جمعرات , 2 فروری 2023

حضرت فاطمۃ الزہرا (س) بحیثیت آئیڈیل شخصیت

(تحریر: سیدہ سائرہ نقوی)

ارشادِ خداوندی ہے: "خدا تو سارے آسمان اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں (علم و شریعت) کا ایک چراغ روشن ہو اور وہ چراغ شیشے کی ایک قندیل میں ہو، اپنی چمک دمک میں گویا روشن ستارہ ہو، وہ چراغ زیتون کے بابرکت درخت کے تیل سے روشن کیا جائے، جو شرقی ہو نہ غربی بلکہ ہر جگہ اس کا نور ہو۔ اُس کا تیل اتنا صاف اور شفاف ہو کہ آگ سے نزدیک ہوئے بغیر خود ہی روشن ہو جائے۔ نور بالائے نور (یعنی روشنی پر روشنی) خدا جسے چاہتا ہے اپنے نور کی طرف ہدایت کرتا ہے، خدا لوگوں کے لیے مثالیں بیان کرتا ہے، اور خدا تو ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔” اللہ تعالی نے سورۂ نور کی ۳۵ویں آیت میں خود کو ایک مثال کے ذریعے بیان کیا ہے۔ حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام کی ایک روایت کے مطابق یہاں طاق سے مراد حضرت فاطمہ، چراغ سے مراد حضرت حسین اور قندیل سے مراد حضرت حسن (علیہم السلام) ہیں۔ اس روایت کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالی نے اپنی بےعیب اور مکمل ذات کو ایسی ہسیتوں کے ذریعے بیان کیا ہے جو مکمل ہیں، ان میں کوئی کمی یا کجی نہیں پائی جاتی۔ یہ ہستیاں انسانی شکل میں خدا کی مکمل تصویر پیش کرتی ہیں۔ ایک اور روایت میں ہے کہ "نحن وجه اللہ: ہم خدا کے چہرے ہیں” یعنی اگر خدائے بزرگ و برتر کی ذات کو سمجھنا ہے تو ان ہستیوں کے کردار و عمل کو بطورِ نمونہ دیکھنا چاہیے۔ اس روایت کے مفہوم کو منتخب شدہ موضوع یعنی جناب فاطمہ زھرا (س) بحیثیت آئیڈیل شخصیت سے مربوط کرتے ہوئے لفظ ideal کو بخوبی سمجھا جا سکتا ہے۔ لفظ ideal کیا ہے اور اس کے کیا معنی ہیں؟ یہ لفظ idea سے لیا گیا ہے اور اس کے ایک سے زائد معانی ہیں۔ یہاں ideal سے مراد ہے، a person regarded as perfect یعنی وہ شخص جسے مکمل سمجھا جائے۔

بلاشبہ حضرت فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ایک آئیڈیل شخصیت ہیں۔ اور ان کا کردار قابل تقلید ہے۔ یہاں آئیڈیل سے مراد عورتوں کی آئیڈیل نہیں ہے۔ آئیڈیل تو آئیڈیل ہوتا ہے۔ اس کی کوئی تخصیص نہیں ہو سکتی، بالکل اسی طرح کہ جیسے نبی آخر حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ ہر انسان کے آئیڈیل ہیں۔ اگرچہ وہ مرد تھے لیکن اُن کی شخصیت و کردار ہر فرد کے لیے نمونہ ہے۔ پس دونوں باپ بیٹی زمانہ جاہلیت سے لے کر آ ج تک اور آنے والے کل کے ہر انسان کے آئیڈیل ہیں۔ یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ ان دونوں ہستیوں کے خود کو بحیثیت آئیڈیل منوانے کے طریقے یکساں تھے، دور بھی یکساں تھا لیکن صنف کے تضاد نے فاطمہ (س) کے لیے کافی مشکلات پیدا کیں۔ فاطمہ (س) کے والد گرامی یعنی حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے مثالی کردار سے عرب کے جاہل معاشرے میں خود کو ideal ثابت کیا۔ ہر بچہ، جوان، مرد و زن سب آپ (ص) کی شخصیت کے گرویدہ ہو گئے۔ آپ کا وجود ان لوگوں کے لیے اس لئے بھی قابل قبول بنا کہ وہ معاشرہ مردوں کا معاشرہ تھا۔ عورت کے حوالے سے انھوں نے غیر انسانی فکر و رسومات کو اپنا رکھا تھا۔ عورت کا ذکر بازاری زبان میں کیا جا تا تھا، اُس کی حرمت محفوظ نہیں تھی، بیٹی کی پیدائش ذلت و رسوائی کا سبب تھی اور جس شخص کی اولاد نرینہ نہیں ہوتی تھی وہ ابتر کہلاتا تھا۔ جب فاطمہ (س) کی پیدائش ہوئی تو نبی کریم کو بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا لیکن خدا کے نزدیک اس طعنہ کی کوئی اہمیت نہ تھی اور ان کو اعزاز سے نوازا، فرمایا: "(اے محمدؐ!) ہم نے ایک چشمہ کثیر (فاطمہ) آپ کو عطا کیا”۔(۱) جب ایسا ہے تو اپنے پروردگار کے لیے نماز پڑھئے اور قربانی دیں۔ (۲) یقیناً آپؐ کا دشمن مقطوع النسل ہے۔ (۳)

جب کبھی کسی شخصیت کو idealise کیا جاتا ہے تو اُس کے پس منظر میں چھپے ہوئے ان لوگوں اور ماحول کی جستجو ہوتی ہے، جن کے ذریعے وہ آئیڈیل کئی جہتیں لیے سامنے آتا ہے۔ یعنی آئیڈیل ماحول اور تربیت کا انداز ہمارے لیے inspiration سے کم نہیں ہو سکتا، پس فاطمہ (س) کا ماحول ان کے والدین نے بنایا اور تربیت بھی انہی کے ہاتھوں ہوئی گویا آپؐ کی تربیت اس گھرانے میں ہوئی جس کی چوکھٹ پر فخر ملائکہ حضرت جبرئیل ؑ سجدہ ریز ہیں۔ آپ اُس مجسم اخلاق کی بیٹی ہیں جس کے خلق کی گواہی اللہ نے قرآن میں دی۔ آپ وہ خاتون ہیں جس پر حضرت خدیجہ سلام اللہ علیھا کو ناز ہے۔ احکاماتِ الہی آپ کے سامنے نازل ہوتے اور پھر ان احکامات پر اپنے ماں باپ کو عمل پیرا ہوئے ہوئے بھی دیکھا۔ جب زمین زرخیز اور ہموار ہو اور رشد و نمو کا بہترین سامان موجود ہو تو باغبان کو کوئی فکر نہیں ہوتی۔ بقول سعدی:

باران کہ در لطافت طبعش خلاف نیست

در باغ لالہ روید و در شو رہ زار خس

یعنی اس بات میں کوئی اختلاف نہیں کہ بارش اپنی ذات کے اعتبار سے رحمت اور لطف خدا ہے مگر یہی بارش باغ میں گل لالہ اگاتی ہے اور سیم و تھور والی زمین میں تنکے!! پس حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا بھی لطف خدا اور باغبان کی محنت سے ایک مثالی شخصیت بن کر اُبھریں۔

عام طور پر کسی بچے کی تربیت میں ماں کے کردار کو اہم تصور کیا جاتا ہے، لیکن شومئی قسمت کہ فاطمہ زھرا ؑ شفقت مادری سے بہت جلد محروم ہو گئیں۔ یہ محرومی نبی کریم (ص) کے حصے میں بھی آئی کہ وہ ایک بہترین شریک حیات سے محروم ہوگئے۔ مگر خداوند عالم کی سنت ہے کہ جب وہ کسی بندے سے کوئی نعمت سلب کر لیتا ہے تو اُس کی جگہ اسے دوسری نعمت عطا کرتا ہے۔ حضرت خدیجہ (س) کی کمی کو فاطمہ سلام اللہ علیھا جیسی عظیم نعمت نے پورا کر دیا۔ اس مقام پر ایک آئیڈیل کے حوالے سے بی بی سیدہ کے کردار کی درجہ بندی کرنا ضروری ہے۔ یعنی آپ نے عورت کی حیثیت سے بیٹی، بیوی اور ماں کے کردار کو بطریق احسن نبھایا۔ جناب خدیجۃ الکبری کی یادگار جناب فاطمہ زھرا (س) مہربان، وفادار، جاں نثار، دلیر، ایثار کرنے والی بیٹی جو ہمیشہ اپنے باپ کو سکون پہنچاتی رہیں اور ان کے چہرہ اقدس کو رنج و غم سے پاک کرتی رہیں۔ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا بچپن مکہ کے انتہائی سنگلاخ و پرخطر حالات میں گزرا۔ آپ کے والد بزرگوار دین حق کی تبلیغ میں مصروف تھے اور دشمن کی اذیت ناک تکلیفوں کا سامنا کر رہے تھے۔ اس وقت بھی فاطمہ (س) نے اُن کی دلجوئی کی اور حتی المقدور ساتھ دیا۔ ہجرت مدینہ کے بعد فاطمہ (س) کی ازدواجی زندگی کا آغاز ہوا۔ چونکہ وہ خود ایک ideal شخصیت کی مالک تھیں اور ایک آئیڈیل انسان کی بیٹی تھیں لہٰذا آپ کے پدر بزرگوار نے آپ کا عقد بھی کائنات کے افضل ترین انسان سے کر دیا۔ یہ وہ ہستی ہے کہ جس کے بارے میں نبی کریم نے فرمایا، "اگر حضرت علی علیہ السلام پیدا نہ ہوتے تو حضرت فاطمہ سلام اللہ علیھا کا کوئی ہم سر نہ ہوتا۔”

شوہر کے گھر میں حضرت زہرا کی زندگی نمونہ تھی۔ ان کے والد، شوہر اور فرزند نمونہ تھے۔ بظاہر یہ ہستیاں دوسرے انسانوں کی طرح چلتی پھرتی، کھاتی پیتی اور زندگی بسرکرتی تھیں لیکن ان کی سرشت فرشتوں سے بھی افضل تھی۔ ایسی سرشت جو خدا سے پیوستہ تھی۔ یہ ایسے انسان تھے جو دوسروں کے دکھ اور تکلیف کا مداوا کرنے کی کوشش کرتے۔ خود تکلیف اٹھاتے تاکہ دوسروں کو آرام ملے۔ ایسے افراد اطبائے الٰہی اور ذات حق کے شاگرد ہیں اور اس شعر کے کامل مصداق ہیں۔ "کل یرید رجالہ لحیاتہ یا من یرید حیاتہ لرجالہ” وہ روح کی عظمت اور برتری سمجھتے ہیں نہ کہ جسم پالنے اور جسمانی ضرورت کو پورا کرنے میں۔ اگر وہ جسم کے ساتھ زندہ اور موجود ہیں تو اسلیے تاکہ دوسروں کو اچھی زندگی کا درس دیں۔ جناب سیدہ (س) ایسے ہی مدرسے کی تعلیم یافتہ تھیں۔ اس مثالی خاتون کی ازدواجی زندگی بھی مثالی ہے۔ کہنے کو تو یہ بی بی مادی حوالے سے جہیز میں محض ایک چٹائی، چکی، چمڑے کی مشک اور جوڑا کپڑوں کا لے کر آئیں مگر معنوی لحاظ سے وہ عظیم ترین عالم کے دیے ہوئے علم و اخلاق کے زیور سے آراستہ تھیں۔ پھر جس شخص کے نام کی چادر انھوں نے اوڑھ رکھی تھی وہ کائناتِ کل کا مولا تھا مگر تمام عمر اس سے کوئی فرمائش نہیں کی اور ہمیشہ خدمت کرنے کے بعد بھی وقت آخر معذرت طلب کی کہ اگر مجھ سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو تو معاف فرما دیجئے۔ اس مقام پر اس بات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ فاطمہ (س) نے ایک آئیڈیل بیوی کا کردار ادا کرتے ہوئے اپنے والد کی تربیت کو قطعا فراموش نہیں کیا جیسے ایک مرتبہ حسنین علیہم السلام دو یا تین دن کے فاقے سے تھے لیکن جناب سیدہ نے حضرت علیؑ کو نہیں بتایا۔ جب علیؑ آگاہ ہوئے تو فرمایا کہ مجھے کیوں نہیں بتایا کہ بچے بھوکے ہیں؟ سیدہ ؑ نے جواب میں فر مایا: ”میرے بابا نے فرمایا ہے، علیؑ سے کوئی چیز طلب نہ کر مگر یہ کہ وہ خود آپ کے لیے مہیا کریں ۔”

اس واقعہ میں فاطمہ سلام اللہ علیھا بطور آئیڈیل ماں بھی ہمارے سامنے آتی ہیں۔ آپ نے اپنے بچوں کو جو تربیت دی، آنے والے وقت نے ثابت کر دیاکہ آپ ایک مثالی ماں ہیں، بچپن ہی سے فقر و فاقہ میں زندگی بسر کرنے والی خاتون نے اپنے بچوں کو ظاہری نمود و نمائش اور لہو و لعب سے دور رکھا۔ خاتونِ جنت نے اولاد کی تربیت کا فرض کس خوبی کے ساتھ ادا کیا، اس کا جواب کربلا کے میدان، کوفہ کے بازاروں اور دمشق کے دربار سے پوچھیں!! مختصر یہ کہ جناب سیدہ کے ذاتی اور اضافی امتیازات کے بارے میں اتنا کہنا ہی کافی ہے کہ کائنات ہست و بود میں کوئی اور خاتون ایسی نہیں ہے۔ جس کے تمام انسانی رشتے اس قدر بلند اور برتر ہوں۔ لیکن درحقیقت اضافی کمالات ہمیشہ دوسرے انسان کے ہوتے ہیں اور ذاتی کمالات خود اپنے ہوتے ہیں، چاہے زور بازو سے حاصل کئے ہوں یا وہ کرمِ پروردگار کا نتیجہ ہوں لیکن بہرحال ان کا تعلق انسان کی اپنی ذات سے ہوتا ہے۔ وہ ذاتی کمالات جو حقیقی و معنوی کمالات ہیں اور آپ سلام اللہ علیھا کو بحیثیت آئیڈیل پیش کرتے ہیں، یہ ہیں:
آپ طاہرہ ہیں! کیو نکہ آیہ تطہیر میں شامل ہیں۔
آپ صدیقہ ہیں! کیونکہ میدان مباہلہ میں مرسل اعظمؐ کی حقانیت کے گواہوں میں واحد خاتون آپ تھیں۔
آپ شجاع ہیں! کیونکہ احد کے میدان اور دربار خلیفہ میں جا کر قوتِ قلب و جگر اور زور زبان کا اظہار کیا۔
آپ محدثہ ہیں! کیونکہ مصحف فاطمہ کی مالک ہیں۔

الغرض جناب فاطمہ زھرا سلام اللہ علیھا ایک آئیڈیل بیٹی، رفیقہ حیات، ماں اور عورت کی شکل میں بلند ترین مقام پر نظر آتی ہیں۔ آپ نہ صرف ہر انسان کی آئیڈیل ہیں بلکہ ہر اس رشتے کی بھی پسندیدہ اور ideal شخصیت ہیں جس نے آپؑ کو بیٹی، بیوی اور ماں کے روپ میں دیکھا جیسے آپ ؑ کی وفات کے بعد حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا گیا کہ فاطمہ (س) کو کیسا پایا؟ فرمایا: ” فاطمہ بنت محمد ؐبہترین گھر والی تھیں۔ انھوں نے ذرہ بھر بھی مجھے تکلیف نہ دی۔ وہ جنت کا ایک خوشبو دار پھول تھیں جس کی مہک سے میرا دل و دماغ معطر ہے انھیں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔” حضرت امام حسین ؑ فرماتے ہیں، میں اپنی مادِرگرامی کو دعائیں مانگتے ہوئے دیکھا کرتا تھا لیکن ان دعاؤں میں ایک دعا بھی اپنے لیے نہ ہوتی تھی۔” نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا، ” تمام جہانوں کی عورتوں میں بہتر عورتیں چار ہیں مریم ؑ، آسیہؑ، خدیجہ ؑ اور فاطمہ ؑ، اور ان چاروں میں افضل ترین فاطمہ ؑ بنتِ محمد ؐہیں۔” پس آپؑ کی ذات اقدس اس جہاں کی ideal ہستیوں کی بھی ideal ہے تو پھر ہمارے لیے آپ یقینا ایک modle role ہیں اور کیوں نہ ہوں، آپؑ نے ہی تو عورت کو عزت، احترام اور وقار بخشا۔ سیدہؑ کے باحیا اور پاکیزہ کردار نے عرب کی جاہل قوم کو یہ احساس دلایا کہ عورت ایک پھول ہے اور اسے اس کے حال پر نہیں چھوڑنا چاہیے، اس کی حفاظت کرنا چاہیے۔ آپؑ کے فرمان کے مطابق: ”عورت کے حق میں بہترین شے یہ ہے کہ نہ مرد اُسے دیکھیں اور نہ وہ مردوں کو دیکھے۔” یوں جناب فاطمہ زھرا (س) ہمارے لیے ایک نمونہ عمل ٹھہریں۔ بلاشبہ آپ سلام اللہ علیھا ہمارے لیے آئیڈیل ہیں اور آپ کی ذات اقدس کے حوالے کے بغیر ہمارا وجود ادھورا اور نامکمل ہے۔

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

واہ رے تجربہ کارو!

  (ذکیہ نیئر زکی)  اور وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں …