ اور عمل سے کریں کہ ہماری ذات سے کسی کو نقصان اور اذیت نہ پہنچے۔ہم دکھ دور کرنے اور سکھ کا باعث بننے والے ہوں۔ ملک کو درپیش چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے اجتماعی کاوشوں کی ضرورت ہے۔موجودہ حکومتیں جیسے اور جس طرح بھی بنیں یہ ایک الگ بحث ہے مگر اس وقت سب بیٹھیں اور فیصلہ کریں کہ انہیں چلانا ہے یا نئے انتخاب میں جانا ہے۔سیاسی استحکام ہی معاشی استحکام کا ضامن ہو سکتا ہے۔ اسمبلیوں میں ایک مضبوط حکومت ہی ایک پائیدار ترقی کا زینہ ہو سکتی ہے ورنہ اس نظام کو کسی کی بُری نظر بھی لگ سکتی ہے اور پھر سب بیٹھ کر روتے رہیں گے۔

یاد رہے، یہ ملک ہماری شناخت کا سنہری سکہ ہے اس کے بغیر ہمارا تعارف خس وخاشاک جیسا ہے۔اس کی مضبوط چھتری ہمارے سر پرسائبان بنی رہنی چاہئے۔ ہم بہت قربانیاں دے چکے، بہت کچھ برداشت کر چکے اب ہمیں تھوڑے سے شعور کو عمل میں لانا ہے۔تھوڑی سمجھ داری کامظاہرہ کرنا ہے۔اس سال ہمیں مزید بجلی بنانے کے ساتھ بجلی کی بچت پربھی توجہ مرکوز کرنی ہے۔قدرتی روشنی سے زندگی کو ہم کنار کرنا ہے۔دھوپ کی کرنوں کو استعمال میں لانا ہے۔نیا سال نئے امکانات اور نئی امیدیں لے کر آیا ہے آئیے ان امیدوں کو چراغ بنا کر ترقی اور خود مختاری کے سفرکا آغاز کریں۔دوسروں کے آگے دستِ طلب دراز کرنے کی بجائے اپنے وسائل کو استعمال میں لانے کی تدبیر کریں۔نئی نسل کے سامنے چیلنجز رکھیں اور انھیں مقاصد کے حصول کا ٹارگٹ دیں۔یاد رہے نوجوانوں کے پاس مقاصد نہ ہوں توان کی سوچ انتشار کا شکار ہوکر معاشرے میں بگاڑ پیدا کرتی ہے۔ عمل کی سڑک ہماری منتظر ہے آئیے ترقی کے سفر کا آغاز کریں، نئے سال کو سلام کریں-بشکریہ جنگ نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …