منگل , 31 جنوری 2023

ہتھوڑا گروپ: کراچی کی سڑکوں پر خوف اور دہشت پھیلانے والا گروہ کیا تھا اور کہاں گیا؟

(جعفر رضوی اور ریاض سہیل)

یہ تحریر بی بی سی اردو کی ویب سائٹ پر پہلی بار گذشتہ برس اپریل میں شائع کی گئی تھی، جسے آج دوبارہ پیش کیا جا رہا ہے۔

انتباہ: اس رپورٹ میں درج چند تفصیلات اور تصویری خاکے قارئین کے لیے تکلیف کا باعث ہو سکتے ہیں

’پستول تو اُس نے نکال لیا تھا۔۔۔ مگر میرے ساتھ کھڑے اہلکار نے کُلہاڑے سے اُس گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا۔۔۔ پھر ہم نے اُسے قابو کر لیا۔‘

کرنل (ریٹائرڈ) سعید نے اِس اہم گرفتاری کا نقشہ کھینچتے ہوئے بڑی پاٹ دار آواز میں مجھے بتایا۔

پاکستانی فوج کے سپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) سے تعلق رکھنے والے سابق افسر کرنل سعید، جو سندھ اور بلوچستان پولیس میں ڈی آئی جی کے عہدوں پر بھی فائز رہ چکے ہیں، اب خاصے عمر رسیدہ ہیں، مگر اس عمر میں بھی کمال کی یادداشت اور بلا کا حافظہ رکھتے ہیں۔

جس گرفتاری کا واقعہ کرنل سعید مجھے سُنا رہے تھے، اُس نے کراچی میں خوف و ہراس اور دہشت گردی کی اوّلین وارداتوں کے ایک بھیانک سلسلے ’ہتھوڑا گروپ‘ کا خاتمہ کر دیا تھا۔

سنہ 1985-86 میں جنم لینے والی خوف و دہشت کی یہ کہانی ایک سے دو سال کی مُدّت میں درجنوں ہلاکتوں کی ایسی داستان ہے جسے یاد کر کے اہلِ کراچی آج بھی کانپ جاتے ہیں۔

اور کرنل سعید مجھے جو بتا رہے تھے وہ کسی ’معمولی گرفتاری‘ کا تذکرہ ہرگز نہیں تھا۔ وہ ’ہتھوڑا گروپ‘ کے ’مرکزی اور بین الااقوامی کردار‘ کی گرفتاری کی تفصیل تھی۔

مگر پاکستان کو درپیش ’بین الاقوامی دہشت گردی‘ کے اس بظاہر پہلے سلسلے سے متعلق کرنل سعید کے انکشافات کی تفصیل سے قبل یہ جاننا ضروری ہے کہ آخر یہ ’ہتھوڑا گروپ‘ تھا کیا اور مقامی سمجھی جانے والی اس دہشت گردی کا عالمی صورتحال سے آخر کیا تعلق تھا؟

اس دور میں پاکستانی اخبارات اور رسائل و جرائد میں شائع ہونے والی رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اُس وقت ملک اور خطے کی سیاست میں شدید تلاطم کے باوجود بھی کراچی میں امن و امان کی عمومی صورتحال نسبتاً مستحکم تھی۔

پانچ جولائی 1977 کو جنرل ضیا الحق نے اُس وقت کے منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹّو کا تختہ اُلٹ کر ملک میں مارشل لا نافذ کیا تو شدید عوامی مزاحمت نے فوجی حکومت کے لیے بہت سی پریشانیاں پیدا کر دی تھیں۔

مگر 1985 تک ملک میں غیر جماعتی بنیادوں پر ہونے والے انتخابات کے نتیجے میں وزیراعظم محمد خان جونیجو کی حکومت قائم ہو چکی تھی جو وردی میں ملبوس فوجی صدر اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیا کے دورِ اقتدار میں بھی خاصی دقت سے کام کر رہی تھی۔

لیکن افغانستان میں جاری صورتحال کی وجہ سے پاکستان میں قائم اِس حکومت کے عالمی برادری خصوصاً امریکہ سے تعلقات بہت خوشگوار تھے۔

پڑوسی ملک افغانستان میں بھی شدید سیاسی عدم استحکام درپیش تھا جہاں 24 دسمبر 1979 کو روسی فوج نے مسلّح مداخلت کی تھی جو قریباً دس برس یعنی 15 فروری 1989 تک جاری رہی۔

امریکہ نے افغانستان پر روسی فوج کشی کی شدید مخالفت کی اور وہاں موجود مزاحمتی گروہوں کو مالی اور جنگی امداد فراہم کرنے کی ٹھانی۔ پاکستان ان امریکی عزائم کا مرکزی سٹیج بنا جس نے ان افغان مزاحمتی گروہوں کو جنگی ساز و سامان اور فوجی تربیت کے ساتھ افرادی قوّت فراہم کرنے میں بھی اہم ترین کردار ادا کیا۔

پاکستان کا یہ فیصلہ جہاں امریکی خوشنودی کے حصول کا ذریعہ بنا وہیں روسی حکام نے اسے مخالفت اور جانبداری سے تعبیر کیا۔

افغانستان میں روسی فوجی مداخلت کا پاکستان پر ایک اثر یہ بھی پڑا کہ قریباً 30 لاکھ افغان پناہ گزین سرحدی قبائلی علاقوں کے ذریعے پاکستان میں داخل ہوئے۔ مگر پناہ گزینوں کی خصوصی خیمہ بستیوں تک محدود رہنے کی بجائے اِن افغان پناہ گزینوں کی بڑی تعداد روزگار کی تلاش میں معاشی مرکز کراچی بھی جا پہنچی۔

اس وقت خطے کے دیگر ممالک بھی سیاسی بھونچال کا شکار تھے۔

11 فروری 1979 کو پاکستان کے پڑوسی ملک ایران میں آیت اللّہ روح اللّہ خمینی کی قیادت میں شاہ ایران رضا شاہ پہلوی کا تختہ الٹا جا چکا تھا اور ایران ایک ’انقلاب‘ کے مرحلے سے گزر رہا تھا۔ ساتھ ہی پڑوسی ملک عراق سے قریباً آٹھ سال تک جاری رہنے والی ’ایران،عراق جنگ‘ کا محاذ بھی پوری شدت سے گرم تھا۔

اُس وقت کا کراچی کیسا تھا؟
کراچی اس وقت تک انتظامی طور پر محض تین اضلاع یعنی شرقی، غربی اور جنوبی اضلاع پر مشتمل تھا اور اب وسطی کہلانے والا پورا ضلع دراصل غربی ضلعے کا حصہ تھا۔

دو چار متمول علاقوں کے سوا کراچی شہر میں زیادہ تر درمیانے اور متوسط طبقے کی پرانی آبادیاں اور قدیم محلے قائم تھے۔ ان رہائشی بستیوں میں سب لوگ پورے پورے محلے کے ہر ہر فرد سے واقف ہوتے تھے اور پاس پڑوس سے بڑی ہی اپنائیت اور میل جول کا ماحول تھا۔ سادہ اور عام سی زندگی تھی، نہ ٹی وی چینلز تھے نہ انٹرنیٹ نہ سوشل میڈیا اور نہ ہی موبائل فونز۔

ہتھوڑا گروپ کا ظہور
اور کراچی کے اسی پرامن ماحول میں اچانک ہتھوڑا گروپ نمودار ہوا۔

یہ اپریل 1985 کی بات ہے۔ ملتان سے تعلق رکھنے والے اللہ وسایا خیبر میل کے ذریعے اس رات ہی کراچی پہنچے تھے اور کلفٹن کے قریب مقیم اپنے رشتہ داروں کے جانے کا ارادہ رکھتے تھے۔ رات زیادہ ہونے پر انھوں نے پُل کے نیچے ہی رات بسر کرنے کا ارادہ کر لیا۔

وہ سوئے تو پُل کے نیچے تھے لیکن جب انھیں ہوش آیا تو وہ خون میں لت پت تھے اور سر پر لگنے والی شدید چوٹ سے خون بہہ رہا تھا۔ اللہ وسایا کے آس پاس لیٹے دیگر دو افراد ایسی ہی نوعیت کی چوٹ لگنے سے ہلاک ہو چکے تھے۔ دو اپریل 1985 کو پیش آنے والا یہ واقعہ کراچی میں ہتھوڑا گروپ کے حملے کا پہلا واقعہ تھا۔

اس واقعے کے صرف دو روز کے بعد کلفٹن برج سے چند کلومیٹر دور کالا پل کے قریب واقع پیر بخاری شاہ المعروف زندہ پیر کے مزار کے احاطے سے مزید دو لاشیں ملیں جنھیں اسی انداز میں سر کچل کر ہلاک کیا گیا تھا۔ یہ دونوں افراد مزار کے عقبی حصے میں سوئے ہوئے تھے، جہاں محفل سماع کا انتظام کیا جاتا تھا۔

چند ہفتے بعد 21 اپریل کو سٹی سٹیشن پر تین افراد کو ہلاک کیا گیا، یہ تینوں پلیٹ فارم نمبر ایک اور چار پر رات کے وقت بینچوں پر سوئے ہوئے تھے، اُن میں ایک ملنگ اور ایک قلی بھی شامل تھا تاہم صرف قلی کی شناخت ہو سکی تھی۔ اسی رات کارساز اور ایئرفورس ہالٹ کے درمیان ریلوے ٹریک سے ایک لاش ملی جسے سر پر شدید ضرب لگا کر ہلاک کیا گیا تھا۔ اس طرح 24 اپریل تک اس نوعیت کی ہلاکتوں کی تعداد نو ہو چکی تھی۔

سنسان علاقوں اور ریلوے لائن کے بعد آبادی میں اسی نوعیت کے واقعات نے گلی محلوں میں بھی خوف و ہراس پھیلا دیا اور پھر پرانا گولیمار کے علاقے میں لیاری ندی کے کنارے آباد حسن اولیا ولیج میں پیش آنے والے واقعے نے حکومتِ وقت اور انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا جب بچوں سمیت ایک گھر کے سات افراد کو اسی انداز میں سر پر بھاری چیز مار کر ہلاک کیا گیا۔

اس واقعے میں سابق کونسلر عبدالغنی ہوت کی دو سالیاں اور ایک بھانجی ہلاک ہوئیں تھی۔ عبدالغنی کے مطابق رات کے کسی پہر یہ واقعہ پیش آیا تھا اور صبح کو جب معمول کے مطابق دروازہ نہیں کھلا تو پڑوسیوں کو تشویش ہوئی۔ انھوں نے اندر کود کر دیکھا تو لاشیں پڑی ہوئی تھیں۔

مقتولین کے ایک اور رشتے دار احسان ہوت نے بتایا کہ تین لاشیں ایک جبکہ چار لاشیں دوسرے کمرے میں تھیں، ان ہلاک ہونے والوں میں ایک بچہ بھی شامل تھا جبکہ ایک بچہ سوتے سوتے صوفے کے نیچے چلا گیا تھا، اس لیے ملزمان کی نظر نہیں پڑی اور وہ بچ گیا۔

پھر وقفے وقفے سے ایسی وارداتیں شہر بھر میں شروع ہوئیں۔

گھر کے باہر، سڑک یا فٹ ہاتھ پر سوتے شہری، مزدور پیشہ افراد یا پھر گداگر، روزگار کی تلاش میں کراچی آنے والے پردیسی، دکانوں اور چھوٹے ہوٹلوں کے ملازمین تواتر سے ایسی ہولناک وارداتوں کا نشانہ بننے لگے۔

سنہ 1986 کے اوائل میں ایسی ہی ایک اور بڑی واردات کے بعد خفیہ اداروں کے کان بھی کھڑے ہوئے۔

صحافی تنویر بیگ کے مطابق ’یہ واردات فیڈرل بی ایریا کی مزدور بستی موسیٰ کالونی میں ہوئی تھی جہاں گلی میں سوئے آٹھ مزدوروں کو کند اور بھاری آلے سے وار کر کے قتل کیا گیا تھا۔‘

یہ وہ وقت تھا جب منتخب اراکین اسمبلی نے بھی اس مسئلے پر پارلیمان میں آواز اٹھائی اور تفتیش کے لیے پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی بھی خصوصی ٹیم تشکیل دی گئی۔

علاؤ الدین خانزادہ اُس وقت اُردو اخبار ’جسارت‘ کے کرائم رپورٹر تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’اچھے وقتوں کے عروس البلاد کراچی میں جرائم پیشہ افراد بھی سرگرم تھے۔ گھروں کے باہر سونے یا محلّے والوں کی محفل لگا کر گپ شپ کرنے کا سلسلہ تو شہر کے پرانے حصّے یعنی ’اولڈ سٹی ایریا‘ کی کئی پرانی آبادیوں میں آج بھی قائم ہے اور تب بھی گھر کے باہر چوپال جمائی جاتی تھی۔ لوگ وہیں دیر تک جاگتے اور بے فکری سے سو بھی جاتے تھے۔‘

’محلّوں میں یہ سوتے جاگتے افراد دراصل اُن جرائم پیشہ افراد کے راستے کی سب بڑی رکاوٹ تھے۔ اکثر پولیس افسران کا خیال تھا کہ یہ سر کچل کر قتل کی یہ وارداتیں جرائم پیشہ افراد کی کارستانی ہے تاکہ محلّوں میں رونق سرِشام ہی ختم ہو جائے اور انھیں چوری چکاری اور لوٹ مار کی وارداتوں کرنے کے لیے آسانی سے موقع مل سکے۔‘

علاؤ الدین نے بتایا کہ ’ایک واردات لیاری کے علاقے میں بھی ہوئی جہاں مرد و خواتین سمیت نو افراد کو قتل کر دیا گیا تھا۔‘

تنویر بیگ کہتے ہیں کہ لگ بھگ سو افراد ان وارداتوں کا نشانہ بنے جو ہر طرف پھیلتی چلی گئیں۔

اس دور میں شائع ہونے والی خبروں سے پتا چلتا ہے کہ بعض اُردو اخبارات نے یہ قیاس آرائیاں بھی شروع کر دیں کہ ’قاتل‘ اپنے جسم پر تیل مل کر یا گریس مل کر آتے ہیں تاکہ اگر کوئی انھیں پکڑنے کی کوشش کرے بھی تو وہ گرفت میں نہ آ پائیں اور باآسانی فرار ہو سکیں۔

سندھ پولیس کے ایک سابق آئی جی افضل شگری کہتے ہیں کہ اس سے ملتی جلتی کچھ وارداتیں پنجاب کے بعض علاقوں میں اس سے پہلے ہو چکی تھیں مگر وہ کسی منظم جرم کا حصّہ نہیں تھیں۔

افضل شگری سنہ 1988 میں کراچی پولیس کے سربراہ (ڈی آئی جی) رہے جبکہ سنہ 1993 میں وہ آئی جی سندھ تعینات رہے تھے۔

افضل شگری نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلے راولپنڈی میں ایک خوفناک واقعہ ہوا تھا۔ پھر ملتا جلتا واقعہ جہلم میں اور پھر کشمیر اور اس کے بعد ہزارہ ڈویژن میں ایسے واقعات ہوئے۔ مری روڈ (راولپنڈی) پر کمیٹی چوک سے قریب عورتوں اور بچوں سمیت ایک پورے خاندان کو مار دیا گیا تھا جس سے بہت ہی شدید خوف و ہراس پیدا ہوا تھا۔‘

’پھر میرا تو ٹرانسفر ہو گیا مگر ایک ملزم پکڑا گیا تھا۔ وہ ایک نفسیاتی ’سیریل کلر‘ تھا جو وارداتوں کے بعد خواتین کے ساتھ جنسی زیادتی وغیرہ تو نہیں کرتا تھا مگر نچلے جسمانی حصے سے کپڑے ساتھ لے جاتا تھا۔ پکڑے جانے ہر اُس نے دو اور وارداتیں بھی قبول کیں۔ مگر اس کا کراچی کے ’ہتھوڑا گروپ‘ سے کوئی تعلق نہیں تھا۔‘

ہتھوڑا گروپ نام کیسے پڑا؟
26 اپریل 2015 کی اشاعت میں پاکستان کے انگریزی اخبار ’ڈان‘ میں ندیم فاروق پراچہ کے ایک مضمون کے مطابق سنہ 1985 میں ضلع جنوبی کے علاقے برنس روڈ کی فٹ پاتھ پر سونے والے ایک گداگر پر حملہ ہونے تک بھی پولیس اس معاملے کو کسی ایک فرد یا ’سیریل کلر‘ کا جرم سمجھتی رہی۔

مگر حملے میں بچ جانے والے گداگر نے پولیس کو بتایا کہ وہ ’سو رہا تھا کہ کسی گاڑی کے پہیوں کے سڑک پر رگڑنے کی آواز سے نیند خراب ہوئی۔ گاڑی میں سوار سفید کپڑوں میں ملبوس چار افراد جنھوں نے سیاہ نقابوں سے چہرے ڈھانپ رکھے تھے اس تک پہنچ گئے اور اُن میں سے ایک شخص نے ایک ’ہتھوڑے‘ سے اس کے سر پر زوردار ضرب لگائی تو چوٹ لگنے سے وہ حواس کھو بیٹھا۔‘

مزید لکھا گیا کہ ’حملہ آور اُسے مردہ سمجھ کر فرار ہو گئے مگر سخت جان لیکن زخمی گداگر کی چیخ و پکار پر اہل علاقہ نے اُسے ہسپتال پہنچایا۔ پولیس نے یہ بیان ریکارڈ کیا تو ایک تو پولیس اور تفتیشی خفیہ اداروں کا یہ نظریہ تبدیل ہوا کہ یہ وارداتیں کسی ایک(نفسیاتی مریض قسم کے) ’سیریل کلر‘ کی کارروائی نہیں بلکہ ایک منظم گروہ کی سوچی سمجھی اور طے شدہ وارداتیں ہیں اور دوسرا اخبارات کے کرائم رپورٹرز نے حملہ آوروں کو ’ہتھوڑا گروپ‘ کا نام دے دیا۔‘

ظاہر ہے کہ اس سے قبل بھی ایسی ہی وارداتیں ہو چکی تھیں۔ بس پھر کیا تھا؟ جلد ہی ان تمام وارداتوں کو اُردو اخبارات کی ’چٹ پٹی‘ اور ’مصالحہ دار‘ خبروں سے قتل و غارت کی تب تک یہ اندھی مگر انتہائی بھیانک وارداتیں ’ہتھوڑا گروپ‘ کی کارروائی میں ڈھل کر خوف و دہشت کی علامت بن گئیں۔

جلد ہی اردو اخبارات نے خطے کے سیاسی حالات کے تناظر میں ان وارداتوں کا تعلق افسانے نما خبروں میں روسی خفیہ ادارے ’کے جی بی‘ اور افغان خفیہ ادارے ’خاد‘ سے جوڑنے کے ’قصے‘ بیان کیے تو کچھ نے اسے اپنے اقتدار کو طول دینے کے خاطر جنرل ضیا کی فوجی حکومت کا ’کارنامہ‘ قرار دینے کے افسانے سُنائے۔

مگر کسی بھی طرح کبھی بھی کسی بھی سرکاری ذریعے یا افسر یا مجاز اتھارٹی یا سنجیدہ سیاسی حلقوں نے ایسی کسی خبر کی تصدیق نہیں کی۔

ڈان کے مطابق ایک انگریزی جریدے نے تو اسے ایک ’شیطانی فرقے‘ کے (مبینہ) ’خفیہ کلب‘ سے منسوب کرنا چاہا۔

مظہر عباس اس وقت ڈان گروپ کے دوپہر میں شائع ہونے والے انگریزی اخبار ’سٹار‘ کے کرائم رپورٹر تھے۔

مظہر عباس کہتے ہیں ’اگر آج پلٹ کر جائزہ لیں تو لگتا ہے کہ کراچی کی سیاسی اہمیت کے پیش نظر ایک خاص ’سکیم‘ کے تحت یہاں خوف کی فضا ’برقرار‘ رکھنے کا رجحان کئی دہائیوں سے جاری ہے۔ ورنہ ’ہتھوڑا گروپ‘ جیسی کوئی کارروائی اچانک شروع ہو کر اچانک ختم کیسے ہو سکتی ہے؟ اور ہدف کون تھا؟ مزدور طبقہ، بے گھر افراد، سڑک پر سونے والے، اُن کو ہدف بنانے کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آتی۔ تو پھر یہ کیا تھا؟‘

کیوںکہ ان وارداتوں میں کوئی گرفتاری بھی نہیں ہوئی۔

مظہر عباس نے کہا کہ ’پاکستان کے دیگر شہروں میں بھی ہوا یہ سب کچھ۔ مگر کبھی سائنسی یا جدید خطوط پر قائم تفتیش یا تحقیق کسی حکومت یا سرکاری ادارے کے جانب سے سامنے نہیں آ سکی۔ اگر آپ اُس وقت کے پولیس افسران کو تلاش کر کے اب اس معاملے پر تحقیق کر سکیں تو شاید کچھ تفصیلات مل سکیں کہ آخر یہ سب کچھ تھا کیا؟‘

یہاں تک کی کہانی میں واقعی ’سرکاری طور پر‘ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس ’ہتھوڑا گروپ‘ کی حقیقت کیا تھی؟

اس سلسلے میں اُس وقت کے بہت سے پولیس اور بعض سول (غیر فوجی) خفیہ اداروں کے اعلیٰ ترین افسران سے کی جانے والی گفتگو سے اندازہ ہوتا ہے کہ اِن میں سے کئی اصل بات سے واقف ہیں اور تمام حقائق جانتے تو ضرور ہیں مگر ’بعض وجوہات‘ کی بنا پر اب بھی کُھل کر کچھ کہنے سے کترا رہے ہیں۔

انھی حقائق تلاش کرنے کی جُستجو میں پہلے تو میں سندھ پولیس کے ایک سابق آئی جی آفتاب نبی تک پہنچا۔ آفتاب نبی کراچی پولیس کے سربراہ (ڈی آئی جی) بھی رہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے ایف آئی اے کی جوائنٹ ڈائریکٹر بھی۔

کراچی میں ’ہتھوڑا گروپ‘ کی ان وارداتوں کے وقت یعنی جولائی 1984 سے جون 1985 تک وہ پاکستان کے سول خفیہ ادارے انٹیلیجینس بیورو (آئی بی) کے سیاسی شعبے میں تعینات تھے۔

آفتاب نبی نے کہا کہ ’جب یہ وارداتیں شروع ہوئیں اور بے گھر لوگ نشانہ بنائے جانے لگے اور عام شہریوں کی جانوں کو خطرہ لاحق ہوا تو قانون نافذ کرنے والے تمام اداروں کے حکام کی طرح ہم پر بھی بہت دباؤ تھا۔‘

ہتھوڑا
’یہ سب وارداتیں رات کے اندھیرے میں دو سے پانچ بجے کے درمیان ہوتی تھیں اور عموماً صبح روشنی پھوٹنے پر ان کے بارے میں پتہ چلتا تھا، کہ رات کو تو کسی نے سر کچل کر کسی کو مار دیا ہے۔‘

’اتنا بھیانک ماحول بن گیا تھا جس کا اندازہ نہیں ہو سکتا۔ اور یہ نہیں کہ کہیں ایک آدھ ہو جائے، کہیں تین ہو رہے ہیں کہیں چار ہو رہے ہیں، کہیں دو کہیں ایک۔ جو لوگ مرتے تھے اُن کے سروں پر اتنی شدید چوٹ ہوتی تھی کہ ایسا لگتا تھا کہ کسی بہت کُند اور بھاری بھرکم چیز سے اُن کو قتل کیا گیا ہے۔ زیادہ وارداتیں جنوبی ضلعے میں ہوئیں یعنی کینٹ ریلوے سٹیشن، سٹی ریلوے سٹیشن یا پھر کورنگی جہاں مزدور طبقہ اور بے گھر افراد رہتے تھے۔‘

’کچھ پتہ ہی نہیں چلا کہ کون کرتا تھا۔ بہت زبردست خوف و ہراس تھا۔ ایک ایسا مسئلہ بن گیا تھا جسے آپ دہشت گردی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس وقت عام جرائم بھی ہوتے تھے مگر ان وارداتوں سے جو خوف و ہراس اور دہشت پھیلی اس پہلے کبھی ایسا نہیں تھا۔‘

’پھر میں نے بھی رات کو تین تین بجے ’پیٹرولنگ‘ کرنی شروع کر دی۔ مگر چونکہ انویسٹیگیشن اتھارٹی تو پولیس ہوتی ہے تو کام تو پولیس کا تھا ہم تو آئی بی میں تھے۔ ہمارا تو کام تھا کہ متعلقہ دفتروں کو جتنی زیادہ ممکن ہو معلومات دے دی جائیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ’پھر سندھ پویس نے کچھ کامیابی حاصل کی تھی۔ اور سراغ لگا بھی لیا تھا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اُس زمانے تک بھی نتائج بالکل خفیہ رکھے گئے اور یہاں تک کہ سرکاری طور پر ہم تک کو بھی نہیں بتایا گیا کہ کون تھا کیا تھا اور پھر اچانک یہ وارداتیں بند ہو گئیں۔‘

سابق آئی جی سندھ پولیس افضل شگری کا کہنا تھا کہ ’جب کراچی میں ’ہتھوڑا گروپ‘ کی یہ کارروائیاں شروع ہوئیں تو اُس وقت تک پنجاب میں ایک ’نفسیاتی سیریل کلر‘ کی وارداتیں ہو چکی تھیں۔ تو ہم نے (سندھ پولیس اور دیگر اداروں کے ساتھ) نوٹس کمپئیر کیے۔‘

’اگر یہ امکان ہے کہ ’ہتھوڑا گروپ‘ کسی دشمن ملک کی کارروائی ہے جو خوف و ہراس پھیلا کر دہشت زدہ کرنا چاہتا تھا تو یہی امکان وضاحت بن سکتا ہے کہ پنجاب کے واقعات سے پھیلنے والا خوف اس قدر زیادہ تھا کہ کراچی میں دہشت پھیلانے کے لیے بھی یہی طریقہ اختیار کیا جا سکتا تھا۔‘

’تو ’ہتھوڑا گروپ‘ کو بھی لگا ہو گا کہ خوف پھیلانے کا تو سب سے آسان طریقہ تو یہی ہے تو انھوں نے کراچی میں بھی یہی اپنا لیا۔‘

دوست علی بلوچ کراچی پولیس کے شعبۂ انسداد دہشت گردی (اینٹی ٹیررسٹ ونگ یا اے ٹی ڈبلیو) کے سربراہ رہے ہیں۔

وہ کراچی پولیس کے خفیہ شعبے ’سپیشل برانچ‘ کے سربراہ (ایس ایس پی) بھی رہے۔

12 نومبر 1997 کو توانائی کے امریکی ادارے ’یونین ٹیکساس‘ کے چار امریکی ملازمین کے قتل کی واردات ہو یا پھر 23 جنوری 2002 کو امریکی جریدے وال سٹریٹ جنرل کے امریکی صحافی ڈینئیل پرل کے اغوا اور قتل کا واقعہ، دوست علی بلوچ برسوں تک کراچی میں دہشت گردی کے تقریباً ہر واقعے کی تفتیش، انسداد اور گرفتاریوں کے تمام مرحلوں سے براہ راست جڑے رہے ہیں۔

’ہتھوڑا گروپ‘ کے نمودار ہونے کے وقت وہ کراچی پولیس کی سپیشل برانچ سے تازہ تازہ منسلک ہوئے تھے۔

’ہتھوڑا گروپ‘ کی حقیقت
دوست علی بلوچ بتاتے ہیں کہ ’جب اے ٹی ڈبلیو منظم کی گئی تو ہم نے ریٹائر ہو جانے والے ’سینیئر آپریٹوِز‘ کو پھر سے انگیج یا ری ہائر (دوبارہ بھرتی) کیا۔ اُن کی براہ راست گفتگو اور جو ریکارڈ بطور ایس ایس پی سپیشل برانچ میری نظروں سے گزرا اس سے پتہ چلا کہ کسی ایجنسی نے کافی عرصے کی نگرانی کے بعد ’پاک لیبیا ہولڈنگ‘ نامی انویسٹمنٹ وینچر (دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے لیے قائم گیا گیا مشترکہ فنڈ یا ادارہ) سے جڑے ہوئے ایک ایسے شخص کو بطور ’پرائم سسپیکٹ‘ (مشتبہ ملزم) لسٹ ڈاؤن کیا جو لیبیا کے شہری تھے۔‘

’یہ پاک لیبیا ہولڈنگ ایک طرح کا سرمایہ کاری بینک تھا۔ اُس زمانے میں جیسے شیخ زید انتظامیہ نے ’شیخ زید فاؤنڈیشن‘ بنائی تھی یا ’کویت فنڈ‘ قائم کیا گیا تھا پاک، سعودی انویسٹمنٹ بنی تھی تو پاک لیبیا ہولڈنگ بھی تجارتی بنیادوں پر قائم ہونے والا ادارہ تھا۔‘

’مگر خفیہ اداروں کی نظروں میں آنے کے بعد بھی اس مشتبہ ملزم پر فوراً ہی ہاتھ نہیں ڈالا گیا بلکہ طویل عرصے تک نگرانی رکھنے اور اُن کے خلاف بہت کچھ (مواد) جمع کر لینے کے بعد انھیں لائیو ڈیٹین (زندہ گرفتار) کیا گیا۔‘

دوست علی بلوچ کی اتنی گفتگو سے پہلا اشارہ ملنے کے بعد ایک انتہائی اعلیٰ سطحی سرکاری افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط اور میرے بے حد اصرار پر صرف اتنا کہا کہ ’میں آپ کی صرف اتنی مدد کر سکتا ہوں کہ جس افسر نے ملزم کے گرفتاری کی اُن کا نام بتا دوں، اُن تک پہنچنے کا کام آپ کو خود کرنا ہو گا۔ اور وہ نام ہے کرنل سعید۔‘

کرنل سعید کون ہیں؟
کرنل سعید ’ہتھوڑا گروپ‘ کے ان ملزمان کی گرفتاری کے لیے پولیس اور خفیہ اداروں کی مشترکہ کارروائی کا مرکزی کردار تھے۔

وہ اکتوبر 1961 میں فوج کی بلوچ رجمنٹ میں شامل ہوئے لیکن جلد ہی انھیں فوج کے سپیشل سروس گروپ (ایس ایس جی) میں بھی شامل کر لیا گیا۔ ایس ایس جی اہلکاروں اور افسران کو وہ خصوصی تربیت دی جاتی ہے جسے عرفِ عام میں ’کمانڈو ٹریننگ‘ کہا جاتا ہے۔

پیر 15 اپریل 1985 کو جب سرسید گرلز کالج کی طالبہ بشری زیدی کی ٹریفک حادثے میں ہلاکت کے بعد پھوٹ پڑنے والا تشدد بے قابو ہوا اور اس سے نمٹنے میں کراچی پولیس کی کارکردگی کی خامیاں واضح ہوئیں تو پولیس کی بہتر تربیت اور تنظیمِ نو کی اشد ضرورت اجاگر ہوئی۔ پھر پولیس اور ریاستی حُکام نے مشترکہ طور پر فوج سے درخواست کی کہ پولیس کو تربیت دینے کے لیے فوج کے (ایس ایس جی تربیت یافتہ) کچھ افسران کی خدمات سندھ پولیس کے سپرد کر دی جائیں۔

ان تین منتخب فوجی افسران میں سے ایک کرنل سعید تھے جن کی خدمات سندھ پولیس کے سپرد کی گئی تھیں اور وہ پولیس ٹریننگ سینٹر سعید آباد کے سربراہ تعینات کر دیے گئے۔

پھر کرنل سعید ڈی آئی جی سندھ ریزرو پولیس (ایس آر پی) مقرر ہوئے اور انھوں نے بطور ڈی آئی جی قلات بلوچستان پولیس میں بھی خدمات انجام دیں۔

کرنل سعید نے مجھے بتایا کہ ’جب ’ہتھوڑا گروپ‘ کی کارروائیاں شروع ہوئیں تو اُس وقت کے آئی جی سندھ آغا سعادت علی شاہ نے مجھے بُلوایا اور کہا کہ آپ کو یہ گرفتاری کرنی ہے کیوںکہ سندھ پولیس میں کوئی بھی افسر فوج سے ایس ایس جی جیسی خصوصی تربیت کا حامل نہیں تھا۔‘

کرنل سعید نے کہا کہ ’سعادت علی شاہ کے احکامات سُن کر میں نے بالکل واضح انداز سے منع کر دیا کہ میں نہیں کروں گا۔ یہ میرا کام نہیں ہے۔ جس ملک میں وزیراعظم کو پھانسی ہو گئی، وہاں میں دائرہ اختیار سے باہر کیسے کام کروں؟ نہ یہ میرے فرائض کا حصہ ہے نہ میں کروں گا۔‘

’جب آئی جی نے اصرار کیا تو میں نے کہا کہ آپ حکومت کی کسی اعلیٰ اتھارٹی (شخصیت) سے کہیں کہ وہ مجھے حکم دیں۔‘

’جب میں سعادت علی شاہ کو انکار کر کے آ گیا تو پھر آئی بی کے اس وقت کے سربراہ بریگیڈیئر نیک محمد نے مجھ سے رابطہ کیا کہ یہ گرفتاری کرنی ہے۔ میں نے بریگیڈیئر نیک محمد سے بھی کہا کہ سر! آپ فوجی افسر ہیں میں اس وقت سندھ پولیس میں ہوں، آپ میرے کمانڈر نہیں ہیں۔ آئی جی سندھ میرے کمانڈر ہیں، میں آپ کے براہ راست احکامات کیسے مان لوں؟ گڑبڑ ہو گئی تو پھر کوئی پشت پناہی بھی نہیں کرتا۔‘

انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’اس کے بعد مجھے اُس وقت کے گورنر سندھ اور ڈی ایم ایل اے (ڈپٹی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر) جنرل جہانداد خان نے بلوایا۔ انھوں نے بھی مجھے یہی کہا کہ لیبیائی ملزم کو گرفتار کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ سر میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں، دائرہ کار سے باہر کام کیسے کروں، اونچ نیچ ہو گئی تو؟ جس پر جنرل جہانداد خان نے مجھے کہا ’ان دی انٹرسٹ آف دی نیشن‘ (قوم کے وسیع تر مفاد میں) آپ میری ذمہ داری پر کر دیں میں آپ کے پیچھے کھڑا ہوں۔ تو میں نے حامی بھری۔‘

معاملہ کیسے کھلا؟
کرنل سعید نے دعویٰ کیا کہ ’خفیہ معلومات کے مطابق لیبین ہولڈنگ (بینک) کا انچارج ’عمّار‘ نامی ملزم تھا اور ’ہتھوڑا گروپ‘ کا کرتا دھرتا بھی وہی تھا۔‘

اس سوال پر کہ لیبیا تو پاکستان کا دوست ملک ہے اس کو پاکستان میں دہشت گردی سے کیا فائدہ ہو سکتا تھا ؟ کرنل سعید نے کہا کہ ’تب ہمارے تعلقات امریکہ سے بہت اچھے تھے اور یہ اُن کو اچھا نہیں لگتا تھا۔‘

دوست علی بلوچ نے وضاحت کی کہ ’حُکام کے خیال میں یہ لیبیا کی سرکاری پالیسی نہیں تھی۔‘

کچھ دیگر افسران کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان میں روسی فوجی مداخلت کے خلاف امریکہ اور افغان مزاحمت کاروں کا ہمنوا تھا اور یہ بات روس نواز افغان حکومت سمیت بہت سے کھلاڑیوں کو پسند نہیں تھی۔

دوست علی بلوچ نے دعویٰ کیا کہ اس زمانے میں ’سوویت امپائر‘ بھی انھیں بھرتی کر کے استعمال کر سکتی تھی۔ ’سلیپر سیل‘ کے طور پر متعلقہ فرد کو یہاں پہنچایا گیا اور پھر انھوں نے اس نیٹ ورک کو منظم کیا۔

اُس وقت انویسٹمنٹ کے لیے بھی لوگوں کو سفارتی ویزا مل جاتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ ’ہتھوڑا گروپ‘ ایک الگ طور پر کچھ نہیں تھا۔ یہ ایک بڑے معمے کا حصہ تھا جس کا مقصد راتوں رات نتیجہ لینا نہیں بھی ہو سکتا تھا۔ جیسے آپ جب موسیقی سنتے ہیں تو بہت سے ساز ڈھول، طبلہ، ستار، بانسری بج رہے ہوتے ہیں۔ اگر آپ علیحدہ علیحدہ سُنیں تو آپ کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا مگر اگر آپ سب کو کسی ردھم میں ایک ساتھ سُنیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ تو پوری باقاعدہ ایک دھن ہے اسی طرح اگر آپ دہشتگردی کے واقعات کو علیحدہ علیحدہ دیکھیں گے تو آپ کو کچھ سمجھ میں نہیں آتا مگر اگر ساری کڑیاں ملا لی جائیں تو سمجھ میں آتا ہے کہ یہ تو ایک بڑے کھیل کا حصّہ ہیں۔‘

صحافی مظہر عباس نے کہا کہ ’مجھے 2009 میں اے آر وائی ٹی وی کے لیے دیے گئے ایک انٹرویو میں (جو یو ٹیوب پر موجود ہے) آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل حمید گُل نے بتایا تھا کہ سویت یونین کے حکمراں گورباچوف کا ایک نمائندہ پاکستان پہنچا تھا جس نے حکومت پاکستان پر زور دیا کہ روسی قیادت چاہتی ہے کہ (اس وقت) مجوزہ آئندہ عام انتخابات ملتوی کر دیے جائیں۔‘

’شاید اس کا بھی کچھ تعلق ہو سکتا ہے اس سب سے۔ کیوںکہ یہ سب جب ہو رہا تھا جب افغان مہاجرین کی آمد جاری تھی اور اہلِ پاکستان پہلی بار ہیروئن جیسی منشیات اور کلاشنکوف جیسے ہتھیاروں سے روشناس ہو رہے تھے۔‘

’تو کراچی بڑی آبادی کے طور پر اسلحے اور منشیات دونوں کی بڑی منڈی بھی بن سکتا تھا۔ تو ہو سکتا ہے کہ ’ہتھوڑا گروپ‘ سے کسی ایسے نیٹ ورک کوئی تعلق ہو۔‘

’ہتھوڑا گروپ‘ کا طریقۂ کار
کرنل سعید نے دعویٰ کیا کہ اس ’منظم نیٹ ورک‘ میں پاکستانی بھی ملوث تھے۔ ’وہ بھی جو یہاں تھے اور وہ بھی جو لیبیا میں مقیم تھے۔‘

دوست علی بلوچ نے بھی تصدیق کی کہ ’ظاہر ہے کہ مقامی ’انفراسٹرکچر‘ تو موجود ہوتا ہی ہے۔ سارا نیٹ ورک تو باہر سے نہیں آتا۔‘

کرنل سعید کے مطابق ’خفیہ معلومات کے مطابق ہمارے (پاکستانی) جو لوگ لیبیا میں رہتے تھے اُن کو پاکستان لایا جاتا تھا۔ یہاں آئی بی ہی کے ایک افسر (انسپکٹر لطیف) سے اُن کی ساز باز کی وجہ سے اُن کو ائیر پورٹ پر بھی ہر ممکن سہولت فراہم کی جاتی۔ شام کو فلائیٹ لیبیا سے آتی تھی، رات کو وہ لوگوں کو قتل کرنے کی واردات کرتے تھے اور رات ہی کو واپس چلے جاتے تھے۔ یہ افراد کراچی یا پاکستان میں جہاں کے رہنے والے ہوتے تھے وہیں یعنی مقامی علاقے میں واردات کرتے تھے۔‘

کرنل سعید کا کہنا ہے کہ ’آئی بی کی فراہم کردہ خفیہ معلومات کے مطابق پاک لیبیا ہولڈنگ کے سربراہ (مبینہ طور پر ہتھوڑا گروپ کا سرغنہ) عمّار کا ٹھکانہ کراچی کے علاقے ڈیفنس کی فیز فائیو کی 23 ویں سٹریٹ کے پاس تھا۔ اپنے ٹھکانے تک آنے جانے کے لیے وہ اسی سڑک سے گزرتا تھا۔‘

’تو پھر میں نے 23 ویں سٹریٹ پر ریکانیسینز (فوجی طرز کی خفیہ نگرانی یا جاسوسی) کی۔ ملزم جس کا نام عمّار تھا 48 سے 50 برس کا کلین شیو شخص تھا جو اپنے ڈرائیور کے ساتھ نقل و حرکت کرتا تھا۔ تو ہم نے اُسی مقام پر اسے قابو کرنے کی منصوبہ بندی کی۔‘

’وہاں سے راستے تین مختلف سمتوں میں بٹ جاتے تھے۔ میں نے صبح سے ہی تینوں سڑکوں پر بلاک (رکاوٹیں) لگوائیں۔ وہ (ملزمان) نیلے رنگ کی ایک رائل سیلون گاڑی میں سوار تھے۔ جونھی وہ نکلے وہاں سے تو میں اُن کو روکا تو جونھی گاڑی رُکی تو پستول تو اُس نے نکال لیا تھا۔۔۔ میرے پاس کلہاڑا بردار اہلکار کھڑا تھا، جس کلہاڑے سے گاڑی کا شیشہ توڑ ڈالا اور دروازہ کھولتے ہی اُس کو گاڑی سے باہر کھینچ لیا۔‘

قابو پاتے ہی ہم نے اُسے اپنی گاڑی میں بٹھایا تو وہاں پر (آس پاس کے گھروں کے) کئی چوکیدار وغیرہ بھی تھے وہ بھی دیکھ رہے تھے لیکن ہم انھیں گاڑی میں بٹھا کرلے گئے اور آئی بی حُکام کے حوالے کر دیا۔

’پھر انویسٹیگیشن (دوران تفتیش) میں انھوں نے اعتراف جرم بھی کر لیا اور یہ بھی بتایا کہ پاکستان میں بھی آئی بی کا ایک افسر اُن کا سہولت کار تھا کیوںکہ وہی انھیں ہوائی اڈّے سے آنے جانے میں مدد فراہم کرتا تھا۔ جب تفتیش میں اس افسر کا بھی نام آیا تو متعلقہ افسران نے اس سے بھی باز پرس کی تو وہ کاغذ جس پر (ملزم سرغنہ) عمّارنے اعترافی بیان دیا تھا اُس انسپکٹر نے اس بیان کو افسران کے سامنے ہی منھ میں ڈالا اور کھا گیا۔‘

مگر پاکستانی افسر کا تو کیا ہونا تھا کہانی کھلنے پر لیبیائی باشندوں کے خلاف کوئی قانونی کارروائی ہوئی نہ اُن کے خلاف کوئی مقدمہ چلایا گیا۔ بلکہ اُن کو پرسونا نان گراٹا (ناپسندیدہ فرد) قرار دے کر واپس لیبیا بھیج دیا گیا کیوںکہ سفارتی ویزا ہونے کی وجہ سے اُن کو ڈپلومیٹک امیونٹی (سفارتی استثنا یا قانونی کارروائی سے محفوظ رکھنے کا عالمی قانون) حاصل تھی۔

کرنل سیعد نے دعویٰ کیا کہ ’اُن افراد کی گرفتاری اور ملک بدری کے بعد ملک میں ’ہتھوڑا گروپ‘ کی کوئی واردات نہیں ہوئی۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میں نہیں بتا سکتا کہ وہ کس کے کہنے پر سب کر رہے تھے۔‘

دوست علی بلوچ نے کہا کہ ’جب اصل ملزمان گرفتار ہو گئے تو مقامی جال بھی توڑ دیا گیا۔‘

دوست علی بلوچ نے کہا کہ ’جس رات واردات کی جاتی تھی ’ہتھوڑا گروپ‘ کے ارکان کو اسی رات واپس لیبیا بھیجے جانے کا انتظام ہوتا تھا۔ کیمرے وغیرہ تو اس زمانے میں ہوتے نہیں تھے، کمیونیکیشن بھی اتنی تیز نہیں تھی۔ یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ کوئی ہمیں اپنا دشمن چُن چکا تھا مگر ہمیں پتہ ہی نہیں تھا۔‘

بی بی سی پیشہ ورانہ ذمہ داری سمجھتا ہے کہ اس معاملے پر لیبیا یا روس یا افغان حکومتوں کے موقف بھی لیے جائیں تاکہ پاکستانی حکام کے دعوؤں کا جواب لیا جا سکے۔

فرار
مگر نہ تو اب لیبیا میں (اس وقت کے حکمراں) کرنل قذافی زندہ ہیں اور نہ ان کی حکومت باقی ہے۔

نہ روس اب سویت یونین کی حیثیت سے باقی بچا ہے نہ سوویت اقدامات کا دفاع یا ان پر ممکنہ الزامات کا جواب دینے کے لیے کوئی افسر یا ادارہ ہے۔

اور نہ افغانستان میں روس نواز ببرک کارمل یا ڈاکٹر نجیب کی حکومت باقی بچی ہے نہ ہی ان کا کوئی اہلکار پاکستان حکام کے دعووں کا جواب دینے یا رد کردینے کے لیے موجود ہے۔بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

کیا سستے تیل کے لیے پاکستان کے روس سے معاملات طے ہوگئے؟

(وسی بابا) غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹر نے خبر دی ہے کہ ایک روسی …