ہفتہ , 4 فروری 2023

سیرت حضرت زہراء سلام اللہ علیھا مثالی معاشرے کے قیام کیلئے نمونہ عمل

(تحریر: شبیر احمد شگری)

میں یہ تحریر اس امید سے لکھ رہا ہوں کہ یہ تحریر اس بات کا محرک بن سکے کہ پاکستان میں حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت کو سرکاری طور پر یوم خواتین کے طور پر منایا جائے، کیونکہ بحیثیت مسلمان اور نبی پاک کا اُمتی ہونے کے ناطے ہم سب ان کی صاحبزادی اور جنتی خواتین کی سردار جناب سیدہ کی شان اور احترام کے قائل ہیں۔ یہ احترام ہم پر واجب ہے، کیونکہ یہ رسول پاک کی وہ پاک بیٹی ہیں، جن کے احترام میں حضور پاک اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوتے تھے۔ تو کیوں نہ ہم اس ہستی کے یوم ولادت کو یوم خواتین کے طور پر منائیں۔ ان پاک ہستیوں کے دکھائے گئے راہ عمل تو ہماری زندگی اور آخرت کی کامیابی کیلئے مشعل راہ ہونے چاہیئے تھے، لیکن ان پاک ہستیوں سے دوری کی وجہ سے آج ہم بہت سی بے راہ روی کا شکار ہیں۔ اگر ہم نے حضرت فاطمۃ الزھراء سلام اللہ علیھا کے مثالی کردار کو اپنے گھر، خاندان اور زندگی میں حقیقی طور پر نافذ العمل کیا ہوتا تو بیک وقت بیٹی، بیوی اور ماں کی مثالی حیثیت کے حامل اس کردار کی برکت سے نہ صرف ہم اپنے خاندان بلکہ معاشرے کو بھی ایک حسین روپ میں دیکھ سکتے تھے۔ کیونکہ ہماری زندگی میں ایک بیٹی، بیوی اور ماں عورت کے وہ تین روپ ہوتے ہیں، جو انسان کی تربیت، رحمت، سکون و آسودگی کا سبب بنتے ہیں۔

ایک مرد کیلئے کبھی بھی ان رشتوں سے فرار ممکن نہیں اور اگر یہی بیٹی، بیوی اور ماں جناب سیدہ کے کردار کو اپنا لیتی تو ان کے باپ، شوہر اور بیٹوں میں بھی رسول پاک، شیر خدا اور حسنین کریمین کی کچھ نہ کچھ جھلک ضرور نظر آرہی ہوتی۔ ہم اپنے آس پاس دیکھیں تو اکثر خواتین اپنے حقوق کی محرومی کا ڈھنڈورا پیٹتی دکھائی دیتی ہیں اور یہ اسی وجہ سے ہے کہ ہمارے سامنے اتنے عظیم مثالی کردار اور نمونہ عمل کے ہوتے ہوئے ہم نے اس سے دوری اختیار کی ہوئی ہے۔ نتیجتاً معاشرے میں بگاڑ، بے راہ روی والا ماحول اور "میرا جسم میری مرضی” جیسے نعرے جنم لیتے دکھائی دیتے ہیں اور وہ بھی ہمارے اسلامی جمہوریہ جیسے ملک میں۔ حالانکہ جتنا احترام عورت کو اسلام دیتا ہے، وہ کسی اور مذہب میں ہرگز موجود نہیں۔ عمومی طور پر ہمارے گھرانوں میں موجود باپ بیٹی، شوہر بیوی اور ماں بیٹے کے مرکزی کرداروں کے درمیاں عزت، پیار اور احترام کے انتہائی خوبصورت مناظر دیکھنے کو ملتے ہیں اور جن گھرانوں میں بھی ایسا ماحول موجود ہے، وہ خوش قسمتی سے اور سکون کی زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اس لئے دنیا و آخرت کی کامیابی اور زندگی میں سکون کیلئے ہم بیک وقت مثالی نمونہ عمل رکھنے والے کرداروں کے امتزاج کی حامل ہستی حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کے نقش قدم پر چل کر کامیابی سے ہمکنار ہوسکتے ہیں۔

یوں تو احادیث اور روایات کی روشنی میں ہم جناب سیدہ جیسی عظیم ہستی کی شان اور کردار کے عظمت کی بلندیوں سے آگاہ ہیں۔ لیکن حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کی ذات کو اگر اسوۂ کاملہ کے حوالے سے دیکھنا ہو تو ہم اس کی خوبصورت رہنمائی حضرت علامہ اقبال ؒ کے اس کلام سے لے سکتے ہیں۔ جس میں انھوں نے خاتون جنت سلام اللہ علیھا کی تین عظیم نسبتوں کے حوالے سے نہ صرف نذرانہ عقیدت پیش کیا ہے بلکہ اپنی قوم کو ایک نمونہ فکر بھی دے گئے ہیں۔ علامہ صاحب "رموز بے خودی” میں فرماتے ہیں۔
مریم از یک نسبت عیسی عزیز از سہ نسبت حضرت زہرا عزیز
نور چشم رحمۃ للعالمین آن امام اولین و آخرین
بانوی آن تاجدار ’’ہل اتے ‘‘ مرتضی مشکل گشا شیر خدا
مادر آن مرکز پرگار عشق مادر آن کاروان سالار عشق
مزرع تسلیم را حاصل بتول مادران را اسوۂ کامل بتول
رشتۂ آئین حق زنجیر پاست پاس فرمان جناب مصطفی است
ورنہ گرد تربتش گردیدمی سجدہ ہا بر خاک او پاشیدمی

ترجمہ: حضرت مریمؑ تو حضرت عیسٰی ؑ سے ایک نسبت کی بنا پر عزیز ہیں، جبکہ حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا اس طرح کی تین نسبتوں سے عزیز ہیں۔ پہلی نسبت یہ کہ آپ رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نورِنظر ہیں، جو اولین اور آخرین کے امام ہیں۔ دوسری نسبت یہ کہ آپؓ "ہل اتیٰ ” کے تاجدار کی حرم ہیں۔ جو مشکل کشا اور اللہ کے شیر ہیں۔ تیسری نسبت یہ ہے کہ آپ اُن ہستیوں کی ماں ہیں، جن میں سے ایک عشقِ حق کی پرکار کا مرکز ہیں اور دوسرے عشقِ حق کے قافلے کے سالار ہیں۔ حضرت فاطمہ تسلیم کی کھیتی کا حاصل ہیں اور آپ مسلمان ماوں کیلئے اسوہ کامل بن گئیں۔ ساتھ ہی حضرت اقبال جناب سیدہ کی شان بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالٰی کی قانون کی ڈوری نے میرے پاوں باندھ رکھے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان کے پاس نے مجھے روک رکھا ہے، ورنہ میں حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کے مزار کا طواف کرتا اور اس مقام پر سجدہ ریز ہوتا۔

اللہ اکبر! اپنی اس شاعری میں حضرت اقبالؒ نے دختر رسول حضرت فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا کی شان کی بلندی کو بیان کرتے ہوئے انہیں دنیا کی عظیم ترین خاتون کا درجہ دیا ہے۔ بیشک عالم اسلام میں اہم اور معزز خواتین گزری ہیں، جن کی ذات کسی بھی ایک نسبت کی وجہ سے دنیا کے دوسری خواتین سے بلند ہے، لیکن جناب سیدہ کی ذات بیک وقت کئی نسبتوں کی وجہ سے دنیا و آخرت میں عظیم مرتبے پر فائز ہیں۔ اسی طرح سے حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کے سارے کمالات صرف ان کی تین نسبتیں، کل متاع اور یہ ساری میراث نہیں بلکہ حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کے کچھ اور کمالات بھی ہیں اور یہ میراث ان کمالات کا نتیجہ ہے، یعنی کچھ کمالات حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کے ایسے ہیں، جنہوں نے حضرت زہراء سلام اللہ علیھا کو اس قابل بنایا ہے کہ یہ تین نسبتیں ان سے منسلک ہو جائیں۔ یہاں جناب سیدہ کی اس طرح شان بیان کرنے کا مقصد کسی اور کی شان گھٹانا ہرگز نہیں، بلکہ ان خصوصیات کا ذکر کرنا ہے، جن سے خداوند عالمین نے خصوصی طور پر جناب سیدہ کو نوازا ہے۔

حضرت علامہ اقبال ؒ نے جناب سیدہ کی شان بیان کرتے ہوئے حضرت مریم کی بھی مثال دی ہے۔اور یہ نسبتیں بقول ان کے حضرت مریم کے تو کیا دیگر انبیاء اور ہستیوں سے تعلق رکھنے والی عظیم خواتین یا امہات المومنین کو بھی بیک وقت میسر نہیں ہوئیں اور جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیان کی گئی احادیث ہی صرف نمونہ عمل نہیں بلکہ ان کی عملی زندگی بھی ہمارے لئے رول ماڈل ہے، اسی طرح جناب سیدہ کا عظیم کردار بھی ہمارے سامنے ہے، جسے اپنا کر ہم اپنے کردار کو بلند کرسکتے ہیں۔ انسان ایک پتھر نہیں جسے اٹھا کر ایک بلند مقام پر رکھ دیا جائے تو اس کا مقام بلند ہو جائے گا، بلکہ انسان کو کردار کی بلندی کیلئے اپنے ارادے اور اختیار کو اس پاک ہستی کے کردار کے مطابق ڈھالنا ہوگا۔ ان کی شخصیت کا مطالعہ کرنا ہوگا اور اپنے قول و فعل سے اپنے رشتوں کے درمیاں خوبصورتی پیدا کرنا ہوگی۔

مرد و خواتین کے حقوق کو حقیقی معنوں میں جاننے اور اپنے معاشرے کو درست سمت میں آگہی دینے کیلئے ہمیں جناب سیدہ کے کردار اور فرامین کو اپنانا ہوگا۔ اس کیلئے سب سے بہترین عمل اور اقدام کے طور پر ہم ان کے یوم ولادت کو ملک عزیز پاکستان میں "یوم خواتین” کے طور پر منانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ تاکہ ان کی تعلیمات عام ہوسکیں اور صحیح معنوں میں ہم ان سے بہرہ مند ہوسکیں۔ اسلام کی راہ پر کامیابی اور رسول پاک کے اسوۃ حسنہ پر چلنے کیلئے ہفتہ وحدت اسلامی اور میلاد منا سکتے ہیں، تو ایک خوبصورت اور مثالی معاشرے کے قیام کیلئے ان کی دختر پاک جناب سیدہ طاہرہ سلام اللہ علیھا کی ذات کو مشعل راہ کیوں نہیں بنا سکتے۔ تاکہ ہمارا معاشرہ ان پاک ہستی کی برکت سے رشتوں کے آداب اور احترام کے حوالے سے مثالی معاشرہ بن سکے۔

• رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکرا ہے، اس لیے جس نے اسے ناراض کیا، اس نے مجھے ناراض کیا۔ صحیح بخاری
• حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جناب سیدہ کو دیکھ کر احتراما کھڑے ہو جاتے تھے۔
• حضرت زہرا سلام اللہ علیھا کی ذات بیک وقت ایک بیٹی، بیوی اور ماں کے طور پر مثالی کردار ہے۔
• حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کی سیرت مثالی معاشرے کے قیام کے لئے نمونہ عمل ہے۔
• مثالی معاشرے کے قیام کیلئے حضرت فاطمۃ الزہراء سلام اللہ علیھا کے یوم ولادت کو "یوم خواتین” کے طور پر منایا جائے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …