بدھ , 1 فروری 2023

جو بائیڈن کو مشرق وسطیٰ میں درپیش چیلنج

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

"نیشنل انٹریسٹ” کے تحقیقی مرکز کے تجزیہ کار نے اپنی ایک رپورٹ میں اس بات پر زور دیا ہے کہ مغربی ایشیاء (مشرق وسطیٰ) کی مستقبل کی جغرافیائی سیاست کئی اہم بیرونی اور اندرونی عوامل سے متاثر ہے اور موجودہ حالات میں امریکہ اس سے بہت زیادہ متاثر ہو رہا ہے، کیونکہ خطے پر اثر انداز ہونے کے لیے اس کی طاقت محدود سے محدود تر ہوتی جا رہی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق 2022ء مین بین الاقوامی میدان میں کئی اہم واقعات رونما ہوئے، جس نے کچھ ماہرین کو اس خیال کی طرف راغب کیا کہ مغربی ایشیاء (مشرق وسطیٰ) جو کئی دہائیوں تک عالمی طاقتوں کے لیے اسٹریٹجک اہمیت کا حامل خطہ تھا، اب ایک بدلی ہوئی صورت حال سے دوچار ہے۔ اس کا سیاسی جغرافیہ یا جغرافیائی سیاست بڑی طاقتوں کے کھیل کے لیے ایک مختلف انداز میں سامنے آرہی ہے۔

مغربی ایشیاء میں جیو پولیٹیکل تبدیلی کے شعبے میں نیشنل انٹرسٹ ریسرچ سینٹر کے معروف امریکی تجزیہ کار پال پیلر کا خیال ہے کہ حالیہ دور کی متعدد تبدیلیوں سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا اس خطے میں تعاون اور تنازعات کے انداز میں کوئی تبدیلی آرہی ہے؟ یا خطے کے ممالک اور غیر ملکی طاقتوں کے درمیان نئی صورت حال جنم لے رہی ہے۔؟ حالیہ مہینوں میں ہونے والے کئی اہم واقعات، جن میں سب سے اہم چینی صدر شی جن پنگ کا دورہ سعودی عرب اور ان کی عرب رہنماؤں سے ملاقاتیں ہیں، جو حالیہ شکوک و شبہات کو ہوا دینے والے اہم عوامل میں سے ایک ہیں۔ اس رپورٹ کے مطابق دوسری جانب ماسکو اور تہران کے درمیان تعلقات کا واضح اور گہرا ہونا دونوں فریقوں کے درمیان معمول کے بہاؤ کے الٹ جانے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔

اس کے ساتھ ہی اسرائیل میں تاریخ کی انتہائی دائیں بازو کی حکومتی کابینہ کا تقرر، جس نے خطے کے بعض عرب ممالک کے ساتھ اسرائیل کے نئے بہتر ہونے والے تعلقات یعنی نارمالائزیشن کے مستقبل کے بارے میں شدید شکوک پیدا کر دیئے ہیں۔

البتہ قطر میں ورلڈ کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے انعقاد کے ضمنی اثرات اور نتائج کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، جس نے نہ صرف کھیلوں کے شائقین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی بلکہ خلیج فارس کے عرب ممالک اور دیگر ممالک کے تعلقات پر بھی سیاسی اثرات مرتب کئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں سی آئی اے کے اس سابق ماہر کے مطابق اس کی دو بنیادی وجوہات تھیں: اول یہ کہ امریکہ کی توجہ مشرق وسطیٰ سے مشرقی ایشیاء کی طرف مبذول ہو رہی ہے، جو یقیناً اب تک محسوس نہیں ہوسکی تھی۔ دوسرا ایران کے ساتھ جوہری معاہدے یا مشترکہ جامع منصوبہ بندی (JCPOA) کی بحالی کے سلسلے میں سفارت کاری کی زوال پذیری ہے۔

اس رپورٹ کے مطابق، یقیناً خطے کی از سر نو ایڈجسٹمنٹ کے بارے میں کسی بھی مفروضے کو متضاد آپشنز کا سامنا ہے۔ مثال کے طور پر، روس-ایران کیمپ کے خلاف اسرائیلی کیمپ اور خلیج فارس تعاون کونسل کی صف بندی کا امکان غیر واضح ہے، کیونکہ روس کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے کی اسرائیل کی شدید خواہش کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل کا اصل محرک شام میں اپنے مطلوبہ اہداف پر بلاامتیاز حملے جاری رکھنے کی خواہش ہے۔ جس کی وجہ سے تل ابیب یوکرین کے بحران میں یوکرین کی خاطر خواہ حمایت نہیں دکھا سکا ہے۔ پیلر نے یہ بیان کرتے ہوئے کہ مختصر مدت کے تحفظات، علاقے سے باہر کے واقعات اور ملکی سیاسی تحفظات بھی مشرق وسطیٰ کے علاقے کی جغرافیائی سیاست پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا ایران نے تین جزائر کے بارے میں چین اور خلیج فارس تعاون کونسل کے بیان کی شدید مخالفت کی، کیونکہ ایران کا کہنا ہے کہ اس پر کوئی تنازع ہی نہیں ہے اور یہ جزائر قانونی طور پر ایران کے ہیں۔

اس بات کے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ چین اب بھی خلیج فارس کے دونوں اطراف سے تعلقات کو وسعت دینے کا خواہاں ہے۔ ایران چینی تیل کا ایک بڑا سپلائر اور چینی اشیاء کا درآمد کنندہ رہا ہے اور گذشتہ سال چین اور ایران نے پچیس سالہ اسٹریٹجک معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔ امریکہ اس وقت خطے کے ممالک کے ساتھ تعلقات رکھنے میں سب سے محدود آپشنز کا حامل ہے، جس کی بنیادی وجہ اس کی حالیہ سیاست اور اس کے ماضی کے تنازعات کی میراث بھی ہے۔ اس متنازعہ پالیسی کا ایک اہم حصہ اسرائیل کی بلاجواز حمایت اور ایران کے خلاف دیرینہ دشمنی سے مربوط ہے۔ ماسکو کے لیے اگرچہ ان دنوں سب سے اہم یوکرائن کی جنگ ہے، لیکن یہ جنگ ہمیشہ نہیں چلے گی۔ ایران کے ساتھ اس ملک کے تعلقات کی موجودہ شکل روس کی جانب سے اپنے آپ کو جنگ سے بچانے کی کوشش کی علامت ہے اور اسے مغربی ایشیاء (مشرق وسطیٰ) کے حوالے سے ماسکو کی پالیسی کی تزویراتی نظرثانی نہیں سمجھا جاسکتا۔

ایٹمی معاہدہ جے سی پی او اے کے معاملے میں جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ اور سفارت کاری کا معاملہ واشنگٹن کی پالیسی سے زیادہ جڑا ہوا ہے۔ ایران کے جوہری مسئلے کے موجودہ واقعات کے حوالے سے کوئی بھی بحران پیدا نہیں ہوتا، اگر سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ 2018ء میں بارک اوباما کی کامیابیوں کو کالعدم کرنے کے لیے JCPOA سے دستبرداری کا فیصلہ نہ کرتے۔ امریکی قومی انٹیلی جنس کے ریٹائرڈ افسر نے تاکید کی ہے کہ حالیہ برسوں میں، مشرق وسطیٰ کی عمومی جغرافیائی سیاست میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے اور یہ آنے والے مہینوں میں بھی بنیادی تبدیلی کے لیے تیار نہیں ہے۔ مجموعی علاقائی تصویر بڑی حد تک نسلی اور مذہبی تقسیم پر مبنی دشمنیوں کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ، خطے کے حالات محمد بن سلمان جیسے لیڈروں کے بعض اوقات غیر مستحکم کرنے والے عزائم یا ماضی کے تنازعات ہیں۔ دوسری طرف حکمرانوں اور عوام کے درمیان اختلافات بھی نئی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

یہ اختلافات خلیج فارس کے مختلف ممالک کے درمیان موجود ہیں، لیکن خلیج فارس کی عرب آمرانہ حکومتیں اقتدار کو برقرار رکھنے کے لیے ہر قدم اٹھانے پر تیار ہیں۔ حل نہ ہونے والا اسرائیل فلسطین تنازع بھی علاقائی معاملات کا اہم حصہ ہے، لیکن بلاشبہ ہم نے عالمی کپ کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ عالمی یکجہتی کو محسوس کیا ہے۔ اس تجزیئے کی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں غیر ملکی طاقتوں کی مداخلت کی تصویر نہیں بدلی ہے۔ یوکرین کے خلاف جارحیت کے باوجود، روس یہ ظاہر کرتا رہتا ہے کہ ماسکو مغربی ایشیاء میں اسرائیل سے لے کر ایران وغیرہ تک تمام فریقوں کے ساتھ کام کرنے میں ماہر ہے۔ شی جن پنگ کا حالیہ دورہ سعودی عرب اس کوشش کا حصہ ہے کہ چین بھی خطے میں ہمہ گیر خارجہ پالیسی اپنانے میں روسیوں کی تقلید کرنے کا خواہاں ہے۔ ادھر ترکی خطے میں ایک اور فعال طاقت ہے، لیکن وہ مختلف وجوہات کی بنا پر محدود ہے، کیونکہ شام اور عراق میں کردوں کی سرگرمیوں کے بارے میں ترکی کے اقدامات پر علاقائی مملک کو تحفظات ہیں۔

بہرصورت، آنے والے مہینوں اور سالوں میں مشرق وسطیٰ کے حوالے سے امریکہ کی محتاط پالیسی خطے میں جغرافیائی سیاسی تبدیلی کے بارے میں کسی پیشین گوئی کی محتاج نہیں، لیکن واشنگٹن کو ماضی میں سیکھے گئے سبق پر عمل درآمد کرنا ہوگا۔ اپنے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لیے امریکہ کو مغربی ایشیا (مشرق وسطیٰ) کو دوست اور دشمن میں تقسیم کرنے کے بجائے روسیوں اور چینیوں کی تقلید کرنی چاہیئے۔ امریکہ کو خطے میں روس اور چین کی طرح بھاری فوجی مداخلت کے بغیر صرف سیاسی موجودگی کی ضرورت ہے۔ چینی اپنی جامع اور فعال سفارت کاری کو بھاری سکیورٹی دباؤ سے نہیں جوڑتے اور اگر امریکہ اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھنا چاہتا ہے تو اس کو بھی اسی راستے پر چلنا ہوگا۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

معیشت کی تباہ حالی: وجوہات اور نکلنے کا راستہ

(لیاقت بلوچ) (حصہ اول) آج ملک تاریخ کے بدترین معاشی بحران سے دوچار ہے۔ سْود …