جمعرات , 9 فروری 2023

کشمیریوں کے نام۔۔۔ شہید قاسم سلیمانی کا پیغام

(تحریر: نذر حافی)

پیغام رسانی کے ہزار طریقے آزما لیجئے۔ سب سے بہترین طریقہ اپنے عمل کے ساتھ پیغام پہنچانا ہے۔ عمل کے ساتھ زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی۔ میدانِ عمل میں جو پیغام، عمل کے ساتھ مرکّب ہو، وہی زندگی کا نچوڑ اور تجربات کا ثمر کہلائے گا۔ شہید قاسم سلیمانی کی ساری زندگی کا ثمر اُن کے طرزِ زندگی سے عیاں ہے۔ آپ کے طرزِ زندگی نے جہاں شام و عراق اور افغانستان کو استعمار و استبداد سے نجات دلائی، وہیں ملتِ مظلومِ کشمیر کیلئے بھی اُسوہ ِجہاد و مقاومت موجود ہے۔ ملتِ کشمیر کیلئے آپ کا پہلا و عملی پیغام اپنے ہدف کو واضح رکھنا ہے۔ اگر ہدف واضح اور روشن ہو تو انسان سرگردان اور گمراہ نہیں ہوتا۔ جو آدمی ہدف کیلئے جان دے دیتا ہے، وہ مر کر بھی فاتح ہوتا ہے اور جو ہدف کو کھو دیتا ہے، وہ سب کچھ جیت کر بھی شکست خوردہ ہوتا ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ہدف کے حوالے سے ملت کشمیر کو شہید قاسم سلیمانی کی زندگی سے کیا درس ملتا ہے۔

۱۔ مشخص شدہ ہدف:
ایک واضح اور روشن ہدف کا تعین شہید قاسم سلیمانی کی زندگی کا نمایاں اصول اور اسلامی تعلیمات کا ایک اہم حکم ہے۔ دین اسلام کسی بھی مسلمان کو بے ہدف زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہر مسلمان کی زندگی کا حقیقی ہدف خدا تک پہنچنا، اُس کا قرب اور اُس کی رضا حاصل کرنا ہے۔ دینِ اسلام صرف ہدف ہی بیان نہیں کرتا بلکہ ہدف تک پہنچنے کا راستہ اور وسیلہ بھی مشخص کرتا ہے۔ اسلامی نکتہ نظر سے کوئی بھی شخص خداک ی معصیّت اور نافرمانی کرکے خدا کو خوش نہیں کرسکتا، لہذا دینِ اسلام اس امر کی تاکید کرتا ہے کہ ایک مسلمان خدا تک پہنچنے کیلئے وسیلہ اور ہدف بھی الہیٰ اختیار کرے۔ اسی امر کی تاکید شہید قاسم سلیمانی کی زندگی میں بھی نظر آتی ہے۔

بطورِ مثال یہ ایک واقعہ ملاحظہ کیجئے:۔ ایک مرتبہ شہید نے شام جانا تھا۔ شہید کے مرتب کردہ شیڈول کے خلاف ایک شہید کی والدہ قاسم سلیمانی سے ملنے آگئی۔ پرواز میں صرف تیس منٹ باقی تھے۔ یقیناً شہید ایک عظیم ہدف کیلئے روانہ ہو رہے تھے۔ پندرہ منٹ کے بعد جناب قاسم سلیمانی کے دوست نے ان سے کہا کہ اگر آپ اجازت دیں تو جہاز کی پرواز پندرہ منٹ لیٹ کروا دیں۔ آپ نے پوچھا کہ جہاز میں کتنے لوگ سوار ہونگے؟ دوست نے کہا یہی کوئی دو تین سو آدمی۔ آپ نے پھر پوچھا کہ یہ جہاز شام تک کتنی پروازیں بھرے گا؟ دوست نے پھر جواب دیا کہ یہی کوئی تین چار۔ آپ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں کہ میں ایک ہزار انسانوں کے حق النّاس کا مجرم بنوں۔ پس اُس روز جہاز اپنے وقت پر اُڑا اور جناب قاسم سلیمانی پرواز سے رہ گئے۔ بے شک آپ قربِ خدا کیلئے عازمِ سفر تھے، لیکن آپ نے اپنے عمل سے یہ پیغام دیا کہ فقط مقصد کا الہیٰ ہونا کافی نہیں ہے، اس مقصد کے حصول کیلئے بھی خدا کی نافرمانی نہیں کی جانی چاہیئے۔

اسی طرح شام میں داعش کے خلاف جنگ کے دوران کا یہ واقعہ بھی ملاحظہ فرمائیے: جناب قاسم سلیمانی نے اپنے بچوں کو ایک ٹیلی فون نمبر دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی روز اس نمبر سے فون آئے تو انتہائی محبت سے جواب دینا۔ انہوں نے بچوں کو بتایا کہ داعش سے جنگ کے دوران ہم شام میں ایک خالی گھر میں جمع ہو کر اپنے اجلاس کیا کرتے تھے۔ جب جنگ ختم ہونے لگی تو انہوں نے اس گھر میں گھر کے مالک کے نام ایک خط لکھ کر آویزاں کر دیا تھا کہ اگر اس گھر کی کسی چیز کو مجھ سے یا میرے ساتھیوں سے کوئی نقصان پہنچا ہو تو نیچے دیئے گئے نمبر پر فون کرکے آپ معاوضہ طلب کر لیجئے۔ ایسے ایک دو نہیں بلکہ ان گنت واقعات ہیں، جو دنیا کے ہر حریّت پسند خصوصاً کشمیریوں کے لئے قابلِ توجہ ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔ آزادی کیلئے جدوجہد ایک الہیٰ ہدف ہے۔ یہ الہیٰ ہدف ہمیشہ کشمیریوں پر واضح رہنا چاہیئے اور اس ہدف تک پہنچنے کیلئے الہیٰ رستے کو ہی اختیار کیا جانا چاہیئے۔ شہید کی زندگی میں جہاں حلال اور جائز راستوں سے خدا تک پہنچنے کا درس ملتا ہے، وہیں آپ کی عملی زندگی کا دوسرا بڑا پیغام دنیا کے بدلتے حالات سے آگاہی اور حالات حاضرہ کے مطابق تیاری کرنا ہے۔ بدلتے حالات کے ساتھ تحریکوں اور تنظیموں کی ہم آہنگی بہت ضروری ہے۔ آب اس پر بھی کچھ روشنی ڈالتے ہیں۔

۲۔ حالاتِ حاضرہ سے ہم آہنگی
شہید قاسم سلیمانی حالات کے بدلتے تقاضوں کو سمجھتے تھے۔ آپ ماضی کے شمر و یزید اور شیطان و قابیل کا عصرِ حاضر میں تعاقب کرتے تھے۔ آپ نے نئے عہد کے ماڈرن شیطانوں اور جدید یزیدوں کو اچھی طرح پہچانا اور پھر انہیں دندان شکن شکست دی۔ فلسطین سے لے کر افغانستان، عراق اور شام تک آپ نے استعماری طاقتوں کو ناکوں چنے چبوائے۔ آپ کی دشمن شناسی اور دوست شناسی کے سبھی معترف ہیں۔ اس میں ملت کشمیر کیلئے یہ واضح پیغام ہے کہ وہ بھی اپنی دھرتی پر قابض شیاطین کے نئے چہروں اور جدید چالوں کو اچھی طرح سمجھیں اور اُن کا توڑ کریں۔ کشمیر کی تحریکِ آزادی کو عصرِ حاضر کے چیلنجز کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ملت کشمیر کیلئے ضروری ہے۔ حریّت پسند تحریکوں کیلئے مشخص ہدف اور بدلتے حالات سے ہم آہنگی کے ساتھ ساتھ فتح، آزادی اور نجات کی امید کا چراغ روشن رکھنا بھی ضروری ہے۔ چنانچہ ملت کشمیر کیلئے بھی اس حوالے سے شہید قاسم سلیمانی کی زندگی میں ایک بڑا درس موجود ہے۔ چراغِ امید روشن رکھنے کے حوالے سے ان شاء للہ اگلی قسط میں بحث کریں گے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …