اتوار , 29 جنوری 2023

یوکرین کی جنگ کے مخفی پہلو

جہاں ایک طرف یوکرین میں جنگ میں شدت آنے کے اشارے صاف نظر آ رہے ہيں وہیں روس کے صدر پوتن نے ایک بیان دے کر یہ نظریہ پختہ کر دیا ہے کہ روس کی نظر میں اس کے خلاف بڑی خطرناک سازش کی گئی ہے۔

پوتن نے کہا ہے کہ مغربی طاقتیں روس کو تقسیم کرنے کی سازش کر رہی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں 100 فیصد یقین ہے کہ روسی فوج امریکی پیٹریاٹ میزائلوں کو کامیابی سے تباہ کر دے گی۔

روسی صدر پوتن نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ سب کچھ ہمارے جیوپولیٹکل مخالفین کی پالیسیوں پر منحصر ہے جو روس کے ٹکڑے کرنا چاہتے ہیں۔

پوتن نے کہا کہ مغربی طاقتوں کی ہمیشہ سے یہی کوشش رہی اور اس وقت بھی وہ یہی کوشش کر رہے ہیں تاہم ہمارا مقصد الگ ہے اور ہم پوری روسی قوم کو متحد کرنا چاہتے ہیں۔ پوتن کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنگ صحیح سمت میں آگے بڑھ رہی ہے جبکہ یوکرین کی حکومت نے امن مذاکرات کا ہر موقع گنوا دیا ۔

یوکرین کی یہ صورتحال ہے کہ ایئر ہائی الرٹ کا پلان کیا گیا ہے، یہ اعلان تب کیا جاتا ہے جب روس کی طرف سے کسی بڑے فضائی حملے کا امکان ہوتا ہے۔

یوکرین کا کہنا ہے کہ بیلاروس سے ملنے والی اس کی سرحد کے قریب سرگرمیاں نظر آ رہی ہیں۔
دیکھنے میں آ رہا ہے کہ بیلاروس کی سرزمین سے یوکرین کی سرحد کی جانب ٹینک اور توپوں کے کارواں بڑھ رہے ہيں۔ یوکرین کے حکام کے بیانوں سے صاف ظاہر ہے کہ یوکرین کی شدت میں کوئی کمی آنے کے بجائے تیزی آ رہی ہے۔

روس کے نائب وزیر خارجہ میيخائیل گالوزین کا کہنا ہے کہ بیلاروس سے ہمارا اتحاد یوکرین جنگ کے لئے نہیں ہے۔ اس اتحاد کا مقصد بیلاروس کی سرزمین پر ہونے والے کسی بھی ممکنہ حملے کو روکنا ہے اسی لئے بیلاروس کو ایس-400 کی بیٹریز بھی دی گئی ہیں ۔

اس پورے واقعے کو دیکھتے ہوئے ترکی کے وزیر دفاع حلوصی آکار نے کہا کہ یوکرین میں جانی جنگ آسانی سے ختم ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنگ روکنے کی پڑی درخواستیں کی گئی ہیں اور کی جا رہی ہیں مگر لگتا ہے کہ 2023 میں بھی یہ جنگ رکنے والی نہيں ہے۔

سب سے بڑی تشویش کی بات یہ ہے کہ یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ ابھی تو دو ممالک کے درمیان جنگ نظر آر ہی ہے مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ دو ممالک کی نہیں بلکہ بہت سے ممالک کی جنگ ہے۔

کچھ ملک یہ جنگ پراکسی جنگ کے طور پر لڑ رہے ہیں۔ اس طرح کی جنگ کی خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ اس میں کبھی بھی اس کے ساتھ کئی ممالک کے کود پڑنے کا پورا اندیشہ رہتا ہے اور پراکسی جنگ براہ راست جنگ کی شکل اختیار کر لیتی ہے۔

اس طرح کی کسی بھی صورت یوکرین اور روس ہی نہیں اور اس علاقے ہی بلکہ دنیا کو متاثر کریں گی جو کوویڈ وبا کے بعد پہلے ہی متعدد قسم کے بحرانوں کا شکار ہے۔بشکریہ سحر نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پاک روس تعلقات

(تحریر : ڈاکٹر رشید احمد خاں) پاکستان اور روس کے درمیان دو طرفہ بنیادوں پر …