جمعرات , 9 فروری 2023

پاک امریکہ تعلقات کی تشکیل نو

(عدنان عادل)

پی ڈی ایم حکومت عمران خان کے دور اقتدار کے دوران تعطل کا شکار پاک امریکہ تعلقات کو دوبارہ بحال کر رہی ہے پاکستان میں رائے عامہ شاید امریکہ کے ساتھ قریبی، تزویراتی تعلقات رکھنے کے بارے میں زیادہ حامی نہ ہو، لیکن ملک کی حکمران اشرافیہ اپنے سابقہ اتحادی کی حمایت حاصل کرنے کے لیے سخت محنت کررہی ہے کہ اس کا سابقہ حلیف جو شاید اس تزویراتی طور پر واقع، مالی طور پر بدحال، سیاسی اور اقتصادی طور پر کمزور ملک کے لیے کچھ فراخ دلی کا مظاہرہ کرنے پر آمادہ کرے۔

پاکستان کی معیشت اس کی بیرونی ادائیگیوں میں کافی حد تک دیوالیہ ہونے کے دہانے پر ہے، جب کہ طالبان دہشت گردوں کے پاکستان کے اندر حملوں میں شدت آگئی ہے- جو پاکستانی اشرافیہ کے لیے دہشت گردی سے لڑنے کے لیے انتہائی ضروری مالی امداد اور فوجی تکنیکی مدد حاصل کرنے کے بہانے واشنگٹن کے ساتھ اپنی نئی شراکت داری کا جواز پیش کرنے کے لیے ایک بہترین منظر نامہ تیار کر رہے ہیں۔

1950ء کی دہائی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے، جنہیں امریکہ کی جانب سے سب سے زیادہ مالی اور فوجی امداد مل رہی تھی لیکن چند سال پہلے یہ امداد کم ہو گئی۔ اب پاکستان کے حکمران اچھے پرانے دنوں کو زندہ کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ ایک مشکل کام ہو سکتا ہے۔ امریکی اسٹیبلشمنٹ پاکستان کی افغان پالیسی کو ناپسند کرتی ہے، اس کے جمہوری رویوں اور اس کے انسانی حقوق کے خراب ریکارڈوں پر ناگواری کا اظہار کرتی ہے۔ اس کے باوجود امریکہ جغرافیائی سیاسی خدشات کی وجہ سے پاکستان کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے پر مجبور ہے۔ امریکی سفارت کاروں نے حالیہ بیانات میں اعلان کیا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ مضبوط اور مثبت تعلقات چاہتا ہے۔

اگست 2021ء میں پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے بعد ایک عارضی دھچکا لگا، جب وزیر اعظم عمران خان نے طالبان کی فتح کو ’’غلامی کی بیڑیاں توڑنے‘‘ کے مترادف قرار دیتے ہوئے ایک تبصرہ کیا۔ بعد ازاں عمران خان نے واضح طور پر اور مزید یہ کہ سفارتی طور پر افغانستان پر حملوں کے لیے امریکہ کو اڈے فراہم کرنے کے امکان کو بھی قبول کرنے سے انکار کر دیا۔ عمران خان کا دورہ روس، صدرولادیمیر پوتن سے طویل ملاقات اور یوکرین پر روسی حملے کی مذمت نہ کرنے نے انہیں امریکیوں کی نظروں میں ایک حقیقی خطرہ بنا دیا۔ جلد ہی عمران خان کو اقتدار سے باہر نکلنے کا راستہ دکھا دیا گیا جس کا الزام انہوں نے امریکی مداخلت پر لگایا۔ ثبوت کے طور پر انہوں نے واشنگٹن میں پاکستانی سفیر کے ایک سائفر کا حوالہ دیا، جس میں امریکی معاون وزیرخارجہ ڈونلڈ لو نے پاکستان کو دھمکی دی تھی کہ اگر عمران خان کو پارلیمنٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کے ذریعے برطرف نہ کیا گیا تو۔ اس الزام کو ثابت کرنے والے بین الاقوامی امور کے مبصر اینڈریو کوریبکو تھے، جنہوں نے عمران خان کی حکومت سے بے دخلی کو ’’امریکہ کی جانب سے منظم پوسٹ ماڈرن بغاوت‘‘ قرار دیا۔

تاہم، سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اس نقصان کا ازالہ کرنے کے لیے جلدی میں تھے، انہوں نے یوکرین میں روسی فوجی آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کی نشاندہی کی کہ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی اپنی ترجیحات ہیں اور وہ روس کی نسبت امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کو زیادہ اہمیت دیتی ہے۔ اپریل میں سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ ’’بہترین‘‘ تعلقات ہیں اور پاکستان کے پاس بہترین فوجی سازوسامان امریکہ سے آیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آج ہمارے پاس جو موثر فوج ہے وہ بڑی حد تک امریکہ کی تیار کردہ اور تربیت یافتہ ہے، ہمارا اب بھی امریکہ اور ہمارے مغربی دوستوں کے ساتھ گہرا تعاون ہے۔ اور اس طرح پاکستانی طاقت کی سیاست کی حرکیات کو مدنظر رکھتے ہوئے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے بیان کردہ خیالات سے کوئی محتاط نتیجہ اخذ کرسکتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے مستقبل کے تعلقات کی رفتار کیا ہوگی۔

سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے صرف نظر کرتے ہوئے دیگر اشارے بھی ہیں کہ دو بچھڑے ہوئے اتحادی عارضی تلخی اور بداعتمادی کے بعد ایک بار پھر ایک دوسرے کے ساتھ مل رہے ہیں۔ سینٹ کام کے سربراہ مائیکل ایرک کوریلا کا پاکستان کا حالیہ دورہ اور وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کا حالیہ ایک ہفتہ طویل دورہ امریکہ اور وہاں دو طرفہ تعلقات کے بارے میں ان کے بیانات ایک نئی دوستی کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سینٹ کام کے سربراہ نے نئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے اکیلے میں ملاقات کی اور دونوں نے سیکیورٹی تعاون کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا۔ واشنگٹن میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ امریکہ پاکستان کو افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے لیے مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر سکتا ہے۔ دونوں جانب سے آنے والے بیانات سے اس تاثر کو تقویت ملتی ہے کہ اب وہ ٹی ٹی پی کے خلاف مشترکہ فوجی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں، افغانستان پر دونوں ممالک کے درمیان تعاون کی بنیادی بنیاد بننے کا امکان ہے۔

عمران خان نے اپنے عہدے سے ہٹائے جانے میں مبینہ امریکی مداخلت کے بارے میں اتنا ہنگامہ کھڑا کر دیا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کی نئی مخلوط حکومت تجدید تعلقات کے لیے عوامی ردعمل کے خوف سے امریکی مطالبات کے آگے جھکنے میں ایک خاص حد سے آگے بڑھتے ہوئے نظر نہیں آ رہی ہے۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کو اس کی کوئی پروا نہیں۔ انہوں نے امریکی حکام سے ملاقات کے لیے واشنگٹن کے متعدد دورے کیے اور ملک میں امریکہ نواز ہونے کا امیج تاثر قائم کیا۔ایک امریکی شہری اور واشنگٹن میں سابق پاکستانی سفیر حسین حقانی (پی پی پی کے سابقہ دور حکومت میں)، جن کے امریکی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، مبینہ طور پر امریکیوں کے ساتھ بلاول بھٹو زرداری کی ملاقاتوں میں ایک سہولت کار کا کردار ادا کررہے ہیں۔

گزشتہ برسوں کے دوران پاکستانی حکمرانوں نے اکثر امریکہ کے ساتھ’’قریبی تزویراتی تعلقات‘‘ کا بارہا دعویٰ کیا، لیکن سچائی یہ ہے کہ امریکہ کے لیے یہ دوطرفہ تعلقات ہمیشہ لین دین کی نوعیت کے رہے۔ امریکہ کے مخصوص اہداف ہیں، جو وہ اس شراکت داری سے حاصل کرنا چاہتے ہے، جو ضروری نہیں کہ پاکستان کے طویل المدتی مفادات سے ہم آہنگ ہوں۔ ماضی میں امریکہ کے جغرافیائی سیاسی خدشات پاکستان کے ساتھ تعلقات کی وضاحت کرتے تھے۔ سوویت یونین کے ساتھ سرد جنگ کے دوران امریکہ کا بنیادی مقصد کمیونزم کو روکنا تھا اور پاکستان اس کا ’’سب سے بڑا اتحادی‘‘ تھا۔ 1979ء میں افغانستان پر روسی حملے کے بعد پاکستان اپنے مغربی اتحادیوں کی جانب سے پراکسی جنگ (ان دنوں ‘جہاد’ کہلایا جاتا ہے) لڑنے والی فرنٹ لائن ریاست تھی۔ جونہی کمیونسٹ روس نے افغانستان سے انخلاء کیا، امریکہ نے پاکستان کو کھوکھلا کرنے اور اس کی مالی امداد روکنے میں ایک لمحہ ضائع نہیں کیا۔ اس کے بعد 9/11 کے بعد کا مرحلہ آیا، جب پاکستان نے امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر نام نہاد ’دہشت گردی کے خلاف جنگ‘ میں افغانستان پر حملہ کیا۔ یہ مرحلہ افغانستان سے امریکی انخلاء کے ساتھ ختم ہوا۔ متعدد بااثر امریکیوں نے پاکستان پر الزام لگایا کہ وہ افغانستان میں دہرا کھیل کھیل رہا ہے، جو ان کی رائے میں 21 سال کی طویل جنگ کے بعد طالبان کے خلاف امریکہ کی شرم ناک شکست کا سبب بنا۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے امریکہ کی طرف حالیہ پیش رفت، یعنی افغانستان سے آنے والی دہشت گردی کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ مشترکہ کوششوں میں شامل ہونے کی پیشکش، ایسا لگتا ہے کہ اس خطے میں امریکی شکایات اور خدشات کو دور کرنا ہے۔

تاہم، افغانستان میں دہشت گرد گروہوں سے لڑنا خطے میں امریکہ کے اہداف کا صرف ایک پہلو ہے، جہاں روس اور چین اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے ہیں۔اس پس منظر کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے پاس افغان جنگ کے دوران جو کچھ ہوا، اس پر پاکستان کے ساتھ اپنی ناراضگی دور کرنے اور خطے میں قدم جمانے کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات بحال کرنے کے علاوہ کوئی چارا نہیں ۔ اسے ایک اتحادی اور اڈے کی ضرورت ہے، جہاں سے وہ وسطی ایشیا میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکے اور روس اور ایران کی بڑھتی ہوئی شراکت پر نظر رکھ سکے۔ حالیہ برسوں میں روس نے اس خطے میں غیر متناسب امریکی اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے کے لیے ایران جیسے مسلم اکثریتی ملک اور جزوی طور پر سعودی عرب کو استعمال کیا ہے۔ ایران نارتھ ساؤتھ ٹرانسپورٹ کوریڈور (این ایس ٹی سی) کے ذریعے روس کے عظیم تزویراتی فریم ورک کا اہم رکن بن گیا ہے، جو ایرانی سرزمین سے خلیج فارس تک گزرتا ہے اور روس کے لیے ایک اہم تجارتی راستہ بن گیا ہے۔ راہداری نے فروری 2022ء میں کام شروع کیا۔

مغرب سے گھرا ہوا روس اب مشرق کی جانب دیکھ رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے اس نے افغانستان میں افغان طالبان کے ساتھ تعلقات استوار کیے ہیں اور ان میں کچھ اثر و رسوخ بھی رکھتا ہے۔ بھارت میں روس کے سفیر ضمیر کابلوف نے بھارتی روزنامے’دی ہندو‘ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں تجویز پیش کی کہ ’’اگر افغانستان سے ایسا کوئی اشارہ آتا ہے تو روس ضروری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اس میں بھارت کے کردار کی بھی ضرورت پیش آئے گی۔ ظاہر ہے کہ روس، ایران، بھارت اور افغانستان کی ترقی پذیر مساوات امریکیوں کے لیے پریشان کن ہے۔ اس منظر نامے میں وہ یقینی طور پر پاکستان کو روس کے ساتھ تزویراتی شراکت داری کو فروغ دینے سے روکنا چاہتے ہیں۔ عمران خان کی صدر ولادیمیر پوتن کے ساتھ قربت یقینی طور پر امریکی اسٹیبلشمنٹ کے لیے قابل قبول نہیں تھی۔

خارجی چینی عنصر ایک اور پہلو ہے، جو امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو متاثر کرتا ہے۔ پاکستان، ایران اور خلیجی ممالک کے ساتھ چین کے بڑھتے ہوئے سفارتی اور اقتصادی تعلقات کے ساتھ جغرافیائی سیاسی حرکیات میں بنیادی تبدیلی آئی ہے۔ امریکی چین کے بیلٹ اینڈ روڈ اقدام اور پاکستان کے انفراسٹرکچر، توانائی اور ترقیاتی منصوبوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری (اب تک 25 ارب ڈالر) سے پریشان ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکی معاون وزیر خارجہ ایلس ویلز نے عوامی سطح پر سی پیک منصوبے پر تنقید کی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ اسے چھوڑ کر خطے میں امریکی اقدامات میں شامل ہو۔ وہ دن گئے جب امریکہ پاکستان کو فوجی ساز و سامان فراہم کرنے والا بڑا ملک تھا۔ گزشتہ ایک دہائی میں چین نے اس کی جگہ لے لی ہے۔ پاکستان نے چین کی مدد سے اپنے مقامی جنگی طیارے JF-17 اور اس کے جدید ورژن تیار کیے ہیں اور ان میں PL-10 میزائل نصب کیے ہیں۔ اس نے چین سے جدید ہیلی کاپٹر خریدے ہیں۔ اس نے چین سے J-10 لڑاکا طیارے خریدے ہیں۔ اور اس کے پاس چین کی طرف سے دفاعی ڈھال HQ-9 ہے۔ لہٰذا یہ تصور کرنا مشکل ہے کہ پاکستان امریکہ کے ساتھ اپنے لین دین کے مفادات کی خاطر اپنے قابل اعتماد تزویراتی پارٹنر چین سے کنارہ کر لے گا۔ تاہم، پاکستان اقتصادی وجوہات کی بنا پر امریکہ کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتا ہے۔ امریکہ پاکستانی اشیا کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کا ذریعہ ہے اور خاص طور پر بین الاقوامی مالیاتی اداروں پر اثر و رسوخ رکھنے والی ایک عالمی طاقت ہے، جن کی امداد کی پاکستان کی مالی بدحالی کا شکار معیشت کو سخت ضرورت ہے۔

تاحال پاکستان امریکا، چین سرد جنگ میں شامل نہیں ہونا چاہتا۔ تاہم، ہمارے ملک میں ایک بااثر امریکہ نواز لابی موجود ہے،جو چاہتی ہے کہ وہ چین کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک امریکی اتحادی بن جائے، جیسا کہ وہ کمیونسٹ روس کے خلاف سرد جنگ کے دنوں میں ہوا کرتا تھا، مخالف رائے عامہ اور سب سے اہم ریاستی اداروں کے اندر سے مخالفت کی موجودگی میں اس خواب کا پورا ہونا مشکل نظر آتا ہے۔ پاکستان کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے ساتھ محدود، لین دین کے تعلقات اور تجارت، سرمایہ کاری، سائنس، ٹیکنالوجی اور تعلیم کے شعبوں میں مزید تعاون کی بنیاد زیادہ حقیقت پسندانہ ہوسکتی ہے۔ ایک عارضی اقتصادی بیل آؤٹ کے لیے پاکستان کو کسی بھی چین مخالف امریکی اتحاد میں شامل ہو کر اپنے طویل المدتی مفادات کو گروی نہیں رکھنا چاہیے۔بشکریہ بول نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …