ہفتہ , 28 جنوری 2023

ایک نئے سیاسی انتشار کی شروعات

(مصطفی کمال پاشا)

عمران خان کا بیانیہ کامیاب ہوتا نظر آ رہا ہے،چوہدری پرویز الٰہی جو پی ٹی آئی کے اتحادی وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، جیسے تیسے بھی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئے اور پھر حسب ِ وعدہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل کی ایڈوائس، گورنر پنجاب کو بھجوا دی، آئین و قوانین کے مطابق،اب اسمبلی نہیں رہی اور ایک ایسی نگران حکومت کے قیام کی گنتی شروع ہو چکی ہے جو انتخابات کی نگرانی کرے گی۔اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز شریف کے ساتھ، پرویز الٰہی مشاورت کرنے کے بعد نگران سیٹ اَپ ترتیب دیں گے،پھر انتخابات ہوں گے،اِن انتخابات کے نتیجے میں جو صوبائی اسمبلی قائم ہو گی اُس کی مدت پانچ سال ہو گی۔ایسا ہی معاملہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے ساتھ ہونے جا رہا ہے گویا پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب اور خیبرپختونخوا میں ”عام انتخابات“ ہونے جا رہے ہیں۔عمران خان اپریل2022ء میں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کے بعد سے مسلسل فوری انتخابات کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر ہیں،حد یہ ہے کہ اپنی ٹانگ زخمی کرانے کے بعد بھی اُنہوں نے اپنا احتجاجی رویہ ترک نہیں کیا۔ وہ مسلسل انتخابات کے ذریعے فریشن مینڈیٹ کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔اُنہوں نے خود ضمنی انتخابات میں 11نشستوں میں سے نو جیت کر ایک ریکارڈ قائم کیا۔اُنہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ اُنہیں عوامی مقبولیت حاصل ہے۔

ماہرین یہ کہتے پائے گئے ہیں کہ مقبولیت اور شے ہے جبکہ انتخابات میں سیٹیں جیتنا بالکل اور سائنس ہے، عمران خان کیونکہ منجھے ہوئے اور زیرک سیاست دان نہیں ہیں اِس لئے عوامی مقبولیت کو انتخابی کامیاب میں بدلنا شاید اُن کے بس میں نہیں ہو گا۔اِس بار کیونکہ اُنہیں مقتدر حلقوں کی سرپرستی بھی حاصل نہیں ہے جہانگیر ترین اور علیم خان بھی میسر نہیں ہوں گے اِس لئے اُن کی عوامی مقبولیت کیا نتائج پیدا کرے گی؟اِس بارے میں ماہرین سر دست یکسو نظر نہیں آتے۔

سیاسی تجزیہ نگاروں اور پنڈتوں کی آراء اپنی جگہ پر قابل غور ہوں گی تاہم ایک بات طے شدہ ہے کہ عمران خان اپنے بیان کردہ ہدف”فوری انتخابات“ کی طرف نو ماہ سے مسلسل پیش قدمی کرتے نظر آ رہے ہیں۔اُنہوں نے گزرے نو ماہ کے دوران ایک لمحے کے لئے بھی اپنی نظریں اپنے ہدف سے ہر گز نہیں ہٹائیں،اُن کی احتجاجی سیاست میں رتی برابر بھی ٹھہراؤ نہیں آیا، اُنہوں نے جنرل باجوہ کو ایک د ن کے لئے بھی نہیں بھلایا،دشنام اور بہتان کی سیاست جاری رکھی۔ شریف، زرداری اور دیگر سیاست دانوں پر تنقید کے نشتر بھی چلاتے رہے۔اُنہوں نے ایک دن بھی ضائع نہیں کیا کہ جب وہ شہباز شریف کی قیادت میں قائم اتحادی حکومت کو ناکام اور نامراد بنانے کی کاوشیں نہ کرتے رہے ہوں۔ اُنہوں نے حکومت کو ناکام بنانے کے لئے سیاسی عدم استحکام کو جاری و ساری رکھا۔اُن کے بیانئے کا مرکز و محور حکومت کو ناکام اور غیر نمائندہ ثابت کرنا رہا ہے،گزرے نو ماہ کے دوران حکومت کی بالعموم اور مسلم لیگ(ن) کی بالخصوص عوامی پذیرائی میں خاصی کمی واقع ہوئی ہے کیونکہ عمران خان کی نااہلیوں اور ناکامیوں کا بوجھ اُٹھاتے اُٹھاتے شہباز شریف حکومت عوام پر معاشی بوجھ بڑھاتی چلی جا رہی ہے۔آئی ایم ایف کو مناتے مناتے، اُن کی شرائط پر عمل درآمد کرتے کرتے عوامی معیشت کا کباڑہ ہو چکا ہے، مہنگائی کا طوفان، سونامی کی شکل اختیار کر چکا ہے، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں حیرت ناک اضافہ اور اِس پر اُن کی رسد میں مشکلات نے معاملات کو سنگین تر کر دیا ہے۔

قومی میڈیا آٹے، دال،روٹی،نان، چینی کی قیمتوں اور دستیابی میں حائل مشکلات بارے رطب اللسان ہے، کسی کو حقیقی قومی و بین الاقوامی مسائل پر کہنے سُننے کی فرصت ہی نہیں ہے۔عوامی سطح پر بے چینی و اضطراب بڑھتا چلا جا رہا ہے، پاکستان کے سب سے بڑے صوبے میں حکومتی رٹ کہیں نظر نہیں آ رہی، صوبے کا چیف ایگزیکٹو اپنی وزارتِ اعلیٰ اور اسمبلی بچانے میں سرگرم عمل رہا، مرکز کو نیچا دکھانے اور اپنے مفادات کے تحفظ میں مصروف رہنے کے باعث گورننس کے معاملات بگڑتے چلے گئے جس کے باعث عوامی مسائل میں اضافہ ہوتا چلا گیا، مسلم لیگ(ن) اور اُس کی اتحادی جماعتیں اور اُن کی قیادتیں عوام کو اِس حوالے سے مطمئن کرنے میں قطعاً ناکام رہی ہیں۔کارکردگی کبھی بھی عمران خان کا ایشو نہیں رہا بلکہ وہ بیانئے بنانے اور اُن پر زور دینے اور دیتے ہی چلے جانے کی پالیسی اختیار کئے رکھنے کے باعث بڑی مستعدی سے سیاسی انتشار پھیلانے میں مصروف رہے ہیں اور اب اِس میں خاصی حد تک کامیاب بھی نظر آئے۔حکومت نے نو مہینوں کے دوران سفارتی اور معاشی میدان میں جو تھوڑی بہت کامیابیاں حاصل کی ہیں اُن کے ثمرات حاصل ہونے سے پہلے ہی عمران خان دو اسمبلیوں کی تحلیل کے ذریعے ایک نئے سیاسی بحران کو پیدا کرنے میں کا میاب ہو چکے ہیں۔

سیاسی تجزیہ نگار ایک نقطے پر متفق ہوتے نظر آنے لگے ہیں کہ اب شاید پورے ملک میں عام انتخابات کرائے بغیر سیاسی استحکام نہیں آ سکتا۔عمران خان تو نو ماہ سے یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ سیاسی عدم استحکام دور کرنے اور معاشی استحکام لانے کے لئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے اور ایسے فیصلے ایک مستحکم سیاسی حکومت ہی کر سکتی ہے اِس لئے انتخابات کے ذریعے فریشن مینڈیٹ حاصل کر کے ایسی مستحکم حکومت قائم کرنے کی ضرورت ہے جو ڈٹ کر فیصلے کر سکے،اب دو اسمبلیوں کی تحلیل کے ذریعے عمران خان مرکزی حکومت پر دباؤ ڈالنے اور بڑھانے میں کامیاب ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ چوہدری پرویز الٰہی کی ووٹ آف کانفیڈنس حاصل کرنے میں کامیابی اِس بات کی دلیل ہے کہ عمران خان کے بیانئے کو بڑی حد تک عوامی تائید حاصل ہے اور موجودہ حکمران اتحاد عوامی نمائندگی کا حق نہیں رکھتا۔

تمام باتیں اپنی اپنی جگہ درست ہوں گی لیکن ایک بات حقیقت ِ تامہ بن کر سامنے آ گئی ہے کہ پاکستان میں ایک بڑا سیاسی بحران پیدا ہو گیا ہے۔حکمران اتحاد اور عمران خان و اتحادی ایک دوسرے کے سامنے اِس طرح صف آراء ہو چکے ہیں کہ کسی بھی فریق کے لئے اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا اُس کی سیاسی موت ثابت ہو سکتا ہے، سردست عمران خان بڑی کامیابی کے ساتھ سیاسی افتراق و انتشار پھیلانے اور بڑھانے میں مصروف ہیں،سیاسی عدم استحکام کے باعث معاشی بہتری کا تاثر بھی زائل ہو جائے گا اور حکومت کی معاشی شعبے میں معمولی کامیابی بھی ناکامی میں بدل جائے گی۔ پاکستان معاشی تباہی اور بربادی کا شکار ہو جائے گا۔ضرورت اِس امر کی ہے کہ سیاسی قوتیں مل جل کر بیٹھیں اور اتحاد و اتفاق سے کوئی بھی ایسا لائحہ عمل اختیارکریں جو سیاسی استحکام لائے اور قوم کو معاشی بدحالی سے باہر نکال سکے۔بشکریہ ڈیلی پاکستان

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

پلے نہیں دھیلا

(تحریر : رؤف کلاسرا) امریکہ سے ایک پیارے بھائی کا میسج تھا کہ ابھی آپ …