جمعرات , 9 فروری 2023

امامؑ زمانہ کے گمنام سپاہیوں کے ہاتھوں ایران میں برطانوی جاسوس کی گرفتاری کا ماجرا

اسلامی جموریہ ایران کے گمنام مجاہدین رب العزت کی نصرت پر بھروسہ اور اہلبیتؑ عصمت و طہارت سے توسل کرتے ہوئے اس بات کا حلفیہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ دشمن کے جاسوسوں اور دراندازی کرنیوالے عناصر پر ہر سطح پر نظر رکھنا اور بغیر کسی تساہل اور تاخیر کے انکے ساتھ قانونی طور پر نمٹنا، شب روز کی مجاہدانہ زندگی میں ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔

ایران کی وزارت اطلاعات کی جانب سے علی رضا اکبری کی برطانوی جاسوس و نفوذی کے طور پر شناخت اور گرفتاری کے لیے کیے گئے اقدامات کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایران کی معزز قوم کو آگاہ کر رہے ہیں کہ ملک کے حساس اور اسٹریٹجک مراکز میں بدنیتی پر مبنی برطانوی جاسوسوں کے ایک اہم ترین درانداز کو امام زمان علیہ السلام کے گمنام سپاہیوں نے شناخت کیا اور ایک طویل عرصے کی محنت و کاوشوں کے بعد اسے گرفتار کر لیا تھا۔ دشمن ملک کے اس جاسوس کی گرفتاری کاؤنٹر انٹیلی جنس کارروائیوں، ٹیکنیکل اقدامات اور خفیہ آپریشنز کے ذریعے عمل میں آئی۔ علی رضا اکبری نامی اس جاسوس کی ملک کی بعض حساس تنصیبات و آلات تک رسائی تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے دشمن کی انٹیلی جنس سروس کو مکمل آگاہی کے ساتھ کئی بار معلومات فراہم کی تھیں۔

برطانوی انٹیلی جنس سروس کیساتھ ابتدائی رابطوں اور بعد میں اس کا حصہ بننے کے بارے تفصیلات ظاہر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ برطانوی شہریت کے حامل سابق ڈپٹی وزیر کو تہران میں برطانوی سفارت خانے سے ویزا حاصل کرنے کے عمل کے دوران برطانوی سفارت خانے میں تعینات انٹیلی جنس ایجنٹوں نے اعلیٰ حکام سے متعارف کروایا اور بھرتی کرنیکے لیے انٹرویوز کا سلسلہ شروع کیا۔ پھر علی رضا اکبری نے ذاتی طور پر یورپ گئے اور اس دوران برطانوی انٹیلی جنس ایجنسی نے اسے بھرتی کر لیا اور وہ کل وقتی ملازم ایجنٹ اور انفارمر بن گیا۔ امامؑ زمانہ کے گمنام مجاہدین کی کاوشوں کے نتیجے میں یہ تفصیلات سامنے آئیں کہ وزارت دفاع میں اپنے عہدے اور حساس مقامات و معلومات تک رسائی کی وجہ سے اسے برطانوی انٹیلی جنس نے بہت زیادہ اہمیت دی۔ یہی وجہ تھی کہ بہت جلد علی رضا اکبری برطانوی جاسوسی ادارے SIS سروس کے لیے ایک اہم جاسوس شمار ہونے لگا اور دشمن کی انٹیلی جنس سروس کے ایران ڈیسک کے کئی اہم افسران مشترکہ طور پر اس کو ہدایات دیتے اور وہ ان پر عمل کرتا تھا۔

وزارت اطلاعات کے کاونٹر انٹیلی جنس افسران کی جانب سے مذکورہ مخفی روابط کے منکشف ہونیکے بعد، دشمن کی انٹیلجنس سرویس کے اہداف، مطلوبہ چیزوں کی فہرستوں اور دشمن کے رابطوں کے طریقہ کار اور وسائل کے متعلق مکمل معلومات جمع کی گئیں اور مکمل تیاری کے بعد برطانیہ کی SIS سروس اور جاسوس کے درمیان خفیہ رابطوں کے میکنزم میں اپنے خفیہ ایجنٹوں کو داخل کیا گیا۔ اس ساری کارروائی کے نتیجے میں عدالت کے حکم کے بعد ملزم کو گرفتار کیا گیا۔ بعد ازاں کیس کی کارروائی مکمل ہوئی اور عدالتی حکم کے نتیجے میں جرم ثابت ہونے پر سزائے موت دی گئی۔ واضح رہے کہ برطانوی وزارت خارجہ نے اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت اطلاعات کے اس بیان پر ردعمل ظاہر کیا تھا کہ جس میں علی رضا اکبری کو سزائے موت کا اعلان کیا گیا تھا۔ گذشتہ دنوں ڈیلی ٹیلی گراف نے برطانوی وزارت خارجہ کے ترجمان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ہم مسٹر اکبری کے خاندان کی حمایت کرتے ہیں اور بارہا ایرانی حکام کے ساتھ ان کا معاملہ اٹھا چکے ہیں، ہماری ترجیح اس کی جلد رہائی ہے اور ہم نے فوری قونصلر رسائی کے لیے اپنی درخواست کا اعادہ کیا ہے۔

اس بیان کے چند منٹ بعد ہی برطانوی وزیر خارجہ جیمز کلیورلی نے بھی کہا تھا کہ ایران کو چاہیئے کہ وہ برطانوی ایرانی شہری علی رضا اکبری کی پھانسی کو روکے اور اسے فوری رہا کر دے۔ لیکن بدھ کو ایرانی وزارت اطلاعات نے علی رضا اکبری کی سزائے موت کے بارے میں ایک اعلان میں کہا کہ اس نے دانستہ طور پر ملک کی اہم معلومات دشمن کی انٹیلی جنس سروس کو فراہم کی تھیں۔ نیز ایرانی وزارت اطلاعات نے اعلان کیا تھا کہ اکبری برطانوی انٹیلی جنس سروس کے اہم ترین ایجنٹوں میں سے ایک تھا۔ علی رضا اکبری کو بدعنوانی کے جرم اور معلومات کی ترسیل کے ذریعے ملک کی اندرونی اور بیرونی سلامتی کے خلاف وسیع پیمانے پر خیانت کے جرم میں سزائے موت سنائی گئی۔ دوسری جانب عدلیہ کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ علی رضا اکبری کو کچھ عرصہ قبل ملک کے خلاف جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا، اس بنا پر ملزم کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور فرد جرم عائد کرنے اور ٹرائل کے لیے عدالت سے رجوع کیا گیا اور ملزم کے وکیل کی موجودگی میں سماعت ہوئی اور مقدمے میں موجود درست دستاویزات کی بنیاد پر اس شخص کو سزا سنائی گئی، یعنی انگلینڈ کے لیے جاسوسی کے جرم میں موت کی سزا۔

مدعا علیہ کے اعتراضات اور اس کی طرف سے اپیل کے بعد سپریم کورٹ میں کیس کی دوبارہ سماعت ہوئی اور اپیل کو مسترد کرتے ہوئے سپریم کورٹ نے اصل فیصلہ اور اکبری کی سزائے موت کو برقرار رکھا۔ اپنی جانیں ہتھیلیوں پر رکھ کر کام کرنے والے گمنام مجاہدین نے دشمن کو مخاطب کرتے ہوئے پیغام جاری کیا ہے کہ اگرچہ انگلستان کا شیطانی دشمن اس شخص کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر اسے بھرتی کرنے میں کامیاب ہوگیا تھا، لیکن وہ یقینی طور پر یہ نہیں جانتا کہ برطانوی انٹیلی جنس سروس کو موصول ہونے والی معلومات کا کون سا حصہ پہلے سے منصوبے کے تحت تیار کی گئی غلط معلومات پر مشتمل تھا۔ نیز اسلامی جموریہ ایران کے گمنام مجاہدین رب العزت کی نصرت پر بھروسہ اور اہل بیتؑ عصمت و طہارت سے توسل کرتے ہوئے اس بات کا حلفیہ طور پر اعلان کرتے ہیں کہ دشمن کے جاسوسوں اور دراندازی کرنے والے عناصر پر ہر سطح پر نظر رکھنا اور بغیر کسی تساہل اور تاخیر کے ان کے ساتھ قانونی طور پر نمٹنا، شب روز کی مجاہدانہ زندگی میں ہماری سب سے پہلی ترجیح ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

پارلیمنٹ آف حجاز

(تحریر: سید رضی عمادی) سعودی عرب کے سیاسی کارکنوں (ایکٹیوسٹ) نے حجاز کی سرزمین میں …