ہفتہ , 4 فروری 2023

پاکستان ابھی نہیں بدلا

(حامد میر)

سابق وزیر اعظم عمران خان بار بار کہتے ہیں کہ پاکستان بدل چکا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ان کے لئے پاکستان واقعی بدل گیا ہو کیونکہ وہ سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ پر بہت سے الزامات لگا چکے ہیں اور باجوہ صاحب بند کمروں میں تردید کے سوا کچھ نہیں کرسکے۔

خان صاحب کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم صحافیوں کے لئے پاکستان ابھی نہیں بدلا۔ جب عمران خان وزیر اعظم تھے تو ان کا ماتحت ادارہ ایف آئی اے بغیر کسی مقدمے کے حکومت پر تنقید کرنے والے صحافیوں کو اغوا کرلیتا تھا۔ آج کل شہباز شریف وزیر اعظم ہیں اور ایف آئی اے صحافیوں کے خلاف وہی کچھ کر رہا ہے جو عمران خان کے دور حکومت میں ہوتا تھا۔

ایف آئی اے نے گزشتہ ہفتے ایک صحافی شاہد اسلم کو گرفتار کیا اور اسلام آباد کی ایک عدالت سے ان کا دو روزہ جسمانی ریمانڈ بھی حاصل کرلیا۔ شاہد اسلم پر الزام ہے کہ انہوں نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو سے سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے اثاثوں کے متعلق انفارمیشن حاصل کرکے ایک صحافی احمد نورانی کو فراہم کی۔ ایف آئی اے کے پاس شاہد کے خلاف کوئی ثبوت نہیں اور ثبوت کی تلاش کے لئے وہ شاہد سے ان کے لیپ ٹاپ کا پاس ورڈ مانگ رہے ہیں لیکن شاہد یہ پاس ورڈ دینے سے انکاری ہے۔

شاہد کی گرفتاری سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا جنرل قمر جاوید باجوہ واقعی ریٹائر ہو چکے ہیں یا ابھی شہباز شریف حکومت پر اپنا حکم چلا رہے ہیں؟ اگر شہباز شریف حکومت کے خیال میں شاہد نے کوئی بہت بڑا قانون توڑ دیا ہے تو کیا جنرل باجوہ قانون نہیں توڑتے رہے؟ جنرل باجوہ کی قانون شکنی کے بارے میں سب سے بڑی گواہی چوہدرری پرویز الٰہی دے چکے ہیں۔ چوہدری صاحب نے ببانگ دہل بتایا کہ جنرل باجوہ نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ وہ پی ڈی ایم کی بجائے عمران خان کا ساتھ دیں۔ جنرل باجوہ کا یہ مشورہ آئین کی دفعہ 244کی خلاف ورزی تھی جس کے تحت مسلح افواج کے افسران اور جوان یہ حلف اٹھاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہوں گے۔

عمران خان کو جنرل باجوہ کے خلاف اسی دن کارروائی کر دینی چاہئے تھی جب انہوں نے جنوری 2021ء میں اسد عمر، پرویز خٹک، شاہ محمود قریشی اور شبلی فراز کو طلب کیا اور انہیں کہا کہ اڑتالیس گھنٹے کے اندر اندر وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کو تبدیل کر دیا جائے۔ اسد عمر نے فوری طور پر جنرل باجوہ کا یہ غیر آئینی پیغام خان صاحب کو پہنچا دیا لیکن انہوں نے آرمی چیف کی وارننگ کو نظر انداز کردیا اور بعد ازاں انہیں مدت ملازمت میں توسیع کی پیشکش کرکے راضی کرنے کی کوشش کرتے رہے۔

شہباز شریف کے پاس بھی جنرل باجوہ کی سیاست میں مداخلت اور مارشل لا کی دھمکیوں کے کئی ثبوت اور گواہ موجود ہیں لیکن عمران خان کی طرح وہ بھی صرف صحافیوں کو جیلوں میں ڈال کر اپنی حکومت کا رعب جمانے کی کوشش میں ہیں۔ شہباز شریف کابینہ کے ایک اہم وزیر نے مجھے کہا کہ شاہد اسلم کا تعلق ایک ایسے ٹی وی چینل سے ہے جس نے آپ پر غداری اور توہین رسالت جیسے بے بنیاد الزامات لگائے ایسے ٹی وی چینل سے وابستہ صحافی کی خاطر آپ ہم سے لڑائی کیوں مول لیتے ہیں؟

میں نے وزیر صاحب کو بتایا کہ عمران خان کے دور میں جب بھی کسی صحافی پر ناجائز مقدمہ بنا یا اسے اغوا کیاگیا تو ہم نتائج کی پرواکئے بغیر حکومت پر بھی تنقید کرتے تھے اور حکومت سے زیادہ طاقتور افراد پر بھی تنقید کرتے تھے۔ اسی لئے جنرل باجوہ اور جنرل فیض نے مل کر ہم پر نو ماہ کی پابندی لگوائی۔ اب اگر آپ کی حکومت بھی صحافیوں کے ساتھ وہی کچھ کر رہی ہے تو ہم کیسے خاموش رہیں؟ شاہد اسلم کو جس خبر کی پاداش میں گرفتار کیاگیا وہ ان کے ٹی وی چینل نے نشر نہیں کی بلکہ وہ خبر احمد نورانی کی ویب سائٹ فیکٹ فوکس نے جاری کی۔ ارشد شریف کی شہادت کے بعد شاہد اسلم کی گرفتاری پاکستان کے اہل صحافت کے لئے خطرے کی دوسری گھنٹی ہے۔

صحافیوں کو سیاسی جماعتوں کا ترجمان بننے کی بجائے صرف صحافت کے ساتھ وفا دار رہنا چاہئے۔ سیاستدان اور صحافی کی دوستی بڑی مشکل شے ہے۔ اس دوستی میں سیاستدان اپنی سیاست کو شاذو نادر ہی قربان کرتا ہے۔ سیاستدان ہمیشہ اپنے صحافی دوست سے قربانی مانگتا ہے اور کچھ صحافی اس دوستی کو نبھاتے نبھاتے اپنی صحافت قربان کربیٹھتے ہیں۔ نوجوان صحافی انہیں اپنا رول ماڈل نہیں بناتے جو صحافت کو سیڑھی بنا کر سیاسی حکومتی عہدے حاصل کرتے ہیں۔

نوجوانوں کا رول ماڈل وہ صحافی بنتے ہیں جو ہر حکومت کے دور میں عتاب کا شکار رہتے ہیں۔ ہمارے بزرگوں میں حسین نقی اور الطاف حسن قریشی کی صورت میں دو زندہ مثالیں موجود ہیں۔ یہ دونوں بزرگ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھتے ہیں لیکن جمہوریت اور آزادی صحافت کے لئے ان دونوں نے سیاسی حکومتوں کے ساتھ ساتھ فوجی حکومتوں کے دور میں بھی مصائب جھیلے۔ الطاف حسن قریشی کو ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے بھی گرفتار کیا اور جنرل ضیاء الحق نے بھی انہیں گرفتار کئے رکھا۔ اکتوبر 1977ء میں الطاف حسن قریشی گرفتار ہو کر کوٹ لکھپت جیل لاہور پہنچے تب وہاں بھٹو بھی قید تھے اور اپنے مشقتی کے ذریعہ قریشی صاحب سے اردو ڈائجسٹ منگوا کر پڑھا کرتے تھے۔

الطاف حسن قریشی نے حال ہی میں ’’مشرقی پاکستان، ٹوٹا ہوا تارا‘‘کے نام سے سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب پر ایک کتاب مرتب کی ہے جو ان کے آنکھوں دیکھے واقعات و مشاہدات پر مبنی ہے۔

اس کتاب میں ان کی 1969ء کی ایک تحریر کے یہ الفاظ 2023ء میں بھی بڑے اہم ہیں۔ لکھتے ہیں ’’ ملک کا دستور چاک کردینا، ملک سے غداری کے مترادف ہے۔ جو شخص ناموس دستور پر ہاتھ ڈال سکتا ہے اس کے نزدیک ہرناموس بے وقعت اور بے وقار ہے‘‘۔ اس کتاب کا اختتام ان الفاظ پر ہوتا ہے۔ ’’ سیاسی قیادت ہو یا فوجی قیادت، اس کے ذاتی کردار اور مشاغل پر گہری نگار رکھنی چاہئے‘‘۔ پاکستان کے اہل صحافت کو ناموس دستور پر ہاتھ ڈالنے والے سیاسی و غیر سیاسی عناصر پر گہری نگاہ رکھنی چاہئے اور ان افراد یا اداروں کے خلاف متحد ہو کر مزاحمت کرنی چاہئے جو شاہد اسلم کو تو قانون کا مجرم سمجھتے ہیں لیکن جنرل باجوہ کے سامنے قانون کی گردن جھکا دیتے ہیں۔ پاکستان اس دن بدلے گا جب ملکی قانون شاہد اسلم اور باجوہ کے لئے برابر ہوگا۔بشکریہ ایکسپریس نیوز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

 

یہ بھی دیکھیں

مقابلہ برائے ’سیاسی غلطیاں‘

(مظہر عباس) لگتا ہے وزیراعظم شہباز شریف کو اب یقین سا ہوچلا ہے کہ وہ …