ہفتہ , 28 جنوری 2023

لوگ کہاں جارہے ہیں؟

(تحریر: ڈاکٹر انصار مدنی)

ہم روز دیکھتے ہیں، سنتے ہیں فلاں بزرگ چلے گئے، فلاں جوان چلا گیا، فلاں بچی جوانی دیکھی بغیر چلی گئی، فلاں خاتونِ خانہ، استاد، انجینئر، آفیسر وغیرہ وغیرہ چلے گئے، ان تکلیف دہ واقعات میں عموماً ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے متعلقین، رشتہ دار، دوست احباب، شاگرد، چاہنے اور جاننے والے ان کے گھر آتے ہیں، افسوس کرتے ہیں، دل گرفتہ ہوتے ہیں، روتے ہیں، چیختے ہیں بالآخر وہ چلے جاتے ہیں اپنے اپنے آشیانوں کی طرف۔ یعنی دنیا سے گزرنے والوں کے ساتھ ان سے وابستہ لوگوں کے احساسات و جذبات کے ایسے مناظر پیوستہ ہوتے ہیں، ایسے لمحات دل و دماغ میں نقش ہوتے ہیں، جن کی وجہ سے وہ اکثر اوقات خیالات کی دنیا میں رہتے ہیں اور انہیں خیالات کی دنیا خوبصورت جبکہ اصل زندگی نہایت بدصورت دیکھائی دیتی ہے، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات ان کے بڑے بزرگ انہیں ٹوکتے ہوئے یا ڈانٹنے کے انداز میں کہہ دیتے ہیں کہ یہ کیا اپنی حالت بنائی ہوئی ہے۔

دراصل انہیں کیا معلوم آپ کی دنیا کیسے اجڑ گئی ہے؟ آپ کے جذبات و احسات میں کیسا طوفان موجزن ہے؟ آپ نے کیا کیا سوچا ہوا تھا؟ یہ اچانک کیا سے کیا ہوگیا؟ یہی وجہ ہے کہ آپ اٹھتے، بیٹھتے چشمِ تصور سے اپنے عزیز کو دیکھ رہے ہوتے ہیں، انہیں اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں، ان کے ساتھ آپ گفتگو کررہے ہوتے ہیں، بلکہ بعض اوقات آپ ان کے ساتھ مل کر اپنی چیزیں پلٹا پلٹا کر دیکھ رہے ہوتے ہیں، اچانک آس پاس سے کوئی ایسی آواز آتی ہے جس سے آپ کا اپنے عزیز سے تصوراتی رابطہ کٹ جاتا ہے اور آپ اپنی پسندیدہ چیزوں سے بیزار دیکھائی دیتے ہیں اور ایک ایسا درد آپ کے سینے میں پیدا ہوتا جو ناقابلِ بیان ہوتا ہے۔ ہمیں نہیں معلوم اس طرز کے مناظر کہاں کہاں، کیسی کیسی جگہوں پر روز دیکھائی دیتے ہوں گے اور ان واقعات و حادثات کی زد میں نہ جانے کتنے خواب ادھورے رہ جاتے ہیں، ان خوابوں کی وجہ سے لوگ روز مرتے ہیں، جیتے ہیں، پھر مرجاتے ہیں، مگر دنیا کا دستور، اس کے اصول اور قوانین نہ بدلے ہیں اور نہ بدلنے کا امکان ہے جب تک مرضی رب نہ ہو۔

اس بات کو یوں سمجھنا چاہیئے کہ ہم روز دیکھتے ہیں کہ معمول کے مطابق سورچ، چاند، ستارے اپنی اپنی مدار میں نظر آتے ہیں، البتہ ہمارے احساسات و جذبات کے تمام ستارے غروپ ہوچکے ہوتے ہیں، ہاں ایک درد ہے، ایک آہ ہے جو نہ جانے کہاں سے؟ اور کیسے نکلتی ہے؟ جس کے سہارے ہمارا رشتہ جسم کے ساتھ برقرار رہتا ہے۔ اس طرح کی صورتِ حال میں ہمیں کیا کرنا چاہیئے؟ جہاں نصیحتیں بے اثر، خوبصورتی بے معنی، جذبات میں سرد مہری، آثار کو دیکھ کر مسکراہٹ کی بجائے تکلیف ہوتی ہے، سمجھانے والا متعلقہ لوگوں کو دیکھ کر خود خون کے آنسو روتا ہے، اس طرز کے واقعات کے پسِ منطر میں جو کیفیتیں پنہاں ہوتی ہیں وہ یقیناً حساس طبیعتوں کے ادارک میں ہوتی ہیں، پھر وہ سوچتے ہیں کہ ہم انہیں کس طرح اور کیسے اس تکلیف دہ صورتِ حال سے باہر نکالیں تاکہ یہ لوگ بھی اپنے حصے کی زندگی جی سکیں، میرے پاس ان لوگوں کے لئے کیا راہِ حل ہے جس پر چلتے ہوئے یہ پریشان حال لوگ اپنی تکلیف، درد اور جدائی کے غم میں کچھ کمی محسوس کریں۔ ہونا تو یہ چاہیئے کہ:

01- مصیبت و پریشانی میں گرفتار دوستوں، رشتہ داروں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا چاہیئے۔
02- پریشان حال شخص کے دل میں اس امید کو جگا دینا چاہیئے جو خالقِ انسان نے اپنے تمام بندوں کے دلوں میں رکھ دی ہے۔
03- سماجی زندگی میں بلاتفریق انسانوں کی خدمت کا جذبہ پیدا کرنا چاہیئے تاکہ اس کی دنیا وسیع ہو اور وہ ایک محدود فضا میں پرواز کرنے سے باہر نکلے، اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق کے درد کو محسوس کرے اور یہی درد اس کے اپنے درد میں کمی لاسکتا ہے۔
04- صدقہ و خیرات کرنے سے وہ حقیقت پسندانہ زندگی کے قریب آئے گا اور وہ اس بات کو قبول کرے گا کہ تمام چیزیں فانی ہیں اور ایک دن مجھے بھی اپنا سب کچھ یہاں چھوڑ کر جانا ہوگا۔
05- اپنے رشتوں کے ساتھ اخلاص سے پیش آنے کا جذبہ پیدا کرنا چاہیئے کیونکہ یہی اخلاص کا جذبہ دلوں میں سکوں پیدا کرتا ہے، چاہے یہ رشتہ بندوں کے ساتھ ہو، مالک و خالق کی نازل شدہ کتابوں کے ساتھ ہو، ان کے برگزیدہ بندوں کے ساتھ ہو یا اس ذات لم یزل کے ساتھ ہو جن کی رضا کے بغیر کائنات کا کوئی پتا ہلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ ہم دعاگو ہیں جن لوگوں کے عزیز و اقرباء اس دنیا سے گزر چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو اللہ تعالیٰ کی مصلحتوں کو سمجھنے کی فہم عطا کرے۔ آمین یا رب العالمین۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پلے نہیں دھیلا

(تحریر : رؤف کلاسرا) امریکہ سے ایک پیارے بھائی کا میسج تھا کہ ابھی آپ …