جمعرات , 9 فروری 2023

بائیڈن گیٹ

(تحریر: محمد علی زادہ)

ان دنوں جو بائیڈن وائٹ ہاوس کی خاموش اور غم زدہ شخصیت بن چکے ہیں۔ بہت ہی کم افراد یہ توقع رکھتے تھے کہ کسی دن ایف بی آئی اور ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کو گوشہ نشین کرنے کیلئے انجام پانے والے اقدامات کا ردعمل بھی سامنے آ سکتا ہے اور ٹرمپ کے حامی جوابی کاروائی بھی کر سکتے ہیں۔ اکثر تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ ریاست فلوریڈا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے گھر سے خفیہ دستاویزات کا ملنا اور ریاست ڈیلاویئر میں جو بائیڈن کی رہائش اور دفتر سے خفیہ دستاویزات کا برآمد ہونا دو ایسے کیسز ہیں جو 2020ء کے دو صدارتی امیدواروں کے درمیان جاری پس پردہ رسہ کشی اور رقابت کا نتیجہ ہیں۔ اور مذکورہ بالا دو کیسز آگے بڑھنے سے شاید 2024ء میں ان دونوں صدارتی امیدواروں کی سیاسی زندگی بھی ختم ہو جائے۔

امریکہ کے اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے جو بائیڈن کی جانب سے خفیہ دستاویزات کی دیکھ بھال کے بارے میں تحقیق کرنے کیلئے ایک مخصوص انسپکٹر مقرر کر دیا ہے۔ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ رابرٹ ہر ڈونلڈ ٹرمپ کی مدت صدارت میں امریکہ کی وزارت انصاف کے اعلی افسر رہ چکے ہیں۔ موجودہ امریکی صدر جو بائیڈن کی رہائش گاہ اور ذاتی دفتر سے ملنے والی خفیہ دستاویزات ایسی ہیں جن سے وہ نائب صدر کا عہدہ مکمل ہو جانے کے بعد بھی فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔ وائٹ ہاوس نے اعلان کیا ہے کہ جو بائیڈن تحقیقاتی ٹیم سے مکمل تعاون کریں گے۔ ان خفیہ دستاویزات کی برآمدگی جو بائیڈن کیلئے باعث شرمندگی قرار دی جا رہی ہے کیونکہ اسی وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی ایسا ہی کیس جاری ہے اور ان سے بھی خفیہ دستاویزات کی دیکھ بھال کے بارے میں تفتیش کی جا رہی ہے۔

خفیہ دستاویزات کا پہلا حصہ 2 نومبر 2022ء کے دن جو بائیڈن کے ادارے "پین سنٹر” سے ملا ہے۔ یہ وہ مرکز ہے جس کی بنیاد انہوں نے نائب صدر کا عہدہ ختم ہونے کے بعد رکھی تھی۔ بائیڈن نے کہا تھا کہ انہوں نے یہ دستاویزات قومی آرکائیو میں واپس بھجوا دی ہیں۔ اٹارنی جنرل گارلینڈ کہتے ہیں: "ان دستاویزات کا دوسرا حصہ 20 دسمبر 2022ء کے دن ویلمنگٹن ڈیلاویئر میں جو بائیڈن کی رہائشگاہ سے ملا ہے۔” ان کے بقول جو بائیڈن کے وکیل نے تحقیقاتی ٹیم کو فون کر کے یہ دستاویزات ملنے کی خبر دی تھی۔ گارلینڈ نے کہا کہ امریکہ کے اٹارنی جنرل کا دفتر ابتدائی تحقیقات کے دوران یہ فیصلہ کر چکا ہے کہ غیر معمولی صورتحال کے پیش نظر خفیہ دستاویزات کی دیکھ بھال کے بارے میں تحقیق کیلئے ایک خصوصی انسپکٹر تعینات کر دیا جائے۔

گارلینڈ کا کہنا ہے کہ اس کیس میں خصوصی انسپکٹر کی تعیناتی عوام کی نظر میں وزارت انصاف کی خودمختاری اور احساس ذمہ داری کا تاثر دے گی۔ انہوں نے کہا: "اس کیس میں حتمی فیصلہ صرف اور صرف حقائق اور قانون کی روشنی میں کیا جائے گا۔” رابرٹ ہر نے اپنے بیانیے میں کہا ہے کہ وہ اس کیس پر غیر جانبداری، انصاف اور کسی قسم کے تعصب سے عاری ہو کر کام کریں گے۔ وائٹ ہاوس کے وکیل رچرڈ شوبر کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن تحقیق اور تفتیش کے دوران وزارت انصاف اور خصوصی انسپکٹر سے پورا تعاون کریں گے۔ سی بی ایس چینل سے گفتگو کے دوران ایک باخبر ذریعے نے بتایا کہ وزارت انصاف کی تحقیقات میں اب تک چند ایسے گواہوں سے انٹرویو لیا گیا ہے جو خفیہ دستاویزات کی دیکھ بھال کا قریب سے مشاہدہ کرتے رہے تھے۔ بائیڈن نے جمعرات کے دن صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ ان کے وکلا نے نومبر میں جیسے ہی یہ خفیہ دستاویزات ملی تھیں مربوطہ عہدیداروں کو مطلع کر دیا تھا۔

جو بائیڈن کہتے ہیں کہ وہ دستاویزات کے خفیہ ہونے کو اہمیت دیتے ہیں لیکن ابھی تک انہوں نے اس سوال کا جواب نہیں دیا کہ ایسی خفیہ دستاویزات کا ان سے منسوب عمارتوں میں پایا جانا کیا معنی رکھتا ہے۔ وائٹ ہاوس کے وکیل رچرڈ شوبر کا دعوی ہے کہ جو بائیڈن کے گھر کے گیراج کی تلاشی کے دوران اوباما حکومت سے متعلق چند دستاویزات ملی ہیں جن پر خفیہ ہونے کی مہر لگی ہے۔ وائٹ ہاوس کی ترجمان کیرن جین پیئر نے نے بھی دعوی کیا ہے کہ جو بائیڈن نئی خفیہ دستاویزات ملنے پر حیرت زدہ ہو گئے ہیں اور انہوں نے اپنی رہائشگاہ میں ان دستاویزات کی موجودگی کے بارے میں بے اطلاعی کا اظہار کیا ہے۔ امریکی صدر کو اب اس سوال کا بھی جواب دینا پڑے گا کہ آیا ان کی رہائشگاہ سے ملنے والی خفیہ دستاویزات امریکہ کی قومی سلامتی کیلئے خطرے کا باعث بن سکتی تھیں یا نہیں؟

ایوان نمائندگان کے سربراہ کوئن مک کارٹی نے بھی جو بائیڈن کی رہائشگاہ اور دفتر سے خفیہ دستاویزات برآمد ہونے کی خبر اس خاص موقع پر شائع ہونے کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے: "وہ مڈٹرم الیکشن منعقد ہونے سے پہلے اس حقیقت سے باخبر تھے لیکن انہوں نے یہ خبر امریکی عوام سے چھپائے رکھی۔” اس وقت سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف بھی خفیہ دستاویزات کی دیکھ بھال کرنے میں کوتاہی کرنے کی تحقیقات جاری ہیں۔ ان کی رہائشگاہ سے بھی 325 سے زائد خفیہ دستاویزات برآمد ہوئی تھیں۔ اب جبکہ جو بائیڈن کے گھر اور دفتر سے بھی ایسی ہی خفیہ دستاویزات برآمد ہو چکی ہیں تو توقع کی جا رہی ہے کہ ڈیموکریٹس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف جاری پروپیگنڈا مہم ختم ہو جائے گی۔ مستقبل میں ہی واضح ہو سکے گا کہ امریکہ کے حساس اداروں میں کس نے ٹرمپ کی یوں مدد کی ہے۔بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

زلزلے کے بعد ملبے تلے دبے افراد کتنے وقت تک زندہ رہ سکتے ہیں؟

(شیگل کیساپوگلو) ترکی اور شام میں پیر کے روز 7.8 شدت کا زلزلہ آنے کے …