منگل , 31 جنوری 2023

پاکستان اور افغان طالبان میں ’بداعتمادی کی فضا‘ کے کیا معنی ہیں؟

(عزیز اللہ خان)

پاکستان اور افغانستان کے درمیان ان دنوں بیانات کی حد تک کشیدگی بڑھ گئی ہے اور اس کے ایک بڑی وجہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان کے خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔

پاکستان کا موقف ہے کہ افغان طالبان کسی مسلح تنظیم کو اپنی سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دیں جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ پاکستان کا اپنا اندرونی مسئلہ ہے۔

پاکستان میں تشدد کے بڑھتے واقعات کے بعد چند روز پہلے کور کمانڈرز کانفرنس میں اس بارے میں غور کیا گیا اور اس کے بعد وزیراعظم کی سربراہی میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں بھی دیگر امور کے ساتھ ساتھ ملک میں سیکیورٹی کی صورتحال پر بھی اہم فیصلے کیے گئے ہیں۔

اس اجلاس میں قرار دیا گیا ہے کہ پاکستان کسی ملک کو بھی اپنی سرزمین کسی گروہ کو دہشت گردوں کی پناہ گاہ کے طور پر استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ پاکستان اپنی عوام کے تحفظ اور سلامتی کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے عزم کا اعادہ کیا گیا ہے۔

اس بارے میں دو روز پہلے وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر افغان طالبان افغانستان کے اندر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی نہیں کرتے تو پھر بین الاقوامی اصولوں کے مطابق اگر کہیں سے پاکستان کے خلاف کوئی علاقہ استعمال ہو رہا ہے تو پاکستان وہاں کارروائی کا حق رکھتا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اس بیان کو افغانستان میں اشتعال انگیز بیان قرار دیا گیا تھا۔ اس بارے میں افغانستان کے وزارت دفاع کی جانب سے بیان جاری کیا گیا تھا کہ افغانستان اپنی سرزمین کا دفاع کرنا جانتا ہے۔

تاہم اس درمیان ترجمان امارت اسلامیہ ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ ’امارت اسلامیہ افغانستان پاکستان سمیت اپنے تمام پڑوسیوں کے ساتھ اچھے ہمسائے کے طور پر بہتر تعلقات چاہتی ہے اور ان تمام وسائل و ذرائع پر یقین رکھتی ہے جو اس ہدف تک ہمیں پہنچا سکتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ ’حالیہ دنوں پاکستانی حکام کی جانب سے افغانستان کے خلاف بیانات دیے جارہے ہیں جو قابل افسوس ہیں۔ امارت اسلامیہ اپنی پوری کوشش کر رہی ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان یا کسی بھی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔‘

ماہرین اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالات کشیدہ ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات نے ایک نئی شکل اختیار کر لی ہے ۔

افغان سینیئر صحافی اور تجزیہ کار سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ’اگرچے پاکستان کو اس وقت اپنی ہی پالیسیوں کا رد عمل دیکھنے کو مل رہا ہے لیکن ایک صورتحال یہ ہے کہ افغان طالبان کے پاس کوئی باقاعدہ منظم فوج نہیں ہے بلکہ طاقت کے ذریعے حکومت پر قبضہ کیا ہے اور پاکستان کو اس ساری صورتحال کو مختلف طریقے سے دیکھنے کی ضرورت ہے اور اسی تناظر میں پاکستان کو ان سے بات کرنا ہوگی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’افغان طالبان اپنے ملک کے اندر اپنے لوگوں پر رحم نہیں کرتے جہاں خواتین کے ساتھ بد سلوکی کی جاتی ہے، اپنے لوگوں کو مارا جاتا ہے، تو ایسے میں ان کا رویہ پڑوسی ممالک کے ساتھ کیسا ہوگا۔‘

پشاور یونیورسٹی کے پروفیسر بابر شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان نے جب اقتدار سنبھالا تو وہ وہاں کوئی کام نہیں کر سکے جس وجہ سے ان کے لیے مسائل پیدا ہوئے اور اب بھی ان کی کوشش ہے کہ کسی طرح بین الاقوامی سطح پر ان کی جانب توجہ دی جائے۔ ’افغان طالبان کو دنیا میں تسلیم نہیں کیا گیا اور ان کے مشکلات بڑھتی گئیں جبکہ ماضی کے برعکس اس مرتبہ پاکستان نے بھی انھیں تسلیم نہیں کیا جس وجہ سے افغان طالبان کو بھی مایوسی ہوئی ہے۔‘

دفاعی امور کے ماہر اور تجزیہ کار بریگیڈیئر ریٹائرڈ محمود شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کو افغانستان سے بات کرنی چاہیے تھی اور ان سے کہنا چاہیے کہ وہ ٹی ٹی پی کی افغانستان کی پناہ گاہوں کو ختم کرے اور ان تمام عناصر کو پاکستان کے حوالے کرے۔ ان کا خیال ہے کہ پاکستان کو ٹی ٹی پی کے ساتھ مزاکرات کی ضرورت ہی نہیں تھی اور نہ ہی ’پاکستان کا آئین اس کی اجازت دیتا ہے کہ حکومت کی جرائم پیشہ گروپ کے ساتھ مزاکرات کرے۔‘

بظاہر پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑی کشیدگی کی وجہ کالعدم تنظیم تحریک طالبان کے بڑھتے ہوئے حملے ہیں۔ ماضی میں بھی جب افغانستان میں حامد کرزئی اور پھر اشرف غنی کی حکومت قائم تھی، ان دنوں بھی پاکستان کی جانب سے بار بار یہی کہا جاتا رہا ہے کہ پاکستان میں حملوں کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہو رہی ہے اور یہ کہ حملہ آور افغانستان سے آکر پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔

پاکستان میں حکام نے آرمی پبلک سکول پر حملہ اور دیگر بڑے حملوں کے بارے میں بھی یہی کہا تھا کہ حملہ آور افغانستان سے آئے تھے۔ اس کے برعکس افغانستان کا کہنا تھا کہ حملہ آور پاکستان کے اندر ہی موجود ہیں۔

سمیع یوسفزئی کا کہنا ہے کہ گزشتہ چالیس سال سے دونوں ممالک کے درمیان جو سلسلہ جاری تھا اب اس وقت صورتحال اس کے بالکل مختلف ہو گئی ہے۔ افغانستان پر جب روس حملہ آور ہوا تو اس کے بعد سے پاکستان سے لوگ جا کر افغانستان میں لڑتے رہے اور ان کے بقول یہ سلسلہ اس کے بعد بھی جاری رہا۔ افغانستان مسلسل یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ پاکستان سے لوگ آکر افغانستان میں کارروائیاں کرتے ہیں لیکن پاکستان اس کی تردید کرتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب صورتحال الٹ ہو گئی ہے۔

بابر شاہ کہتے ہیں کہ پاکستان گزشتہ ایک سال سے اندرونی طور پر بدقسمتی سے سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے جس وجہ سے ملکی پالیسی خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر پالیسی متاثر ہوتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ طالبان کے ساتھ تعلقات ویسے نہیں تھے جیسے ہونے چاہییں اور جب حالات خراب ہو جاتے ہیں تو ایسی صورتحال میں ایسی قوتیں بھی کام شروع کر دیتی ہیں جو ملک کے اندر حالات خراب کرنا چا ہتی ہیں۔

افغان طالبان کے وعدے
افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے لیے افغان طالبان کے ساتھ امریکہ نے دوہا میں مزاکرات شروع کیے تھے جس میں دیگر شرائط کے ساتھ ایک شق یہ بھی تھی کہ افغانستان میں کسی میں تنظیم یا انفرادی طور کسی کو افغانستان کی سرزمین کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی یا تشدد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔ اس میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ افغان طالبان القاعدہ اور دیگر شدت پسند تنظیموں کے خلاف کارروائیاں کریں گے تاکہ ان کا مکمل خاتمہ کیا جا سکے۔

گزشتہ سال اگست میں افغان طالبان طاقت کے بل بوتے پر اقتدار میں آئے اور حکومت کا کنٹرول سنبھالا۔ افغان طالبان کے اس طرح کابل پہنچنے پر پاکستان پر الزام بھی عائد کیے جاتے رہے کہ ان طالبان کو پاکستان کی حمایت حاصل تھی۔

اس کے باوجود افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد بھی پاک افغان سرحد پر حالات کشیدہ رہے اور مختلف مقامات پر سرحد پر باڑ کو اکھاڑ دیا گیا تھا اور اس کے علاوہ مختلف اوقات میں سرحد پار سے پاکستان کے مختلف علاقوں پر حملے بھی کیے جاتے رہے۔

افغان طالبان نے اس دوران پاکستان اور کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی کے درمیان مصالحت کی کوششیں کی اور مزاکرات کا سلسلہ شروع ہوا۔ ان مزاکرات کے لیے ثالثی کا کردار افغان طالبان ادا کرتے رہے اور اس میں کچھ عرصے کے لیے جنگ بندی بھی کی گئی لیکن جنگ بندی کے خاتمے کے بعد پاکستان میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہوئے ہیں۔

حملے اور کارروائیاں
اگرچے گزشتہ ایک سال میں چند ماہ تو ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی رہی ہے لیکن اس کے باوجود تنظیم نے دعوی کیا ہے کہ ایک سال میں 369 حملے کیے گئے ہیں جن میں پولیس اور سیکیورٹی فورسز کا بھاری نقصان ہوا ہے۔

ہلاکتوں کے بارے میں ٹی ٹی پی کے دعووں کی کہیں باقاعدہ تصدیق نہیں ہو سکی تاہم یہ بات واضح ہے کہ 2021 کی نسبت 2022 میں شدت پسندوں کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ بات چیت میں کہا تھا کہ اس سال بیشتر حملوں میں لگ بھگ 58 فیصد حملے خیبر پختونخوا میں ہوئے ہیں او اور دوسرے نمبر پر بلوچستان میں ہوئے ہیں۔

دوسری جانب خیبر پختونخوا میں پولیس کا کہنا تھا کہ ایک سال میں شدت پسندوں کے خاتمے کے لیے متعدد مقامات پر کارروائیاں کی گئیں جن میں 800 سے زیادہ شدت پسندوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 196 ہلاک ہوئے ہیں۔

حل کیا ہے ؟
یہاں متعدد سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ پاکستان اس ساری صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا کر سکتا ہے۔اس سے پہلے یعنی 2014 میں آپریشن ضرب عضب اور اس سے پہلے جو آپریشن کیے گئے اس وقت شدت پسند چند محدود قبائلی علاقوں میں موجود تھے جہاں سے ان کا صفایا کرنے کے دعوے کیے گئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ بیشتر پاکستان سے فرار ہو گئے ہیں۔

اب سرکاری سطح پر یہ رپورٹ سامنے آئی ہے کہ شدت پسند حکومت کے ساتھ مزاکرات کے دوران مختلف علاقوں میں پھیل گئے ہیں اور اپنے ٹھکانے بنا لیے ہیں۔ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب سوات کے علاقے مٹہ میں شدت پسندوں نے ایک ڈی ایس پی کو زخمی کر دیا تھا اور دیگر کو یرغمال بنا لیا تھا۔ اس کے بعد سوات میں سخت عوامی رد عمل آیا اور شدت پسندوں کو علاقے سے نکال دیا گیا تھا۔

اب ایسی اطلاعات ہیں کہ شدت پسند صوبے کے جنوبی علاقوں کے علاوہ مختلف مقامات پر موجود ہیں۔ ایسے میں فورسز کے لیے کارروائی کرنا مشکل ہوگا۔ گزشتہ دنوں قومی اسمبلی کے ڈپٹی سپیکر اور ضلع بنوں سے جمعیت علماء اسلام کے رہنما زاہد اکرم درانی نے کہا کہ ایسی کوئی صورتحال نہیں ہے کہ بنوں میں کوئی آپریشن ہو رہا ہے۔

بابر شاہ نے کہا کہ افغانستان کا سب سے زیادہ انحصار پاکستان پر ہے حالانکہ پاکستان نے افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا لیکن افغانستان کو سپورٹ کیا جا رہا ہے ایسے میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس بھی ہوا اور اگر حکومت پاکستان افغان طالبان پر سختی سے واضح کردے کے یہ ’ریڈ لائن ہے اور اس سے تجاوز کی اجازت نہیں ہوگی تو ایسے میں شاید وہ سمجھ جائیں گے۔‘

سمیع یوسفزئی کا کہنا تھا کہ پاکستان طالبان کے ساتھ ایسی پالیسی اختیار کرنا ہوگی جس میں صورتحال بہتر کی جا سکے اور افغان طالبان کو ایک باقاعدہ منظم فوج نہیں بلکہ ایک مسلح طاقتور گروپ کے طور پر دیکھنا ہوگا کیونکہ اب ’اس گروپ کو پاکستان کے اندر ٹی ٹی پی کی شکل میں پلیٹ فارم بھی دستیاب ہے۔‘

ادھر امارت اسلامیہ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ ’ہم اس ہدف مقصد کے لیے پوری طرح سنجیدہ ہیں، پاکستانی فریق کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ حالات کو قابو رکھنے کی کوشش کرے۔ بے بنیاد باتوں اور اشتعال انگیز خیالات کے اظہار سے احتراز کرے کیوں کہ ایسی باتیں اور بداعتمادی کی فضا کسی فریق کے مفاد میں نہیں۔‘

ان کا کہنا تھا ’امارت اسلامیہ جس طرح اپنے ملک کے اندر امن و استحکام کو اہمیت دیتی ہے اسی طرح پورے خطے کے لیے امن و استحکام چاہتی ہے اور اس سلسلے میں اپنی کوششیں جاری رکھے گی۔‘بشکریہ بی بی سی

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

کیا سستے تیل کے لیے پاکستان کے روس سے معاملات طے ہوگئے؟

(وسی بابا) غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹر نے خبر دی ہے کہ ایک روسی …