جمعرات , 9 فروری 2023

کیا ٹوئٹر نے مشرق وسطٰی میں امریکی جنگ کے پروپیگنڈے کو آگے بڑھایا ہے ؟ 

اس بارے میں معلومات مسلسل سامنے آ رہی ہیں کہ کس طرح ٹوئٹر جان بوجھ کر بیرون ملک امریکی پروپیگنڈے کی کوششوں کا ایک ذریعہ بن گیا جو صرف مزید تشدد اور افراتفری پھیلانے کا کام کرتا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ بظاہر امریکی کارپوریٹ پریس اور امریکی عوام دونوں نے اس خبر کا اجتماعی طور پر خیر مقدم کیا ہے۔

The Intercept کے ایک حالیہ مضمون میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح ٹویٹر نے امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) ، جو کہ امریکی محکمہ دفاع کی ایک ڈویژن ہے،کی پروپیگنڈا پھیلانے کے لیے کوششوں کو سہولت فراہم کی ، خاص طور پر مشرق وسطیٰ کے بارے میں، خطہ میں پرائیویٹ افراد کے بھیس میں ان کاجعلی اکاؤنٹس کا استعمال کرتے ہوئے۔
ٹویٹر کی طرف سے ان اکاؤنٹس کو خصوصی ٹریٹمنٹ دیا گیا، جس نے انہیں ‘بلیو چیکڈ’ تصدیق شدہ اکاؤنٹس جیسی مراعات دی، جیسا کہ دی انٹرسیپٹ آرٹیکل بیان کرتا ہے، "اس سے بہت سے فوائد حاصل ہوں گے، جیسے کہ الگورتھمک بوٹس کے لیے ناقابل تسخیر ہونا جو اکاؤنٹس کو فلیگ کرتے ہیں۔ اسپام یا بیجا استعمال کے ساتھ ساتھ دیگر اسٹرائیکس کے لیے جو مرئیت میں کمی یا معطلی کا باعث بنتے ہیں۔

اور، یقیناً، یہ ایک ایسے وقت میں کیا جا رہا تھا جب ٹویٹر سینکڑوں اکاؤنٹس کو حذف کر رہا تھا جنہیں روسی حکومت سے وابستہ سمجھا جاتا تھا اور اس طرح کے دوسرے اکاؤنٹس کو "روسی ریاست سے منسلک میڈیا” کے طور پر نامزد کیا جا رہا تھا، یہاں تک کہ جب کچھ کے معاملے میں میرے دوست، جیسے فیوریلا ازابیل، یہ اکاؤنٹس نجی افراد کے تھے جو اپنی ذاتی حیثیت میں لکھتے ہیں، لیکن انہیں بھی محض روس کے ساتھ وابستہ سمجھ کر بند کر دیا گیا۔

ٹویٹر کی طرف سے "ترجیحی خدمت” دیے گئے اکاؤنٹ کی ایک مثال @yemencurrent (اب حذف کر دی گئی ہے) تھی، جس نے دوسری چیزوں کے علاوہ، "اس بات پر زور دیا تھا کہ امریکی ڈرون حملے ‘درست’ تھے اورانہوں نے دہشت گردوں کو ہلاک کیا، نہ کہ شہری، اور اس نے امریکہ اور سعودی عرب کی پشت پناہی میں اس ملک کے اندر حوثی باغیوں پر حملوں کو جائز قرار دیا-اور اس طرح امریکی اور سعودی قیادت میںایک ایس جنگ کو جائز قرار دیا گیاجس کا امریکی پریس میں بمشکل ہی زکر ہوتا ہے اور اس طرح زیادہ تر امریکی اس سے ناواقف ہیں، خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ اس جنگ میں بڑے پیمانے پر عام شہریوں اور شہری بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اور امریکی حکومت کی جانب سے شہری ہلاکتوں کا صحیح حساب کتاب کرنے میں دانستہ ناکامی کی وجہ سےایسا ہوتا رہا ہے۔

امریکہ کے اپنے حکومتی احتساب کے دفتر نے، جون میں نیویارک ٹائمز کی طرف سے اطلاع کی گئی ایک محدود رسائی رکھنے والی دستاویز میں، یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ، 2015 میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے، "وہ محکمہ خارجہ اور محکمہ دفاع کا جائزہ لینے میں ناکام رہے ہیں۔ یمن میں تباہ کن جنگ میں سعودی قیادت والے اتحاد کی وجہ سے عام شہریوں کی ہلاکتیں اور ہلاکتوں میں امریکی ساختہ ہتھیاروں کا استعمال ہوتا آیا ہے”

NYT نے یہ بھی اطلاع دی کہ اس سے قبل، "اگست 2020 میں، محکمہ خارجہ کے انسپکٹر جنرل نے ایک رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ محکمہ شہری اموات کو کم کرنے کے لیے مناسب اقدامات کرنے میں ناکام رہا ہے۔” اس کے نتیجے میں ایک اندازے کے مطابق 150,000+ اموات ہوئیں، جن میں تقریباً 15,000 شہری شامل ہیں، اور تاریخ میں دنیا کے بدترین انسانی بحرانوں میں سے ایک ابھر کر سامنے آیاہے۔

اور پھر بھی، ٹویٹر نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے CENTCOM کی غلط معلومات کی مہم میں مدد کی اور اس کی حوصلہ افزائی کی جسم میں تاثر دیا گیا کہ امریکی تیار کردہ ہتھیاروں سے شہریوں کو کسی طرح نقصان نہیں پہنچ رہا ہے – یہ ایسے دعویٰ جات ہیں جن سے امریکی ٹیکس دہندگان کو اس جنگ کے بارے میں دھوکہ دیا گیا جس کے وہ بینک رولنگ کر رہے ہیں، اور جو حکومتی پمپوں کو مزید کام کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ ٹیکس گذاروں کی رقم کو مزید کھینچ سکیں اور اس ناپاک تنازعہ کے لیے امدادفراہم کی جائے جس کا صدر بائیڈن نے روکنے کا وعدہ کیا تھا۔

دی انٹرسیپٹ آرٹیکل کے مطابق، ٹوئٹر کی طرف سے ترجیح دی جانے والی دیگر جعلی CENTCOM اکاؤنٹس "شام میں امریکی حمایت یافتہ ملیشیا اور عراق میں ایران مخالف پیغامات کو فروغ دینے پر مرکوز ہیں۔” ایک بار پھر، بہت کم امریکیوں کو اس بات کا علم ہے کہ شام میں امریکہ کی حمایت یافتہ ملیشیا گروپوں میں سے بہت سے، "اعتدال پسند باغی” ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے، خود اس ملک میں شہریوں کے خلاف خوفناک مظالم ڈھا چکے ہیں۔ ایسے ملیشیا گروپوں کو فروغ دینے والے جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس اس موضوع کو مزید الجھا دیتے ہیں۔

جہاں تک "عراق میں ایران مخالف پیغامات” اور دیگر جگہوں کا تعلق ہے، دی انٹرسیپٹ وضاحت کرتا ہے کہ جیسا کہ اسٹینفورڈ انٹرنیٹ آبزرویٹری نے پہلے اطلاع دی تھی، کچھ جعلی ٹویٹر اکاؤنٹس نے "ایران پر عراق کی آبی سلامتی کے لیے خطرہ بننے اور ملک میں آئس کرسٹل( منشیات کی ایک قسم)کے سیلاب آنے کا الزام لگایا ہے۔ جبکہ دوسروں نے ان الزامات کو فروغ دیا کہ ایران افغان مہاجرین کے اعضاء کاٹ رہا ہے۔ اس طرح کے پروپیگنڈے کا دوہرا مقصد ہے: مشرق وسطیٰ میں اقوام کے درمیان تناؤ اور تنازعات کو بڑھانا اور خود امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مسلح تصادم کے لیے امریکا اکے اندر فضا پیدا کرنا۔

دوسرے لفظوں میں، ٹویٹر جنگی پروپیگنڈے میں امریکی محکمہ دفاع کی مدد اور حوصلہ افزائی کر رہا ہے، یہ ایک ایسا عمل ہے جو WWII کے بعد Nuremberg ٹرائلز میں جرم کے طور پر قائم کیا گیا تھا۔ اگر ہمارے پاس بین الاقوامی قانون کا ایک منصفانہ اور کام کرنے والا نظام ہوتا، تو ٹویٹر اور محکمہ دفاع کے اہلکار ایسے جرائم میں ملوث ہوتے، اور ہم کہتے کہ واقعی تحقیقات کی جائیں گی۔ تاہم ہمارے پاس ایسا نظام نہیں ہے۔ لہٰذا، یہ امریکی عوام پر منحصر ہے کہ وہ اپنی حکومت اور سوشل میڈیا کمپنیوں کی جانب سے اس طرح کی بدانتظامی کے بارے میں جان کر انہیں جوابدہ ٹھہراتے ہیں یا نہیں۔

یہ بھی امریکیوں پرمنحصر ہے کہ وہ آخر کار یہ سمجھ لیں کہ جب جنگ اور امن کے معاملات کی بات آتی ہے تو ان سے مسلسل جھوٹ بولا جا رہا ہے اور انہیں ان جنگوں کے لیے اپنی رضامندی کو روک دینا چاہیئے جو ان کی حکومت روایتی اور سوشل میڈیا کی مدد سے کرتی ہے۔بشکریہ شفقنا نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …