جمعرات , 9 فروری 2023

چھ روزہ صیہونی کابینہ کی فتنہ انگیزیاں

(تحریر: فاطمہ محمدی)

غاصب صیہونی رژیم کی نئی کابینہ کے قومی سلامتی کے وزیر اتمار بن گویر نے شدید حفاظتی اقدامات میں مسجد اقصی کی بے حرمتی کی ہے۔ اس نے کچھ یہودی آبادکاروں کے ہمراہ مسجد اقصی کے صحن میں داخل ہو کر اشتعال انگیز اقدام انجام دیا ہے۔ گذشتہ پانچ سال میں وہ پہلا صیہونی وزیر ہے جس نے ایسا کیا ہے۔ بن گویر یہودیوں کی نسلی برتری، فلسطینیوں کو نکال باہر کرنے، مقبوضہ سرزمین پر صرف یہودیوں کی حاکمیت اور یہودی معبد کی تعمیر نو کا حامی ہے۔ اس نے وزارت کا قلمدان سنبھالنے سے پہلے ہی اس بات کا اعلان کر دیا تھا کہ وہ مسجد اقصی میں داخل ہو گا لیکن کابینہ تشکیل پانے کے چھٹے روز ہی اس کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی ایک غیر متوقع اقدام ہے۔ گذشتہ کئی دنوں سے بن گویر کی جانب سے ایسے اقدام کا امکان ظاہر کیا جا رہا تھا۔

پیر کے دن ذرائع ابلاغ میں کہا گیا کہ وہ اپنے فیصلے سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ لیکن کل اچانک ہی مسجد اقصی میں اس کی تصاویر عبری میڈیا پر شائع ہوئیں۔ صیہونی ذرائع ابلاغ نے بتایا کہ اسرائیل کی داخلی انٹیلی جنس ایجنسی شاباک نے اسے مسجد اقصی جانے کی اجازت دی تھی۔ مسجد اقصی میں چند دیگر یہودی آبادکاروں کے ہمراہ بن گویر کی موجودگی شدید حفاظتی اقدامات کے تحت صرف بارہ منٹ تک رہی جس کے بعد وہ مسجد کے صحن سے باہر نکل گیا۔ کچھ گھنٹے بعد اتمار بن گویر نے اپنے ٹویٹر اکاونٹ پر پیغام دیتے ہوئے لکھا: "ہماری حکومت ایسی نہیں جو حماس کی دھمکیوں کے آگے گھٹنے ٹیک دے۔ قدسی حرم اسرائیلیوں کیلئے اہم ترین مقام ہے۔” کینسٹ میں بن گویر کی پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن الموگ کوہن نے دھمکی آمیز لہجے میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ ہمارا ایک بندہ ماریں گے تو ہم ان کے پانچ سو افراد قتل کریں گے۔

صیہونی شدت پسند عناصر کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تل ابیب میں امریکی سفیر تھامس نائیڈز، جن کا ملک اسرائیل کا قریبی ترین اتحادی ہے، نے کہا کہ جو بائیڈن حکومت مسجد اقصی کی موجودہ صورتحال کو نقصان پہنچانے کے مخالف ہے۔ نائیڈز نے کہا: "میں مزید واضح انداز میں کہنا چاہوں گا کہ ہم موجودہ صورتحال کو باقی رکھنا چاہتے ہیں اور ہمارے لئے ایسے اقدامات قابل قبول نہیں جو اس صورتحال کو تبدیل کرتے ہوں۔ ہم نے اسرائیل کے ساتھ بات چیت میں بہت واضح انداز میں یہ موقف پیش کیا ہے۔” دوسری طرف اسرائیل کے سابق وزیراعظم یائیر لاپید نے بھی بن گویر کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے اور اپنے ٹویٹر پیغام میں لکھا ہے کہ ایک کمزور وزیراعظم نے غیر ذمہ دار ترین شخص کو وزیر بنا رکھا ہے۔

متحدہ عرب امارات نے بھی صیہونی وزیر کے اس اقدام پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مسجد اقصی کی حیثیت اور صورتحال تبدیل نہ ہونے پر زور دیا ہے اور صیہونی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تناو میں کمی لائے اور ایسے اقدامات سے گریز کرے جن سے خطے میں تناو اور عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ دوسری طرف صیہونی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا پہلے سے طے شدہ متحدہ عرب امارات کا دورہ بھی کینسل کر دیا گیا ہے۔ فلسطین میں اسلامی مزاحمت کے گروہوں حماس اور اسلامک جہاد نے بھی بیانیے جاری کرتے ہوئے صیہونی وزیر کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی کو مجرمانہ اقدام قرار دیا ہے اور اس بات پر زور دیا ہے کہ اسلامی مزاحمت ہر لحاظ سے بھرپور تیاری رکھتی ہے۔ اسلامک جہاد فلسطین کے ترجمان طارق سلمی نے کہا کہ اتمار بن گویر کی مسجد اقصی پر جارحیت دراصل فلسطینی قوم اور تمام عرب عوام اور مسلمانوں پر جارحیت ہے۔

اسلامی مزاحمت کی تنظیم حماس نے بھی اپنے بیانیے میں اس بات پر زور دیا ہے کہ صیہونی دشمن اور اس کی شدت پسند اور فاشسٹ کابینہ کے خلاف فلسطینی قوم اور سرزمین کے دفاع کیلئے جنگ جاری رہے گی جو غاصب صیہونی رژیم کے مکمل خاتمے اور فلسطین کی آزادی تک نہیں رکے گی۔ اسلامک جہاد نے ایک نئے منصوبے کا اعلان کیا جس کے تحت تمام فلسطینی شہریوں کو کافی حد تک اسلحہ اور فوجی سازوسامان فراہم کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صیہونی دشمن کو یہ یقین دہانی کروانی ہے کہ تمام فلسطینی شہری اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کیلئے پوری طرح تیار ہیں۔ دوسری طرف فلسطین اتھارٹی کے ترجمان نبیل ابوردینہ نے بھی مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت تبدیل کرنے کی غرض سے صیہونی رژیم کے اقدامات کو اعلان جنگ قرار دیا ہے۔ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسئلہ فلسطین ایک نئے فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

غاصب صیہونی رژیم کی فوج نے بھی مسجد اقصی کی بے حرمتی پر فلسطینیوں کے ممکنہ ردعمل سے خوفزدہ ہو کر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے۔ نئے انتفاضہ کے ممکنہ آغاز سے بھی پریشان اسرائیلی فوج نے نئی ہدایات جاری کی ہیں اور پتھر مارنے والے فلسطینیوں پر فائرنگ سے اس وقت تک منع کیا ہے جب تک کسی فوجی کی جان کو خطرہ لاحق نہ ہو جائے۔ دوسری طرف اسلامی تعاون کی تنظیم او آئی سی نے بھی صیہونی وزیر کی جانب سے مسجد اقصی کی بے حرمتی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے مسجد اقصی کی تاریخی حیثیت کو تبدیل کرنے کی صیہونی کوشش قرار دیا ہے۔ او آئی سی نے مزید کہا کہ اس اقدام کے ردعمل میں جو کچھ بھی سامنے آئے گا اس کی ذمہ داری غاصب صیہونی رژیم ہو گی۔ قطر کی پارلیمنٹ نے بھی صیہونی رژیم کی جانب سے قدس شریف کو یہودیانے کی کوششوں کی مذمت کی ہے اور اسے فلسطینی قوم کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

(شیگل کیساپوگلو) ترکی اور شام میں پیر کے روز 7.8 شدت کا زلزلہ آنے کے …