ہفتہ , 28 جنوری 2023

صنعاء میں شہید قاسم سلیمانی کی یاد میں ایک پُروقار تقریب کا انعقاد

صنعا:یمن کی قومی نجات حکومت نے ایک تقریب میں پاسداران انقلاب اسلامی کی قدس فورس کے شہید کمانڈر اور مقاومتی دھڑے کے دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔ آج ہفتے کے روز یمن کی قومی نجات حکومت نے مقاومتی محور کے کمانڈروں کی شہادت کی برسی کے موقع پر ایک تقریب کا انعقاد کیا۔ "انصار اللہ” کے شعبہ تعلقات عامہ کی رپورت کے مطابق، شہداء کی برسی کی تقریب میں جہاد اسلامی فلسطین کے پولیٹیکل سیکرٹری "خالد البطش” نے بھی شرکت کی۔ خالد البطش نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی اسرائیلی دشمن کے خلاف ایک فاتح تلوار اور فلسطینی عوام کی حفاظت کے لیے آھنی ڈھال تھے۔ خالد البطش نے مزید کہا کہ شہید سلیمانی نے فرقہ واریت اور کسی بھی عنوان سے ہٹ کر مسئلہ فلسطین کے لیے ایک سازگار اسلامی ماحول بنایا۔ انہوں نے اسلحہ سازی اور منصوبہ بندی میں وسعت کے ساتھ فلسطینی مزاحمت کی حمایت کی اور عراق و شام میں امریکی سازشوں کو ناکام بنایا۔

اس تقریب میں تہران سے ویڈیو لنک کے ذریعے عالمی اہل بیت (ع) فورم کی سپریم کونسل کے سربراہ آیت اللہ محمد حسن اختری نے بھی خطاب کیا۔ انہوں کہا کہ یہ لمحہ ایک دردناک موقع ہے، جو تمام مسلمانوں بالخصوص مقاومتی فورسز کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہے۔ شہید جنرل قاسم سلیمانی فلسطین، لبنان، شام، عراق اور یمن میں ہمیشہ مزاحمت کے ساتھ کھڑے رہے۔ جزیرہ نما عرب میں مزاحمتی تنظیم کے رکن جاسم المحمد علی نے کہا کہ ہم ان عظیم علامتوں کے سامنے ہیں، جنہوں نے اس قوم کے وقار کی حفاظت کے لیے اپنا خون تک دے دیا۔ ان عظیم مقاومتی استعاروں نے اپنی جدوجہد کے ساتھ انقلابی اسلام کو ظاہر کرنے اور اس قوم کے اتحاد تک اسے حکمران قوم بنانے کی کوشش کی۔ جاسم المحمد علی نے دوسرے مقاومتی شہداء کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شیخ باقر نمر اور مزاحمتی محور کے کمانڈروں کی اہم خصوصیت میں سے ایک ان کا الہیٰ ہونا تھا، جو ان کی شخصیت پر حاوی تھا۔ ان کا الہیٰ ہونا ان کے روحانی رویئے کی تشکیل کا سبب تھا۔

اس موقع پر یمن کی قومی نجات حکومت کے وزیراعظم "عبدالعزیز بن حبتور” نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ تقریب مقاومتی محور میں یکجہتی اور ہم آہنگی کے معنی کا مجسم نمونہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں اور یہ ہم آہنگی مغرب اور صیہونیت کے منصوبوں کو ناکام بنا دے گی۔ یہ شہداء ہمارے سمبلز ہیں اور فلسطین، لبنان، شام، عراق و یمن کے تمام حریت پسندوں کے لئے ایک مثال ہیں۔ عراق میں کتائب سید الشہداء کے سیکرٹری جنرل "ابوآلا الولائی” نے اس تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا شہیدین سلیمانی اور المہندس امام حسین علیہ السلام کے جہادی مکتب کا مظہر ہیں، جس کا مظاہرہ انہوں نے اپنے طرز زندگی، اخلاق، جہاد اور شہادت سے کیا۔ انہوں نے کہا کہ حسینی مکتبِ مقاومت کے شہید کمانڈر ہمارے لئے ایسا مقام چھوڑ کر گئے ہیں کہ جس سے مزاحمتی بلاک کے مجاہدوں کو استفادہ کرنا ہے اور ان کو کھونا ایک ایسا خلا ہے، جسے کوئی بھی پُر نہیں سکتا۔

یہ بھی دیکھیں

امریکہ اور یورپی ٹرائیکا بحران شام کو طول دینا چاہتے ہیں: شامی وزارت خارجہ

دمشق: شام کی وزارت خارجہ نے چار یورپی ملکوں کے مشترکہ بیان کو اپنے اقتدار …