جمعرات , 9 فروری 2023

سیلاب زدہ علاقوں میں 40 لاکھ بچوں کی صحت و زندگی خطرے میں ہے، یونیسیف

کراچی: بچوں کی صحت و تعلیم سے وابستہ اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسیف اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (پی ایم اے) نے مشترکہ طور پر سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے بچوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

دونوں تںظیموں کے مطابق آلودہ اور ٹھہرے ہوئے پانی کے قریب رہنے والے بچے زیادہ بیمار ہورہے ہیں۔ پی ایم اے اور یونیسیف نے متاثرہ علاقوں میں پھنسے 40 لاکھ سے زائد بچوں پر اپنی گہری فکرمندی اور تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ان معصوم بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

پی ایم اے کے مطابق قومی ہنگامی حالت کے اعلان کے چار ماہ بعد بھی یہ معصوم بچے پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کا شکار ہیں اور زیادہ تر نمونیا سے مر رہے ہیں۔ یونیسیف کے مطابق، 2021 کے مقابلے میں شدید غذائی قلت کا شکار بچوں کی تعداد دگنی ہو گئی ہے اور ان میں سے بہت سے بچے زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں اور انہیں فوری استعمال کی معالجاتی غذا (RUTF) کی اشد ضرورت ہے ۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بچوں کی صحت کی یہ تاریک تصویر ہماری حکومت کی ناقص کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔پی ایم اے حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ ہمارے بچوں کی زندگیوں اور صحت کو بچانے کے لیے فوری طور پر ضروری اقدامات کرے۔

یونیسیف کا اعلامیہ

اس ضمن میں یونیسیف نے 9 جنوری کو ایک پریس ریلیز بھی جاری کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ 40 لاکھ بچے شدید طبی مسائل سے دوچار ہیں۔ سیلابی علاقوں میں بچوں میں سانس کے امراض تیزی سے بڑھ رہے ہیں جو پہلے ہی پوری دنیا میں معصوم بچوں میں اموات کی بڑی وجہ بن رہا ہے۔ بچوں کو لاحق دوسرا عارضہ شدید غذائی قلت ہے۔

یونیسیف نے کہا کہ 2021 کے مقابلے میں سیلاب زدہ علاقوں میں جولائی تا دسمبر بچوں میں غذائی قلت کا گراف دوگنا بڑھا ہے۔ اگرچہ بارشیں رک چکی ہیں لیکن بچوں کے مسائل کم نہیں ہوئے ہیں۔ اب سردی کی لہر میں لگ بھگ ایک کروڑ بچوں کو فوری اور جان بچانے والی مدد کی ضرورت ہے۔ ان مسائل میں گھرسے محرومی، شدید غذائی قلت، سانس اور پانی سے پیدا ہونے والے امراض شامل ہیں۔

اپنی پریس ریلیز میں بطورِ خاص جیکب آباد کا ذکر کیا گیا ہے جہاں پانی کے کنارے لوگوں کے عارضی گھروں کے لیے چادر اور خیمیں انتہائی ناکافی ہیں۔ یہاں رات کے وقت درجہ حرارت صفر سینٹی گریڈ تک بھی پہنچ جاتا ہے۔

یونیسیف کا کہنا ہے کہ اب فوری طور پر دو لاکھ بچوں اور بڑوں تک کمبل، کپڑے اور خوراک پہنچائی جائیں گی جبکہ 8 لاکھ بچے غذائی قلت اور کل 60 ہزار بچے شدید غذائی قلت کے شکار ملے ہیں۔ اس کے علاوہ پولیو سے بچاؤ کی خوراک اور دیگر امراض کے لیے بچوں کو اسکریننگ کی جارہی ہے۔

یونیسیف نے کہا کہ اس نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں متاثرہ ماؤں اور بچوں کی مدد کے لیے 173 ملین ڈالر مدد کی فوری اپیل کی تھی تاہم اب تک صرف 37 فیصد ہدف ہی پورا ہوسکا ہے۔

یہ بھی دیکھیں

صحت مند بننا چاہتے ہیں؟ تو ان عام عادات کو اپنالیں

اسلام آباد:ہم سب ہی صحت مند رہنے کے خواہشمند ہوتے ہیں مگر اس حوالے سے …