ہفتہ , 4 فروری 2023

صیہونی ریاست کے ناپاک عزائم اور فلسطین

(تحریر: عادل فراز)

اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو کی نئی کابینہ کی تشکیل عالمی امن کے لئے خوش آیند نوید نہیں ہے۔ نئی حکومت میں ایسے سیاسی چہروں کو شامل کیا گیا ہے، جو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے بدنام رہے ہیں۔ چونکہ اسرائیل ایک طویل مدت سے سیاسی بحران سے دوچار تھا، لہذا نئی حکومت کی تشکیل میں انتہائی دائیں بازو کی صیہونی جماعتوں کی مدد حاصل کی گئی ہے۔ ان جنونی صہیونی جماعتوں کے کئی سیاستدان نتین یاہو کی حکومت میں اہم عہدوں پر فائز ہیں۔ اول تو نتین یاہو کا سیاسی نظریہ کبھی عالمی امن کے لئے فال نیک ثابت نہیں ہوا، اس پر ’’جیوش پور پارٹی‘‘ کے سربراہ ایتمار بن گویر کو وزیر برائے امن و سلامتی مقرر کیا گیا ہے، جس پر کئی دہشت گردی کے مقدمے درج ہیں۔ اس مخلوط حکومت میں انتہاء پسند نظریئے کے حامل بیزالیل اسموٹرچ بھی شامل ہیں، جو ہمیشہ امن عامہ کے لئے خطرہ بنا رہاہے۔

’’جیوش پور پارٹی‘‘ کے ایک پارلمانی رکن نے فلسطینی عوام کو دھمکاتے ہوئے کہا تھا کہ "اس بار اسرائیل اور فلسطین میں جو جنگ ہوگی، وہ آخری ثابت ہوگی۔” اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایسے متشدد اور جارح نظریات کے حامل افراد کو ملک کی باگ ڈور سونپنا عالمی امن کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ بن گویر کے جارح سیاسی نظریئے کا پہلا ثبوت حالیہ مسجد اقصیٰ کا دورہ ہے، جو فلسطینیوں کو اکسانے اور ضابطوں کی کھلی خلاف ورزی تھا۔ اگر اس دورہ کے خلاف فلسطین کی مقاومتی تنظیموں نے جارح موقف اپنایا ہوتا تو مشرق وسطیٰ ایک بار پھر جنگ کے دہانے پر ہوتا۔ بن گویر کو اسرائیلی عدالت نے نسل پرستی اور دہشت گردی کا مجرم پایا تھا، اس کے باوجود اس کو وزیر برائے سلامتی مقرر کرنا اسرائیل کے سیاسی بحران کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ شخص میر کہانے کا شاگرد ہے، جس کی پارٹی پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور امریکہ نے اسے دہشت گرد قرار دیا تھا۔

بن گویر عربوں سے بے اتنہا نفرت کرتا ہے۔ وہ متواتر یہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ غرب اردن کے ساتھ غزہ اور اسرائیل میں آباد عرب شہریوں کو ملک بدر کر دیا جائے۔ نتین یاہو بھی اسی طرح کے سیاسی نظریات کا حامل ہے۔ اس کے مطابق "مغربی کنارے سمیت فلسطین کے تمام تر علاقوں پر فقط یہودیوں کا حق ہے۔” انہوں نے ڈونالڈ ٹرمپ اور ان کے داماد جارڈ کشنز کے ساتھ مل کر ’’صدی معاہدہ” کا مسودہ پیش کیا تھا، جس کی رو سے یروشلم کو اسرائیل کا پایۂ تخت تسلیم کیا گیا تھا۔ اس مسودہ کی فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے سخت مخالفت کی تھی اور عالمی پیمانے پر بھی اس مسودہ کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اس کے باجود عالمی استعمار کی کوششوں سے اسرائیل اور امریکہ کے حلیف ملکوں نے اس مسودہ کے نکات کو تسلیم کر لیا تھا، جن میں بعض مسلمان ملک بھی شامل ہیں۔

’’صدی معاہدہ‘‘ دراصل فلسطینیوں کی خود مختاری اور انسانی حقوق پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالنے کی ایک کوشش تھی، جس کو ناکام بنا دیا گیا، حالانکہ اسرائیل آج بھی اس معاہدہ کے نفاذ کے لئے کوشاں ہے۔ اس معاہدہ کی رو سے فلسطینیوں کو ان کی سرزمین پر غلاموں کی طرح زندگی گزارنی ہوگی اور انہیں بنیادی شہری حقوق بھی حاصل نہیں ہوں گے۔ حد یہ ہے کہ ان کے دفاع کی ذمہ داری بھی اسرائیلی فوج کی ہوگی، جس کے لئے فلسطینیوں کو ایک معین رقم کی ادائیگی کرنا ہوگی۔ اس معاہدہ کی اکثر شرائط منصہ شہود پر نہیں ہیں، اس لئے پورے طور پر ان پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا، لیکن یہ معاہدہ فلسطین کی خود مختارانہ حیثیت کو ختم کرنے کی ایک ناکام کوشش تھی۔

گویر کے سیاسی عزائم کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس نے 3 جنوری کو مسجد اقصیٰ کا دورہ کرکے عالمی امن کو برباد کرنے کی کوشش کی تھی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھی اس دورہ پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور عالمی سطح پر امن پسند لوگوں نے اس دورہ کی سخت مذمت کی۔ مسجد اقصیٰ اسرائیل کے زیر قبضہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے۔ ضابطے کے مطابق مخصوص اوقات میں غیر مسلم مسجد اقصیٰ کا دورہ کرسکتے ہیں، لیکن انہیں وہاں عبادت کی اجازت نہیں ہے۔ رپورٹس کے مطابق صہیونی بنیاد پرست مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کے اشارے پر خفیہ عبادت کرتے ہیں، جس کی مقامی فلسطینی سخت مخالفت کرتے رہے ہیں۔ اکثر اوقات یہ مخالفت خوں ریزی میں بدل جاتی ہے اور پھر اسرائیلی فوج نہتے فلسطینیوں پر بھرپور جارحیت کا مظاہرہ کرتی ہے، جس پر عالمی میڈیا نے کبھی کوئی ڈبیٹ نہیں کی۔ اسی صورتحال کا جائزہ لینے کے لئے گذشتہ دنوں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں اسرائیل اور فلسطینی سفیر کے درمیان سخت الفاظ میں بحث و مباحثہ ہوا۔

فلسطینی مندوب ریاض منصور نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں کہا کہ اسرائیل سلامتی کونسل، بین الاقوامی برادری اور فلسطینیوں کے لئے انتہائی تحقیر آمیز رویہ کا اظہار کرتا رہا ہے۔ انہوں نے اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ "آخر وہ کونسی ریڈ لائن ہے، جسے اسرائیل عبور کرے گا تو سلامتی کونسل کہے گی کہ بس! اور اس کے مطابق عمل کیا جائے گا۔” اسرائیلی سفیر نے سلامتی کونسل کے اجلاس کو مضحکہ خیز اور بے نتیجہ قرار دیا تھا، جبکہ فلسطینی مندوب نے اس اجلاس کو خوش آیند قرار دیا۔ ریاض منصور کا بیان حقیقت پر مبنی ہے، لیکن اقوام متحدہ بے دست و پا ادارہ ہے، جو ہرگز عالمی استکبار کے خلاف نہیں جاسکتا۔ اس لئے اس ادارہ سے یہ توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ اسرائیلی دہشت گردی یا عالمی استکباری نظام کے خلاف ایک لفظ بھی کہہ سکے۔ چونکہ اقوام متحدہ کوئی آزاد ادارہ نہیں ہے، بلکہ اس کی نکیل عالمی استعمار کے ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہم اقوام متحدہ کی حصولیابیوں اور اہم کارروائیوں کا جائزہ لینے لگیں تو کوئی اہم نکتہ ابھر کر سامنے نہیں آسکے گا، اس لئے فلسطین کے مسئلے کا حل اقوام متحدہ کے پاس نہیں ہے اور نہ اسرائیل فلسطین کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے موقف کو تسلیم کرے گا۔

صہیونی وزیر بن گویر نے عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم لہرانے والوں پر دہشت گردی کا مقدمہ چلانے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی قانون توڑنے والے لوگ دہشت گردانہ پرچم نہیں لہرا سکتے اور دہشت گردی کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے۔ اس لئے ہم نے عوامی مقامات سے دہشت گردی کی حمایت کرنے والے پرچموں کو ہٹانے اور اسرائیل کے خلاف اشتعال انگیزی روکنے کے لئے یہ حکم دیا ہے۔ فلسطینیوں نے گویر کے اس حکم نامہ کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور اسے فلسطینی شناخت کو کم رنگ کرنے کی ناکام سعی سے تعبیر کیا ہے۔ ان کے مطابق مقبوضہ فلسطین میں پرچم کشائی ان کا بنیادی حق ہے، جو عالمی قانون اور اقوام متحدہ کے آئین کی روشنی میں بھی واضح ہے۔ گویر عالمی قانون کی صریحی خلاف ورزی کرکے جنگ کے شعلے بھڑکانا چاہتے ہیں۔ گویر کا یہ اعلان اس وقت سامنے آیا، جب اسرائیلی جیل میں 40 سال قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد کریم یونس کو آزاد کیا گیا۔ ان کی رہائی کا جشن منانے کے لئے غزہ میں عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جا رہا ہے، جس میں اسرائیل کو غاصب اور دہشت گرد ریاست نیز عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم کشائی کا سلسلہ جاری ہے۔

اس موقع پر بن گویر کا یہ بیان صہیونی ریاست کی شکست اور فلسطینیوں کے استقلال پسند عزائم کا عندیہ ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صہیونی ریاست فلسطینیوں کے عزائم سے کس قدر خوف زدہ ہے۔ ایک ایسی ریاست جو خود کو دنیا کی سب سے طاقت ور ریاست باور کراتی ہے، فلسطینی پرچم کے عوامی مقامات پر لہرانے سے اس قدر گھبرا جائے گی، یہ کس نے سوچا تھا۔؟ بالآخر ایسا ہوا! کیونکہ فلسطینی عوام اپنے جغرافیائی حدود اور عالمی سطح پر اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے بیدار ہوچکی ہے۔ فلسطینیوں کے درمیان تفرقہ ڈالنے کی جتنی کوششیں عالمی استکبار کی طرف سے کی گئی تھیں، ان کو مزاحمتی تنظیموں کی افہام و تفہیم اور فلسطینی عوام کی بیداری نے ناکام بنا دیا ہے۔ ورنہ آج سے پہلے فلسطینی عوام میں اس قدر اتحاد اور باہمی مزاحمت کا جذبہ نہیں دیکھا گیا تھا۔

اب عوامی مقاومت میں اضافہ ہو رہا ہے، جسے صہیونی ریاست اپنے وجود کے لئے خطرہ مان رہی ہے۔ اسی لئے عوامی مقامات پر فلسطینی پرچم لہرانے کی ممانعت کر دی گئی، لیکن آیا یہ ممکن ہوگا؟ فلسطینیوں نے اپنی آزادی اور حقوق کی بازیابی کے لئے بے دریغ قربانیاں دی ہیں، تو کیا وہ عوامی مقامات پر اپنا پرچم لہراتے ہوئے دہشت گردی کے مقدمات سے ڈر جائیں گے؟ ہرگز نہیں! ایسا کبھی نہیں ہوگا!
فلسطین میں گذشتہ کچھ دنوں سے خوں ریز مزاحمت کا سلسلہ جاری ہے۔ صہیونی ریاست کے عزائم اور دہشت گردی کے خلاف فلسطینی عوام اور مقاومتی تنظیموں نے سخت موقف اختیار کیا ہے۔ عالمی میڈیا کے ذریعے مسلسل خبریں آرہی ہیں کہ فلسطینیوں پر اسرائیلی تشدد تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے، ساتھ ہی فلسطینی اپنے تحفظ اور حقوق کی بازیابی کے لئے مسلسل مزاحمت کر رہے ہیں۔

ظاہر ہے کہ جدید ترین ہتھیاروں سے لیس اسرائیلی فوج کا مقابلہ نہتے فلسطینیوں کے لئے آسان نہیں ہے۔ البتہ اب فلسطین کی مقاومتی تنظیمیں یکسر ہتھیاروں سے عاری بھی نہیں ہیں۔ جیسا کہ ہم نے حماس اور اسرائیل کی گیارہ روزہ جنگ کے دوران دیکھا کہ کس طرح ایک چھوٹی سی مقاومتی تنظیم نے اسرائیلی فوج کو دن میں تارے دکھلا دیئے تھے۔ حماس نے گیارہ دنوں تک اسرائیلی فوج کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کرکے دنیا بالخصوص اسلامی ممالک کو یہ باور کرا دیا تھا کہ اسرائیل ناقابل تسخیر نہیں ہے۔ اگر حماس جیسی چھوٹی سی تنظیم اپنی بلند ہمتی اور ناقابل تسخیر عزائم سے اسرائیلی فوج کے دانت کھٹّے کرسکتی ہے تو اگر عالم اسلام قبلۂ اول کی بازیابی اور فلسطین کی آزادی کے لئے باہمی اتحاد کا مظاہرہ کرے تو صہیونی ریاست کے ناپاک عزائم ہمیشہ کے لئے برباد ہو جائیں گے۔ مگر افسوس اکثر مسلمان ملک عالمی استکبار کے زیر اثر ہیں، اس لئے ان سے کسی مزاحمت کی توقع کرنا خوش فہمی سے زیادہ اور کچھ نہیں!بشکریہ اسلام ٹائمز

نوٹ:ابلاغ نیوز کا تجزیہ نگار کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

یہ بھی دیکھیں

سیاسی جماعتوں کی ایک دوسرے کیخلاف انتقامی کارروائیاں

لاہور: (فرخ احمد ) پاکستان میں ہر سیاسی پارٹی خود کو حکومت میں ہی محفوظ …