بدھ , 8 فروری 2023

احساس ذمہ داری اور ہم

زندگی کے آسمان پر اس وقت تک اطمینان کے درخشاں ستارے اپنی چمک کا اظہار نہیں کر سکتے جب تک انسان اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو نہ پہچانے اپنے فرض کی ادائگی میں کوشاں نظر نہ آئے۔

ہم میں سے ہر ایک کسی نہ کسی فرض کا بوجھ اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوئے اسے نبھانے کی کوشش میں لگا ہوا ہے ، یہ اور بات ہے کچھ ایسے بھی لوگ ہیں جو فرض کے کسی بھی بوجھ کو اٹھانے سے کتراتے ہیں اور انہیں ذرا بھی احساس ذمہ داری نہیں ایسے لوگ ظاہر ہے محض شکل و صورت و انداز و اطوار میں انسان ہیں حقیقت میں انسانیت سے بہت دور ہیں دنیا میں بات ان ہی لوگوں کی ہوتی ہے جو فرض شناس بھی ہیں اور فرض کو نبھانے کے لئے تگ و دو بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔

زندگی کے آسمان پر اس وقت تک اطمینان کے درخشاں ستارے اپنی چمک کا اظہار نہیں کر سکتے جب تک انسان اپنی زندگی کی ذمہ داریوں کو نہ پہچانے اپنے فرض کی ادائگی میں کوشاں نظر نہ آئے ، انسان کی زندگی کے ہر شعبے میں فرائض کی الگ الگ تقسیم ہے ہر شخص اپنے پاس موجودہ وسائل کے پیش نظر یہ چاہتا ہے کہ اپنی ذمہ داری کو خوش اسلوبی کے ساتھ نبھائے ، کسی کو حق نہیں ہے کہ کتاب زندگی سےـ’’ فرض‘‘ کے باب کو حذف کر دے اب کچھ لوگ اپنے فرائض کو اتنی خوبصورتی کے ساتھ نبھاتے ہیں کہ بھلائے نہیں بھولتے، جہاں بھی انکی ضرورت ہو موجود رہتے تھے ، قومی مسئلہ ہو ، ملک کا مسئلہ ہو یا سماجی و معاشرتی مسائل ہر جگہ وہ اپنے فرض کو نبھا کر مطمئن نظر آتے ہیں ۔

فرض شناسی و احساس ذمہ داری فطرت کی آواز :

جس طرح چند ایک لوگ اپنے فرض کو ادا کر کے معاشرے کا بوجھ کم کرتے ہیں و یسے ہی کچھ لوگ اپنی ذمہ داریوں کو نہ نبھا کر معاشرے کا بوجھ بن جاتے ہیں ،جس معاشرے میں بھی عمومی فرائض کی سرحدوں کو لانگا جاتا ہے اور انسان غیر ذمہ دارانہ روش حیات کو اختیار کرتا وہاں کچھ لوگوں کے کئے کی سزا پورے معاشرے کو جھیلنا پڑتی ہے ۔اسی لئے ضروری ہے کہ ہر انسان اپنی اپنی جگہ اپنی ذمہ داریوں کو پہچانتے ہوئے آگے بڑھے ، یہ احساس ذمہ داری ایک فطری امر ہے ، انسان کی فطرت میں معاشرتی زندگی کے اصولوں کی پیروی ہے اور ایک سماجی زندگی بغیر ادائگی فرض کے ممکن نہیں ہے ، معاشرے میں ایک دوسرے کے تعاون کے ذریعہ ایک دوسرے کا ہاتھ تھام کر ہی آگے بڑھا جا سکتا ہے ، اب جہاں بھی فرض کی ادائگی کی بات ہوگی وہاں اتنا طے ہے کہ انسان کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ، مشکلات کو برداشت کئے بغیر آسائش و سکون میسر نہیں ہے اسی لئے کہا گیا ہے کہ انسان کی سعادت کے پیچھے اس کی کامیاب زندگی کے پیچھے ذمہ داریوں کو متلاطم دریا ہوتا ہے سعادت مندی ذمہ داریوں کو نبھانے کا نتیجہ ہوتی ہے ، جہاں ذمہ داریوں کی ادائگی میں انسان کی کامیابی ہے وہیں چونکہ فرد فرد سے معاشرہ بنتا ہے اسی فرض کی ادائگی سے معاشرہ بھی آگے بڑھتا ہے اور ایک ماحول بن جاتا ہے جس میں ہر ایک اپنے فرض کو ادا کرنے کے سلسلہ سے سنجیدہ ہوتا ہے اور کبھی کبھی نہ صرف اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتا ہے بلکہ دوسروں کی ذمہ داریاں بھی ہنسی خوشی نبھاتا نظر آتا ہے ، یوں معاشرے میں خود بہ خود نکھار پیدا ہوتا ہے ایثار و فداکاری کا جذبہ جاگتا ہے جو ایک صحت مند معاشرے کے لئے بہت ضروری ہے ۔

فردی کامیابی سے کہیں زیادہ ضروری انسان کی معاشرتی کامیابی ہے یہ معاشرتی کامیابی بھی فرد فرد کی کامیابی سے وابستہ رہتی ہے ،معاشرے کے حقوق کی ادائگی اگر نہ ہو تو یہ معاشرتی روح عدالت کے خلاف ہے ، اس کی وجہ سے عمومی نظم و نسق متاثر ہوتا ہے ،زندگی کے امور کی بحسن وخوبی ادائگی آزادی کے ساتھ مکمل اختیار کے ساتھ معاشرے کی فلاح کے لئے آگے بڑھنا اور دوسروں کی آزادی کو بھی ملحوظ نظر رکھنا انکے اختیار کو اپنی وجہ سے محدود نہ کرنا یہ معاشرتی ذمہ داریوں کی ادائگی کا وہ پہلو ہے جس کی رعایت کے بغیر انسان حقیقی طور پر ترقی نہیں کر سکتا ہے اسی لئے جو افراد اپنی ذمہ داریوں سے آگاہ ہوتے ہیں اور اپنے حقوق کو ادا کرتے ہیں لوگ ان پر بھروسہ کرتے ہیں ان کی شخصیت کو سراہا جاتا ہے یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو ہمیشہ کامیاب مانے جاتے ہیں ایک مغربی دانشور ساموئل اسمایلز نے پتے کی بات کی ہے کہ ’’ ذمہ داری کی ادائگی در حقیقت ایک قرض ہے جو شخص یہ چاہتا ہے معاشرے اسے میں کھوکھلا پن محسوس نہ ہو و بے اعتبار ہو کر نہ جئیے اس کے لئے ضروری ہے کہ ذمہ داریوں کو ادا کرے تاکہ اخلاقی انحطاط و دیوالیہ پن سے محفوظ رہے ، اب جہاں فرض کی ادائگی کی بات آتی ہے تو یہ بھی ظاہر ہے کہ بغیر عزم محکم بغیر سعی پیہم یہ کام ممکن نہیں ہے ، انسان کی زندگی میں ابتداء سے انتہا تک فرائض ہی فرائض ہیں گو کہ ایک ذمہ داریوں کا لا متناہی دریا ہے جسے بصیرت و شعور و عمل و سعی پیہم کے بل پر انسان کو تیر کر ساحل نجات تک جانا ہے ، دنیا میں آنے سے لیکر جانے تک انسان جس چیز سے جوجھتا ہے وہ فرائض کی ادائگی ہی ہے ، جس انسان کے اندر جتنی طاقت ہوگی جتنا جذبہ اور حوصلہ ہوگا انسان اتنا ہی تیزی سے فرائض کو ادا کرتے ہوئے آگے بڑھے گا اپنے وسائل و اپنی توانائیوں کے مطابق ہی انسان ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے دنیا کے اندر انسان کی مثال ایک ایسے مزدور کی ہے جو اپنے کام پر لگا ہو اور اسکا کام یہ ہو کہ وہ اپنے ہی جیسے دوسرے مزدوروں کو رسد پہنچائے یہ مزدور اسی وقت اپنے کام میں کامیاب ہے جب اپنی ذمہ داری کی ادائگی میں انصاف سے کام لے ، یہ کوئی مذہبی نقط نظر کی بات نہیں ہے بلکہ حیات انسانی کا ایک بنیادی قاعدہ ہے ۔

معاشرتی ذمہ داریوں کو پہچاننا فرض شناس ہونے کی پہچان :

ذمہ داری چھوٹی ہو یا بڑی جب تک احساس ذمہ داری نہ ہو ادائگی ممکن نہیں ہے ذمہ داری کا احساس ایک بڑی نعمت ہے خاص کر ایک ایک معاشرے کو یہ پتہ چل جائے کہ اس کی معاشرتی ذمہ داریاں کیا ہیں تو اس سے بڑھ کر کیا ہو سکتا ہے ، جو قوم فرض شناس ہوتی ہے اسکی ترقی کی راہیں بھی پتہ ہوتی ہیں اسکے مستقبل کا بھی پتہ ہوتا ہے کہ کل کہاں ہوگی ، لیکن جہاں فرائض کے سلسلہ سے کوتاہی ہوتی ہے وہاں نہ آج کا پتہ ہوتا ہے نہ کل کا ، جہاں فرض شناسی نہ ہو وہاں عیش پرستی ہوتی ہے وہاں خود پرستی ہوتی ہے وہاں نفع پرستی رائج ہو جاتی ہے ، اور جہاں یہ چیزیں رائج ہو جاتی ہیں وہاں ایک قوم کی تباہی کی اشارے واضح طور پر ابھر آتے ہیں کہ اس کی تباہی یقینی ہے اسے کوئی نہیں بچا سکتا ۔

ملک کے موجودہ حالات اور فرض شناسی :

اس وقت ملک کے جو حالات ہیں ہمارے پیش نظر ہیں، کچھ ہی دن قبل ہمارے ملک میں یوم اقلیت منایا گیا ، کتنے افسوس کی بات ہے کہ یوم اقلیت پر بھی ہمارے پاس ایسا کوئی منصوبہ نہیں تھا جس پر عمل در آمد کے لئے کچھ سوچا جاتا ، ایک طرف ہمارے پاس ایک ہی اقلیتی وزارت تھی وہ بھی اب کسی مسلمان کے ہاتھوں میں نہیں ہو کر سمرتی ایرانی کے پاس ہے ، اور انہوں نے حال ہی میں مولانا آزاد اسکالر شپ [1]ختم کرنے کا فیصلہ لیا اسی سے واضح ہے کہ آگے چل کر اس اقلیتی وزارت کی سمت کیا ہوگی ۔ ایک طرف سب کا ساتھ سب کے وکاس کا نعرہ ہے تو دوسری طرف آگے بڑھنے کے مواقع کو مسدود بھی کیا جا رہا ہے ، یہ تو محض ایک مسئلہ ہے آئے دن اس طرح کی کتنی ہی چیزیں جنہیں خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ایک قوم اپنے پیروں پر نہ کھڑی ہو سکے ۔ جبکہ یہ وہ اسکیم تھی جس کے تحت صرف مسلمان ہی دیگر اقلیتیں بھی اپنے بچوں کے خوابوں کو پورا کرنے کی کوشش میں منہمک تھیں اور اسکا زبردست استقبال بھی تھا ،

اقلیتوں کو نشانہ بنا کر اکثریت کی تحمیق :

یوں تو ایک عرصے سے اقلیت کو نشانہ بنا کر اکثریت کو یہ بتانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہم اکثریت حق کی لڑائی لڑ رہے ہیں لیکن گزشتہ چند دنوں میں تو ایک سیلاب سا آیا ہے ظاہر ہے یہ سب کچھ آنے والے الیکشن کی وجہ سے ہو رہا ہے کہ اکثریت کو لبھانے کا ایک گھسا پٹا طریقہ یہی ہے کہ انہیں یقین دلایا جائے ہم اقلیتوں کا ناطقہ بند کر رہےہیں اور یہ سب تمہارے لئے ہی کر رہے ہیں جبکہ ظاہر اس سے اکثریت کو کوئی فائدہ ملنے والا نہیں ہے اتنا ضرور ہے کہ کم پڑھےاور جاہل لوگوں کے بیچ یہی بات بہت ہے کہ اگر ہمیں کچھ نہ ملے نہ ملے لیکن اقلیتوں کو کیوں ملے ؟ ہمارے بارے میں کچھ ہو نہ ہو الیکن اقلیتیں مسلسل ہراسانی کا شکار رہیں ۔

حال ہی میں مہاراشٹر کی صوبائی حکومت نے حال ہی دوسرے مذاہب کے درمیان شادی اور جہاد کے مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی ہے[2] وہ بھی اسی سیاست کا ایک حصہ ہے اور یہ غیرمعمولی قدم اس بات کی واضح نشانی ہے کہ کم از کم مستقبل قریب میں، ہندو معاشرے کی تحمیق اور مسلمانوں کی تذلیل اور تخویف میں “لو جہاد” کے فرضی مدعے کا نمایاں کردار رہے گا اب یہ ہمارے اوپر ہے کہ ہم کس طرح ان حالات میں مسائل کا صحیح تجزیہ کرتے ہیں اور کس طرح اپنی دینی اور قومی ذمہ داری کو پورا کرتے ہیں ، شک نہیں کہ حالات مسلسل ہمارے خلاف ہیں لیکن سعی مسلسل و عزم پیہم اور خدا پر بھروسے کے بل پر ہر طرح کے حالات کا مقابلہ ممکن ہے لیکن یہ تبھی ہوگا جب ہم اپنے فرائض و ذمہ داریوں سے آشنا ہوں ۔بشکریہ ابنا نیوز

[1] ۔ http://thewireurdu.com/97512/maulana-azad-scholarship-for-research-scholars-from-minority-communities-stopped-by-centre/

https://thewire.in/education/manf-minority-smriti-irani-sachar-committee

[2] ۔ https://indianexpress.com/article/cities/mumbai/intercaste-out-panel-will-track-only-interfaith-marriages-says-maharashtra-8327210/

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

موجودہ اقتصادی صورتحال میں اصلاحات کی ضرورت کیوں؟

(فیصل باری) لکھاری لاہور یونیورسٹی آف منیجمنٹ سائنسز میں اکنامکس پڑھاتے ہیں، اور IDEAS لاہور …