جمعرات , 2 فروری 2023

پاکستان میں صیہونی ریاست کیلئے ماحول سازی

(تحریر: مولانا احمد فاطمی)

اگرچہ یہ امر روز روشن کی طرح واضح ہے کہ عربوں کی ریاستی بے راہ روی کے بعد اب کسی بھی مسلمان ریاست کا اور بالخصوص ان ریاستوں کا جو عربوں کی مرہون منت ہیں، کسی کا بھی اعتبار باقی نہیں رہا۔ ابراہامک اکاورڈ نامی معاہدے کے کئی ظاہر اور کئی پوشیدہ پہلو ہیں۔ چونکہ پاکستان میں حکومتی سطح پہ سرعام اسرائیل کو تسلیم کرنے میں عوامی ردعمل کے مسائل ہیں، اس لیے پاکستان میں اوپر سے نیچے کے بجائے نیچے سے اوپر کی جانب ماحول سازی کا کام جاری و ساری ہے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ کچھ وقت پہلے پاکستانیوں کا ایک وفد اسرائیل دورے پر گیا تھا اور وہ امیر کبیر سرمایہ دار افراد تھے، جن کا پاکستان میں پس پردہ کافی اثر ہے۔ بین المذاہب ہم آہنگی جو کہ ایک دین و اسلامی قدر ہے، اس کو ایک مختلف جہت سے مسخ کرکے اس پر کام زور و شور سے جاری ہے۔

AMMWEC اور Sharakah نامی تنظمیوں کی نمائندہ خاتون جو کہ پاکستانی نژاد امریکی شہری ہیں اور وہ اسرائیل دورے کے پاکستانی وفد کی سربراہ بھی تھیں، حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ یہاں اک جانب انہوں نے چند مذہبی رہنمائوں اور سماجی و سیاسی و سفارتی شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ اس کے علاؤہ شہر کراچی اور لاہور میں (باقی شہروں کی رپورٹ نہیں آئی) میں Hanukkah نامی یہودی تہوار جس کو روشنی کا تہوار کہا جاتا ہے، اس کو منایا گیا اور اس کا شعار یہ دیا گیا ہے ”اک قوم (صیہونیوں) سے نفرت تمام انسانوں سے نفرت ہے، آئیں صیہونیت مخالف رویئے کی تاریکی کو ختم کرنے کے لیے ایک چراغ جلائیں۔“ اس شعار کے تحت مختلف طبقات مثلاً اقلیتوں، خصوصاً بہائیوں (چونکہ ان کے مذہبی مقدس مقامات اسرائیل میں ہیں) اور چند مسلمانوں کو شامل گیا، جبکہ اس کے ساتھ ساتھ نوجوان نسل میں سے بھی کچھ لوگوں کو شامل کیا گیا۔

یہ اگرچہ ایک غیر محسوس اور محدود سطح پر کیا گیا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کی یقینی طور پر دور رس بنیادیں بنانے کے لیے یہ فتنے کے نطفے کی حیثیت بھی رکھتا ہے۔ اک باقاعدہ منظم صورت میں اس قسم کی سرگرمیوں کا آغاز ایک نہایت تشویشناک امر ہے، جبکہ یہ صیہونی نواز گروہ پاکستان کے غریب علاقوں میں اسکولنگ سسٹمز بھی قائم کرنا شروع کرچکا ہے جہاں غیر محسوس اور تدریجی طور پر بچوں کی ذہن سازی کا بھی بھرپور امکان ہے۔ صیہونی ریاست ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے، جس کی حمایت دین اسلام، نظریہ پاکستان اور بانی پاکستان کی فکر سے کھلا تصادم اور بغاوت کے مترادف ہے۔ صرف پرچم جلانے اور نعرے لگانے سے نہ کچھ ہوا ہے اور نہ ہونا ہے بلکہ جس طرح دشمن اپنا کام کر رہا ہے، ہم کو بھی اپنی تیاری کرنا اور جواب دینا ہوگ۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاکستان میں کوئی من موہن سنگھ نہیں آئے گا

(وسعت اللہ خان)  نوے کی دہائی بہت ہی پرشور تبدیلیوں کا نقطہِ آغاز تھی۔سوویت یونین …