ہفتہ , 4 فروری 2023

عمران خان کی غلطیاں!!!!

(محمد اکرم چوہدری)

سابق وزیر اعظم عمران خان ان کے ساتھی اور انہیں پسند کرنے والے یہ خیال کرتے ہیں کہ شاید ان دنوں ملک میں مائنس عمران خان کے فارمولے پر کام ہو رہا ہے ۔ عمران خان کے طرز سیاست سے اختلاف کریں اتفاق کریں انہیں ایک کامیاب وزیراعظم کہیں یا ان کے دور حکومت کو ناکام قرار دیا جائے اس حوالے سے مختلف رائے پائی جاتی ہے اور آج تک لوگ اپنے اپنے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں لیکن یہ بات درست ہے کہ عمران خان کو ماننے والے، انہیں ووٹ دینے والے یقین رکھتے ہیں کہ ملک میں پاکستان تحریک انصاف کے علاوہ جو سیاسی جماعتیں اس وقت میدان میں ہیں گذشتہ تیس پینتیس برس کے دوران یہ سیاسی قیادت ملک کو معاشی بحران سے نکالنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ پی ٹی آئی کے ووٹرز یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکمران اور حکومت میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین کے پاس ملک کے معاشی مسائل کا کوئی حل نہیں ہے۔ پی ٹی آئی کے ووٹرز یہ بھی سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومت میں شامل تمام اہم شخصیات اور ان کے ساتھ کام کرنے والے ایمانداری کے ساتھ کام نہیں کرتے ۔ یہ بنیادی طور پر عمران خان کا بیانیہ ہے اور لوگ اسے تسلیم کرتے اور اسے درست سمجھتے ہیں۔ ان دنوں ملک میں سیاسی عدم استحکام پایا جاتا ہے کیونکہ عوام کی بڑی تعداد اس بیانیے پر یقین رکھتی ہے کہ موجودہ سیاسی قیادت گذشتہ تیس پینتیس برس کے دوران ملک کو مسائل سے نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ عمران خان کی آواز پر حاضر ہوتے ہیں اور ان کا ساتھ دیتے ہیں۔ عدم استحکام کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ لوگ ردعمل دے رہے ہیں۔ ان حالات میں جب لوگ موجودہ حکومت کو کھلے دل سے تسلیم نہیں کر رہے اور باوجود کوششوں کے آج تک ذوالفقار علی بھٹو کو مائنس نہیں کیا جا سکا، میاں نواز شریف آج بھی سیاسی حقیقت ہیں تو پھر عمران خان کیسے مائنس ہو سکتے ہیں۔ عمران خان کو بزور طاقت سیاسی منظر نامے سے غائب کرنا ایک مشکل کام ہے۔ عمران خان کے ماننے والے انہیں ایک نظریاتی سیاسی لیڈر کے طور پر دیکھتے ہیں اور نظریے کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔

جہاں تک تعلق عمران خان کی موجودہ سیاسی مشکلات کا ہے تو اس میں کچھ شک نہیں کہ وہ اپنے سیاسی کیریئر کے مشکل ترین دور سے گذر رہے ہیں۔ ان حالات تک پہنچنے میں انکی اپنی غلطیوں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا وہ کرکٹ کھیلتے ہوئے ڈکٹیٹر شپ کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں اور جب وزیراعظم بنے تو اس وقت بھی انہوں نے معاملات سے لاتعلقی اختیار کیے رکھی ان کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ بھی یہی ہے۔ کیونکہ خیبر پختونخواہ، پنجاب سندھ اور بلوچستان میں انہوں نے لوگوں سے جڑے رہنے اور بات چیت کرنے کے بجائے تنہائی اختیار کی اور اس تنہائی کا انہیں یہ نقصان ہوا کہ وہ لوگوں سے دور ہوتے چلے گئے۔ معاملات سے لاتعلقی حالات کا اندازہ لگانے سے روکنے میں بڑا کردار ادا کرتی ہے۔ بہرحال اب دیکھنا یہ ہے کہ عمران خان موجودہ صورتحال سے کیسے نکلتے ہیں لیکن اگر یہ کہا جائے کہ انہیں فوری طور پر مائنس کیا جا سکتا ہے تو یہ مشکل ہو گا۔

ایم کیو ایم کے اتحاد کی خبریں بھی سننے کو مل رہی ہیں۔ ساری صورتحال میں عامر خان کہیں نظر نہیں آرہے اگر عامر خان اتحاد کا حصہ نہیں بن سکتے تو پھر ایم کیو ایم اپنے حقیقی مقاصد کو حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکتی ۔ جب تک ایم کیو ایم کے تمام اہم لوگ ایک ساتھ نہیں بیٹھیں گے اس وقت تک سیاست مشکلات کا شکار رہے گی۔ بعض لوگ اس عمل کو دیکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ کی طرف اشارہ کر رہے ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب تک ایم کیو ایم متحد نہیں ہو جاتی ان کے لیے انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا آسان نہیں ہو گا۔ ایم کیو کی بقاء اسی صورت ہے کہ سب لوگ متحد ہو جائیں اور اکٹھے ہو کر کام کریں۔

اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات نہیں ہو رہے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی بلدیاتی انتخابات کا انعقاد مشکل نظر آ رہا ہے اگر حقیقت پسندی سے صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ انتخابات کے راستے میں رکاوٹ صرف اور صرف ملک کے معاشی حالات ہیں اور امن و امان کی صورتحال کو بھی اس ضمن میں نظر انداز نہیں کیا جاسکتا بلدیاتی انتخابات ہونے ہیں یہ ضرورت ہے اور تقاضا بھی ہے۔ اس کے بغیر معاملات آگے نہیں بڑھ سکتے لیکن تکلیف دہ بات یہ ہے کہ ملک کے معاشی حالات اور سیاسی عدم استحکام فوری طور پر بلدیاتی انتخابات کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ اب یہ حالات ہیں تو پھر آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوتے ہیں کہ اگر معاشی استحکام نہ آیا، امن و امان کی صورتحال خدانخواستہ خراب ہوتی رہی اور سیاسی عدم استحکام بھی عروج کی طرف رہا تو پھر عام انتخابات کیسے ہو ں گے۔

عون چودھری بھی کچھ راز کی باتیں سامنے لائے ہیں چونکہ وہ متاثرہ فریق ہیں اس لیے ان کے بیانات پر تبصرہ کرتے ہوئے یہ ضرور دیکھنا چاہیے کہ کہیں وہ یہ سب کچھ اس لیے تو نہیں کہہ رہے کہ عمران خان سے راستے جدا ہو چکے ہیں۔ وہ کچھ باتیں اختلاف رکھنے کی وجہ سے بھی کر سکتے ہیں۔ بہرحال دو افراد کے مابین ہونے والی گفتگو وہیں تک رہے تو سب سے بہتر ہے لیکن یہ فارمولا پاکستان تحریک انصاف پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ پی ٹی آئی کے نمائندوں کو بھی یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہر وقت سیاسی حریفوں کو نشانہ بنانا مناسب عمل نہیں ہے۔بشکریہ نوائے وقت

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …