جمعرات , 2 فروری 2023

آؤ قاسم سلیمانیؒ کے گاؤں چلیں

(تحریر: مقدر عباس)

یہ قنات ملک ہے، صوبہ کرمان کا ایک چھوٹا سا گاؤں، اس گاؤں سے ایک ایسے شخص کی یادیں وابستہ ہیں کہ جسے مکتب کا نام دیا گیا، بہت سے لوگ جب کسی بڑے عہدے پر پہنچتے ہیں تو اپنے علاقے کو بھول جاتے ہیں یا تو مصروفیات کی وجہ سے یا پھر کچھ اور مجبوریوں کی بنا پر۔ کیا وجہ تھی کہ جہاد اصغر و جہاد اکبر کا عظیم کمانڈر اس چھوٹے سے گاؤں کو فراموش نہ کرسکا۔ وہ جہاں بھی ہوتا یہاں کے لوگوں کے احوال سے باخبر ہوتا۔ اس گاؤں میں اس کا بچپن گزرا تھا۔ درخت کے نیچے بیٹھ کر پڑھنے والا خود ایک مکتب بن گیا، جس کے بارے میں آج کے بچے روتے ہوئے کہتے ہیں میرے سردار تم کتنا جلدی چلے گئے، مسجد کے لئے زمین وقف ہوچکی تھی، تعمیر شروع کرنے سے پہلے زمین کے تمام ورثا میں سے ایک ایک کا نام لیکر اس سے اجازت طلب کررہے تھے اور مسلسل کہے جارہے تھے کہ آیا آپ تمام لوگ راضی ہیں؟ اس چھوٹے سے گاؤں میں گیس، پانی اور بجلی اور اسکول جیسی تمام سہولیات موجود ہیں، یہاں زیادہ تر لوگ بھیڑ بکریاں پالتے ہیں۔ اخروٹ کے درخت پائے جاتے ہیں، جن سے لوگوں کا روزگار وابستہ ہے، وہ جہاں بھی ہوتے اپنے گاؤں کے حالات سے واقف رہتے، فلاں کا کیا حال ہے؟ کتنی برف باری ہوئی ہے؟

بچپن کا دوست ماضی کی یاد دلا رہا تھا۔ اس کے بقول وہ بچپن سے ہی سے ذہین، کھیل میں تیز اور چست، سب سے پہلے فٹ بال کو گول تک پہنچا آتے۔ ایک اور دوست کا کہنا تھا کہ ہم چھٹی کلاس تک ساتھ رہے۔ وہ بچپن سے ہی دلیر، شجاع اور تمام اچھی صفات کے حامل تھے۔ ابتدایی تعلیم قنات ملک میں حاصل کی، نویں کلاس تک رابر (قصبے کا نام) میں پڑھتے رہے۔ پھر گردش روزگار کرمان شہر تک لے آئی۔ بھائی کا کہنا تھا انقلاب سے پہلے اس درخت کے نیچے ایک اسکول تھا، چھٹی تک یہاں پڑھتے رہے۔ یہاں سب بڑے، جوان اور بچوں کو جمع کیا۔ یہاں انہوں نے جوشیلی تقریر کی۔ میں اور سب جاننے والے حیران تھے کہ یہ تو کوئی خطیب نہیں تھا۔ ان کی تقریر امام خمینیؒ، ان کی جلاوطنی، ایرانی قوم کے قیام اور انکے جہاد کے بارے میں بات چیت تھی۔ اس موضوع پر حاجی نے مفصل تقریر کی۔ مجھ سمیت ہم سارے متعجب تھے کہ حاجی یہ کہاں سے کہہ رہا ہے؟ جن گروہوں کا امامؒ سے رابطہ تھا۔ شہید، ان سے رابطے میں تھے۔ جو بھی تقاریر یا اعلانات ہوتے تھے، وہ مجھ تک پہنچاتے اور کہتے کہ شاہ کی ایجنسیوں سے محتاط رہنا کہ وہ پکڑ نہ لیں۔

چلتے ہیں کچھ شہید سے وابستہ یادوں کی طرف، قنات ملک (گاؤں) کے ایک شہید کا جنازہ تھا اور وہاں سردار لوگوں سے مخاطب تھے۔ عجیب عاجزی و انکساری تھی۔ میں تمہارے قدموں کی خاک ہوں۔ اس بوڑھے شخص کا بیٹا ہوں جو یہیں آپ کے درمیان ہے۔ انہیں لوگوں میں سے ہوں، کچھ بھی نہیں ہوں۔ خدا نے ہم پر احسان کیا، اسلام نے ہم پر احسان کیا، انقلاب نے ہم احسان کیا۔ ہم امامؒ کے شکر گزار ہیں۔ ہم اس راستے پر چلے ہیں جہاں ہزاروں عاشق موجود ہیں۔ ہمارا انتخاب ہوا ہے کہ اس راہ کے راہی بنیں۔ اسلام، ملت اور شہدأ کی عظمت کے مقابلے میں ہم بذات خود کچھ بھی نہیں ہیں۔ ایک خاتون کہہ رہی تہی کہ میرا شوہر اور سردار جگری یار تھے۔ شوہر چونکہ اکثر مریض رہتا، ان کا جب بھی اس گاؤں آنا ہوتا اگر میرا شوہر اس سے ملنے نہ آسکتا ہوتا تو وہ خود اس کے پاس چلے آتے۔ کیا وہ ہمیشہ گاؤں کے حالات سے باخبر رہتے تھے؟ جی ہمیشہ انہیں گاؤں کی صورتحال کی خبر ہوتی تھی۔ ہر لحظے وہ خبر لیتے تھے۔ کیا صورتحال ہے؟ بارش کتنی ہوئی، یعنی آج وہ اگر موجود ہوتے تو انہیں میں حتماً بتاتا کہ کس قدر برفباری ہوئی ہے۔ یہاں کے لوگ کاشتکاری اور بھیڑ بکریاں پالتے ہیں ہر کسی کے پاس آدھا ایکڑ، ایک ایکڑ یا دو ایکڑ زمین ہے۔ بیان کرنے والا کہہ رہا تھا وہ سال میں پانچ یا چھے بار یہاں سردار کو دیکھتے تھے۔ وہ چار سے پانچ دن یہاں گزارتے تھے۔

سوال:وہ گاؤں کیوں آتے تھے؟ جواب:حاجی کا عشق تھا یہ گاؤں۔ اس گاؤں بلکہ علاقے کے تمام جوانوں نے سردار سے ادب، متانت، فداکاری، شجاعت اور والدین کا احترام سیکھا ہے۔ اس گاؤں اور گردونواح کے تمام لوگوں نے سردار سے تمام اخلاقی فضائل سیکھے ہیں۔ اپنے ساتھیوں کیساتھ کوہ پیمائی کے دوران ایک جگہ بیٹھے امام علیؑ کا وہ وصیت نامہ (جو انہوں نے جنگ صفین سے واپسی پر اپنے فرزند امام حسنؑ کے نام لکھا تھا) اپنے ساتھیوں کو سنا رہے تھے۔ یہ گوہر نایاب جو وصیت کی شکل میں ہمارے پاس ہے، اس میں مولاؑ نے بہت سی اہم باتیں کی ہیں لیکن افسوس ہم اس سے غافل ہیں۔ جب انسان اس جہان سے جاتا ہے تو اس کے وصیت نامے سے بڑھ کر کوئی بھی چیز قیمتی نہیں ہوتی۔ امام خمینیؒ کا تیس صفحات پر مشتمل وصیت نامہ ان کی 80 سالہ زندگی کا خلاصہ ہے۔ وہ جب بھی گاؤں آتے اگر نماز کا وقت ہوتا تو پہلے نماز پڑھتے، والدین کی قدم بوسی کو جاتے، اس کے بعد اس گاؤں کے بزرگوں کے پاس جاتے، یہ بات 25 سال پہلے کی ہے۔ بزرگوں سے کہتے میرے لئے شہادت کی دعا کریں، بزرگ کہتے ابھی اس ملک و نظام کو آپ کی ضرورت ہے۔ ایک بزرگ ان کے لئے دعائیہ شعر پڑھ رہا تھا۔ یہ اس کے دل کی آواز تھی۔ اے سردار! تیرا سایہ سلامت، تمام بلائیں تجھ سے دور ہوں تو نے جو اس علاقے کی خدمت کی ہے۔ کیا محبتیں بانٹنے والا تھا وہ شخص جو ہر پیر و جوان کو پیار و الفت دے کر گیا۔ وہ اشدأ علی الکفار و رحمأ بینہم کا عملی مصداق تھا۔ علامہ اقبال ؒ نے جسے مجاہد و مومن کا لقب دیا ہے وہ اس شخص پر منطبق ہوتا ہے۔

ہو حلقہ ٔیاراں تو بریشم کی طرح نرم
ہو رزمِ حق و باطل تو فولاد ہے مومن

اس گاؤں میں اسلامی انقلاب کی برکت اور سردار کے تعاون سے تمام سہولیات بجلی، گیس، پانی اور اسکول موجود ہیں۔ اس علاقے کے تمام مخیر حضرات کی مدد سے سردار نے اس کو عملی کیا۔ اک زمانہ تھا جب اسکول خیموں میں تھے، پھر سردار نے حکم دیا کہ حتماً اس علاقے کے اسکولوں کی تعمیر کی جائے۔ وہ اسی علاقے کے لوگوں کی مدد سے ان تمام سہولیات کو اپنے علاقے کے لئے فراہم کررہے تھے۔ اپنے گاؤں والوں کو تاکید کر رہے تھے کہ یہ اس سارے علاقے کے لوگوں کا حق ہے۔ جوانوں کے لئے کھیل کے لئے فٹ بال کا اچھا گراؤنڈ موجود تھا۔ وہ فٹ بال کے مقابلوں میں ان کی حوصلہ افزائی کرنے کے لئے وہاں پہنچتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، ان کے تصاویر بنواتے۔ بتانے والے نے بتایا! یہ جس مسجد کو آپ دیکھ رہے ہیں ایک ویران جگہ تھی۔ اس کو ورثا کی اجازت سے سردار نے مسجد کے لئے منتخب کیا۔ جو غریب تھے انہیں زمین کی رقم دی بعض نے کہا ہم وقف کرتے ہیں۔ جب اس مسجد کا افتتاح ہو رہا تھا تو سردار اس طرح گویا تھے۔ یہ پہاڑ ظاہر میں ایک پتھر ہے لیکن اپنے وجود میں کئی خزانوں کو چھپائے ہوئے ہیں۔ یہ زمین کہ جو حقیقی معنوں میں مردہ تھی آج آپ لوگوں کے تعاون سے اس کو حیات ملی۔ اب یہ صدقہ جاریہ ہے۔ یعنی ہمیشہ جاری ہے۔ یہ پانی کا چشمہ دیکھیں جو پہاڑوں سے نکل رہا ہے یہ کوئی بھی موسم ہو ، جاری ہے۔ کوئی بھی خشک سالی اس کو خشک نہیں کر سکتی۔ اس جگہ کی مثال بھی ایسے ہی ہے۔ آپ ہوں نہ ہوں اس کا فیض ہمیشہ جاری رہے گا۔ جو بھی اس کام میں شریک ہوگا اس کے لئے یہ باقی رہ جانے والا نیک عمل ہوگا۔ اگر کوئی ایک دن بھی کام کر سکتا ہے تو انجام دے۔

سردار قاسم سلیمانیؒ دعا کررہے تھے! خدایا اس قدم کو اپنی بارگاہ میں محفوظ فرما، اس کام کو اخلاص عطا فرما، اس کو جہاد کا مرتبہ عطا فرما۔ تجھے واسطہ محمد و آل محمدﷺ کا! اس مسجد کو سب لوگوں کی ہدایت کا سبب قرار دے۔ اس مسجد کو ایسا قرار دے کہ اس سے بزرگ علما وجود میں آئیں۔ ہماری اولادوں کو مسجد سے آشنا اور اہلِ مسجد قرار دے۔ اس مسجد کو اپنی بہترین مساجد میں سے قرار دے۔ اسے تعلیم و تربیت کا مرکز قرار دے۔ اسے پاکیزگی کا مرکز قرار دے۔ تجھے واسطہ محمد و آلِ محمد علیہم السلام کا، اس گاؤں کے باسیوں کو اس مسجد کیساتھ محشور فرما۔ اس مسجد کو ہمارا شفاعت کرنے والا قرار دے۔ ہمیں اہلِ مسجد، شہدأ در راہ مسجد قرار دے۔ ہمیں مسجد کے مومنین میں سے قرار دے۔ سب لوگ دعا کی قبولیت کے لئے آمین کی صدا بلند کررہے تھے۔ کہاں کیا لکھنا ہے؟ زیارت وارثہ، زیارتِ عاشورہ، شہدأ کی تصاویر، سورہ نصر۔ تمام پروجیکٹ ان کی زیر ِنظر تھے۔ عجیب منظر تھا جب وہ کمانڈر فخر کیساتھ مسجد کے خادم کا لباس پہنے، ہاتھوں میں جھاڑو لئے مسجد کی صفائی کررہا تھے۔ کہہ رہے تھے اس مسجد میں جب بچے اذان و تکبیر کہتے ہیں تو انسان کو لطف آتا ہے۔

اس مسجد کا خیال رکھنا، اس کو پر رونق رکھنا، بچوں سے شفقت بھرا رویہ تھا۔ ان کو پیار دینا، ان کو اہمیت دینا، یاد ہے جب سردار مسجد میں لوگوں سے مخاطب تھے اور ایک بچے نے اسپیکر میں بات کرنا چاہی تو سردار نے اسے روکنے، ٹوکنے کی بجائے اسے بات کرنے دی۔ جب بچے کو اسپیکر دیا تو اس نے سلام کہا، سب چہرے مسکرانے لگے۔ ایک ملک کا بڑی پوسٹ رکھنے والا کمانڈر اس کی عجز و انکساری، احترام اور محبت کا یہ عالم تھا کہ جب اس کے سامنے ایک چھوٹی بچی بھی آتی تو اس کے احترام میں کھڑے ہو جایا کرتے۔ کوئی بڑا یا چھوٹا جب اسے ملنے آتا تو وہ کھڑے ہوکر ملتے تھے۔ یہی وجہ تھی بچے، بوڑھے، جوان اس کے دیدار کے عاشق تھے۔ وہ شام (Syria) ہوتے یا کہیں بھی میدان جنگ سے واپسی پر آتے۔ دو دن ہوں یا چار دن، وہ بیٹھتے نہیں تھے۔ اپنی تمام تر جنگی مہارتوں کے باوجود وہ اپنے ہم جولیوں کیساتھ علاقائی کھیل کھیلتے۔ ہمیشہ لوگوں سے ملنا اور ان کی مشکلات کو حل کرنا ان کی اولین ترجیح تھی۔ جب بھی آتے اپنے دوست شہیدوں کی مزار پر جاتے، شہداء کی فیملی، خادمِ مسجد سب سے یہی کہتے میری شہادت کی دعا کریں۔ سارے دوست چلے گئے میں قافلے سے پیچھے رہ گیا ہوں۔ وہ کہتے تھے شہداء کی قبریں نور کا مرکز ہیں۔ معصوم نہیں ہیں لیکن معصوم ہستیوں سے متصل ہیں۔ ان کے دوست نے بتایا کہ یہاں گرد و نواح کے جوانوں کی بے روزگاری کو ختم کرنے کے لئے سردار نے ایک کارخانہ لگانے کا پروجیکٹ بہی شروع کیا۔

سردار نے اپنی کئی تقریروں کا برملا اظہار کیا کہ آج جو سرداری ملی ہے والد کی خدمت کی وجہ سے، کہتے تھے مجھے زندگی کا کوئی ایسا لمحہ یاد نہیں کہ میرے والد حرام کا لقمہ گھر میں لے آئے ہوں۔ رزقِ حلال کی برکت ہے جس کی وجہ سے اس مقام پر پہنچا ہوں۔ ہمیشہ جب بھی یہاں آتے سب سے پہلے اپنے والد کی خدمت میں جاتے اور قدم بوسی کرتے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ حاجی کا کام اس طرح تھا کہ وہ اس گاؤں میں مستقل نہیں آسکتے تھے لیکن وہ کہتے تھے کہ اگر میرے والد حکم دیں کہ یہیں رہ جاؤ! میں نہ، نہیں کہوں گا ادھر گاؤں میں ہی رک جاؤں گا۔ لیکن ان کے والد انہیں اجازت نہیں دیتے تھے۔ ہر بار کہتے واپس جاؤ ملک و نظام کو تمہاری ضرورت ہے۔ سردار کے والد ایماندار کسان تھے۔ اپنے حصے میں اگر کسی اور کا مال آجاتا تو اسے واپس کردیتے۔ کسی کی زمین کو ناحق استعمال نہیں کرتے تھے۔ اپنی اولاد سے کہتے ہمیشہ حلال کی تلاش میں رہو اور حرام سے پرہیز کرو۔ کیونکہ رزقِ حلال میں برکت ہے یہی رزقِ حلال ہے جو تمہیں کسی مقام تک پہنچائے گا۔ کیا وجہ تھی کہ تمام تر مصروفیات کے باوجود وہ سال میں چند بار اس گاؤں کا چکر لگاتے؟ بنیادی وجہ وہ والدین تھے جنہوں نے رزق حلال سے پروان چڑھایا تھا۔ وہ عوامل جنہوں نے ایک گمنام کو سردار دلہا بنایا وہ ان کے والد کی سحرخیزی اور رزق حلال تھا۔ ان کے والد کہا کرتے تھے جو بھی کسی بلند مقام تک پہنچا سحرخیزی کی بدولت پہنچا۔

سردار کہتے تھے ایک بھی صبح ایسی نہیں گزری کہ میں اپنے والد سے پہلے بیدار ہوا ہوں۔ ہمیشہ وہ مجھ سے پہلے بیدار ہوتے۔ سحر خیز، اہل عبادت و نمازِ شب۔ مسجد کے پیش نماز نے بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ پوچھتے تھے حاجی آقا! مطالعات کرتے ہیں یا نہیں.؟ فقہی، مذہبی، سیاسی، انتظامی، معاشرتی، فلاحی ہر طرح کے معاملات میں مکمل نظارت رکھتے تھے۔ قم میں زیرِتعلیم تھا پہلی ملاقات اسی باغ میں ہوئی۔ سردار نے واپس گاؤں آنے کا کہا۔ اگرچہ بچے وہاں پڑھ رہے تھے لیکن سردار کا حکم تھا۔ میں نے انہیں کہا کہ ابھی تعلیم بھی مکمل نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا حکمِ اسلام یہی ہے اپنے علاقے میں آجاؤ۔ یہ ہجرت مشکل تھی، البتہ خدا کا شکر مسئلہ حل ہوگیا۔ اپنی تمام مصروفیت کے باوجود وہ جب بھی عید پر یہاں آتے، اپنی توان کے مطابق تمام ضرورت مندوں کی مدد کو پہنچتے۔ کسی کو لباس، خوراک، بستر اور مکان کی مشکل ہوتی اسے حل کرنے کی کوشش کرتے۔ مسجد کی تعمیر ہو یا لوگوں کے مکانات کی تعمیر وہ ہر ایک کو توجہ سے دیکھتے۔ لگتا تھا جنگی کمانڈر نہیں بلکہ تعمیرات کے ماہر ہیں۔ کسی بھی طرح کی کوئی مشکل ہوتی وہ حل کرنے کی کوشش کرتے۔ انہیں نہ صرف اس گاؤں میں بلکہ جہاں بھی اس طرح کی خبر ملتی کہ کوئی ضرورت مند ہے، وہ اس کی مدد کو پہنچتے۔

یہ کس کی سیرت ہے؟ یہ اس فاطمی گھرانے کی خصوصیات ہیں کہ جن کے بچے تین راتیں بھوکے سوتے ہیں لیکن یتیم، مسکین اور اسیر کو کھانا دیتے ہیں۔ مولانا صاحب کہہ رہے تھے کہ امام زمانؑ کیساتھ ان کا خاص رابطہ تھا۔ دعا عہد کو گریہ و زاری کیساتھ مکمل کرتے، آخر تک موجود رہتے۔ یہ اس مکتب کے شاگرد ہیں کہ جب امام خمینیؒ ہسپتال میں تھے تو اس وقت بھی ان کی دعا عہد جاری رہی۔ جب شہداء کی ماؤں سے التجا کرتے کہ میری شہادت کی دعا کریں تو وہ کہتیں تم شہید ہو جاؤ گے تو ہمارا کیا ہوگا۔ تم یتیموں کے لئے ایک باپ کا مقام رکھتے ہو۔ کیسے تمہاری شہادت کی دعا کریں۔ اگر کہوں تو بے جا نہ ہوگا۔ شاید سردار سو سے زائد مرتبہ شہادت تک پہنچے لیکن خدا نے اس صدی کے فتنے یعنی داعش اور اس کے سرپرستوں کی ناک خاک پر رگڑنے کے لئے زندہ رکھا۔ اس نے مظلوموں کی آواز کو ایک طاقت عطا کی۔ آج شام، یمن، لبنان، غزہ و فلسطین کے بچے، بوڑھے، جوان اور خواتین ان کی تصویر کو چومتے ہوئے اور گریہ کرتے، یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اے دلوں کے سردار! تو نے ہمیں ظالموں کے مقابل کھڑے ہونے کا درس دیا، تجھے نہیں بھولیں گے، تو ہی ہمارا حقیقی ہیرو ہے، تو شہید قدس ہے، تو شہید یمن ہے، تو شہید عراق ہے، تو شہید لبنان ہے، تو عالم اسلام کا شہید ہے، تو خود تو آدھی رات کو سو گیا مگر ہمیں بیدار کرگیا۔

جب ذکر وفاؤں کا، گلستاں میں چھڑے گا
برسوں تجھے گلشن کی فضا یاد رکھے گی

اس تحریر کا اختتام قنات مَلِک کے امام مسجد کی اس بات سے کریں گے کہ وہ کہہ رہے تھے۔ سردار واقعاً اس مقام کے لائق تھے کہ انہیں شہادت کی موت نصیب ہوئی۔ اگر کسی اور طرح اسے موت آتی تو گھاٹے کا سودا تھا لیکن ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔ اگرچہ میرے والدین زندہ ہیں لیکن مجھے لگتا ہے کہ جیسے میں یتیم ہوگیا ہوں۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

واہ رے تجربہ کارو!

  (ذکیہ نیئر زکی)  اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں …