ہفتہ , 4 فروری 2023

انسانی حقوق کے قلب پر ایک اور امریکی وار

(ترتیب و تنظیم: علی واحدی)

’’بلیک لائیوز میٹر‘‘ کے بانیوں میں سے ایک کے کزن کو امریکی پولیس نے قتل کر دیا۔امریکی میڈیا نے لاس اینجلس پولیس کی جانب سے بجلی کے جھٹکے لگنے سے سیاہ فام شخص کی ہلاکت کی خبر دی ہے۔ ایک شخص جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلیک لائیوز میٹر موومنٹ کے بانیوں میں سے ایک کا کزن ہے۔ سی این این نے ایک 31 سالہ سیاہ فام شخص کی پولیس کا سامنا کرنے کے بعد موت کی اطلاع دی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق لاس اینجلس پولیس نے ایک بیان میں کہا ہے کہ انہوں نے کینن اینڈرسن کو 3 جنوری کو لاس اینجلس کے وینس محلے میں ٹریفک حادثے میں دیکھا تھا۔

"سی این این” نے اطلاع دی ہے کہ اینڈرسن کو پولیس کی طرف سے بجلی کے جھٹکے لگنے کے بعد ہسپتال لے جایا گیا، جہاں وہ حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ پیٹریس کالرز کے کزن کینن اینڈرسن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بلیک لائیوز میٹر موومنٹ کے بانیوں میں سے ایک ہیں۔ Black Lives Matter ایک سماجی تحریک ہے، جو امریکی سیاہ فام کمیونٹی میں شروع ہوئی تھی اور سیاہ فام لوگوں کے خلاف تشدد اور نسل پرستی سے مقابلےکے لیے فعال ہے۔

"سی این این” نے مزید لکھا: پولیس کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ پولیس نے کینن اینڈرسن کی گرفتاری کے دوران انہیں کئی بار بجلی کے جھٹکے لگائے۔ اینڈرسن کی گرفتاری کے بعد اسے مقامی ہسپتال لے جایا گیا، لیکن وہ دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ شائع شدہ تصاویر کے مطابق پولیس کے وحشیانہ رویئے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اینڈرسن نے امریکی پولیس کے ہاتھوں اسی طرح مارے جانے والے "جارج فلائیڈ” کی طرف اشارہ کیا اور پولیس سے کہا کہ وہ اسے بجلی کے جھٹکے نہ دے، اس نے مدد بھی مانگی لیکن نتیجہ صفر رہا۔

پیٹریس کالرز نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر لکھا ہے: "اینڈرسن کو لاس اینجلس پولیس نے ہلاک کر دیا۔ انہوں نے مزید کہا: "کینن کا بیٹا اپنے والد کی پرورش کا مستحق ہے۔ ہم آپ کے لیے اور اپنے تمام پیاروں کے لیے لڑیں گے، جنہیں حکومتی تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔‘‘ واشنگٹن میں انگریزی زبان کی تعلیم دینے والے ادارے ڈیجیٹل پائنیئرز نے بتایا ہے کہ امریکی پولیس کے ہاتھوں مارے جانے والے اینڈرسن انسٹی ٹیوٹ میں انگریزی پڑھاتے تھے اور نئے سال میں رشتہ داروں سے ملنے لاس اینجلس گئے تھے۔

رہبر انقلاب نے کچھ عرصہ پہلے اپنے ایک خطاب میں امریکہ میں آجکل وقوع پذیر ہونے والے واقعات کو امریکی مصنوعی ثقافت کے اندر دبائی گئی حقیقت قرار دیا اور کہا کہ ایک سیاہ فام انسان کی گردن پر پولیس افسر کی جانب سے گھٹنا رکھ کر اس قدر دبایا جانا کہ اس کی جان ہی نکل جائے، درحالیکہ دوسرے پولیس اہلکار بھی اس منظر کا تماشا کر رہے ہوں، (امریکی ثقافت میں) کوئی نئی چیز نہیں بلکہ یہ امریکی حکومت کا وہی اخلاق و سرشت ہے، جسے وہ قبل ازیں افغانستان، عراق، شام اور ویتنام سمیت دنیا کے بہت سے ممالک کے اندر بارہا ظاہر کرچکی ہے۔ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے امریکی عوام کے اس نعرے کہ "مجھے سانس نہیں آرہی” (!I Can’t Breathe) کو ظلم تلے پِستی تمام اقوام کے دل کی بات قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ امریکی اپنے بُرے سلوک کی بناء پر پوری دنیا میں رسوا ہوچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عوام کے ساتھ ان کی یہ شرمناک بدسلوکی کہ جس کے دوران وہ سرعام جرائم کے مرتکب ہوتے ہیں اور پھر عذر خواہی بھی نہیں کرتے بلکہ انسانی حقوق کا نعرہ لگاتے ہیں! انہوں نے امریکہ میں رائج نسل پرستی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کیا قتل ہونے والا وہ سیاہ فام شخص انسان نہیں تھا اور کیا اس کے کوئی حقوق نہیں تھے۔؟ آیت اللہ خامنہ ای نے امریکی حکومت کے گھناؤنے اقدامات پر امریکی قوم کے جھکے سروں اور ان کے اندر پائے جانے والے شرمندگی کے احساس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ تازہ ترین صورتحال کے باعث وہ افراد جن کا مشغلہ ملک کے اندر و باہر امریکی حکومت کی حمایت اور اس کے مذموم اقدامات کو چار چاند لگانا تھا، اب اپنا سر اٹھانے کے قابل نہیں رہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …