اتوار , 29 جنوری 2023

پاکستان میں دہشتگردی کے پس پردہ افغان حکومت کا ہاتھ؟

(رپورٹ: سید عدیل زیدی)

افغانستان سے امریکی انخلاء اور طالبان کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کے بعد پاکستان اور نئی افغان حکومت کے مابین جن معاملات پر ترجیحی طور پر بات چیت کا آغاز ہوا، ان میں تحریک طالبان پاکستان سمیت ان دیگر چھوٹے دہشتگرد گروہوں کا معاملہ سرفہرست تھا، جو پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث رہے ہیں، کیونکہ پاکستان میں فوجی آپریشنز کے بعد عسکریت پسندوں کی ایک بہت بڑی تعداد افغانستان میں روپوش ہوگئی تھی۔ سابق افغان صدر اشرف غنی کے دور حکومت کے دوران پاک، افغان تعلقات زیادہ بہتر نہیں تھے، اسلام آباد کو یہ شکوہ تھا کہ افغان حکومت امریکہ کی مرضی کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کرسکتی اور دوسرا یہ کہ اس وقت ہندوستانی حکومت کا بھی سابق افغان حکومت پر اثر و رسوخ تھا۔ نئی افغان حکومت قائم ہونے کے بعد امارات اسلامیہ نے اسلام آباد کو یہ پیشکش کی کہ وہ ٹی ٹی پی کو مذاکرات کی میز پر لاسکتے ہیں اور مسائل کو ہمیشہ کیلئے حل کیا جاسکتا ہے۔

چونکہ افغان طالبان کو ایک طویل عرصہ بعد حکومت ملی تھی اور ایک جانب داعش کی کارروائیاں اور دوسری طرف ملکی حالات ٹھیک کرنے کا چیلنج، طالبان اپنے دشمنوں میں کمی کرنا چاہتے تھے۔ اس صورتحال میں حکومت پاکستان اور ٹی ٹی پی کے مابین افغان طالبان کی ثالثی میں مذاکرات کا آغاز ہوا، تاہم یہ تجربہ بھی ماضی کی طرح ناکام رہا۔ ٹی ٹی پی نے پاکستان میں باقاعدہ دہشتگردرانہ کارروائیوں کا آغاز کر دیا ہے اور صورتحال خراب سے خراب تر ہو رہی ہے۔ سال 2022ء کے دوران پاکستان میں تقریباً 376 دہشت گرد حملے ہوئے، جن میں 533 اموات ہوئیں جبکہ 832 افراد زخمی ہوئے۔ اسلام آباد سے ایک سینیئر صحافی نے ’’اسلام ٹائمز‘‘ کو بتایا ہے کہ اب پاکستان کو بخوبی علم ہوچکا ہے کہ افغان طالبان کی طرف سے ٹی ٹی پی کو مکمل سپورٹ حاصل ہو رہی ہے، افغان حکومت چوری چھپے تحریک طالبان پاکستان کی مدد کر رہی ہے۔

اس صحافی نے کہا کہ انہیں ایک اعلیٰ سفارتکار نے بتایا ہے کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ دہشتگردی اور تخریبی کارروائیوں پر کوئی سمھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے، پاکستان کو بخوبی علم ہوچکا ہے کہ ٹی ٹی پی کو افغان حکومت کی مکمل طور پر مدد اور تعاون حاصل ہے، گو کہ افغان حکومت یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہی ہے کہ یہ دہشتگردی ٹی ٹی پی اپنے طور پر کر رہی ہے، تاہم یہ سب کچھ دکھاوا ہے۔ یاد رہے کہ اٹھارہ دسمبر کو بنوں میں ٹی ٹی پی کے دہشتگردوں نے جب پاکستانی فورسز کے عملہ کو یرغمال بنا لیا تھا تو وہ مطالبہ کر رہے تھے کہ انہیں افغانستان جانے کیلئے ہیلی کاپٹر فراہم کیا جائے، جس سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ ٹی ٹی پی کے دہشتگرد اب بھی افغانستان میں خود کو محفوظ سمجھتے ہیں۔

چند روز قبل سابق آئی ایس آئی چیف جاوید اشرف قاضی نے بھی پاکستان میں ٹی ٹی پی کے حملوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان کو افغان طالبان کی مدد حاصل ہے اور وہ پاکستان پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کی مدد کر رہے ہیں، پاک افغان سرحد پر لگی باڑ کو انہی دہشتگردوں نے اکھاڑ دیا ہے، اس باڑ کو دوبارہ تعمیر کیا جائے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ کابل حکومت ابھی سنبھلی نہیں ہے، طالبان ٹی ٹی پی کیساتھ سختی سے پیش نہیں آرہے، طالبان یہ سمھتے ہیں کہ ٹی ٹی پی کو اگر پاکستان پر حملوں سے روکنے پر مجبور کیا گیا کہ وہ تو ہمارے کیخلاف بندوق نہ اٹھا لیں، ٹی ٹی پی کیساتھ اب کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے، ان مذاکرات کا بھی وہی نتیجہ نکلا جو اس سے قبل والے مذاکرات کا نکلا تھا۔ لہذا سختی سے نمٹنے کا وقت آگیا ہے۔

بنوں حملہ کے بعد اب صورتحال کافی تبدیل نظر آرہی ہے، آرمی چیف نے اس واقعہ کے بعد دہشتگردوں کو واضح پیغام دیا، جس پر ٹی ٹی پی کی جانب سے جاری ہونے والی پریس ریلیز میں نہ صرف نئے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بلکہ افواج پاکستان کیخلاف وہ سخت زبان استعمال کی گئی، پاکستان میں دہشتگردی کے عروج کے موقع پر انہی دہشتگردوں کی جانب سے استعمال کی جاتی تھی۔ جس کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ پاکستان نے ٹی ٹی پی کیساتھ نمٹنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سینیئر صحافی نے مزید بتایا کہ اس صورتحال میں امریکہ پاکستان اور افغانستان کے مابین نفرت پیدا کرنے کی کوشیشوں میں شدت سے مصروف ہے، تاکہ امریکیوں کے لیے افغانستان میں مسلح مداخلت ایک مرتبہ پھر آسان ہو جائے، یہی وجہ ہے کہ امریکہ کی جانب سے پاکستان کو افغان سرزمین سے ہونی والی دہشتگردی کا مقابلہ کرنے کیلئے امداد کی پیشکش کی گئی ہے، جس کا اعتراف وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری بھی کرچکے ہیں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

مودی گجرات فسادات کے براہ راست ذمہ دار

(ریاض چوہدری) برطانیہ کے سابق خارجہ سیکریٹری جیک سٹرا نے خصوصی انٹرویو میں انکشاف کیا …