جمعرات , 2 فروری 2023

شریف برادران اور مریم نواز جنیوا میں

(تنویر قیصر شاہد)

آج جنوری2023 کی 9تاریخ ہے ۔کئی اعتبار سے یہ تاریخ ہماری سیاست اور معیشت کے لیے بڑی اہمیت اختیار کر گئی ہے ۔آج 9جنوری کو وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف، جنیوا(سوئٹزر لینڈ) پہنچ چکے ہیں۔ اکیلے شہباز شریف ہی جنیوا نہیں پہنچے ہیں ، بلکہ اُن کے قائد جناب نواز شریف، بھی وہاں موجود ہیں۔

وہ اپنی صاحبزادی، محترمہ مریم نواز ، کے ہمراہ شہباز شریف سے تین دن پہلے لندن سے جنیوا پہنچ گئے تھے۔ ملک بھر کی مقتدر اور مخالف سیاسی بیٹھکوں میں شریف خاندان کے تینوں مذکورہ افراد کے جنیوا میں یکجا ہونے پر بحثیں ہو رہی ہیں۔

شریف برادران اور محترمہ مریم نواز کا جنیوا میں یہ پُر اسرار اکٹھ ایسے حالات میں ہورہا ہے جب ملکی معیشت اور سلامتی کی کشتی بُری طر ح ہچکولے کھا رہی ہے ۔ عوام کی کمر توڑ مہنگائی اور ہلاکت خیز بے روزگاری کے سبب چیخیں آسمان تک سنائی دے رہی ہیں ، لیکن ہمارے ہر قسم کے حکمرانوں اور67رُکنی وفاقی کابینہ ( مع وزیر اعظم) کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگ رہی ۔

پاکستان میں مرغی کا گوشت650روپے فی کلو کی بلند ترین اور پریشان کن قیمت تک جا پہنچا ہے ۔ وزیر اعظم صاحب بے بس نظر آ رہے ہیں اور وزیر اعظم کے متعلقہ وزیر، طارق بشیر چیمہ مشورہ دے رہے ہیں : ’’مرغی کا گوشت نہ کھائیں کیونکہ سویابین سے تیار ہونے والا یہ چکن کینسر کا سبب بنتا ہے ۔‘‘ بازار میں آٹا بھی نہیں مل رہا۔ہو سکتا ہے کہ یہ وزیر صاحب عوام کو آٹا بھی نہ کھانے کا مشورہ دے ڈالیں ۔ کیا شریف برادران اور محترمہ مریم نوازجنیوا میں پاکستان کے عوام کی صدائیں سنائی دے رہی ہیں ؟

حکومتی ترجمان ، محترمہ مریم اورنگزیب، کا کہنا ہے کہ جنیوا میں جناب شہباز شریف آج اُس اہم عالمی ڈونرز کانفرنس میں شرکت کریں گے جس اجلاس میں متوقع طور پر پاکستان کے کروڑوں سیلاب زدگان کی مالی دستگیری کا اعلان ہونے والا ہے۔

اللہ کرے شہباز شریف اس کوشش اور خواہش میں کامیاب رہیں۔اور نواز شریف کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ جنیوا میں اپنے معالج سے ملاقات فرمائیں گے۔

عوام حیران ہیں کہ تین سال گزرنے کے باوجود نواز شریف ابھی تک لندن تا جنیوامعالجین ہی کو ڈھونڈ رہے ہیں۔کب علاج مکمل ہو گا اور کب وطن واپس آئیں گے؟ زیادہ امکان مگر یہ ہے کہ وزیر اعظم ، شہباز شریف، کو جن مالی و سیاسی مسائل و مصائب نے گھیر رکھا ہے، جنیوا میں نواز شریف انھیں ان مصائب سے نکلنے کا کوئی اکسیری اور کیمیائی نسخہ بتائیں گے۔ پچھلے9ماہ کی حکومت کے دوران شہباز شریف تو ہر محاذ پر ناکام ہی ہو رہے ہیں۔

اب شاید بڑے بھائی کا مرحمت کردہ یہ متوقع نسخہ انھیں کامیاب وبامراد بنا سکے۔ ویسے نواز شریف تو مبینہ طور پر شہباز شریف کے حکومت سنبھالنے کے طرفدار نہیں تھے۔

شہباز شریف کو مگر وزیر اعظم بننے کا اتنا چاؤ تھا کہ بڑے بھائی اور قائد کے سمجھانے کے باوجود انھوں نے یہ بھاری پتھر اُٹھا لیا۔ ممکن ہے اب تک اُن کا یہ شوق پورا ہو چکا ہو۔ نواز شریف شاید جنیوا میں اِس چاؤ کی داستان برادرِ خورد سے خود بھی سنیں گے ۔

مریم نواز صاحبہ اپنے والدِ گرامی کے ہمراہ اپنے وزیر اعظم چچا سے پہلی بار اِس حیثیت میں ملاقات کریں گی جب انھیں نون لیگ کی سینئر نائب صدر اور چیف آرگنائزر بنایا گیا ہے۔ ویسے تو نون لیگ میں چار اور بھی نائب صدور ہیں ، مگر مریم نواز کی حیثیت ان سب میں سوا اور طاقتور ہوگی۔ نون لیگی صدر شہباز شریف نے کھلے الفاظ میںمریم نوازپر اپنے اعتبار اور اعتماد کا اظہار کیا ہے ۔

اِس کی شاید وجہ یہ ہے کہ مریم نواز کے عقب میں نواز شریف کی طاقتور ترین شخصیت کھڑی ہے۔اور کس کی مجال ہے کہ نواز شریف کی خواہش اور تمنا کے سامنے نون لیگ میں کوئی دَم بھی مار سکے ؟ یوں کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی اب عملی طور پر مریم نواز کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے اور پارٹی کا مستقبل بھی۔ مبینہ طور پر جنیوا میں مریم نواز صاحبہ کے گلے کے دو گلینڈز کی سرجری بھی ہُوئی ہے۔

بقول مریم اورنگزیب، صحتیابی کے بعد مریم نواز جنوری کے آخری ہفتے واپس پاکستان آئیں گی ۔اطلاعات ہیں کہ جنیوا میں نون لیگ کی زمامِ کار نواز شریف خود محترمہ مریم نواز کے ہاتھوں میں دیں گے ۔ واقعہ مگر یہ ہے کہ حکومت سنبھالنے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں نون لیگ اِس وقت عوام میں بوجوہ نامقبولیت کے جس مقام پر کھڑی ہے، مریم نواز کا چیف آرگنائزر بننا اُن کے لیے بے حد پریشانیوں اور آزمائشوںکا سندیسہ بننے والا ہے۔

سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں نون لیگ کا وجود اور عدم وجود یکساں ہو چکا ہے۔صرف پنجاب میں نون لیگی ووٹ ہیں مگر چوہدری پرویز الٰہی اپنے اتحادی، عمران خان ، کے ساتھ مل کر پنجاب کی سیاسی زمین بھی نون لیگ کے قدموں سے کھینچنے کے منصوبے بنارہے ہیں۔ یوں نون لیگ کی چیف آرگنائزر بن کر مریم نواز ایک بڑے یُدھ میں اُتر رہی ہیں۔ شنید ہے مریم نواز کے اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبزادے، جنید صفدر، بھی اپنی والدہ محترمہ کا ہاتھ بٹانے کے لیے میدان میں اُتر رہے ہیں ۔

ایک اعلان کے مطابق آج 9جنوری کو وزیر اعلیٰ پنجاب، چوہدری پرویز الٰہی، پنجاب اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ بھی لینے والے ہیں۔ پنجاب کے لاٹ صاحب نے ایسا کرنے کا حکم دے رکھا ہے۔ پہلے اعتماد کا ووٹ لینے کی تاریخ 11جنوری رکھی گئی تھی۔

پھر اِسے حکومتی پارٹی نے خود ہی 9جنوری کر دیا۔چوہدری پرویز الٰہی کا پُر افتخار لہجے میں کہنا تھا کہ اعتماد کا ووٹ لے کر اسمبلی توڑ دُوں گا اور اپنے قائد عمران خان کا حکم اور خواہش بجالاؤں گا۔

اب چوہدری صاحب مگر خود ہی یہ کہہ کر اپنے اعلان سے دُور ہٹ رہے ہیں :’’ اعتماد کے ووٹ پر گورنر کا حکم غیر قانونی ہے،9جنوری کو عمل نہیں کروں گا۔‘‘خوب ! بقول سائل دہلوی : جنابِ شیخ کا نقشِ قدم یوں بھی ہے اور یوں بھی ۔ گویا جنھیں توقع تھی کہ آج پنجاب اسمبلی میں کسی کے پرزے اُڑیں گے ، یہ تماشہ نہیں ہونے والا ۔’’کسی‘‘ کے بارے مونس الٰہی کا شدید شکوہ بھی سامنے آیا ہے ۔

عمران خان بھی کہہ رہے ہیں کہ ’’پرویز الٰہی 11جنوری تک اعتماد کا ووٹ نہ لیں تو PTIارکانِ اسمبلی مستعفی ہو جائیں ۔‘‘گورنر پنجاب بھی مُصر ہیں کہ پرویز الٰہی کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا ۔ پنجاب اسمبلی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا، فیصلہ آج یااگلے دو دنوں میں ہو جائے گا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

واہ رے تجربہ کارو!

  (ذکیہ نیئر زکی)  اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں …