اتوار , 5 فروری 2023

بادی النظر میں وزیر اعلیٰ نے گورنر کے آڈر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کیا، لاہور ہائیکورٹ

لاہور:لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہیٰٰ کو ڈی نوٹیفائی کرنے کے حوالے سے مقدمے کی سماعت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ آپ کے موکل نے مان لیا کہ انہوں نے آرٹیکل 137 کے سیکشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا، اگر وہ یہ لکھتے کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تو صورتحال مختلف ہوتی لیکن بادی النظر میں وزیر اعلیٰ نے گورنر کے آڈر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

لاہور ہائی کورٹ میں وزیر اعلیٰ پنجاب کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے گورنر بلیغ الرحمٰن کی جانب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف چوہدری پرویز الہٰی کی درخواست پر سماعت جاری ہے۔

وزیر اعلیٰ پنجاب کو وزارت اعلیٰ کے منصب سے ڈی نوٹیفائی کرنے کے خلاف درخواست پر پانچ رکنی بینچ جسٹس عابد عزیز شیخ کی سربراہی میں مقدمے کی سماعت کر رہا ہے جہاں بینچ کے دیگر ارکان میں جسٹس چوہدری محمد اقبال، جسٹس طارق سلیم شیخ، جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس مزمل اختر شبیر شامل ہیں۔

آج سماعت کے آغاز پر اٹارنی جنرل نے اپنے دلائل میں کہا کہ ووٹوں کے ریکارڈ کو عدالت دلائل کا حصہ بنا دیا جائے، گورنر کو اس پر اعتراض نہ ہوگا، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ پرویز الٰہی نے اعتماد کا ووٹ لے لیا ہے ایسے میں اب آپ کیا کہتے ہیں، جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ اب بھی اگر گورنر کوئی نوٹیفکیشن جاری کرتے ہیں تو صورت حال کیا ہوگی۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ اسمبلی فلور کے بعد اس کی ضرورت نہیں رہی، جسٹس عابد عزیز شیخ نے استفسار کیا کہ فلور ٹیسٹ مکمل ہوگیا ہے، یعنی معاملہ ختم ہوگیا ہے، پرویز الہیٰ کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ گورنر کا جو پہلا حکم تھا کہ اعتماد کا ووٹ لے وہ ٹیسٹ کرلیا ہے، گورنر کا دوسرا نوٹیفکیشن وزیر اعلی کو ڈی نوٹی کرنے کا تھا جسے کالعدم ہونا چاہیے ۔

جسٹس عاصم حفیظ نے کہا کہ آپ کے موکل نے مان لیا ہے کہ انہوں نے آرٹیکل 137 کے سیشن 7 کے تحت اعتماد کا ووٹ لیا ہے، اگر وہ یہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے رضاکارانہ طور پر اعتماد کا ووٹ لیا تو صورتحال مختلف ہوتی، بادی النظر میں وزیر اعلیٰ نے گورنر کے آڈر کے مطابق اعتماد کا ووٹ حاصل کیا۔

ایڈووکیٹ علی ظفر نے کہا کہ اعلی عدالتوں کے فیصلوں کے تحت گورنر اور صدر قانون پر عمل درآمد کے پابند ہیں، گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ 8 ویں ترامیم کے بعد گورنر کے پاس یہ اختیار آیا،جسٹس عاصم حفیظ نے ریمارکس دیے کہ گورنر ہی وزیر اعلیٰ کو اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتا ہے، آج کیس کا فیصلہ ہوتا ہے کل کو گورنر پھر اسطرح کا حکم جاری کر دیتا ہے تو کیا صورتحال ہوگی، گورنر پنجاب کے وکیل نے کہا کہ معاملہ اسمبلی فلور پر ہی جاے گا۔

اس کیس کی سماعت ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کہ گزشتہ رات ہونے والے پنجاب اسمبلی کے ہنگامہ خیز اجلاس میں اسپیکر سبطین خان نے وزیر اعلیٰ چوہدری پرویز الٰہی پر اعتماد کے لیے رائے شماری کے بعد اعلان کیا کہ انہوں نے 186 ووٹ حاصل کرلیے ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ گورنر پنجاب نے سابق وزیر اعظم عمران خان کے پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنے کے منصوبے کو روکنے کے لیے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلیٰ کو ڈی نوٹیفائی کردیا تھا۔

22 دسمبر کے اپنے حکم نامے میں گورنر پنجاب نے کہا تھا کہ وزیر اعلیٰ نے مقررہ دن اور وقت پر اعتماد کا ووٹ نہیں لیا اس لیے وہ عہدے پر برقرار نہیں رہے، تاہم بلیغ الرحمٰن نے ان کے جانشین کے انتخاب تک انہیں بطور وزیر اعلیٰ کام جاری رکھنے کی ہدایت کی تھی۔

پرویز الہٰی نے گورنر کے اقدام کو غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔

گزشتہ ماہ ہونے والی سماعت پر لاہور ہائی کورٹ نے چوہدری پرویز الہٰی کو اگلی سماعت تک صوبائی اسمبلی تحلیل نہ کرنے کی یقین دہانی پر گورنر کا حکم معطل کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے منصب پر بحال کردیا تھا۔

یہ بھی دیکھیں

بھارت 75 سال سے کشمیر پر ناجائز قابض، ہم کشمیریوں کیساتھ ہیں: وزیراعظم

اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ہر سال 5 فروری کو پاکستانی …