جمعرات , 9 فروری 2023

ترکیہ میں سرگرمیاں محدود کیے جانے کی افواہیں بے بنیاد ہیں:حماس

مقبوضہ بیت المقدس:اسلامی تحریک مزاحمت [حماس] نےترکیہ میں جماعت کی قیادت کی سرگرمیوں کو محدود کیے جانےسے متعلق اسرائیلی میڈیا میں آنے والی خبروں کو بے بنیاد اور حماس کے خلاف دشمن کے مکروہ منفی پروپیگنڈے کا حصہ قرار دیا ہے۔

حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا کہ ’ہارٹز‘ اخبار نے "ترکیہ کی جانب سے حماس کی قیادت کی نقل و حرکت کو محدود کرنے کے بارے میں جو خبریں شائع کی ہیں وہ سراسر جھوٹ اور صہیونی میڈیا مشین کی حماس اور اس کی قیادت کے خلاف نفرت پھیلانے کا ایک حصہ ہے۔”

قاسم نے پیر کی شام ایک بیان میں کہا کہ حماس کے ترکیہ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں اور وہ اپنے اور تمام عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر فلسطینی کاز کی خدمت میں آگے بڑھنا چاہتی ہے۔

عبرانی اخبار "ہارٹز” نے دعویٰ کیا ہے کہ ترک انٹیلی جنس نے حال ہی میں انقرہ اور "تل ابیب” کے درمیان مفاہمت کے بعد ترکیہ میں حماس کی قیادت کی نقل و حرکت کو محدود کرنا شروع کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق اگرچہ انقرہ "اسرائیل” کے پرانے مطالبے پرعمل نہیں کرتا جس میں اسرائیل ترکیہ میں حماس کے تمام کارکنوں کو اپنی سرزمین سے بے دخل کرنے کا مطالبہ کرتا آیا ہے۔ تاہم ترکیہ نے حماس کی قیادت کی وہاں آباد ہونے کی کوششوں کو محدود کر کیا ہے۔

اخبار نے دعویٰ کیا کہ ترکیہ کے اقدامات سخت نہیں ہیں لیکن اخباری دعوے کے مطابق حماس کے نائب صدر اور غرب اردن میں حماس کے امور کے ذمہ دار صالح العاروری کی ترکیہ میں سرگرمیوں کو محدود کردیا ہے۔

 

یہ بھی دیکھیں

’ابراہم معاہدے‘ امارات اور اسرائیل میں خواتین کا قائدانہ کردار

دبئی: متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور اسرائیل میں مضبوط خواتین قیادت کی ایک …