ہفتہ , 4 فروری 2023

شہید قاسم سلیمانی کی برسی، مجلس علمائے شیعہ کے رہنماء علامہ عبدالحسین کا انٹرویو

علامہ سید عبدالحسین الحسینی کا بنیادی تعلق ضلع ہنگو کے علاقہ ابراہیم زئی سے ہیں، انہوں نے ابتدائی تعلیم کوہاٹ سے حاصل کی۔ جسکے بعد جامعۃ المنتظر لاہور سے مذہبی تعلیم حاصل کی۔ پنجاب یونیورسٹی سے عربی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ دو سال تک جامع مسجد محمد علی سوسائٹی کراچی میں خطیب کی حیثیت سے ذمہ داریاں بھی ادا کیں۔ اسکے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے اور وہاں سپریم کورٹ کے ترجمان کی حیثیت سے بھی کام کیا۔ پاکستان واپسی پر وحدت کونسل کے سینیئر نائب صدر کے طور پر عہدہ سنبھالا اور پھر مجلس وحدت مسلمین خیبر پختونخوا کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل کی حیثیت سے قومی و ملی ذمہ داریاں سنبھالیں، اسوقت علامہ سید عبدالحسین الحسینی مجلس علمائے شیعہ پاکستان کے مرکزی رہنماء ہیں، ’’اسلام ٹائمز‘‘ نے علامہ سید عبدالحسین الحسینی کیساتھ شہید قاسم سلیمانی اور انکے ساتھیوں کی تیسری برسی کی مناسبت سے ایک خصوصی انٹرویو کا اہتمام کیا، جو قارئین کے پیش خدمت ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: شہید قاسم سلیمانی، شہید ابو مہدی المہندس اور انکے ساتھیوں کی شہادت کو تین برس بیت گئے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ شہید سلیمانی کو شہید کرکے دشمن اپنے ارادوں میں کامیاب ہوا۔؟
علامہ سید عبدالحسین الحسینی: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم، سب سے پہلے تو آپ کا شکریہ کہ آپ نے اس عظیم شہید کی برسی کے موقع پر ہمیں موقع فراہم کیا کہ ہم ان کو خراج عقیدت پیش کریں۔ گزارش یہ ہے کہ شہید قاسم سلیمانی جیسے جرنیل عطر کی شیشی کی مانند ہوتے ہیں، جب یہ شیشی کھلتی ہے تو ہر طرف اپنی خوشبو پھیلا دیتی ہے۔ یعنی جب ایسے جرنیل شہید ہوتے ہیں تو توحید، عدل، شجاعت اور سخاوت کی یہ خوشبو ہر جگہ پھیل جاتی ہے۔ یہ بیداری کی خوشبو ہوتی ہے۔ جہاں تک آپ کے سوال کا تعلق ہے تو میں کہوں گا کہ زندہ سلیمانی سے زیادہ شہید سلیمانی امریکہ اور اس کے حواریوں کیلئے خطرناک ثابت ہوئے، امریکہ کا خیال تھا کہ انہیں شہید کرکے وہ مقاومت کو کمزور کر دے گا، اس میں کوئی شک نہیں کہ شہید سلیمانی کی کمی ہمیشہ محسوس کی جاتی رہے گی، تاہم ان کی شہادت کے بعد دشمن اپنے سوچے ہوئے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ شہید سلیمانی کی شہادت کے بعد بیداری کی جو لہر چلی، اس نے دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا، شہید کے مشن کو مزید تقویت ملی ہے، امریکہ، اسرائیل اور داعش اپنے ارادوں میں ناکام ٹھہرے ہیں۔

اسلام ٹائمز: شہید قاسم سلیمانی برادر اسلامی ملک ایران کے جرنیل تھے، کیا وجہ ہے کہ ان سے محبت کرنیوالے پاکستان سمیت دنیا کے کونے کونے میں موجود ہیں۔؟
علامہ سید عبدالحسین الحسینی: آپ نے درست فرمایا، وہ ایران سے تعلق رکھتے تھے، تاہم ان کی سوچ، خدمات اور مشن صرف ایران کے مفادات کا تحفظ نہیں بلکہ اسلام، اسلامی اصولوں اور اسلامی ورثہ کا تحفظ تھا۔ ان کے مشن کا مقصد اسلام اور انسانیت کا تحفظ اور بقا تھا۔ آپ جانتے ہوں گے کہ انہوں نے کبھی کسی غیر مسلم یا کسی دوسرے مذہب کو نقصان کے حوالے سے بات نہیں کی، بلکہ انہوں نے تو عراق میں داعش کے چنگل سے عیسائیوں کو بھی تحفظ فراہم کرنے میں کردار ادا کیا۔ میرے خیال میں مسلم دنیا میں ان کی مقبولیت کی وجہ اہلبیتؑ اور صحابہ کرام کے مزارات کا تحفظ ہے۔ پاکستان میں لوگ ان کو اس وجہ سے سب سے زیادہ چاہتے ہیں کہ انہوں نے دہشتگردوں سے مزارات مقدسہ کو محفوظ رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان لوگوں کو بھی شہید قاسم سلیمانی کی شہادت پر آنسو بہاتے دیکھا گیا، جو عالمی حالات سے زیادہ باخبر نہیں تھے، تاہم شہید سلیمانی کی خدمات پر انہیں اسلامی دنیا کے ہیرو کا درجہ ملا۔

اسلام ٹائمز: شہید سلیمانی اور رفقاء کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر آج بھی اپنے کیفر کردار تک نہیں پہنچ سکے، اس کھلم کھلا دہشتگردی پر عالمی انصاف کے تقاضوں کو کیسے دیکھتے ہیں۔؟
علامہ سید عبدالحسین الحسینی: قاسم سلیمانی کی شہادت عالمی اصولوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور دہشتگردی بلکہ بدمعاشی تھی، آج نہیں تو کل امریکہ کو اس کا حساب ضرور دینا ہوگا، ہم عالمی عدالتوں یا عالمی اداروں سے انصاف کی توقع ہرگز نہیں رکھ سکتے۔ ایران کے اعلیٰ حکام نے اعلان کیا تھا کہ وہ ہر صورت شہید قاسم سلیمانی کی شہادت کا بدلہ لیں گے۔ قاسم سلیمانی کسی مزاحمتی گروہ کے سربراہ نہیں بلکہ ایک ملک کے جرنیل تھے اور جب انہیں نشانہ بنایا گیا تو وہ اپنے آفیشل وزٹ پر عراق گئے تھے۔ انہیں اس طرح امریکہ کی جانب سے بربریت کا نشانہ بنانا سفارتی اصولوں کی بھی بہت بڑی خلاف ورزی تھی۔ میں حیران ہوں کہ دنیا کے حکمران امریکہ کے ڈر سے اس بدمعاشی پر خاموش رہے۔ لیکن مجھے یقین ہے کہ سلیمانی کے قاتل اپنے انجام کو ایک نہ ایک دن ضرور پہنچیں گے۔ اس کے علاوہ قاسم سلیمانی کی شہادت نے عالمی انصاف کے دعووں کو بھی ننگا کردیا۔

اسلام ٹائمز: شہید جنرل قاسم سلیمانی اور انکے رفقاء کی تیسری برسی کے موقع پر ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے پلیٹ فارم سے عالم اسلام کو کیا پیغام دینا چاہیں گے۔؟
علامہ سید عبدالحسین الحسینی: میں یہی کہوں گا کہ قاسم سلیمانی جیسا بہادر جرنیل شائد ہی دوبارہ پیدا ہوسکے، مسلمان نوجوانوں کو چاہیئے کہ قاسم سلیمانی کی پیروی کریں اور ان کے نقش قدم پر چلیں، قاسم سلیمانی کسی خاص فرقہ یا ملک کے نہیں بلکہ عالم اسلام کے ہیرو ہیں، انہیں تعصب کی عینک اتار کر دیکھا جائے۔ یہ دیکھیں کہ ان کے اقدامات اور خدمات عالم اسلام کیلئے کتنی زیادہ ہیں، وہ امریکہ اور اسرائیل کی آنکھ کا کانٹا کیوں تھے؟ کیونکہ وہ عین اسلام کی خدمت میں مصروف تھے اور امریکہ کبھی نہیں چاہے گا کہ اسلام کو اور مسلمانوں کو عزت و وقار کا مقام حاصل ہو۔ مسلم ممالک کے حکام کو چاہیئے کہ وہ امریکہ کے ڈر سے قاسم سلیمانی کے نظریات سے خوفزدہ نہ ہوں، ان کے نظریات کو تقویت دیں، تاکہ مسلمان مائیں قاسم سلیمانی جیسے بہادر سپوت پیدا کریں۔

اسلام ٹائمز: آخر میں پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر کے بارے میں پوچھنا چاہوں گا کہ یہ ملکی سلامتی کیلئے کس حد تک خطرناک ہے اور اسکا سدباب کیسے ممکن ہے۔؟
علامہ سید عبدالحسین الحسینی: دہشتگردی کے اس نئے سلسلے کی ہم بھرپور مذمت کرتے ہیں اور ان شاء اللہ ہماری قوم اور ہماری افواج اس دہشتگردی کا بھرپور مقابلہ کریں گی۔ دہشتگردوں کو ہم یہ پیغام دینا چاہیں گے کہ ہم اپنے وطن کا دفاع کرنا اچھی طرح جانتے ہیں، جو علی مولاؑ کے پیروکار ہیں اور جو ہماری افواج ہے، ہم سب اس حوالے سے متحد اور ایک پیج پر ہیں، ہم نے اس سے بڑی بڑی دہشتگردی کا سامنا کیا ہے اور اسے شکست دی ہے، یہ لہر اٹھنے سے پہلے ہی دم توڑ دے گی۔ پڑوسی ملک کو ہم وارن کرتے ہیں کہ اپنی حدود میں رہو، پاکستان میں اگر دہشتگردی کا مکمل خاتمہ کرنا ہے تو شہید قاسم سلیمانی کی پالیسی پر عمل کرنا ہوگا، ان بے رحم دہشتگردوں کا اسی طریقہ سے خاتمہ کرنا ہوگا، جس طرح انہوں نے داعش کا عراق و شام سے خاتمہ کیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے پاکستان اور اسلام کی حفاظت فرمائے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

تہران:امت واحدہ پاکستان کے وفد کا المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ (تصویری رپورٹ)

تہران:امت واحدہ پاکستان کے وفد کا المصطفیٰ انٹرنیشنل یونیورسٹی کا دورہ (تصویری رپورٹ)