جمعرات , 9 فروری 2023

پاکستان کی مشکلات اور امریکہ

(تحریر: تصور حسین شہزاد)

سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بھی بھٹو بنانے کا فیصلہ ہوچکا ہے۔ اسلام آباد میں ایک بہت بڑی کھلی ڈلہی بلڈنگ ہے، غیر ملکیوں کی۔ وہاں ہی فیصلے ہوتے ہیں کہ پاکستان میں کس کو اقتدار میں لانا ہے اور کس کو نہیں۔ عمران خان نے اسی ’’غلامی‘‘ سے نجات کو بنیاد بنا کر اپنا سیاسی بیانیہ سیٹ کیا تھا، جسے عوام میں اچھی خاصی پذیرائی ملی، مگر وہ قوت اتنی چالاک ہے کہ

میں کس کے ہاتھ پہ اپنا لہو تلاش کروں
تمام شہر نے پہنے ہوئے ہیں دستانے

یہ قوت بھی پاکستان میں دستانے پہن کر وارداتیں کرتی ہے اور جس کو چاہتی ہے، پھانسی پر لٹکوا دیتی ہے، جس کو چاہتی ہے، جہاز میں اُڑوا دیتی ہے۔ جسے چاہتی ہے اقتدار کے ایوانوں میں پہنچا دیتی ہے اور جسے چاہتی ہے وزیراعظم ہاوس سے نکلوا دیتی ہے اور پھر جسے چاہتی ہے امپورٹ کرکے پاکستانی عوام پر مسلط کر دیتی ہے۔ پاکستان کے آئین میں لکھا ہے کہ ’’اقتدار اعلیٰ کی مالک اللہ کی ذات ہے، حکمران بطور امانت اسے استعمال کریں گے۔‘‘ میرے خیال میں اب یہ جملہ تبدیل کر دینا چاہیئے اور لکھ دینا چاہیئے کہ ’’اقتدار اعلیٰ کا مالک امریکہ ہے اور پاکستانی حکمران ان کے ملازم بن کر اس امانت کو استعمال کریں گے۔‘‘

ذوالفقار علی بھٹو وہ حکمران تھے، جنہوں نے مسلم اُمہ کی فلاح اور اتحاد کا سوچا، انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اب عمران خان نے بھی وہی پالیسی اختیار کی اور پہلے پاکستان کو امریکی غلامی سے نکالنے کی کوشش کی اور اگلا مرحلہ اُمت مسلمہ کو امریکہ سے نجات دلانے کا تھا، مگر رجیم چینج کی ایسی چال چلی گئی کہ عمران خان کو حکومت سے نکال دیا گیا، اب عمران خان کیخلاف نئی سازش تیار ہو رہی ہے۔ انہیں گرفتار کرکے جیل میں ڈالا جائے گا اور اس کے بعد بھٹو والی تاریخ دوہرائی جائے گی۔ اس معاملے میں اگر عوام نکلتے ہیں اور اس سازش کا راستہ روکتے ہیں تو ممکن ہے، یہ تاریخ دوبارہ نہ دوہرائی جا سکے۔ عمران خان خود بھی قوم سے کہہ چکے ہیں، اگر انہیں گرفتار کیا جاتا ہے تو پوری قوم ترک عوام کی طرح سڑکوں پر نکل آئے۔ یہ اب پاکستانیوں پر منحصر ہے کہ وہ ایک اور بھٹو کی لاش اٹھانا چاہتے ہیں یا امریکی غلامی سے نجات پا کر عزت کی زندگی گزارنا چاہتے ہیں۔

آرمی چیف کا دورہ سعودی عرب
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر گذشتہ روز سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے سرکاری دورے پر ہیں۔ آرمی چیف کا یہ دورہ 10 جنوری تک ہے۔ اس دوران وہ سعودی اور یو اے ای کی قیادتوں سے ملاقاتیں کریں گے۔ ملاقاتوں میں فوجی تعاون کیساتھ دو طرفہ امور پر بات چیت ہوگی۔ دوسری جانب سعودی خبر ایجنسی کے مطابق آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان سے دارالحکومت ریاض میں ملاقات کی، جس میں دونوں ممالک کے مابین عسکری و دفاعی تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔ سعودی وزیر دفاع نے جنرل سید عاصم منیر کو آرمی چیف بننے پر مبارکباد دیتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ ملاقات میں خطے کی صورتحال اور دیگر بین الاقوامی معاملات پر بھی بات چیت کی گئی۔ کہا جا رہا ہے کہ آرمی چیف وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر گئے ہیں اور سعودی عرب اور یو اے ای سے قرض مانگیں گے۔ سعودی عرب نے شہباز شریف کو ’’لفٹ‘‘ کرانے سے انکار کر دیا تھا، جس کے بعد واقفانِ حال کہتے ہیں کہ شہباز شریف نے آرمی چیف کو آگے کر دیا ہے۔

مریم نواز کا دورہ سوئٹزر لینڈ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ٹوئٹ میں پنجاب حکومت کی ترجمان مسرت جمشید چیمہ نے کہا ہے کہ مریم صفدر نامعلوم سرجری کروانے کیلئے پہلے لندن گئیں اور اب ایک اور سرجری کروانے سوئٹزر لینڈ جا رہی ہیں، ہمیں معلوم ہے سوئٹزر لینڈ کن سرجریز اور کن بینک اکاؤنٹس کیلئے مشہور ہے۔ بھگوڑوں کا یہ خاندان پاکستان کو اپنی ذاتی جاگیر سمجھتا ہے، لیکن آج تک اس وطن سے مخلص نہیں ہوسکا۔ ایک اور ٹوئٹ میں مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ انہوں نے پاکستان میں بھی ایک ہسپتال بنایا، لیکن وہاں سے بھی علاج نہیں کروا سکتے، پچھلے 40 سال کسی نہ کسی صورت میں اقتدار کے مزے لینے کے باعث فرعونیت اس خاندان کے سر پر سوار ہوچکی ہے۔

ترجمان پنجاب حکومت نے کہا کہ اب جب بھی الیکشن ہوں گے، عوام انہیں دوبارہ زمین پر لائیں گے، اس ملک پر حکمرانی اس ٹھگنی کا خواب ہی رہے گا۔ مسرت جمشید چیمہ نے کہا کہ آج شام 5 بجے چیئرمین پاکستان کیخلاف ہونیوالی گھناؤنی سازش سے قوم کو آگاہ کریں گے، رجیم چینج آپریشن کا مقصد عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کے ساتھ ساتھ پاکستان کو اپاہج بنانا بھی تھا، اس سازش پر نواز شریف اور اسحاق ڈار تیزی سے کام کر رہے ہیں۔

جنرل سید عاصم منیر کی تعیناتی میں تاخیر کیوں ہوئی؟؟
سینیئر صحافی اعزاز سید نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے ناموں کی سمری کے لیٹ ہونے کی وجہ ایک دوست ملک ہے۔ جسے یہ بتایا گیا تھا "پاکستان جس لیفٹیننٹ جنرل کو آرمی چیف تعینات کرنے جا رہا ہے، وہ اہل تشیع ہے۔” صحافی اعزاز سید نے اپنے وی لاگ کے دوران دعویٰ کیا ہے کہ جب آرمی چیف کی تعیناتی کیلئے ناموں پر غور ہو رہا تھا تو اسلام آباد میں واقع سعودی سفارتخانے کے ڈیفنس اتاشی نے ایک رپورٹ بھیجی تھی، سعودی حکومت کو، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ پاکستانی حکومت جس لیفٹیننٹ جنرل کو بطور آرمی چیف تعینات کرنے جا رہی ہے، وہ اہل تشیع ہے، جب یہ رپورٹ سعودی حکومت تک پہنچی تو 16 اور 17 نومبر کو وزیراعظم شہباز شریف کو ایک سگنل آیا کہ جو سعودی فرمانروا ہیں، وہ ان سے خوش نہیں ہیں اور جب وزیراعظم شہباز شریف نے پتہ چلوایا کہ کیوں سعودی فرمانروا خوش نہیں ہیں تو پتہ چلا کہ آپ ایک ایسے آرمی چیف کو تعینات کرنے جا رہے ہیں، جو اہل تشیع ہیں۔

سینیئر صحافی نے مزید بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے اردگرد جو سٹاف ہے، سکیورٹی کے اور اعلیٰ بیوروکریٹس کو بھی ہلایا جلایا کہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کہ سید عاصم منیر کے بارے میں کیسے یہ غلط بات چلی گئی کہ وہ اہل تشیع ہیں؟ وہ تو اہل تشیع نہیں ہیں اور یہ کس نے بات پہنچائی ہے؟ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب پاکستان میں تعینات سعودی سفیر کو جگایا گیا تو پاکستان کے جو سکیورٹی حکام نے ان سے رابطہ کیا اور ان کو بتایا گیا کہ آپ اپنے ملک میں شاہی خاندان کو بتائیں کہ انہیں کسی نے غلط اطلاع دی ہے، نئے آرمی چیف اہل تشیع نہیں ہیں۔ اس میں خبر یہ ہے کہ سعودی سفارتخانے میں جو سفارتکار کیساتھ ڈیفنس اتاشی ہیں، یہ کسی زمانے میں کرنل لیول کا افسر ہوتا تھا، لیکن اب ایک میجر جنرل تعینات ہیں۔

میری اطلاعات کے مطابق آرمی چیف کے بارے میں جو غلط اطلاعات گئی تھیں، یہ سعودی سفارتکار کی جانب سے نہیں گئی تھیں بلکہ سعودی ڈیفنس اتاشی کی جانب سے گئی تھیں اور وہ پاکستان میں کچھ بیوروکریٹس اور کچھ سکیورٹی کے ٹاپ کے افسران بھی تھے، جن میں کچھ آرمی چیف کے امیدوار بھی تھے۔ اعزاز سید نے مزید کہا کہ میں جنرل فیض حمید کا نام نہیں لے رہا، جنرل فیض سے نہیں بلکہ کسی اور سے رابطے میں تھے۔ سینیئر صحافی نے مزید بتایا کہ ڈیفنس اتاشی جنرل عاصم منیر کو اس لیے آرمی چیف نہیں لگنے دینا چاہتے تھے، کیونکہ جن صاحب کے ساتھ سعودی ڈیفنس اتاشی رابطے میں تھے، انہوں نے ان کو یہ امید دلوائی تھی کہ اگر وہ آرمی چیف تعینات ہوں گے تو سعودی ڈیفنس اتاشی کو سعودی حکومت سے کہہ کر پاکستان میں سفیر تعینات کروا لیں گے۔

اسحاق ڈار
وفاقی وزراء کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان کبھی ڈیفالٹ نہیں کرے گا، افواہیں پھیلانی بند کی جائیں، جن کو زیادہ شوق ہے، وہ اپنے سیاسی شوق کو پورا کرنے کیلئے اس طرح کی مہم میں ناکام ہوں گے۔ ہم نے ریاست کو ڈیفالٹ اور سری لنکا بننے سے بچایا ہے، ہم نے اپنی سیاست کی قربانی دی ہے، اتحادی جماعتوں نے مل کر ملک کو ڈوبنے سے بچایا۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم کی حکومت نے فیول پرائسز آئی ایم ایف کیساتھ کی گئی کمٹمنٹس کی وجہ سے بڑھائیں، حکومت نے جان بچانے والی ادویات کیلئے ایل سیز کھولنے کا کہا ہے، ادویات اور خوراک کی درآمد پہلی ترجیح اور پٹرولیم مصنوعات دوسری ترجیح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کیساتھ 9ویں ریویو پر بات چیت جاری ہے اور اسی مہینے میں مکمل ہو جائے گا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …