جمعرات , 9 فروری 2023

جنرل سلیمانی کا قتل دہشت گردی کی ایک واضح مثال ہے، ایرانی وزارت خارجہ

تہرران:ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ جنرل سلیمانی کے قتل کے مجرمانہ فعل کی امریکہ نے منصوبہ بندی کی تھی اور اسے انجام دی تھا، یہ ’منظم دہشت گردی کی کارروائی‘ کی ایک اور واضح مثال ہے۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عالمی ہیرو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی تیسری برسی کے موقع پر ایک بیان جاری کیا جس کا متن حسب ذیل ہے۔

بسم الله الرحمن الرحیم

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ اسلام کے عظیم جرنیل اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عالمی ہیرو جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت کی اس تیسری برسی پر ایک ایسے قابل قدر شہید کے نام اور یاد کو خراج تحسین پیش کرتی ہے جس نے ایران، اسلام اور علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔

جنرل شہید سلیمانی نے علاقائی اور بین الاقوامی امن و استحکام کے قیام کے لیے اسلامی جمہوریہ ایران کی اسٹریٹجک پالیسیوں کے نفاذ میں اہم کردار ادا کیا اور بین الاقوامی دہشت گردی اور خطے میں دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات اٹھائے۔ اسی وجہ سے اس لازوال شہید نے "جان فدا”، "دہشت گردی کے خلاف جنگ کا بین الاقوامی ہیرو”، اور "امن کا جنرل” جیسے قابل فخر اور اعزازی القابات اپنے نام کئے۔

امریکی حکومت نے جھوٹے دعووں اور بہانوں بشمول دہشت گردی کے مقابلے کی آڑ میں ایک مجرمانہ عمل کے تحت جو بین الاقوامی قانون کے اصول و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی ہے، ہمارے ایک اعلیٰ ترین عہدے دار پر کسی تیسرے ملک کی سرزمین پر دہشت گردانہ حملے کی منصوبہ بندی کی اور اسے انجام دیا جب وہ عراق میں سرکاری ماموریت پر تھے۔ بلاشبہ جنرل سلیمانی کو قتل کرنے کے مجرمانہ فعل کا منصوبہ امریکہ کی طرف سے تیار کیا گیا اور اس پر عمل درآمد ’منظم دہشت گردی کی کارروائی‘ کی ایک اور واضح مثال ہے۔

قانونی اور بین الاقوامی معیارات کی بنیاد پر اس جرم کی ‘بلاتردید بین الاقوامی ذمہ داری’ امریکی حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ اس تناظر میں اس دہشت گردی کے جرم کو انجام دینے والے، حکم دینے والے، اس میں حصہ لینے والے، اس پر اکسانے والے، معاونین اور حوصلہ افزائی کرنے والے اس کے ذمہ دار ہیں۔ اس سلسلے میں وزارت خارجہ نے دیگر اداروں اور اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کے ساتھ مل کر شروع ہی سے اور ‘جرائم سے استثنیٰ کا مقابلہ کرنے’ کے قانونی اصول پر مبنی متعدد اقدامات اٹھائے ہیں تاکہ مذکورہ بالا افراد کا احتساب ہو اور انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جاسکے۔

اس ضمن میں وزارت خارجہ نے دیگر متعلقہ اداروں کے تعاون سے جنرل سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کے قتل کیس کی قانونی اور بین الاقوامی پیروی کے لیے خصوصی کمیٹی قائم کی۔ یہ کمیٹی اپنے قیام کے بعد سے اس کیس کے قانونی پہلوؤں کی چھان بین اور پیروی کر رہی ہے اور اس نے اب تک تمام ملکی، دو طرفہ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر اس مسئلے کو اٹھانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ کمیٹی اس وقت تک پوری سنجیدگی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہے جب تک کہ اس کے مقاصد مکمل طور پر پورے نہیں ہو جاتے اور امریکی حکومت کی بین الاقوامی ذمہ داری کا مطالبہ نہیں کیا جاتا۔ جبکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور جمہوریہ عراق کے درمیان مشترکہ عدالتی کمیٹی دہشت گردی کے اس امریکی اقدام کی پیروی کے لیے اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہے۔

اسلامی جمہوریہ ایران دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف اپنی اصولی پالیسیوں کے تحت علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے قیام کے لیے بدستور کام جاری رکھے گا، لہذا جنرل قاسم سلیمانی کی شہادت ایران اور ایرانیوں کے لیے اگرچہ بہت بڑا نقصان ہے تاہم یہ اسلامی جمہوریہ ایران کو اپنے بلند اہداف کے حصول سے کسی صورت روک نہیں سکتا۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ ایک بار پھر تمام شہداء بالخصوص دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف جہاد کے شہداء جن میں جنرل شہید قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی المہندس اور ان کے شہید ساتھی سر فہرست ہیں، کی یاد کو خراج تحسین اور ان کی بلند روحوں کو خراج عقیدت پیش کرتی ہے۔

یہ بھی دیکھیں

ترکیہ اور شام میں امدادی کارروائیوں میں فلسطینی امدادی ادارے بھی شامل

دمشق:فلسطینی رضاکار اور سرکاری ادارے شمالی شام میں تباہ کن زلزلے کے بعد امدادی اور …